آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 14 June 2020

Hazrat Amir Khusrau


چھاپ تلک سب چھینی رے مجھ سے نینا ملا کے
فضا میں ستار، ہارمونیم اور ڈھولک کی تھاپ پر عشق و محبت کے درد میں ڈوبا یہ نغمہ بکھر رہا ہے،کہیں دور  سے’ زحال مسکیں مکن تغافل در آئی نیناں بنائے بتیاں‘ کی سریلی آواز دل کو گرما رہی ہے رات کے پچھلے پہر’ نہ آپ آئے نہ بھیجی پتیاں‘ کی درد بھری سسکاری محبوب کی یاد میں خون کے آنسو رُلا رہی ہے۔اور جس کی تان
گوری سوئے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس 
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس 
پر جا کر ٹوٹ جاتی ہے۔
دہلی کے حضرت نظام الدین کی گلیوں سے نکال کر پوری دنیا میں پھیل جانے والی یہ آواز طوطی ہند حضرت امیر خسرو ؒ کی ہے۔ جو اپنے زمانے کے مشہور صوفی بزرگ محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءکے مرید و خلیفہ تھے۔
خسرو کی پیدائش1253ء میں اتر پردیش کے قصبے پٹیالی  میں ہوئی۔یہ قصبہ ضلع ایٹہ      میں دریائے گنگا کے کنارے آباد ہے۔ ان کا لقب ابو الحسن تھا اور نام امین الدولہ ۔ان کے والدامیر سیف الدین محمود  لاچین قوم کے ایک ترک سردار تھے۔ منگولوں کے حملوں کے وقت ہندوستان آئے اور پٹیالی میں سکونت اختیار کی۔جب وہ ہندوستان آئے تو یہاں سلطان شمس الدین التمش کی حکومت تھی۔
خسرو کے والد ترک نسل کے تھےاور اُن  کی والدہ ہندوستانی تھیں۔وہ وزیر عماد الملک کی بیٹی تھیں۔  خسروآٹھ سال کی عمر میں یتیم ہوگئے اور  کچھ عرصہ بعد یہ خاندان آگرہ سے دہلی منتقل ہو گیا اور خسرو اپنے نانا عماد الملک کے ساتھ رہنے لگے۔۔ امیرخسرو نے سلطنت دہلی کے آٹھ بادشاہوں کا زمانہ دیکھا جن میں خاندان غلامان، خلجی اورتغلق شامل ہیں  ۔خسرو نےبرصغیر میں اسلامی سلطنت کے ابتدائی ادوار کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں سرگرم حصہ لیا۔خسرو 20سال کے تھے کہ ان کے نانا کا انتقال ہوگیا اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑا۔
حضرت امیرخسرو محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے بڑے چہیتے مرید تھے اور  خسرو کو بھی  اپنے مرشد سے انتہائی عقیدت تھی ۔
سیّد محمد بن مبارک کرمانیؒ سیر الاولیاء میں لکھتے ہیں:
راقم الحروف نے اپنے والد بزرگوارسے سنا ہے وہ کہتے تھے کہ جس دن امیر خسرو پیدا ہوئے امیر خسرو کے باپ امیر لاچین کے گھر کے پاس ہی ایک دیوانہ رہتا تھا بڑا خدا رسیدہ۔امیر خسرو کے باپ نے اس بچّے کو کپڑے میں لپیٹا اور اس دیوانے کے پاس لے گیادیوانے نے کہا لے آؤ ایسے آدمی کو جو خاقانی سے دو قدم آگے ہوگا۔غرضیکہ جب سن بلوغت کو پہنچےتو سلطان المشائخ کی عقیدت و ارادت میں رنگے گئے اور ان کی شفقتوں اور کرم فرمائیوں کے لیے مخصوص ہوئے۔
حضرت امیر خسرو نےسلطان المشائخ سے عقیدت و ارادت میں اس صدق و خلوص سے کوشش کی کہ مرشد کے محرم اسرار بن گئے۔ حضرت امیر خسرو کوسلطان المشائخ کے ہاں انتہائی قرب اور خاص مقام حاصل تھا۔
کہتے ہیں کہ خسرو نے  ایک دن سلطان المشائخ کی مدح میں اُن کے سامنے شعر پڑھے۔ آپ نے فرمایا کیا چاہتے ہو۔ کیونکہ خسرو کو شعر و شاعری کی ہی تمنّا تھی۔شیرینی اتاثیر ِ شعر کی درخواست کی فرمایا کہ شَکر کا جو طشت کھاٹ کے نیچے ہے لاؤ اور اپنے سر پر نثار کرواور اس میں سے کچھ کھا بھی لو۔ امیر خسرو نے ایسا ہی کیا اور اسی کے کلام کی شیرینی کا شہرہ مشرق و مغرب میں پھیل گیا۔اور  وہ اگلے پچھلے شاعروں کے لیے باعث فخر بن گئے۔خسرو اس درخواست کے قبول ہونے سے آخری عمر تک نادم رہےکہ اس وقت اس سے بہتر کوئی چیز کیوں نہ مانگ لی۔
بتاتے ہیں کہ سلظان المشائخ نے ذوق و شوق سے پُر نہ جانے کتنے خطوط امیر خسرو کو اپنے ہاتھ سے خود لکھے ہیں۔
خسرو نے ہر صنف شعر، مثنوی، قصیدہ، غزل، اردو دوہے ،پہیلیاں، گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگارچھوڑے۔ ہندوستانی موسیقی میں ترانہ، قول اور قلبانہ انہی کی ایجاد ہے۔ بعض ہندوستانی راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے انہی کی ایجاد ہے۔ کہتے یہ کہ ستار پر تیسرا تار آپ ہی نے چڑھایا۔
امیر خسروفارسی اور اردو کے  بہت ہی مشہورصوفی شاعر تھے۔وہ  ماہر موسیقی تھے اور انہیں نے نہ جانے کتنے راگ ایجاد کیے ۔ ستار بھی آپ ہی کی ایجاد ہے جو آج بھی موسیقی کے دکدادہ افراد کا پسندیدہ ساز ہے۔خسرو کو طوطی ہند کہا جاتا ہے۔
فارسی کلام کی مثالیں
اگر فردوس بر روۓ زمین است ##### ہمین است و ہمین است و ہمین است
کافر عشقم، مسلمانی مرا در کار نیست##### ہر رگ من تار گشتہ، حاجت زُنار نیست
از سر بالین من برخیز ای نادان طبیب ##### دردمند عشق را دارو بہ جز دیدار نیست
ناخدا بر کشتی ما گر نباشد، گو مباش ##### ما خدا داریم ما ناخدا در کار نیست
خلق می‌گوید کہ خسرو بت‌پرستی می‌کند #####آری! آری! می‌کنم! با خلق ما را کار نیست
خسرو نے اردو میں دوہے بھی کہے:
خسرو دریا پریم کا، اُلٹی وا کی دھار##### جو اترا سو ڈوب گیا، جو ڈوبا سو پار
سیج وُہ سونی دیکھ کے رووُوں میں دن رین ##### پیا پیا میں کرت ہوں پہروں، پل بھر سکھ نا چین

امیر خسرو شاعری سے ہی نہیں بلکہ موسیقی سے بھی کافی دلچسپی رکھتے تھے۔ ہندوستانی کلاسیکل موسیقی کے ایک اہم شخصیت بھی مانے جاتے ہیں۔ کلاسیکل موسیقی کے اہم ساز، طبلہ اور ستار انہی کی ایجاد مانی جاتی ہے۔ اور فن موسیقی کے اجزا جیسے خیال اور ترانہ بھی انہی کی ایجاد ہے۔
دنیا میں اردو کا پہلا شعر حضرت امیرخسرو ہی کی طرف منسوب ہے۔ اس سلسلے میں اردو کے ابتدائی موجدین میں ان کا نام نمایاں ہے ۔
جب سلطان المشائخ کا انتقال ہواتو خسرو دلّی میں نہ تھے۔دلّی واپس آنے پر اُن کی موت کی المناک خبر سنی اور شدّتِ غم سے بے حال ہوگئے۔ اُن کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ انہوں نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور چہرے پر خاک مل لی۔اسی حالت میں پیر کی قبر پرپہنچے اور بے ساختہ یہ دوہا پڑھا
گوری سوئے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس

(گوری(حضرت نظام الدین اولیاء)اپنے منہ پر بالوں کو بکھیر ے سیج پر سورہی ہے۔ اے خسرو اب اپنے گھر چل ،چاروں طرف رات کا اندھیرا چھا گیا ہے۔)
محبوب الٰہی کے انتقال کے بعد امیر خسرو زیادہ دن زندہ نہیں رہے اور 6 ماہ بعد1325ء  میں وہ بھی اپنے شیخ کے قدموں میں ابدی نیند سو گئے۔

خسرو کی شہرہ آفاق تصانیف
”تحفۃ الصغر“،”وسطالحیات“،”غرۃالکمال“،”بقیہ نقیہ“،”قصہ چہار درویش“”نہایۃالکمال“،”ہشت بہشت“،”قران السعدین“،”مطلع الانوار“،”مفتاح الفتوح“،”مثنوی ذوالرانی-خضرخان“،”نہ سپہر“،”تغلق نامہ“،”خمسہ نظامی“،”اعجاز خسروی“،”خزائن الفتوح“،”افضل الفوائد“،”خالق باری“،”جواہر خسروی“،”لیلیٰ مجنوں“،”آئینہ سکندری“،”ملا الانور“،”شیریں خسرو“
حوالہ جات:
1. سَیر الاولیاء
2. امیر خسرو از شیخ سلیم احمد
3. آزاددائرة المعارف، ویکی پیڈیا

0 comments:

Post a comment

خوش خبری