آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 14 August 2019

Lai Hayat Aae Qaza Le Chali Chale-NCERT SOLUTION CLASS X URDU

لائی حیات، آئے، قضا لے چلی، چلے

لائی حیات، آئے، قضا لے چلی،چلے 
اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے 

ہو عمر خضر بھی تو کہیں گے بہ وقت مرگ 
ہم کیا رہے یہاں، ابھی آئے، ابھی چلے 

ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمار
 جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

 بہتر تو ہےیہی کہ نہ دنیا سے دل لگے 
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

نازاں نہ ہو خرد پہ، جو ہونا ہے ہو وہی
 دانش تری، نہ کچھ مری دانش وری چلے


شیخ محمد ابراہیم ذوق
(1854 - 1788)

ذوق کا اصل نام شیخ محمد ابراہیم تھا۔ دہلی میں پیدا ہوئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک سپاہی کے بیٹے تھے۔ انھوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن اپنی ذہانت اور محنت سے علمی صلاحیت پیدا کر لی تھی ۔ وہ شاہ نصیر کے شاگرد اور بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔
بہادر شاہ ظفر نے انہیں ’ملک الشعراء‘ اور ’خاقانی ہند‘ کے خطابات دیے۔ ذوق نے کئی اصناف میں اظہار خیال کیا ہے۔ ان کی اصل پہچان قصیدہ نگار کی ہے بالخصوص بہادر شاہ ظفر پر لکھے ہوئے قصائد کا مرتبہ بلند ہے۔ لیکن وہ غزل کے بھی ایک قابل ذکر شاعر ہیں۔
ذوق نے اپنے کلام میں نیا پن پیدا کرنے اور زبان اور محاورے کی صفائی پر خاص توجہ دی ہے۔

معنی یاد کیجیے: 
حیات : زندگی
قضا : موت
عمر خضر : مرادلمبی عمر
مرگ : موت
بساط : وہ خانے دار کپڑا جو چوسر یا شطرنج کھیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
بدقمار : ناکام جواری
نازاں ہونا : ناز کرنا، فخر کرنا
خرد : عقل
دانش : سمجھ بوجھ
دانش وری : ہوشیاری ،سمجھ داری، زیادہ علم رکھنا

غور کیجیے:
اس غزل کے ہر شعر کے آخر میں لفظ ”چلے“ آیا ہے۔ اسے ردیف کہتے ہیں۔ 
” چلے“ ردیف سے پہلے چلی، خوشی، ابھی، بری اور دل لگی جیسے ہم آواز الفاظ استعمال ہوئے ہیں، انہیں قافیہ کہتے ہیں۔


سوچیے اور بتائیے:
1. پہلے شعر میں شاعر کیا بات کہنا چاہتا ہے؟
جواب: شاعر کہنا چاہتا ہے کہ زندگی اسے دنیا میں لائی تو وہ آگیا موت اسے لے جا رہی ہے تو وہ جارہا ہے۔

2. ”ابھی آئے ابھی چلے“ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: اس شعر سے شاعر کی مراد ہے کہ وہ ابھی تو آیا تھا اور اسے ابھی ہی جانا پڑ رہا ہے۔

3. دنیا سے دل لگانے کے کیا معنی ہے؟
جواب: دنیا سے دل لگانے کے معنی دنیا سے محبت کرنا  یعنی دنیا کے کاموں میں گرفتار ہوجانا ہے۔

4. شاعر نے عقل پر فخر کر نے سے کیوں منع کیا ہے؟
جواب: شاعر نے عقل پر فخر کرنے سے اس لیے منع کیا ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے انسان کی عقل کچھ کام نہیں کرتی۔ یہی سبب ہے کہ شاعر نے عقل پر فخر کرنے سے منع کیا ہے۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے:                                                                        
حیات : قضا
خوشی : غم
بہتر : بدتر
مرگ : زندگی
بری : اچھی

عملی کام:
اس غزل کو یاد کیجیے۔

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری