آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 27 June 2020

kahani Ek Chor Ki - Hikayat e Rumi

کہانی ایک چور کی

ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگا
اتفاقًا باغبان بھی وہاں آ پہنچا اور چور سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او بے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟
چور مسکرایا اور بولا:
”ارے بے خبر! یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اُس کا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ ایک پتّہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا۔“
باغبان نے چور سے کہا
”جناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں ۔۔۔۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ہے کہ جو کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا ہی کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بندے کا کچھ بھی اختیار نہیں ۔۔۔۔۔۔ قبلہ ذرا نیچے تشریف لائیے ۔۔۔۔۔۔“
چور اپنی تعریف سن کر پھولا نہ سمایا اور جھٹ سے نیچے اتر آیا ۔۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ نیچے آیا تو باغبان نے اسکو پکڑ لیا اور رسی کے ساتھ درخت سے باندھ دیا ۔ پھر خوب مرمت کی ، آخر میں جب ڈنڈا اٹھایا تو چور چلا اٹھا ، کہ ظالم کچھ تو رحم کرو ، میرا اتنا جرم نہیں جتنا تو نے مجھے مار لیا ہے ۔ باغبان نے ہنس کر اس سے کہا کہ جناب ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے ، اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، اگر پھل کھانے والا اللہ کا بندہ تھا تو مارنے والا بھی تو اللہ کا بندہ ہے اور اللہ کے حکم سے ہی مار رہا ہے کیونکہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا.
چور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خدارا مجھے چھوڑ دے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل مسئلہ میری سمجھ میں آگیا ہے کہ بندے کا بھی کچھ اختیار ہے
باغبان نے کہا اور اسی اختیار کی وجہ سے اچھے یا برے کام کا ذمہ داربھی...!!!

(حکایت رومی )
(اقبال حسن آزاد کے فیس بُک صفحہ سے)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری