آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 24 May 2020

Paigham e Eid - Dr. Shah Hasan Usmani

عید کا پیغام
پروفیسر شاہ حسن عثمانی

عید عام معنوں میں تہوار نہیں ہے۔ اس کا ایک خاص دینی پس منظر ہے۔ جس کا تعلق رمضان، روزہ اور نزول قرآن سے ہے۔ عید ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ کی تکمیل پر خدا کا انعام ہے۔ یہ یوم تشکر بھی ہے۔ یوم اجر بھی اور تقویٰ بھری زندگی گزارنے کے عہد و پیمان کا دن بھی۔ عید کے دن سے مومن کی زندگی کا سالانہ نیا باب شروع ہو جاتا ہے جس میں زہد وتقوی کی شان اور صبر ومواساة کا پیغام شامل ہوتا ہے۔ عید چند لمحوں یا ایک دن کی خوشیاں منانے کا دن نہیں بلکہ مہینہ بھر کی تربیت اور ریاضت اور خداخوفی کی پونجی سنبھال کر خرچ کرنے کی تذکیر بھی ہے۔ ایک مومن جب ایمان اور احتساب کے ساتھ ایک ماہ تک شعوری روزہ رکھتا ہے۔قیام لیل کرتا ہے۔ قرآن پڑھتا اور اس پر غور وفکر کرتا ہے اور اس کے حکم اور ہدایت کو اپنے ذہن و فکر اور عمل کے ڈھانچے میں ڈھالتا چلا جاتا ہے تو اس کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ اس کی نظر اس کی فکر ، اس کا نفس اور اس کے خواہشات و جذبات خداترسی کی لذت سے سرشار ہو جاتے ہیں اور اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی نیکی و خداترسی ، محبت و ہمدردی اور امن و سلامتی کی ضمانت بن جاتی ہے۔
غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عید صرف عمده لباس زیب تن کرنے اور ذائقہ دار کھانوں کی لذت اٹھانے کا نام نہیں ہے ۔ اس میں غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور حاجتمندوں کے ساتھ ہمدردی ، عام انسانوں کے ساتھ شریفانہ سلوک اور صالح معاشرے اور پاکیزه سوسائٹی کی تعمیر کا پیغام مضمر ہے۔
عید کے آتے ہی رمضان کا فرض روزہ ختم ہوا۔ لیکن اس کی وہ کیفیت جو تقویٰ اور ضبط نفس کی شکل میں حاصل ہوئی وہ ختم نہیں ہونی چاہئے ۔ اس کی تربیت ہی آنے والے دنوں کے لئے ہوئی ہے وہ ختم نہیں ہونی چاہئے ۔ عبادات ، اطاعت اور خشیت الٰہی کا تسلسل جاری رکھنا ہے۔ قرآن مقدس کے حکم و ہدایت کے مطابق زندگی کی تعمیر کرنی ہے۔ خیالات، جذبات اور خواہشات پر کنٹرول رکھنا ہے۔ خدا کے کمزور بندوں کے ساتھ محبت و خیرخواہی کا سلسلہ رکھنا ہے۔ ظلم وزیادتی اور جبر وتشد د کا ارتکاب نہ کرنا ہے اور نہ کسی کو کرنے دینا ہے۔
ماہ صیام کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ یہ شہر مواخات ہے۔ یہ ماہ مبارک ہمیں اس کی تعلیم دیتا ہے کہ ہمیں اپنے دینی بھائیوں کے تئیں وہی جذبہ الفت و محبت رکھنا چاہئے ۔ جس کی ایک حدیث میں تشبیہ کے پیرایہ میں تصویر پیش کی گئی ہے۔”مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں۔اگر اس کے ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔“
اسلامی عید خدا کے فضل و کرم سے تمام عیوب سے پاک ہے۔ اور اخلاقی و روحانی عظمت اور برتری کا ایک بہترین نمونہ اور دلکش منظر ہے۔ یادر ہے مسلمانوں کی عید آتش بازی، ناچ و رنگ کا عید نہیں بلکہ مسلمانوں کی عید شکرانے کی عید ہے۔ دراصل اصلی خوشی حقیقی مسرت تو اسی کا ہے جو اس ماہ مبارک میں روزہ دار رہا اور جس نے تقویٰ اور پرہیز گاری حاصل کی۔
عيد الفطر کو بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے مسرت کا دن قرار دیا ہے اور اتنی بات بھی شریعت سے ثابت ہے کہ اس روز جو بہتر سے بہتر لباس کسی شخص کو میسر ہووہ لباس پہنے۔ آج کل اس غرض کے لئے جن فضول خرچیوں اور اسراف کے ایک سیلاب کوعیدین کے لوازم میں سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
آج یہ بات فرض اور واجب سمجھ لی گئی ہے کہ کسی شخص کے پاس مالی طور پرگنجائش ہوں نہ ہولیکن وہ کسی نہ کسی طرح گھر کے ہر فرد کے لئے جوتے اور ٹوپی سے لیکر ہر چیز نئی خریدے۔
گھر کی آرائش اور زیبائش کے لئے نت نۓ سامان فراہم کرے۔ دوسرے شہروں میں رہنے والے اعزاء و اقارب کوقیمتی عید کارڈ بھیجے اور ان تمام امور کی انجام دہی میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ ایک متوسط آمدنی رکھنے والے کے لئے عید کی تیاری ایک مستقل مصیبت بن چکی ہے۔ عید کی بے جا تیاری کا کم از کم یہ نقصان تو ہے ہی کہ رمضان اور خاص طور سے آخری عشرہ کی راتیں جو گوشۂ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے عرض و مناجات اور ذکر وفکر کی راتیں ہیں وہ عموماً لوگوں کے بالخصوص خواتین کی بازاروں میں گزر جاتی ہیں۔ نیز گناہوں کے کاموں میں مسابقت اور مقابلہ اس کی سنگینی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ اس طرح بے شمار گناہوں کے ساتھ لاکھوں روپے ضائع و برباد ہو جاتے ہیں۔ اگر اتنی ہی رقم غرباء مساکین اورفقراء پر خرچ کی جائے تو کتنے تنگ دست گھرانے خوش حال ہوجائیں۔ بیمار تندرست ہوجائیں، روزی کے محتاج برسر روزگار ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام لوگوں کو دین کا یہ فہم عطا فرمائے اور اس گناہ عظیم سے بچنے کی توفیق بخشے۔ آمین
و آخرو دعونا الحمد و لله رب العالمين

(پروفیسر شاہ حسن عثمانی کے خطبات پر مبنی کتابچہ” استقبال ِ رمضان و عیدین“ سے ماخوذ)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری