آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 24 May 2020

Eid Ki Khushi - Nazeer Akbarabadi

عید کی خوشی
نظیر اکبر آبادی

روزے کی خشکیوں سے جو ہیں زرد زرد گال
خوش !ہوگئے!وہ !دیکھتے !ہی !عید کا ہلال
پوشاکیں تن میں زرد سنہری سفید لال
دل کیا کہ ہنس رہا ہے پڑا تن کا بال بال
ایسی! نہ شب برات! نہ !بقرعید کی خوشی
جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی
پچھلے پہرسے اٹھ کے نہانے کی دھوم ہے
شیر و شکر! سویاں! پکانے! کی !دھوم ہے
پیر و جوان کو نعمتیں کھانے کی دھوم ہے
لڑکوں کو عید گاہ کے جانے کی دھوم ہے
ایسی! نہ شب برات! نہ !بقرعید کی خوشی
جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی
روزوں کی سختیوں میں نہ ہوتے اگراسیر
تو ایسی عید کی! نہ خوشی! ہوتی! دل پذير
سب! شاد! ہیں گدا!سے لگا !شاه !تا وزیر
دیکھا جو ہم نے خوب تو سچ ہے میاں نظیر
ایسی! نہ شب برات! نہ !بقرعید کی خوشی
جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی

0 comments:

Post a comment

خوش خبری