آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, 4 May 2020

Dard Minnat Kashe Dawa Na Hua - Mirza Ghalib - NCERT Solutions Class IX Urdu

غزل
مرزا غالب

درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا

 جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گِلا نہ ہوا

 کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

 ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

 کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں برا بھلا نہ ہوا

 جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

 کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
 آج غالب غزل سرا نہ ہوا

مرزا اسد اللہ خاں غالب
(1869ء - 1797ء)
مرزا غالب آگرے میں پیدا ہوئے ۔ باپ اور چچا کی موت کی وجہ سے غالب بچپن ہی میں تنہا رہ گئے اور ان کی دادی نے ان کی پرورش کی۔ تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی ہوگئی ۔ کچھ عرصہ بعد غالب دلی آگئے اور عمر بھر یہیں رہے۔ غالب کی زندگی کے آخری دن میں بیماری کی وجہ سے تکلیف میں گزرے لیکن ان کے مزاج کی شوخی اور ذہن کی تازگی تا عمر برقرار رہی۔
غالب اردو کے چندسب سے بڑے شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں ۔ وہ ابتدا میں اسد تخلص کرتے تھے، بعد میں غالب اختیار کیا۔ انھوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے ہیں۔ انہیں عام راستے سے الگ نئی راہ بنا کر چلنے کا شوق تھا ، یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام اپنے عہد کے شاعروں بلکہ کم ویش اردو کے تمام شاعروں کے کلام سے منفرد ہے۔ غالب کے کلام کو عموماً مشکل سمجھا جاتا ہے پھر بھی ان کے اشعار کی ایک بڑی تعداد آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے۔ ان کا بہت سا کلام سادہ اور بظاہر آسان بھی ہے۔ غالب کے اردو اشعار کا مجموعه ”دیوان غالب“ کے نام سے شائع ہواہے۔ ان کے اردو خطوط کے دو مجموعے ”عود ہندی“ اور ”اردوئے معلی“ ، معروف ہیں۔ ان کے خطوط میں اردو نثر کی ادبی شان، اپنے زمانے کے حالات، ادبی مباحث پر گفتگو غرض بہت کچھ ملتا ہے جس کے باعث غالب ہمارے سب سے بڑے شاعروں کے ساتھ سب سے بڑے نثر نگاروں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

لفظ ومعنی
منت کش : احسان اٹھانے والا
رقیب : حریف ، عاشق کا مقابل اور مخالف
گلہ : شکایت
مزا : مزہ
خبرگرم : کسی خبر کا بہت مشہور ہونا
خنجر آزما : خنجر چلانے والا
نمرود : ملک عراق میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے ایک بادشاہ کا نام جس نے خدائی کا دعوی کیا تھا۔
بندگی : فرماں برداری ، اطاعت
غزل سرا ہونا : غزل گانا یعنی غزل کو محفل میں پیش کرنا

تشريح
درد منت کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
تشريح . درد عشق کو دوا کا احسان نہیں اٹھانا پڑا۔ یہ اچھا ہی ہوا۔ مراد یہی ہے کہ ہمارا درد یعنی در عشق دواسے ٹھیک نہیں ہو پایا۔ یہ ہمارے نزدیک اچھا ہی ہوا کیونکہ عشق کے لیے عشق کی کسک لذت دینے والی ہوتی ، تکلیف دینے والی نہیں۔ اسی لئے وہ کہ ر ہا ہے کہ اگر دوا ہمارا علاج نہیں کر پائی تو یہ ہمارے حق میں بہترہی ہوا۔
 جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا، گِلا نہ ہوا
تشريح : غب اپنے مخصوص شوخ انداز میں کہ رہے ہیں کہ اے میرے محبوب اگر تمہیں مجھ سے شکوہ ہے شکایات ہیں تو انہیں اکیلے میں مجھے بتا دیتے کیا ضروری تھا کہ تمام رقیبوں کو جمع کر کے شکوے شکایات کا دفتر کھولا جاتا تم نے گلہ شکوے کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا۔
 کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
تشریح : غالب کہتے ہیں کہ اے میرے محبوب تیری شیر یں لبوں سے نکلی گالیاں رقیبوں کو بری نہیں لگ رہی ہیں بلکہ لطف دے رہی ہیں ۔ مراد یہی ہے کہ میرا محبوب بہت شیریں بیان ہے۔
 ہے خبر گرم ان کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
تشریح :. غالب کہہ رہے ہیں کہ آج محبوب کے آنے کی خبر ہے اور آج ہی ہمارے گھر کا برا حال ہے۔ بور یا تک نہ ہوا سے مراد ہے آج ہم تنگ دست ہورہے ہیں اور محبوب کی آمد ہے ۔
 کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟
بندگی میں برا بھلا نہ ہوا
تشریح : غالب نے یہاں صفت تلمیح کا خوبصورت استعمال کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ نمرود جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھالیکن وہ ایک مجبور انسان تھا۔ وہ خدا کی طرح اپنے بندوں کو کچھ نہ دے سکتا تھا۔ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ میں نے اتنی بندگی کی مگر حاصل مراد حاصل نہ ہو پایا۔ کیامیں نے نمرود کی خدائی میں بندگی کی تھی جو میرا بھلا نہ  ہو پایا ۔
 جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
تشریح : خدائے بزرگ و بر تر نے ہمیں پیدا کیا۔ ہم نے اپنی تمام زندگی اس کے لئے وقف کردی۔ اس کی راہ میں نچھاور کر دی لیکن اس کے باوجود ہم نہیں سمجھتے ہی کہ ہم حق بندگی ادا کر سکتے ہیں حق ادانہ ہوا کا استعمال خوب کیا ہے ۔
 کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
 آج غالب غزل سرا نہ ہوا
تشریح : یہاں غالب شاعرانہ تعلی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غالب کی غزل سرائی کی تعریف لوگ مرنے کے بعد بھی کریں گے ۔ شاعرانہ تعلی میں بھی غالب مختلف انداز اختیار کرتے ہیں
غور کرنے کی بات 
*  اس غزل میں سادگی بیان اور عام گفتگوکا انداز ہے اور کہیں کہیں خودکامی کا انداز بھی ہے۔ خود کلامی سے مراد اپنے آپ سے بات کرنا ہے۔ مثلاً غزل کے مطلع اور شعر 6، 5 اور 7 میں خود کلامی کا انداز ہے۔
*  غالب غزل کے ممتاز شاعر ہیں۔ کم سے کم لفظوں میں بات کو کہنا ، سادگی کے ساتھ ساتھ معنی کی گہرائی ان کی شاعری کی اہم خصوصیات ہیں۔
* ’ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘ اس مصرعے میں حق دو جگہ آیا ہے۔ اس لفظ کے دونوں جگہ الگ الگ معنی ہیں ۔ ایک حق ہونا (سچ)اور دوسرا حق ادا ہونا (فرض) .
* مطلعے کو غور سے پڑھیے۔ دوسرے مصرعے میں لفظ ’اچھا‘ یوں تو ’برا‘ کی ضد ہے لیکن یہاں یہ لفظ صحت یاب ہونے کے معنی میں آیا ہے۔ اس اعتبار سے اچھا، برا اور ہوا، نہ ہوا الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ شعر کی یہ خوابی صنعت تضاد کہلاتی ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے
1. میں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

2. شاعر نے رقیبوں کو جمع کرنے پر کیوں اعتراض کیا ہے؟

3. پانچویں شعر میں نمرود کی خدائی سے کیا مراد ہے؟

4.  جان دی دی ہوئی آئی تھی اس مصر نے میں اس کا اشارہ اس کی طرف ہے؟


عملی کام
* غزل کے اشعار بلند آواز میں پڑھیے اور اپنے دوست سے پسندیدہ غزل کے دو اشعار سنیے۔

*  غزل کو خوشخط لکھیے اور زبانی یاد کیجیے۔

*  اس غزل میں کیا کیا قافیے استعمال ہوئے ہیں لکھیے۔

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری