آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Thursday, 12 November 2020

I.C.S by Ali Abbas Husaini NCERT Class 10 Gulzar e Urdu

آئی۔سی۔ایس
علی عباس حسینی
وحید کا آئی۔سی ۔ ایس میں جانا بالکل داتا کی دین تھی۔ ایک غریب دیہاتی زمیندار کا لڑکا جو گیارہ بارہ برس کے سن تک ایک چھوٹے مختصر اور تنگ کچے مکان میں پلا ہو، جو گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ گلی ڈنڈا، کبڈی، گیڑی اور آنکھ مچولی کھیلنے میں لگا رہا ہو، جس نے لڑکوں کے ساتھ ہر بڑے سے بڑے درخت پر چڑھ جانے اور چھپ بیٹھنے میں مہارت حاصل کی ہو۔ جس نے سات برس کی عمر سے گائیں بھینسیں خود دو ہی ہوں اور ان کا گوبر اپنے ہاتھ سے اٹھایا ہو۔ اور جس کے سب سے بڑے دوست چھوٹی امت کے لوگ رہے ہوں ۔ وہ آج آئی ۔ سی ۔ ایس پاس ہو اور ہیٹ کوٹ پہنے صاحب بنا، ول ٹم کیا مانگٹا اور ہم نہیں جانٹا، بولنے کا فخر حاصل کر لے۔ واقعی بخشش الہی تھی یا حضرت موسی کے لیے سنا تھا۔ وحید کے معاملے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔
ہم نے مانا کہ بارہ برس کے سن سے اس کنده ناتراش کو ایک دور کے عزیز نے رحم کھا کر اپنے پاس رکھا، خراد پر چڑھایا اور آدمی بنایا۔ مگر یہ سب رحمت باری اور فضل الہی تھا۔ اس نے اگر ان عزیز کے دل میں اولاد کی خواہش کے ساتھ ساتھ ان کی گود بھی اولاد سے بھری ہوتی تو پھر کیا ہوتا۔ اگر وحید کی فطرت میں اثر قبول کرنے کا مادہ نہ ہوتا، اچھے خاصے جانور سے بھلا مانس انسان بننے کی صلاحیت و دیعت نہ کی ہوتی تو وہ کاہے کو اسکول یا کالج ہی سے اپنے کپڑوں، اپنے فیشن، اپنی تہذیب، اپنے سلیقے اور اپنی ذہانت کے لیے مشہور ہوتا۔ پورے ایک زمین سے نکال کر دوسری زمین میں لگا دینے سے اپنی نوعیت اور جنس نہیں بدل دیتے، نیم آم نہیں بن جاتی ، نہ گیندا گلاب ہو جاتا ہے۔
مگر یہاں وحید کے معاملے میں تو محمد پورکیا چھوٹا اور الہ آبا د کیا ملا کہ ایسا معلوم ہوا کہ شخصیت ہی دوسری ہو گئی، جون بدل گئی، جس طرح اس نے محمد پور کے پھٹے پرانے کپڑے اتارے اور الہ آباد کے نئے چمکتے بھڑ کتے پہن لیے، اسی طرح اس کی وہ بارہ برس تک کی طبیعت ، ضد، جھلاہٹ ، شرارت، بھد اپن، ہٹیلاپن، اکھڑ پن، گنوار پن، بدتہذیبی، بد اخلاقی، کج روی، یا وہ گوئی، در بیدہ ذہنی،بے ہودہ گوئی، کم عقلی، بد اطواری، دیرفہمی، بد شوقی اور موقع ناشناسی سب محمد پوری کپڑوں کے ساتھ اتر گئی اور اس کی جگہ الہ آبادی کپڑوں کے پہنتے ہی متانت ، سنجیدگی ، خودداری، وقار، زودفہمی ، سگھڑ اپا، جامہ زیبی ، خوش مزاجی ، معاملہ فہمی، سخن سنجی آگئی ۔ ہمارا یہ ادعا نہیں کہ یہ فرق فوراً پیدا ہو گیا تھا یا واقعی ایک جگہ سے چھوٹتے ، ایک گھر سے نکلتے اور دوسرے گھر میں داخل ہوتے ہی پیدا ہو گیا تھا۔
  نہیں، اس تبدیلی میں سال دو سال لگے تھے۔ مگر پھر بھی یہ ایسا سریع اور عظیم انقلاب تھا جسے کایا پلٹ ہو جانا کہتے ہیں۔
بہر نوع، ما لک کی دین کہیے یا وحید کی فطری صلاحیت و قابلیت ، ہوا ایسا ہی کہ وحید جس دن سے اسکول میں داخل ہوا اور جس دن تک وہ تعلیم پاتا رہا ہمیشہ اپنے درجے میں اول آیا۔ یہاں تک کہ ایم ۔ اے پاس کرنے کے بعد آئی۔سی ۔ ایس بھی ایسے اچھے نمبروں سے پاس ہوا کہ نہ سعی و سفارش کی ضرورت ہوئی اور نہ خاندانی حقوق و خدمات گنانے پڑے۔ اور دو برس انگلستان میں مزید تعلیم و تجربہ حاصل کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ وہاں کے قیام کے دوران میں ریاست مہید ر پور کے ایک رکن خاص، صاحب زادہ شہاب الدین خاں سے ملا قات و راه و رسم پیدا ہوئی اور اسی سلسلے میں ان کی صاحب زادی جہاں آرا بیگم سے بھی جو اس سال آکسفورڈ یونیورسٹی سے بی۔اے میں نمایاں حیثیت سے کامیاب ہوئی تھیں روز روز ملنے جلنے نے کشش پیدا کی۔ صاحب زادہ کی اجازت اور جہاں آرا بیگم کی پسندیدگی سے اس نے وہیں بیاہ رچایا اور نئی دلہن ساتھ لے کر ہندوستان پلٹا۔ چونکہ دل میں یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں افلاس اور دیہاتیت کا پول نہ کھل جائے ۔ اس لیے ہندوستان میں پہنچنے اور دہلی حضور وائسرائے کے صدر دفتر میں تعیناتی کا درمیانی زمانہ ریاست مہید ر پور میں سسرال ہی میں بسر کیا اور گھر لکھ بھیجا کہ ”میں فی الحال مکان نہیں آ سکتا لیکن برابر والد کے لیے خرچ بھیجتا رہوں گا۔ کسی کو میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بوڑھا باپ دل مسوس کر، بوڑھی ماں رو دھو کر اور بھائی خفا ہو کر خاموش رہے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا گھر اس قابل نہیں کہ کوئی آئی۔ سی ۔ ایس آکر قیام کرے، وہ اسے خوب سمجھتے تھے کہ ان کا جھونپڑا کسی بیگم بہو کو اتارنے کے لائق نہیں ۔ انھوں نے ٹھنڈی سانسیں بھر یں آسمان کو دیکھا اور چھاتی پرسل رکھ لی۔
غرض بیگم نے نہ اپنی سسرال دیکھی اور نہ ساس سسر جیٹھ، دیوروں سے ملنے کی نوبت آئی کہ وحید دہلی میں لاٹ صاحب کے دفتر میں کام کرنے لگا۔ وہاں کے مشاغل بڑے بڑے آدمیوں سے ملنا جلنا، راجگان، مہاراج اور والیان ملک کی پارٹیاں، ایٹ ہوم، ڈنر، سنیما، تھیٹر، کھیل تماشے، غرض دل چسپیوں میں نہ کسی کی کمی تھی اور نہ ان کی وجہ سے اتنی فرصت کہ نئے رشتہ داروں اور عزیزوں کی ذرا فکر کی جائے۔ مگر بیگم کے لیے یہ دل چسپیاں ہوسکتیں تھیں وحید کی ماں کے لیے نہیں۔ اس نے تو وحید کو جنا تھا، اس کی مامتا کو بھلا کیسے چین پڑتا۔ وہ بیٹے کو لکھتی رہی بس ایک نظر دکھا جانے کی خواہش تھی، بہو کے دیکھنے کی بھی بڑی تمنائیں تھیں۔ بیٹے کی شادی کے بارے میں بڑھیا نے نہ جانے کیا کیا سوچ رکھا تھا، اپنوں پرایوں میں بہت سی لڑکیاں دیکھ رہی تھیں ۔ مگر وہاں صاحب زادے خود ہی بیگم بیاہ لائے ۔ شادی ایسے چپ چپاتے کر لی کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور موقع بھی ہوتا تو پہنچتی کیسے۔ کالے کوسوں دور سمندر پار، انگلستان میں ، پھر سسرال اپنے میل کی نہ جوڑ کی۔ وہاں روپیوں کی، عزت کی ، شان و شوکت کی افراط تھی، |
یہاں افلاس و تنگ دستی ، نکبت کی بہتات ۔ بہو پڑھی لکھی آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ، لاٹ صاحب، ہاتھ ملانے والی ۔ ساس جاہل، دیہاتن اور پردہ میں بیٹھنے والی۔ اس سے ساس کی طرح پیش آنا، بہو بنا کر ملنا، ہاتھی سے گنا کھانا تھا۔ مور کی طرح ناچنے کو جی تو ضرور چاہا تھا لیکن پاؤں کو دیکھ کر لاج بھی آتی تھی۔ صبر کی سل چھاتی پر رکھی ۔ مگر یہ بوجھ اتنا بھاری تھا کہ پہلو میں درد ہونے لگا۔ اس بے چینی نے خط لکھنے پر مجبور کیا۔ پہلے تو لڑ کے ہی کو لکھتی رہی۔ جب ادھر سے برابر ٹالنے ہی والا جواب ملا تو پھر ایک دن حمیدہ نے چھوٹے لڑکے کو پاس بلایا اور دل کی ساری کہانی بیگم بہو کولکھوا دی۔
بات چونکہ دل سے نکلی تھی اس لیے دل میں گھر کر گئی۔ بیگم بہو کو لفظ لفظ میں خلوص، سادگی اور سچائی کی عطرآگیں بوئے خوش آئی۔ وہ ہاتھ میں خط لیے بے ساختہ آئی۔ سی ۔ ایس وحید کے دفتر میں گھس آئیں اور اس کے سامنے سے فائلیں کھینچ کر بولیں۔
” کیوں صاحب یہ آخر آج تک آپ نے مجھے میری سسرال کے لوگوں سے کیوں نہ ملایا‘‘ مسٹر وحید آئی۔سی ۔ ایس، بیگم کے اس طرح چیں بہ جبیں آنے سے یوں ہی گھبرائے تھے، اس غیر متوقع سوال نے انھیں کچھ ڈرا سادیا ۔ وہ ذرا اٹک اٹک کے بولے۔
جب سے ہندوستان پلٹ کے آیا۔ تمھارے میکے گیا پھر وہاں سے ملازمت پر چلا آنا پڑا۔ یہاں کے کاموں میں کچھ اس طرح پھنس گیا کہ ...."
وہ بات کاٹ کر بولیں کہ" ماں باپ اور بھائیوں سے بھی نہ مل سکے اور نہ بیوی کو ملا سکے ۔‘‘ وحید کی ذہانت کام آئی، اس نے ذرا مسکرا کر کہا ” یہ آج دفعتاً آپ کو سسرال کیوں یاد آ گئی ، کیا کسی نے خط لکھا ہے؟
بیگم بولیں ” جی ہاں میں تو انسان ہوں ہی نہیں کہ مجھے کوئی فکر ہوتی۔ بار ہا آپ سے پوچھا آپ نے کہا کسی دن اطمینان سے باتیں ہوں گی تو بتاؤں گا۔ شاید آپ مجھے انسان نہیں سمجھتے یا اپنے گھر والوں کو جانورسمجھتے ہیں ۔"
وحید نے ذرا متانت سے کہا" بھئی ہے تو یونہی کہ تم ان لوگوں سے مل کر کچھ خوش نہ ہوگی ۔ نہ وہ کچھ باتیں کرنا جانیں نہ آداب و تہذیب سے واقف نہ ان کے رہنے سہنے کا طریقہ ہم لوگوں کا سا۔“
بیگم نے تلخ مسکراہٹ سے کہا، ”اب آپ زیادہ ان کی تعریفیں بیان فرمانے کی زحمت نہ کیجیے۔ آج آپ کی والدہ کا خط آیا ہے۔ میں خود چل رہی ہوں ۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں گی۔"
وحید گھبرا گیا وہ جلدی سے بولا ”ارے تم وہاں چلوگی محمد پور ۔“
اس نے کہا کہ ہاں ہاں کیا کوئی وہاں کٹکھنا کتا چھوٹا ہوا ہے کہ جاتے ہی مجھے کاٹ کھائے گا۔ اور یہ کہتی وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
وحید دیر تک سناٹے میں رہا۔ جانتا تھا کہ گھر میں رہنے کی جگہ مشکل سے نکل سکے گی ۔ بیگم مصر تھیں کہ میں ضرور جاؤں گی، کہاں قیام ہوگا، کیا انتظام، پھر جتنی ادھ تعلیم و شائستگی ، تہذیب و مدنیت تھی اتنی ہی ادھر جہالت، غیر شائستگی اور دیہاتیت ۔ خدا جانے بڑی بی نے کیا لکھوا دیا ہے کہ بیگم پر اس قدر اثر ہوا۔ آج تو پوری تر یا ہٹ کا مزہ آ گیا۔ اس نے جلدی سے خطوں کا کاغذ کھینچا باپ کو خط لکھا۔ اسی وقت بینک گھر گیا وہاں سے تین سو روپوں کے نوٹ لیے ڈاک خانے سے رجسٹری لفافہ منگا کر بیمہ کر دیا۔ خط میں لکھا" فوراً خانہ باغ کے احاطے میں گموس کے کھمبے جڑوا کے ان پر بنگلہ نما پھوس کا چھپر ڈلوا دیجیے اور معمولی ٹڑوں کی دیواریں کھینچ کر اس کے اندرونی حصے میں کئی کمرے بنوا دیجیے۔ بیگم آپ لوگوں سے ملنے آرہی ہیں ۔ بس کوئی پندرہ دن میں ہم لوگ پہنچ جائیں گے۔ صحیح تاریخ سے بعد میں اطلاع دوں گا۔“
جب بیمہ لگا چکا تو وحید نے اطمینان کی سانس لی ۔ اب بہت کچھ ذمے داری اس کے سر سے ہٹ چکی تھی۔ اب بس اتنی سی بات رہ گئی تھی کہ بیگم کو چھٹی نہ ملنے کا بہانہ کر کے پندرہ دن اور روکنا تھا۔ اس امر میں زیادہ وقت بھی نہ ہوئی اس لیے کہ بیگم نے سسرال چلنے کا قطعی فیصلہ سناتے ہی وہاں جانے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ۔ متواتر کئی راتوں اور کئی دن وحید کو اپنے بڑے بھائیوں اور ان کی بیویوں کے نام اور حلیے، ان کے بچوں کی تعداد، بہنوں اور ان کے شوہروں کے نام، ان کی صورت شکل، بن بیاہے بھائی کی عمر، لیاقت، مزاج ، طبیعت، قد و قامت، بڑے میاں اور بڑی بی کی پسند کی چیزیں سب بتانا پڑیں۔ بیگم بات اور بات کی جڑ سب کچھ کھود کھود کر پوچھتی تھیں ۔ بعض وقت ان کے سوالات کا جواب دیتے دیتے عاجز آجاتے تھے۔ لیکن اسی کے ساتھ بیگم کی اس غیر معمولی دل چسپی لینے کا نفسیاتی اثر ان پر بھی شروع ہوا۔ سفید رنگ کا خون بد لنے لگا۔ فطرت میں جو اپنوں سے اپنے ماں، باپ، بھائی بہن سے ہمدردی و محبت تھی اور جو آئی ۔ سی ۔ ایس کے مخملی پردوں سے ڈھک گئی تھی جس پر انگلستان اور ہندوستانی سکریٹریٹ
کے ماحول نے ایک نیا ملمع چڑھا دیا تھا۔ بیگم کی کرید نے اس ملمع کوگھس ڈالا۔ بار بار کے سوال و جواب سے ملمع اتر گیا۔ خلوص و یگانگت جگہ جگہ سے جھلکنے لگی۔
خدا خدا کر کے وہ دن بھی آ گیا جس کا بیگم کو بے چینی سے انتظار تھا یعنی وحید کی پندرہ دن کی چھٹی منظور ہوگئی اور سفر کے لیے اسباب بند ھنے لگا۔ بیگم نے جانے کیا سمجھا تھا کہ دس بارہ ٹرنک اور سوٹ کیس کپڑوں سے بھر لیے تھے۔ وحید نے چلنے سے کچھ گھنٹے قبل اتفاق سے یہ سامان دیکھ لیا تھا۔ بڑی ردو کد کی ، مگر بکسوں میں کمی نہ ہوئی اور سب کے سب موٹر کے علاوہ کرائے کی لاری پر لاد کر اسٹیشن پہنچائے گئے ۔
گاڑی چلی تو وحید کا پس و پیش پھر بڑھا۔ سوچ رہا تھا کہ خدا جانے گھر پر والدین نے بیگم کے لائق کوئی جگہ حسب ہدایت بنوائی بھی یانہیں بیگم کو ان دیہاتیوں کی باتیں پسند آئیں یا نہ آئیں۔ یا خود ان لوگوں کو بیگم کی بے پردگی بھائے یا نہ ۔ وہ سب کے سب پرانے خیال کے، دقیانوسی مراسم کے پابند، رئیسوں، امیروں کا طور طر یقہ، انگلستان و یورپ کی تعلیم وتربیت ، دیکھیے جوڑ کیسے بیٹھتا ہے اور آپس میں کیسے نبھتی ہے۔ آگ اور برف کا تال میل بیٹھے نہ بیٹھے۔ یہ جدھر بھی نظر کرتا، جس پہلو پر غور کرتا دشواریاں ہی دشواریاں دکھائی دیتیں ۔ جی چاہتا بیگم کو سمجھائیں ۔ ان کو اس سفر کے نشیب و فراز سمجھائیں۔
مگر بیگم کی یہ حالت تھی کہ انھوں نے ابتدائے سفر سے ایک ناول شروع کیا تو راستے بھر اسی کو پڑھتی رہیں ۔ سفر طویل تھا۔ ایک دن اور ایک رات گاڑی پر دونوں رہے مگر سوائے کھانا کھانے کے اوقات کے کسی وقت باتیں کرنے کا موقع نہ ملا۔ ایک تو فرسٹ کلاس میں ہونے کی وجہ سے دونوں کے برتھ کافی فاصلے پر تھے، دوسرے ان کے برتھ کے اوپر والے حصے پر ایک انگریز دراز تھا۔ اسی حالت میں نجی اور خانگی گفتگو ناممکن ہی نہیں بلکہ محال تھی۔ کھانے کی میز پر رسٹور ان کار میں اس کا موقع نہ تھا۔ پاس ہی پاس مختلف میزوں پر دوسرے لوگ بھی بیٹھے تھے، کس طرح یہ مسئلہ چھیڑ سکتا تھا؟ غرض محمد پور کا اسٹیشن آ گیا اور یہ بیگم صاحبہ سے کچھ کہہ نہ سکے۔
وہاں اسٹیشن پر جو گاڑی رکی تو چھوٹا بھائی مع پینس اور آٹھ کہاروں کے دکھائی دیا۔ وحید نے بیگم سے جلدی سے کہا یہاں شاید تمھیں پردہ کرنا پڑے۔
انھوں نے کہا کہ میں پہلے ہی سے اس کے لیے تیار ہوں اور یہ کہتے ہی بکس کھول کر برقعہ نکال کر پہن لیا۔ وحید کو اس کی خبر بھی نہ تھی کہ وہ اپنا انتظام کیے بیٹھی ہیں اس لیے اسے بہت ہی تجب ہوا، مگر چھوٹے بھائی کی گھبرائی ہوئی صورت اور اسٹیشن پر گاڑی زیادہ نہ رکنے کے خیال نے گفتگو کا موقع نہ دیا۔ ڈبے کے سامنے پینس لگتے ہی بیگم اس میں جلدی سے سوار کروائی گئیں اور یہ مع اپنے بھائی کے بیل گاڑی پر اسباب لدوانے کے احکام صادر کر کے گھر کے تانگے پر بیٹھ کر روانہ ہوا۔
حمید اس کا بھائی اس سے پانچ برس چھوٹا تھا۔ اس نے قصبے کے ورنا کیولر اسکول سے اردو مڈل پاس کر کے تعلیم چھوڑ دی تھی اور کاشت کاری میں باپ کا ہاتھ بٹانے لگا تھا۔ اس لیے اس میں نہ تو وہ کلچر تھا جو ایک تعلیم یافتہ شخص میں پایا جاتا ہے اور نہ اس میں وہ تہذیب وشائستگی تھی جو شہروں میں رہنے اور اچھی سوسائٹی میں ملنے جلنے سے پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک ناتراشیدہ اور ناصاف کرده ہیرا تھا۔ اس پر اب تک میل چڑھا ہوا تھا۔ مگر اس دیہاتیت اور بھدے پن میں خلوص کی آب و تاب ماند نہ ہوئی تھی۔ وہ تا نگا خود ہی ہنکاتا جاتا تھا اور بھائی سے بہت ہی بے تکلفی سے باتیں کرتا جاتا تھا۔ اور موقع موقع سے بھائی کے آئی سی ۔ ایس شہری اور رئیس ہونے پر طعن بھی کرتا جاتا تھا۔ غرض اس کی باتوں نے، بچپن کے مانوس مناظر نے، وطن کے سر سبز درختوں نے اور قصبے کے ہرے بھرے کھیتوں نے وحید پر آہستہ آہستہ اثر کرنا شروع کیا۔ وہ سب سے پہلے تو یہ بھولا کہ وہ آئی ۔ سی ۔ ایسں ہے۔ پھر یہ بھولا کہ وہ بیگم سی تعلیم یافتہ رئیسہ کا شوہر ہے۔ پھر یہ بھولا کہ اس کی ہندوستان کے بڑے بڑے راجگان، مہاراجگان سے ملاقات ہے۔ پھر یہ بھولا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ مہذب انسان ہے۔ وہ کیا کرتا۔ جن حصوں سے وہ گزر رہا تھا ان کا ایک ایک ذرہ، ایک ایک چپہ ، ایک ایک بوٹا اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہی زمین جس پر وہ کبھی ننگے پاؤں دوڑا تھا، وہی کھیت جن میں اس نے اپنے ہاتھ سے مٹر اور چنا بویا تھا، وہی درخت جن کی شاخوں پر جلد سے جلد چڑھ جانے کے مقابلے میں وہ جیتا تھا، وہی چڑیاں جن کے بچے پکڑ لانے کےلیے وہ قصبے بھر میں مشہور تھا۔ یہ ساری چیزیں اس کا خیر مقدم کر رہی تھیں اور اپنے اپنے طور پر دل کی گہرائیوں میں اپنے اپنے گرے پڑے گھروں کو کرید کرید کر اپنے بیٹھنے کی جگہیں بنارہی تھیں۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔ سر سبز درخت لہلہا رہے تھے۔ ہرے کھیت آنکھوں کو تر اوٹ پہنچا رہے تھے اور سوندھی سوندھی مٹی کی بو مشام جاں کو معطر کیے دیتی تھی کہ اتنے میں مکان کی کچی دیوار دکھائی دی ۔ معلوم ہوا جیسے روح کی گردن میں پھندا ڈال کر کسی نے کھینچنا شروع کیا۔ چھوٹے بھائی نے بھی گھوڑے کو چا یک رسید کیا۔ وہ پہلے ہی گھر دیکھتے ہی ہنہنا کے قدم بڑھا چکا تھا۔ ہوا سے باتیں کرنے لگا۔ وحید کا دم اس طرح پھول رہا تھا جیسے گھوڑے کی جگہ وہ خود اس دوڑ میں شریک ہو۔ عجب نہیں کہ اس کی نظر کے تار پر اس کی روح دوڑ رہی ہو۔
بارے گھر آیا سامنے بڑے میاں دکھائی دیے۔ گھر پر سوائے کرتے پاجائے سلیپر کے کچھ نہ پہنتے تھے مگر آج خلاف معمول شیروانی بھی پہنے تھے اور بوٹ بھی۔ غالیا آئی ۔ سی ۔ ایس او تعلیم یافتہ بیگم بہو کی خاطر یہ زحمت انگیز کی تھی ۔ وحید نے تانگے سے اتر کر تسلیم کی ۔ انھوں نے آب دیدہ ہو کر گلے سے لگا لیا۔ باہری مکان میں قصبے کے اور بھی عمائد موجود تھے۔ ایسے بھی تھے جنھوں نے بچپن میں اس کی گوشمالی کی تھی اور ایسے بھی جو اس کے ساتھ بہت سی شرارتوں میں شریک رہتے تھے۔ سب بڑی محبت سے ملے۔ بڑے میاں نے کہا ” گھر میں اس وقت جانے کا موقع نہیں ہے۔ وہاں دلہن اتارنے کے لیے ساری برادری کی عورتیں جمع ہیں ۔ آو تمھیں نئے مکان میں پہنچا دیں۔ اسے دیکھ لو اور نہا دھو کر کپڑے بدل ڈالو پھر باتیں ہوں“ یہ کہہ کر خانہ باغ میں لے گئے۔ وہاں وحید کے حسب خواہش پختہ کھمبوں پر ایک بنگلہ نما چھپر ڈال دیا گیا تھا۔ بیچ میں سبز کپڑے تان تان کے مختلف دیواریں بنا دی گئی تھیں۔ یعنی اچھا خاصا صاحب کے ڈرائنگ روم، ڈریسنگ روم ، سلیپنگ روم، ڈائنگ روم اور کچھ مخصوص کمرے بیگم صاحبہ کے لیے تیار تھے۔ پلنگ، کرسیاں، فرش سب چیزیں سلیقے سے لگی تھیں۔
وحید حیرت سے اپنے والد کا منہ دیکھ کر بولا ” یہ سب سامان کس نے اتنے سلیقے سے لگا ڈالا؟ انھوں نے حمید کی طرف اشارہ کر کے کہا ” جس دن سے تمھارا خط آیا ہے، بس یہ انھیں کا موں میں لگا رہا۔ پھر گاؤں بھر کے تمام جوان ساتھ تھے۔ ان ہی سبھوں نے مل کر یہ سب درست کیا ہے۔ نہ دن کو دن سمجھا ہے نہ رات کو رات ‘‘
وحید نے بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ وہ بولا ہم دیہاتیوں کے ہاں صاحب مع میم صاحبہ کے تشریف لا رہے تھے۔ پھر ہم اتنا بھی نہ کرتے ۔ آئی ۔سی ۔ ایس جو لوگ ہوتے ہیں، ان کے ہاتھ پاؤں نازک، ان کے دل و دماغ نازک ہوتے ہیں۔ اب اگر آپ ہمارے موٹے بھدے اور بدشکل پلنگ استعمال کرتے تو آپ کو تکلیف نہ ہوتی ؟
وحید نے مسکرا کر کہا ہوں ، تو تم سمجھتے ہو، ہم لوگ بالکل نازک ہوتے ہیں، کیوں؟
وہ بولا " اور کیا؟ کیا آپ میرے ساتھ کھیت گوڑ سکتے ہیں؟ ہل چلا سکتے ہیں؟ پانچ منٹ میں بھاگ نکلیے گا۔‘‘ وحید نے کہا اچھا ذرا میں نہا لوں تو تم کو بتاتا ہوں ۔“ اس نے کہا بہت اچھا آج ہی شام کو بھابی کے سامنے ! ‘‘
بیگم کا اندر کیا رسپشن ہوا۔ کس کس طرح کی رسمیں کی گئیں۔ بیبیوں نے کیا کیا فقرے کسے، کس کو پسند آئیں، خود ان پر کیا گزری اور ان کے ساتھ ماما دائیوں نے کیا رائے قائم کی۔ یہ سب تمام باتیں بیان کرنا اس مختصر افسانے میں ممکن نہیں ۔ اس کے لیے ایک پورے ناول کی ضرورت ہے۔ ہاں اتنا ظاہر بیں آنکھیں بھی دیکھ سکتی تھیں کہ تمام وہ احکام جو ساس نے نافذ کیے وہ خوشی خوشی بجا لائیں ۔ یہاں تک کہ بڑی بی نے اپنے دیہاتی لب ولہجہ میں خود کہا کہ ” اللہ تمھیں مانگ کوکھ سے ٹھنڈا رکھے تم نے میرا دل خوش کر دیا۔ مجھے بڑے بڑے وسواس تھے مگر مجھے ایسا جان پڑتا ہے کہ میں دن میں چراغ لے کر ڈھونڈتی تو ایسی بہو نہ مل سکتی تھی ۔‘‘ نندوں نے اس پر خوب خوب فقرے کسے۔ مگر بڑی نندوں نے چھوٹیوں کو ڈانٹا، اور انھیں اپنے ساتھ اٹھا کر خانه باغ والے مکان میں پہنچا آ ئیں ۔ شام کو جب اعزا اور برادری کے لوگ جا چکے تو سارا گھر نئی بہو کے پاس سمٹ کر آ گیا۔ بڑے میاں رونمائی کے
لیے بلائے گئے اور بیوی کو ایک بھد یسل سونے کا زیور دے کر بہو کے پاس کرسی پر بیٹھ گئے۔ بڑی بی نے کہا ” وحید کو بھی بلا لو، اب سب رسمیں ہوگئیں۔ اب خواہ مخواہ کی شرم بے کار ہے ۔“وحید و حمید بھی آئے ۔ بیگم نے اپنی ایک بوڑھی ماما کی طرف دیکھا۔ اس نے خوان پرخوان لگانا شروع کیے۔ کسی میں بڑی بھاوج کے لیے جوڑا نکلا تو کسی میں نندوں کے لیے۔ تہذیب یہ کہ جس کا جوڑا ہوتا اس کے سامنے خوان لے کر خود بیگم جاتیں اور خوان رکھ کر اس طرح مؤدب کھڑی رہتیں جیسے معلوم ہوتا کوئی پجارن کسی دیوی کے سامنے بھینٹ چڑھا رہی ہے۔
میاں حمید پہلو بدل رہے تھے کہ عورتوں کو سب کچھ ملا مگر مجھ غریب کو کچھ بھی نہیں کہ اتنے میں ایک اور خوان آیا بیگم وہ لے کر اس کی طرف بڑھیں ۔ اس نے جلدی سے بڑھ کر خوان سنبھال کر رکھا۔ خودخوان پوش ہٹا کر دیکھا، خوان میں شیروانیوں اور قمیصوں کے کپڑے اور کئی پائجامے سلے ہوئے رکھے تھے۔ ان کے ساتھ مختلف قسم کے رومال، موزے، عطر، سینٹ ، کنگھا، تیل اور ایک آئینہ اور کچھ روپے بھی رکھے تھے۔ حمید شرما گیا۔ بیگم نے آہستہ سے کہا ”بھیا پاؤں اور سر کی ناپ نہ معلوم تھی اس لیے ٹوپی اور جوتا نہ خرید سکی۔ آپ اپنی پسند کا خرید لیجیے ۔
وہ ان چیزوں کو لیتے ہوئے جھجھکا تو بڑے میاں نے کہا ” اخاه! آج آپ بھی شرما رہے ہیں ۔ ارے بے وقوف تو تو چھوٹا ہے۔ بندگی کر اور سب جلدی سے سمیٹ‘‘
اس نے جلدی سے بیگم کو تسلیم کی ، روپیہ اٹھانا چاہا ، ماں نے کہا اور بھائی کو تسلیم نہیں!؟
وحید نے کہا: " جی روپے تو بیگم نے دیے ہیں اور کپڑے بھی انھیں نے۔ میرا خدا شاہد ہے کہ میں بھی نہیں جانتا کہ انھوں نے یہ سب سامان کب اور کیوں کر درست کیا‘‘
سب نے بیگم کو بڑی محبت سے دیکھا۔ انھوں نے مسکرا کر سر جھکایا۔ سب سے آخر میں دو بڑے بڑے خوان آئے۔ بیگم نے ایک ساس کے سامنے رکھا ایک سسرے کے، دونوں طرح طرح کے کپڑوں اور چیزوں سے پر تھے اور پھر لطف یہ کہ تمام چیزیں وہی جو ان کی خاص پسند کی تھیں۔
وحید متعجب ہو کر بول اٹھا " بھئی کمال کیا، یہ تمام سامان کر ڈالا اور میرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں۔" حمید نے کہا جی بھلا صاحب کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیا مطلب؟
وحید اس پر جھپٹ پڑا۔ تو آج صبح سے بہت تیزیاں کر رہا ہے۔ سمجھ لیا کہ میں آئی۔سی۔ ایس کیا ہوں کہ بالکل موم کا بن گیا ہوں کھڑا تو رہ!"
وہ ہنستا ہوا یہ کہ کر بھاگا، اچھا مجھے پکڑ ہی لیجیے تو میں جانوں!"
دونوں بھائیوں میں دوڑ ہونے لگی۔ وہ بار بار جھکائیاں دے کر نکل جاتا مگر وحید برابر پیچھا کرتا رہا۔ یہاں تک کہ حمید یہ سمجھ کر کہ اب گرفتار ہو جاؤں گا ایک املی کے درخت پر چڑھنے لگا۔ جب وحید اس کے نیچے آ کر رک گیا تو وہ بول’’ آئی۔ سی ۔ ایس صاحب! یہاں تشریف لایئے۔ وحید نے بھی جوتے کے فیتے کھول ڈالے، اور ننگے پاؤں ہو کر درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ املی کا درخت بہت بڑا تھا۔ حمید تو پہلے سب سے اونچی شاخ پر چڑھ گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ وحید اسی پر چلا آ رہا ہے تو جلدی سے وہ اس سے اچک کر دوسری پر ہو رہا۔ مگر تا بہ کے؟ وحید کی کم سنی کی مہارت کام آئی۔ اس نے بالآخر حمید کو پکڑ ہی لیا اور وہیں سے کان پکڑے نیچے اتار لایا۔ حمید کے کھسیانے ہونے پر سارا گھر بنستا رہا ۔ مگر بیگم خاموش بیٹھی رہیں۔ وحید نے ان کی خاموشی سے ذرا سا اثر لیا۔ اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا تو ریشمی قمیص کئی جگہ سے پھٹ چکی تھی اور پتلون کی ساری کریز خاک میں مل گئی تھی۔ مگر اس وقت اس پر فضا اور ماحول کا پورا اثر ہو چکا تھا، اس نے کچھ زیادہ پروا نہ کی۔ سامنے بہت سے بانس کٹے ہوئے پڑے تھے۔ بھائی سے بولا کہ یہاں اچھے نہیں معلوم ہوتے چلو دوسرے حصے میں پھینک آئیں ۔ دیکھیں تو کتنی محنت کر سکتے ہو؟
بڑے میاں نے کہا نہیں بیٹا تم رہنے دوکل مزدور بلا کر ہٹا دیا جائے گا۔
اس نے مسکرا کر کہا نہیں ابا جان، یہ اپنے کو بڑا قوی سجھنے لگا ہے آپ کے سامنے ہی آج فیصلہ ہو جائے گا ۔ یہ کہ کر حمید کے ساتھ بانسوں کے اٹھانے پر پل پڑا۔
چشم زدن میں تقریباً سو ہے چھلے بانس دونوں بھائیوں نے اٹھا کر دوسرے حصے میں منتقل کر دیے۔ دونوں پسینے میں شرابور مٹی سے اٹے ہوئے کرسیوں کے پاس آ کر تھک کر بیٹھ گئے۔
بڑی بی نے پوچھا حمید اب آئی۔سی ۔ ایس کے متعلق کیا رائے ہے؟“
اس نے اپنے میلے ہاتھ سے پیشانی کا پسینہ پوچھتے ہوئے کہا ” میری دانست میں ان سے بجائے حکومت کرنے کے مزدوروں کا کام لینا چاہیے، یہ بڑے مضبوط ہوتے ہیں۔“
سب لوگ ہنس ہی رہے تھے کہ بیگم ساس سسر کو سلام کر کے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔
وحید کو بیگم کے جاتے ہی خیال آیا کہ اس نے اپنی دیہاتیت اور بربریت کا جس طرح مظاہرہ کیا ہے اس کے بعد اس کی کوئی وقعت بیگم کی نظروں میں باقی نہیں رہ سکتی۔ اسے حد درجه خجالت اور شرمندگی محسوس ہونے لگی اور باپ کے یہ کہنے پر کہ جاؤ میاں وحید نہا کر کپڑے بدل ڈالو، اب یہ تو بالکل درختوں اور بانسوں کی نذر ہو چکے ۔ اس کی کیفیت میں اور اضافہ ہو گیا۔
وہ گردن جھکائے اس حصے میں گیا جو حمام کرنے کے لیے مخصوص کر لیا گیا تھا اور اس نے نہا دھو کر جلدی جلدی کپڑے بدل ڈالے، پھر وہ شرمنده اورمنفعل اس کمرے میں گیا جو بیگم کے لیے مخصوص تھا۔ دیکھا تو وہ اپنے کمرے میں اس کی خاص پسند کی ساڑی پہنے کھڑکی کے سامنے ہیں۔ وحید کو ان کے انداز سے محسوس ہوا کہ بیگم اس کے افعال سے بے حد رنجیدہ ہیں ۔ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا ' بیگم انھوں نے اس کی طرف پلٹ کر دیکھا وہ رک رک کر بولا ” بیگم میں تم سے بہت شرمندہ ہوں مگر .......... مگر میں کیا کروں .............................. اس ماحول اور اس فضا نے................. مجھے انسانیت کا جامہ اتارنے پر مجبور کیا ۔
انھوں نے کہا، انسانیت نہ کہیے آئی۔ سی ۔ ایسں کا جامہ کہیے ۔‘‘

علی عباس حسینی
(1897 - 1969)
علی عباس حسینی اتر پردیش کے ضلع غازی پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پٹنہ میں ہوئی ۔ الہ آباد سے بی۔اے اور لکھنؤ سے ایم ۔ اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ایل ۔ ٹی کی سند حاصل کرنے کے بعد ایک سرکاری اسکول میں اردو فارسی کے استاد مقرر ہوئے۔
علی عباس حسینی نے شروع میں پریم چند سے متاثر ہو کر افسانے لکھے۔ ایسے افسانوں میں گاؤں کے معصوم اور سادہ لوح افراد کی خوب صورت عکاسی ملتی ہے۔ بعد میں ان کے افسانوں میں ایسے کردار نظر آتے ہیں جو نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہیں۔ علی عباس حسین کو انسانی نفسیات پر عبور حاصل ہے۔ وہ کردار کی ذہنی تہوں کو آہستہ آہستہ کھولتے ہیں جس سے اس کی مکمل شخصیت سامنے آجاتی ہے۔ ان کے افسانوں میں واقعات کی طوالت تو ہے مگر پلاٹ میں جھول پیدا نہیں ہوتا۔ علی عباس حسینی کے افسانوں کی بڑی خوبی ان کی زبان ہے۔ وہ عربی فارسی کے الفاظ سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔
’’ آئی۔ سی ۔ ایس، باسی پھول‘ ’’ میلہ گھومنی،" کچھ "ہنسی نہیں ہے" ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔" اردو ناول کی تاریخ اور تنقید" ان کی تنقیدی کتاب ہے۔
خلاصہ:
علی عباس حسینی مشہور افسانہ نگار ہیں اُنہوں نے پریم چند کی طرح گاؤں اور دیہات کی زندگی اور وہاں کے سیدھے سادے لوگوں پر ان گنت افسانے لکھے ہیں۔ آئی سی ایس بھی ایک ایسا ہی افسانہ ہے جس میں مصنف نے گاؤں کی سادہ زندگی اور شہری انداز رہائش کا موازنہ کیا گیا ہے۔
 افسانے کا ہیرو وحید ایک چھوٹے سے  گاؤں محمد پور میں پیدا ہوا تھا۔  اس نے اپنا بچپن اسی گاؤں میں گزارا۔ بارہ سال گاؤں میں رہنے کے بعد وہ الہ باد چلا گیا جہاں اس کے دور کے عزیز رہتے تھے۔ اُن کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اُنہوں نے اسے اپنے بیٹے کی طرح رکھا اور اسے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ وہ ایم اے کرکے آئی سی ایس ہو گیا اور اُسے مزید تعلیم کے لئے لندن بھیج دیا گیا ۔ وحید دو سال لندن میں رہا۔ اسی دوران اس کی ملاقات آکسفورڈ میں پڑھنے والی جہاں آرا بیگم سے ہوئی جو ریاست مہیندر پور کے رکن خاص صاحبزادہ شہاب الدین خان کی بیٹی تھیں۔ جہاں آرا بیگم کو اس سے محبت ہو گئی اور اس نے اپنے والدین کواپنی پسند سے آگاہ کیا اور اُن کی اجازت سے لندن ہی میں اُن کی شادی ہو گئی۔ اپنی تعلیم مکمل کرکے وحید دلہن کے ساتھ ہندوستان واپس آگیا۔ لیکن یہاں وہ اپنے گاؤں نہیں گیا کہ کہیں لوگوں کو اس کی اصلیت نہ معلوم ہو جائے کہ وہ ایک گاؤں کا رہنے والا ہے۔ وحید دہلی میں وائسرائے کے دفتر میں افسر مقرر ہو گیا تو اُس نے گاؤں خط بھیجا کہ مصروفیت کی وجہ سے گھر واپس نہیں آسکتا اور خرچ بھیجتا رہےگا اور یہ کہ کسی کو اس کے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔ بوڑھا باپ دل مسوس کر،بوڑھی ماں رو دھو کر چپ ہوگئے اور بھابھی خاموش رہ گئی وہ جانتے تھے کہ ان کا گھر اس قابل نہیں کے کوئی آئی سی ایس واپس آکر قیام کرے۔ وہ اسے خوب صحیح سمجھتے تھے کے ان کا جھونپڑا کسی بیگم بہو کو اتارنے لائق نہیں اس طرح جہاں آرا بیگم نے نہ اپنا سسرال دیکھا اور نہ ساس، سسر، جیٹھ سے ملنے کی نوبت آئی۔ وحید دہلی میں بڑے بڑے آدمیوں سے ملنے جلنے، والیان ملک کی پارٹیوں سنیما تھیٹر اور دوسری ایسی مصروفیت میں اس قدر مشغول ہو گیا کہ اسے اپنے سگے عزیزوں کی ذرا فکر نہیں رہی۔ کچھ عرصہ اسی طرح گزرا ۔ایک بار وحید کی ماں نے بہو کو ایسا خط لکھا کہ وہ سسرال جانے کو تیار ہو گئیں اور شوہر سے کچھ ناراض ہو کر سسرال جانے کی خواہش ظاہر کی۔ وحید بیوی کی یہ کیفیت دیکھ کر پریشان ہو گیا فوراً گھر پیسے بھیجے اور خط میں لکھ دیا کہ باغ کے احاطے میں بنگلہ نما پھوس کا جھونپڑا ڈلوا کر اس میں کئی کمرے بنوادیں چند دن بعد وحید بیگم کے ہمراہ اپنے گھر کے لیے روانہ ہوا۔ اُس نے دیکھا کہ بیگم کے ساتھ کئی سوٹ کیس اور دس بارہ ٹرنک ہیں۔ گاڑی چلی تو وحید کو بار بار خیال آتا رہا کہ خدا جانے گھر پر والدین نے بیگم کے لائق کوئی جگہ ہدایت کے مطابق بنوائی یا نہیں۔ محمد پور کا اسٹیشن آیا تو وحید نے بیگم سے کہا کہ یہاں کے رواج کے مطابق پردہ کرنا پڑےگا تو بیگم اس کے لیے پہلے سے تیار تھیں۔ اُنہوں نے ایک برقعہ نکال کر پہن لیا۔ وحید اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ بیل گاڑی پر سوار ہو کر گھر پہنچا اور بیگم کے لئے پینس آئی تھی۔ اس پر سوار ہو کر وہ گاؤں کے لیے روانہ ہوئی۔ والدین نے بہو کا روایتی انداز میں استقبال کیا۔ وحید نے رہنے کے لئے مکان دیکھا تو اُسے تعجب ہوا کہ سب کچھ بہت سلیقے سے کیا گیا ہے۔ شام کو سب عزیز واقارب جمع ہوئے اور بہو کو منہ دکھائی وغیرہ پیش کی گئی۔ بہو نے بھی خوان منگوا کر ساس، سسر، جیٹھ، دیور،بھاوج اور نندوں کے لئے کپڑے،رومال،موزے،عطر، سینٹ وغیرہ پیش کیے۔ وحید سب کچھ خاموشی سے دیکھتا رہا اور دل ہی دل میں خوش ہوتا رہا۔ اسی دوران حمید نے شرارت کی اور وحید چھوٹے بھائی پر جھپٹ پڑا۔ حمید درخت پر چڑھ گیا تو وحید بھی اس کے پیچھے تیزی سے چڑھا۔ بیگم خاموشی سے تماشا دیکھ رہی تھیں۔ ایک طرف بہت سے بانس کٹے ہوئے پڑے تھے دونوں بھائیوں نے مل کر بانس کو دوسرے حصے میں منتقل کردیا۔ اس دوران وحید کے کپڑے خراب ہو گئے تھے۔باپ کے کہنے پر وہ کپڑے بدلنے اور نہانے کےلئے گیا۔ وہ کچھ شرمندگی کے ساتھ بیگم کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ اس کی خاص پسند کی ساڑی پہنے کھڑی ہوئی ہیں۔ اس نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ بڑے شہر کے ماحول اور فضا نے اُسے انسانیت کا جامہ اتارنے پر مجبور کردیاتھا۔ جس پر اُس کی بیگم نے مسکرا کر جواب دیا کہ گاؤں کی فضا نےانسانیت کا جامہ نہیں آئی سی ایس کا جامہ اتارنے پر مجبور کردیا ہے یعنی اب تک وہ آئی سی ایس بن کر اپنے ماضی سے کترا رہا تھا اور اپنے گھر کے لوگوں کو ہیچ تصور کر رہا تھا لیکن ماضی کو کبھی الگ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔  
مصنف نے اس کتاب میں یہ باور کرایا ہے کہ مغربی ماحول میں پلی بڑھی لڑکی بھی کس طرح اپنے ملک کی جڑوں سے گھلی ملی رہتی ہے اور ایک عہدہ کس طرح کسی انسان کو اتنا احساس کمتری میں مبتلا کردیتا ہے کہ اسے اپنا ماضی ہی کمتر نظر آنے لگتا ہے۔ یہ افسانہ قاری کو اپنے پلاٹ میں باندھے رکھتا ہے اور انہیں بہو کا کردار بہت متاثر کرتا ہے۔
سچ ہے پودے ایک زمین سے نکال کر دوسری زمین پر لگا دینے سے اپنی نوعیت اور جنس نہیں بدل دیتے۔ اس افسانہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ اچھی پوزیشن پا کر ہمیں اپنا ماضی نہیں بھولنا چاہیے اور کسی احساس کمتری میں نہیں رہنا چاہیے۔
سوالوں کے جواب لکھے :
1۔ آئی۔سی ۔ ایس بننے کے بعد وحید میں کیا تبدیلی آئی؟
جواب: آئی سی ایس بننے کے بعد وحید میں یہ تبدیلی آئی کہ وہ بڑے لوگوں کے درمیان اٹھنے بیٹھنے لگا اور اس کے اندر دکھاوا پیدا ہوگیا۔ اسے اپنے گھر اور گاؤں سے شرم آنے لگی اور وہ احساس کمتری کا شکار ہوگیا۔ اُس نے اپنے گھر کے لوگوں سے دوری بنا لی۔

2۔ گاؤں پہنچنے سے پہلے وحید کی کیا کیفیت تھی؟ 
جواب: گھر پہنچنے سے پہلے وہ اس بات سے ڈر رہا تھا کہ کہیں اُس کی بیگم اس کے گھریلو حالات دیکھ کر اُن سب کی غربت سے شرمندہ ہو۔ اور کہیں اُس کی پول نہ کھل جائے۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اس نے گھر ٹھیک کرنے کے لیے جو رقم بھیجی تھی اُس سے سارے انتظامات صحیح طرح ہوئے یا نہیں۔ اسے یہ فکر بھی دامن گیر تھی کہ اس کی بیگم کو اس کے گھر والے اور گھر والوں کو اس کی بیگم پسند آئیں گی بھی یا نہیں۔

3- ’’ پودے ایک زمین سے نکال کر دوسری زمین میں لگا دینے سے اپنی نوعیت اور جنس نہیں بدل دیتے‘‘ اس فقرے کی وضاحت کیجیے۔
جواب:اس فقرے میں پودوں کی حقیقت بیان کی گئی ہےکہ مثال کے طور پر اگر آم کے پیڑ کا پودہ اگر ایک جگہ سے اکھاڑ  کر دوسری  جگہ لگایا جائے تو وہ آم کا پودا ہی رہتا ہے ۔ اسی طرح ایک انسان کہیں بھی چلا جائے اس کی فطرت نہیں بدلے گی وہ انسان ہی رہے گا۔

4۔ بہو بیگم کے کردار کی خوبیاں بیان کیجیے۔
جواب: وحید کی بیگم گرچہ ایک اعلیٰ خاندان کی خاتون تھیں لیکن وہ ایک شریف النفس بیوی تھیں۔ انہیں اپنے رشتہ داروں کی عزت کا خیال تھا۔ انہوں نے اُن سب کو کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی وحید نے اُن سب کا تعارف کرایا تھا لیکن اس کے باوجود جب اُس کی ساس نے محبت بھرا خط لکھا جسے پڑھتے ہی وہ کھنچی چلی آئیں اور ساتھ ہی سب کے لیے تحائف لینا بھی نہیں بھولیں۔ انہوں نے اپنے سسرال کے ہر فرد کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ خریدا اور اپنے گھر والوں کا دل جیت لیا۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے گاؤں کی تہذیب و معاشرت کا بھی بھرپور خیال رکھا ۔ جب انہیں پتہ چلا کہ ان کے گھر والے پردہ پسند کرتے ہیں تو انہوں نے نہ صرف اپنے لیے برقعہ خریدا بلکہ اُسے پہنا بھی۔ یہ ساری باتیں اُن کی خوبیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔
 

0 comments:

Post a comment

خوش خبری