آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 20 June 2020

Nadan Dost By Prem Chand NCERT urdu class IX Chapter 3

نادان دوست
کیشو کے گھر میں ایک کارنس کے اوپر ایک چڑیا نے انڈے دیے تھے۔ کیشو اور اس کی بہن شیاما دونوں بڑے غور سے چڑیا کو وہاں آتے جاتے دیکھا کرتے ۔ سویرے دونوں آنکھ ملتے کارنس کے سامنے پہنچ جانتے اور چڑا اور چڑیا دونوں کو وہاں بیٹھا پاتے۔ ان کو دیکھنے میں دونوں بچوں کو نہ معلوم کیا مزہ ملتا تھا۔ دودھ اور جلیبی کی بھی سدھ نہیں رہی تھی۔ دونوں کے دل میں طرح طرح کے سوالات اٹھتے ” انڈے کس رنگ کے ہوں گے؟ کتنے ہوں گے؟ کیا کھاتے ہوں گے؟ ان میں سے بچے کس طرح نکل آئیں گے بچوں کے پر کیسے نکلیں گے گھونسلا کیسا ہے؟ لیکن ان باتوں کا جواب دینے والا کوئی نہ تھا، نہ اماں کو گھر کے کام دھندے سے فرصت تھی، نہ بابو جی کو پڑھنے لکھنے سے۔ دونوں بچے آپس میں سوال و جواب کر کے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے تھے۔ شیاما کہتی کیوں بھیا !  بچے نکل کر پھر سے اڑ جائیں گے "
کیشو عالمانہ غرور سے کہتا " ہیں رے پگلی ، پہلے پر نکلیں گے۔ بغیر پروں کے بیچارے کے کیسے اڑ جائیں گے " شیاما: بچوں کو کیا کھلائے گی بیچاری؟
کیشو اس پیچیدہ سوال کا جواب کچھ نہ دے سکا تھا۔
            اس طرح تین چار دن گذر گئے۔ دونوں بچوں کی خواہش تحقیقات دن بدن بڑھتی جاتی تھی۔ انڈوں کو دیکھنے کے لیے وہ بے تاب ہو اٹھے تھے۔ انھوں نے قیاس کیا اب بچے ضرور نکل آئے ہوں گے بچوں کے چارے کا سوال اب ان کے سامنے کھڑا ہوا ۔ چڑیا بیچاری اتنا دانہ کہاں پائے گی کہ سادے بچوں کا پیٹ بھرے ۔ غریب بچے بھوک کے مارے چوں چوں کرکے مر جائیں گے۔
اس مصیبت کا اندازہ کرکے دونوں نے فیصلہ کیا کہ کارنس پر تھوڑا سا دانہ رکھ دیا جائے۔ شیاما خوش ہوکر بولی تب تو چڑیوں کو چارے کے لیے کہیں اڑ کر نہ جانا پڑے گا۔
کیشو نہیں تب کیوں جائے گی؟
شیاما کیوں کیوں بھیا بچوں کو دھوپ نہ لگتی ہوگی ؟
کیشو کا دھیان اس تکلیف کی طرف نہ گیا تھا بولا" ضرور تکلیف ہوتی ہوگی۔ بچارے پیاس کے مارے تڑپتے ہوں گے، اوپر سایہ بھی نہیں ۔
آخر یہ فیصلہ ہوا کہ گھونسلے کے اوپر کپڑے کی چھت بنادینی چاہیے ۔ پانی کی پیالی اور چاول رکھ دینے کی تجویز منظور ہوگئی ۔
      دونوں بچے بڑے شوق سے کام کرنے لگے ۔ شیاما ماں کی آنکھ بچا کر مٹکے سے چاول نکال لائی ۔ کیشور نے پتھر کی پیالی کا تیل چپکے سے زمین پر گرا دیا اور اسے خوب صاف کر کے اس میں پانی بھرا۔ اب چاندنی کے لیے کپڑ ا کہاں سے آئے ۔ پھر اوپر بغیر چھڑیوں کے ٹھہر ے گا کیسے؟ اور چھڑیاں کھڑی کیسے ہوں گی؟
کیشو بڑی دیر تک اسی ادھیڑ بن میں رہا۔ آخر اس نے یہ مشکل بھی حل کرلی۔ شیاما سے بولا" جا کر کوڑا پھینکنے والی ٹوکری اٹھا لاؤ ، اماں کو مت دکھانا ۔"
شیاما دوڑ کر ٹوکری اٹھالائی۔ کیشو نے اس کے سوراخ میں تھوڑا سا کاغذ ٹھونس دیا اور ٹوکری کو ایک ٹہنی سے لٹکا کر بولا دیکھ ایسے ہی گھونسلے پر اس کی آڑ کروں گا تو کیسے دھوپ چاۓ گی ۔
شیاما نے دل میں سوچا ، بھیا کیسے چالاک ہیں۔
گرمی کے دن تھے۔ بابوجی دفتر گئے ہوئے تھے۔ ماں دونوں  بچوں کو سلا کر خود سوگئی تھی۔ لیکن دونوں بچوں کی آنکھوں میں نیند کہاں؟ اماں جی کو بہلانے کے لیے دونوں دم روکے ، آنکھیں بند کیے موقعے کا انتظار کر رہے تھے۔ جوں ہی معلوم ہوا کہ اماں جی اچھی تھی طرح سوگئی ہیں، دونوں چپکے سے اٹھے اور بہت آہستہ سے دروازے کی چٹکنی کھول کر باہر نکل آئے۔ انڈوں کی حفاظت کی تیاریاں ہونے لگیں ۔
کیشو کمرے سے جا کر ایک اسٹول اٹھالا یا۔ لیکن اس سے کام نہ چلا تو نہانے کی چوکی لا کر اسٹول کے نیچے رکھی اور ڈرتے ڈرتے اسٹول پر چڑھا۔ شیاما دونوں ہاتھوں سے اسٹول پکڑے ہوئے تھی۔ اسٹول چاروں ٹانگیں برابر نہ ہونے کی وجہ سے جس طرف زیادہ دباؤ پاتا تھا، ذرا ساہل جاتا تھا۔ اس وقت کیشو کو کس قدر تکلیف برداشت کرنی پڑتی تھی، یہ اسی کا دل جانتا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے کارنس کر پکڑ لیتا تھا اور شیاماں کو دبی آواز سے ڈانتا۔" اچھی طرح پکڑو ورنہ اتر کر بہت ماروں گا۔ مگر بے چاری شیاما کا دل تو اوپر کارنس پر تھا۔ بار بار اس کا دھیان ادھر چلا جاتا اور ہاتھ ڈھیلے پڑ جاتے۔
کیشو نے جوں ہی کارنس پر ہاتھ رکھا، دونوں چڑیاں اڑ گئیں ۔
کیشو نےدیکھا کہ کارنس پر تھوڑے سے تنکے بچھے ہوئے ہیں اور اس پر تین انڈے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے گھونسلے - اس نے درخت پر دیکھے تھے ویسا کوئی گھونسلا نہیں ہے
شیاما نے نیچے سے پوچھا "بچے ہیں بھیا" کیشو : تین انڈے ہیں والے ہیں، بچے ابھی تک نہیں نکلے
شیاما : ذرا  ہمیں دکھا دو بھیا ، کتنے بڑے ہیں؟
کیشو: دکھا دوں گا، پہلے ذرا جھنڈی لے کر آ نہ نیچے بچھادوں، بچارے انڈے تنکوں پر پڑے ہیں۔"
شیاما دوڑ کر اپنی پرانی دھوتی پھاڑ کر ایک ٹکڑا لائی ۔ کیشو نے جھک کر کپڑا لے لیا اور اسے تہہ کر کے ایک گدی بنائی اور اسے تنکوں پر بچھا کرتہہ کر کے تینوں انڈے
اس پر رکھ دیے ۔ شیاما نے پھر کہا:" ہم کو بھی دکھا دو بھیا ۔"
کیشو : دکھادوں گا ۔ پہلے ذرا ٹوکری تو دے او پر سایہ تو کردوں۔
  شیاما نے ٹوکری نیچے سے تھما دی اور بولی "اب تم أتر آؤ میں بھی دکھوں" ۔
  کیشو نے ٹوکری کو ایک ٹہنی سے لگا کر کہا۔ "جا، دانہ اور پانی کی پیالی لے آ، میں اتر آؤں گا تو تجھے دکھا دوں گا"۔
   شیاما پیالی اور چاول بھی لے آئی۔
    کیشو نے ٹوکری کے نیچے دونوں چیزیں رکھ دیں اور آہستہ سے اتر آیا۔
     شیاما نے گڑگڑا کر کہا۔" اب ہم کو بھی چڑھا دو بھیا ؟ کیشو : تو گر پڑے گی ۔
شیاما : نہ گروں گی بھیا تم نیچے سے پکڑے رہنا۔
کیشو : کہیں تو گرگرا  پڑی تو اماں جی میری چٹنی ہی
کر ڈالیں گی۔ کہیں گی کہ تو نے ہی چڑھا یا تھا ۔ کیا کرے گی دکھ کر؟ اب انڈے بڑے آرام سے ہیں ۔ جب بچے نکلیں گے تو ان کو پالیں گے۔
دونوں پرندے بار بار کارنس پر آتے تھے اور بغیر بیٹھے ہی اڑ جاتے تھے۔ کیشو نے سوچا ہم لوگوں کے ڈر سے یہ نہیں پٹھتے ۔ اسٹول اٹھا کر کمرے میں آیا۔ چوکی چہان کی تھی وہیں رکھے دی۔
شیاما نے آنکھ میں آنسو بھر کر کہا۔" تم نے مجھے نہیں دکھا یا اماں جی سے کہہ دوں گی" ۔
کیشو۔ :  اماں جی سے کہے گی تو بہت ماروں گا کہے دیتا ہوں۔
شیاما: تو تم نے مجھے دکھایا کیوں نہیں؟
کیشو : اگر گر پڑتی تو چار سر نہ ہوتے۔
شیاما : ہو جاتے تو ہو جاتے۔ دکھ لینا میں کہہ دوں گی۔
اتنے میں کوٹھری کا دروازہ کھولا اور ماں نے دھوپ سے آنکھوں کو بچاتے ہوئے کہا تم دونوں باہر کب نکل آئے؟  میں نے کہا تھا دو پہر کو نہ نکلنا؟ کس نے یہ کواڑ کھولا ؟
کواڑ کیشو نے کھولا تھا ۔ لیکن شیاما نے ماں سے بات نہیں تھی۔ اسے خوف ہوا کہ بھیاپٹ جائیں گے۔ کیشو دل میں کانپ رہا تھا کہ کہیں شیاما کہہ نہ دے انڈے نہ دکھائے تھے۔ اس وجہ سے اب اس کو شیاما پر اعتبار نہ تھا۔ شیاما صرف محبت کے مارے چپ تھی یا اس قصور میں حصہ دار ہونے کی وجہ سے، اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ شاید دونوں ہی باتیں تھیں۔
مال نے والوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر پھر کمرے میں بند کر دیا اور آہستہ آہستہ آنھیں پنکھا جھلنے لگی۔ ابھی صرف دو بجے تھے۔ باہر تیز لو چل رہی تھی اب دونوں کو نیند آگئی۔
چار کے یکا یک شیاما کی آنکھ کھلی ۔ کواڑ کھلے ہوئے تھے ۔ وہ دوڑتی ہوئی کارنس کے پاس آئی اوپر کی طرف تکنے لگی۔ ٹوکری کا پتہ نہ تھا اتفاقاً اس کی نگاہ نیچے گئی اور وہ الٹے پاؤں دوڑتی ہوئی کمرے میں جا کر زور سے بولی۔
"بھیا انڈے تو نیچے پڑے ہیں بچے اڑ گئے۔"
کیشو گھبرا کراٹھا اور دوڑتا ہوا باہر آیا ۔ دیکھتا ہے کہ تینوں انڈے نیچے ٹوٹے پڑے ہیں۔ پانی کی پیالی بھی ایک طرف ٹوٹی پڑی ہے۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ سہمی ہوئی آنکھوں سے زمین کی طرف دیکھنے لگا۔
شیاما نے پوچھا " بچے کہاں اڑ گئے بھیا ؟"
کیشو نے افسوسناک لہجے میں کہا" انڈے تو پھوٹ گئے۔"
شیاما ؛ اور بچے کہاں گئے؟
کیشو : تیرے سر میں دیکھی نہیں ہے انڈوں سے اجلا اجلا پانی نکل آیا ہے۔ وہی تو دو چار دن میں بچے بن  جاتے۔ ماں نے سوئی ہاتھ میں لیے ہوئے پوچھا تم دونوں وہاں دھوپ میں کیا کر رہے ہو؟
  شیاما نے کہا " اماں جی ! چڑیا کے انڈے پڑے ہیں۔
  ماں نے آکر ٹوٹے ہوئے انڈوں کو دیکھا اورغصے سے بولی: " تم لوگوں نے انڈوں کو چھوا ہو گا ۔
اب تو شیاما کو بھیا پر ذرا بھی ترس نہ آیا ۔ اسی نے شاید انڈوں کو اس طرح رکھ دیا کہ وہ نیچے گر پڑے۔ اس کی سزا انھیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے انڈوں کو چھیڑا تھا اماں جی “
ماں نے کیشو سے پوچھا " کیوں رے کیشو ! بھیگی بلی بنا کھڑا ہے تو وہاں پہنچا کیسے؟"
شیاما : چوکی پر اسٹول رکھ کر چڑھے تھے سماجی ۔
کیشو تو اس کو تھامے نہیں کھڑی تھی ۔
شیاما: تم ہی نے تو کہا تھا۔
ماں : تو اتنا بڑا ہو گیا تجھے نہیں معلوم چھونے سے چڑیا کے انڈے گندے ہو جاتے ہیں ۔ چڑیا پھر انہیں نہیں سیتی ۔
شیاما نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو کیا چڑیا نے انڈے گرائے ہیں ، اماں جی
  اماں : اور کیا کرتی ؟ کیشو کے سر اس کا پاپ پڑے گا۔ ہابا ! تین جانیں لے لیں دشٹ نے۔
کیشو : روئی صورت بنا کر بولا: میں نے تو صرف انڈوں کو گدی پر رکھ دیا تھا اماں "
ماں کو ہنسی آگئی ۔ مگر کیشو کو کئی دن تک اپنی غلطی کا افسوں رہا۔ انڈوں کی حفاظت کرنے کے زعم میں اس نے ان کا ستیا ناس کرڈالا ۔ اس کو یاد کر کے کبھی کبھی وہ رو پڑتا۔
دونوں چڑیاں پھر وہاں نہ دکھائی دیں ۔

                                                          (پریم چند)
پریم چند
( 1880 - 1936)
پریم چند کا اصلی نام دھنپت رائے تھا۔ وہ بنارس کے قریب ایک گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا شمار اردو کے ابتدائی اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے روپ اپنے حقیقی مسائل اور کرداروں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ غربت اور افلاس میں جینے والا عام انسان خصوصاً دیہاتی کسان اور مزدور، ان کے افسانوں کا اہم کردار ہوا کرتا ہے۔
پریم چند نے سیکڑوں افسانے اور کئی ناول لکھے ہیں ۔ پریم پچپیسی ، پریم چالیسی، دودھ کی قیمت اور واردات ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔گئودان، غبن، میدان عمل بیوہ اور بازارحسن ان کے اہم ناول ہیں۔

سوچیے اور بتائیے
1. گھونسلہ دیکھ کر بچوں کے دل میں کیا خواہش پیدا ہوئی؟
جواب:گھونسلہ دیکھ کر بچوں کہ دل میں  خواہش پیدا ہوئی کہ انڈوں کو دھوپ سے بچایا جائے  اور کھانے کی چیزوں کو گھونسلے کے قریب ہی رکھ دیا جائے تاکہ چڑیا اور اس کے بچوں کو کوئی پریشانی نہ ہو ۔

2.گھونسلے تک پہنچنے کی کیشو نے کیا ترکیب کی؟
جواب:گھونسلے تک پہنچنے کے لیے ان لوگوں نے اسٹول پر چوکی رکھی اور اس کے بعد کیشو گھونسلے تک پہنچا شیاما نے اسٹول کو پکڑا تاکہ وہ گر نہ جائےاس طرح کیشو گھونسلے تک پہنچ گیا-

3.شیاما  کو اپنے بھائی کیشو  پر ترس کیوں  نہیں آیا؟
جواب:چونکہ کیشو نے شیاما کو انڈے نہیں دکھائے تھے  اس لیے جب ماں نے کیشو کو ڈانٹا تو شیاما  کو بالکل ترس نہیں آیا اور اس نے ماں سے شکایت کردی کہ بھیا نے انڈوں کو چھیڑا تھا۔

4.پرندوں کے انڈوں کو کیوں نہیں چھونا چاہیے؟
جواب:پرندوں کے انڈوں کو چھونے سے وہ گندے ہو جاتے ہیں اور پرندے انہیں چھوڑ دیتے ہیں اس لیے انھیں نہیں چھونا چاہیے۔

5.گھونسلے سے زمین پر انڈے کس نے گرا دیے اور کیوں؟
جواب:چڑیا ہی نے انڈے زمین پر گرا دیے کیوں کہ بچوں کہ چھیڑنے سے انڈے گندے ہو گئے تھے  اور گندے انڈوں سے بچّے نہیں نکلتے۔

نیچے لکھے لفظوں کی مدد سے خالی جگہوں کو بھریے:

بچے##### پاپ#####  ٹوٹی#####  دفتر#####  کانپ

کیشو دل میں کانپ رہا تھا۔
پیالی کی پیالی بھی ایک طرف ٹوٹی پڑی ہے۔
کیشو کے سراس کا پاپ پڑے گا
بچے نکل کر پھر سے اڑ جائں گے
بابوجی دفتر گئے ہوئے تھے
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے واحد اور جمع بنائیے:

سوالات :  سوال
موقع : مواقع
تکلیف : تکلیف
خواہش :  خواہشات 
پرندے : پرندہ
چیز :چیزیں

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کےمزکر اور مونث لکھیے:
اماں :  ابا
چڑا :  چڑیا
بہن :  بھائی
بچہ : بچے
بلی : بلا
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے:

دھوپ : چھاوں
تکلیف :  آرام
سزا  : انام
پاپ : پُنیہ
جواب :  سوال

ایک سچّا واقعہ
نادان دوستوں کی کہانی آپ نے اپنے سبق میں پڑھی آئیے اب آپکو ایک سچا واقعہ سناتا ہوں ۔ پرندوں کے گھونسلا بنانے کی عادت کا ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک چڑیا نے ایک کار کی ونڈو شیلڈ پر ہی گھونسلا بنا دیا اور اس میں انڈے دے دیے۔ اور جانتے ہو بچّو! یہ مہنگی اور قیمتی گاڑی کس کی تھی یہ ہم تمہیں آگے بتائیں گے۔
پرندہ ہو یا کوئی جانور انہیں اس بات کاعلم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔ ہماری بالکونی میں لگے پودوں کو گلہری اس بے دردی سے کتر ڈالتی ہے کہ کیا بتائیں۔ ان کی یہ حرکتیں کسی بھی انسان کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ کیونکہ انہیں نہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخر کیا کر رہی ہیں۔ پھر چاہے کسانوں کے کھیت میں بوئے گئے بیجوں کو چگنا ہو یا پھر کسی کے گھر کی بالکونی میں گھونسلا بنانا۔ پرندے اکثر کسی بھی گھر میں ایسے مقام پر گھونسلا بناتے ہیں جو انہیں اپنی اور اپنے بچوں کے تحفظ کی کوئی فکر نہ ہو لیکن انسان ایسی مخلوق ہے جو کہیں بھی پہنچ جاتی ہے بھلے ہی انسان پرندوں کو نقصان نہ پہنچائیں باوجود اس کے پرندوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے۔
پرندوں کے گھونسلا بنانے کی عادت کا ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک چڑیا نے ایک کار کی ونڈو شیلڈ پر ہی گھونسلا بنا دیا اور اس میں انڈے دے دیے۔ یہ کار دبئی کے ولی عہد شہزادہ ایگزیکٹو کونسل کے صدر شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کی تھی۔ در اصل چڑیا نے ولی عہد شہزادہ کی مرسڈیز ایس یو وی کی ونڈ شیلڈ پر گھونسلا بنا لیا۔
جیسے ہی اس بات کا ولی عہد شہزادہ کو پتہ چلا تو انہوں نے کار کو ایک طرف کھڑا کروادیا۔ تاکہ پرندے امن سے رہ سکیں اور ان کے بچوں کو کوئی پریشانی نہ آئے۔ گزشتہ ہفتے ، ولی عہد شہزادہ نے کار کے بونٹ پر ماں پرندے کا ویڈیو اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا تھا کہ وہ تب تک اس کار کا استعمال نہیں کریں گے جب تک بچے انڈوں سے نہ نکل جائیں۔
اس ویڈیو کے سامنے آںے کے بعد سوشل میڈیا کے صارفین ولی عہد شہزادے کی جم کر تعریف کر رہے ہیں۔ ایک صارف نےلکھا آپ سچ میں پرنس ہیں۔ پرندوں کے لئے آپ کے دل میں بہت محبت ہے۔ وہیں دوسرے یوزر نے لکھا آپ کا دل سونے کا ہے، آج کے زمانے میں کون اتنی چھوٹی بات کو سوچتا ہے۔ آپ نے جو کیا اس سے میرا دل بھر آیا۔ آپ کو بہت سارا پیار۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری