آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, 17 November 2020

Makhlut Zaban By Maulavi Abdul Haq NCERT Class 10 Nawa e Urdu

 مخلوط زبان

مولوی عبدالحق
ردو پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ مخلوط زبان ہے ۔ اس سے تو کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ یہ ٹھیٹ ہندوستانی زبان ہے۔ اب رہی یہ بات کہ یہ مخلوط ہے تو مخلوط ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک اعتبار سے خوبی ہے۔

یوں تو دنیا میں کوئی زبان خالص نہیں ہر زبان نے کسی نہ کسی زمانے میں دوسری زبانوں سے کچھ نہ کچھ لفظ لیے ہیں یہاں تک کہ جو زبانیں مقدس کہلاتی ہیں وہ بھی اچھوتی نہیں ........... مخلوط زبان میں ہوتا یہ ہے کہ غیر زبان جو کسی قوم کو سیکھنی پڑتی ہے مخلوط نہیں ہوتی بلکہ اس کی اپنی زبان غیرزبان کے میل سے مخلوط ہو جاتی ہے۔ بعینہ یہی حال مسلمانوں کے آنے کے بعد ہوا، فارسی مخلوط نہیں ہوئی بلکہ مقامی زبان فارسی سے مخلوط ہوکر ایک نئی زبان بن گئی ہے۔

یہ بھی ایک مسلم ثبوت ہے کہ غیر زبان کے لفظ جو کسی زبان میں داخل ہوجاتے ہیں یا کسی زبان کو مخلوط کرتے ہیں تو اصلی زبان کے صرف و نحو کو ہاتھ نہیں لگاتے ۔ یہی صورت اس مخلوط زبان اردو میں پیش آئی کہ فارسی کا اثر اسماء وصفات تک رہا البته بعض حروف عطف مثلاً اگر، مگر، اگر چہ ، لیکن وغیرہ آگئے اصل صرف و نحو بالکل دیسی زبان کی رہی اور جب ضرورت پڑی فارسی ، عربی، لفظوں کو ہندی قالب میں ڈھال کر اپنا لیا۔ مثلاً عربی الفاظ بدل، کفن، دفن، قبول سے بدلنا، کفنانا، دفنانا، قبولنا، مصدر بنا لیے۔ اسی طرح فارسی سے بخشنا، فرمانا، نواز نا، داغنا وغیرہ بنا لیے گئے یہ سب اردو ہو گئے فارسی ، عربی نہیں رہے۔ . بدیسی لفظوں سے زبان خراب نہیں ہوتی بلکہ برخلاف اس کے اس میں وسعت، قوت اور شان پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ سچ ہے

کہ بہت سے غیر ضروری الفاظ بھی باہر سے آ کر داخل ہوجاتے ہیں ۔ غیرضروری سے میری مراد ان لفظوں سے ہے جن کے ہم معنی لفظ پہلے سے زبان میں موجود ہیں ۔ لیکن مترادف الفاظ سے کوئی نقصان نہیں بلکہ زبان میں اضافہ ہوجاتا ہے اور زبان کی فطرت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ ایک مدت کے استعمال کے بعد مترادف الفاظ کے مفہوم میں خود بخود ایسے نازک فرق پیدا ہو جاتے ہیں جس سے زبان کی لطافت بڑھ جاتی ہے اور جو لفظ پہلے غیر ضروری سمجھے جاتے تھے ضروری ہوجاتے ہیں۔

یہ خیال بھی صحیح نہیں کہ بد یسی الفاظ سے زبان بوجھل اور بھدی ہو جاتی ہے۔ وہ لفظ جو غیر زبان سے آ کر داخل ہو جاتے ہیں وہ اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں اور ان کی اجنبیت بالکل جاتی رہتی ہے۔ اس لیے وہ زبان پر بارنہیں ہوتے ۔ بلکہ ان میں اور دیسی لفظوں میں آسانی اور وسعت پیدا کرتے ہیں۔

انسانی خیال کی کوئی تھاہ نہیں اور نہ اس کے تنوع اور وسعت کی کوئی حد ہے۔ زبان کیسی ہی وسیع اور بھر پور ہو، خیال کی گہرائیوں اور باریکیوں اور نازک حرفوں کو صحت کے ساتھ ادا کرنے میں قاصر رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ادا کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے جاتے ہیں۔ مترادف الفاظ ایسے موقعوں پر بہت کام آتے ہیں ۔ مترادف الفاظ سب ہم معنی نہیں ہوتے۔ ان کے مفہوم اور استعمال میں کچھ نہ کچھ ضرور فرق ہوتا ہے۔ اس لیے اداۓ مطالب میں ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے خاص کر شاعری کے اغراض کے لیے مترادف الفاظ کا کثرت سے ہونا بہت کام آتا ہے۔ شاعر ان کے ذریعہ سے لطیف سے لطیف خیال اور نازک سے نازک جذبات کو ادا کر سکتا ہے، پھر اس سے ردیف و قافیے کے لیے بہت سہولت ہو جاتی ہے۔

ادیب اور شاعر کے لیے لفظ کا انتخاب بڑی اہمیت اور قدر و قیمت رکھتا ہے۔ ایک برمحل صحیح لفظ کا انتخاب کلام میں جان ڈال دیتا ہے۔ مخلوط زبان میں انتخاب کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ ذوق کا شعر ہے

مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے
مسیح  و خضر  بھی مرنے کی آرزو کرتے

خاصا شعر ہے مگر کوئی خاص بات نہیں ۔ میرتقی میر اسی مضمون کو یوں ادا کرتے ہیں ۔

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزا  جانا

یہاں ' کھپا جانا‘‘ کے لفظ نے کیا کام کیا ہے! کوئی دوسرا لفظ رکھ کر دیکھیے یہ بات نہیں آئے گی ۔ اس شعر میں لذت او رمزه دومترادف لفظ ہیں ۔ اگر ایک ہی لفظ دونوں جگہ استعمال ہوتا تو شعرسست اور بے مزہ ہو جاتا ہے۔

محبت ہے یا کوئی جی کا ہے روگ
 سدا  میں  تو رہتا  ہوں بیمار  سا

ہماری زبان میں مرض، بیماری ، روگ، عارضہ مترادف ہیں لیکن ایک سچا شاعر یا ادیب خوب سمجھتا ہے کہ کون لفظ کہاں استعمال کرنا چاہیے۔ اس شعر میں جی کے ساتھ" روگ‘‘ کی جگہ "مرض" یا بیمار لطف نہ دے گا۔

غرض فارسی کے میل سے ہماری لغت میں بے بہا اضافہ ہوا ہے۔ الفاظ کے ساتھ ساتھ خیالات بھی آجاتے ہیں ۔

 لفظوں کا ذخیرہ کوئی چیز نہیں ۔ بڑی چیز ان کا استعمال ہے جو خیال کے صحیح طور پر ادا کرنے مترادفات کے نازک فرق ، خیالات میں صفائی اور صحت بیان پیدا کرنے میں بڑی مدد دیتے ہیں ۔ اور یہ نہ بھی ہو تو ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بار بار ایک لفظ کے اعادے سے جو بیان میں بھدا پن آجاتا ہے وہ رفع ہو جا تا ہے اور کالام میں حسن پیدا ہو جاتا ہے۔

اگر زبان کی قدر و منزلت ان مقاصد کے پورا کرنے میں ہے جن کے لیے زبان بنی ہے تو ہمیں اس امر کو ماننا پڑے گا کہ غیر زبان کے الفاظ داخل ہونے سے ہماری زبان کو بے انتہا فائدہ پہنچتا ہے ۔ عوام کی زبان یعنی کھڑی بولی جس پر اردو کی بنیاد ہے اس قدر محدود تھی کہ اگر اس میں فارسی عنصر شریک نہ ہوتا تو وہ کبھی علم وادب کے کوچے سے آشنا نہ ہوتی اور اس وقت جو اردو میں اظہار خیال کے نئے ڈھنگ پیدا ہو گئے ہیں وہ ان سے محروم رہتی۔

اردو میں ہندی اور فارسی لفظ مل جل کر شیر وشکر ہوگئے ہیں اور عام بول چال محاوروں اور کہاوتوں میں بے تکلف آگئے ہیں، مثلاً تم کس باغ کی مولی ہو، اشرفیاں لٹیں اور کولوں پر مہر، ایک آنکھ میں شہد ایک آنکھ میں زہر، لاکھ کا گھر خاک ہو گیا ، اللہ کا دیا سرپر، خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ، بد اچھا بدنام برا، بدن پر نہیں لتا پان کھائیں البتہ وغیرہ وغیرہ سیکڑوں کہاوتیں ہیں۔ یہی حال محاوروں کا ہے۔ مثلا آنکھوں میں خارلگنا، خدالگتی کہنا، آنکھوں پر پردہ پڑ جانا،  لہولگا کے شہیدوں میں ملنا، اللہ میاں کی گائے ہونا۔

مخلوط زبان میں ایک آسانی مرکب الفاظ کے بنانے میں بھی ہوتی ہے ۔ دیکھیے ہندی فارسی کے میل سے کیسے اچھے اچھے مرکب لفظ بن گئے ہیں، مثلاً دل لگی ، نیک چلن ، جگت استاد بھتیج داماد، گھر داماد، سمجھدار گنڈے دار، اگالدان، عجائب گھر ، کفن چوری جیب گھڑ ی، امام باڑہ، منہ زور وغیرہ ہزاروں مرکبات ہیں۔

مخلوط زبانوں کے بننے کے دوران میں ایک اور بات بھی عمل میں آتی ہے جو قابل غور ہے۔ یعنی  ان میں سے ہر زبان کو اس خیال سے جانیں کہ ایک دوسرے کی بات آسانی سے اور جلد سمجھ میں آجائے۔ اپنی بعض خصوصیات ترک کرنی پڑتی ہیں اور صرف ایسی صورت باقی رکھنی پڑتی ہے جو یا تو مشترک ہوتی ہیں یا جن کا اختیار کرنا دونوں کے لیے سہل ہوتا ہے اور اس طرح دونوں میں توازن سا پیدا ہو جاتا ہے ۔ جو فریقین کے لیے سہولت کا باعث ہوتا ہے۔ اردو کے بننے میں بھی یہی ہوا۔ فریقین یعنی ہندو مسلمان دونوں نے اپنی اپنی زبانوں میں کتر بیونت کی ۔ اپنی مخصوص خصوصیات ترک کیں اور اس قربانی کے بعد جو زبان بنی اسے اختیار کرلیا، جو اب بھی ہماری ملکی اور قومی زبان ہے اور ہندوستان کی مشترک اور عام زبان ہونے کا درجہ حاصل کر چکی ہے، ہم نے اسے قربانی دے کر حاصل کیا ہے، اور کسی کا منہ نہیں ہوسکتا کہ ہم سے چھڑا لے۔

ایک حکیم کا قول ہے کہ غیر اقوام کے لوگوں کو اپنی قوم میں اس طرح جذب کر لینا کہ اپنے اور غیر میں امتیاز نہ رہے، بلاشبہ

مشکل کام ہے لیکن غیر زبان کے الفاظ کو اپنی زبان میں اس طرح جذب کر لینا کہ معلوم تک نہ ہو کہ یہ غیر ہیں اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ یہ استعداد اردو میں بہ درجہ کمال موجود ہے اس میں سیکڑوں ہزاروں لفظ غیر زبانوں کے اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ بولنے اور پڑھنے والوں کو خبر تک نہیں ہوتی کہ دیسی ہیں یا بد یسی ، اپنے ہیں یا پرائے۔۔

غرض ہماری زبان ایک خوش رنگ اور ہرا بھرا گلدستہ ہے جس میں رنگ برنگ کے خوبصورت پھول اور نازک پتیاں ہیں ۔ کیا ہم اس وہم سے کہ اس میں گلاب بدیسی ہے اور کچھ پتیاں باہر کے پودوں کی ہیں انہیں نوچ کر پھینک دیں گے؟ اگر کوئی ایسا کرے تو سراسر نادانی ہے۔

مجھے سر تیج بہادر سپرو کے اس قول سے حرف بہ حرف اتفاق ہے کہ" یہی زبان جسے ہم اردو کہتے ہیں ، تنہا وسیلہ ہے جس سے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی تہذیب کو مجھ سکتے ہیں یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ہندو مسلمان میں اتحاد پیدا کیا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں اس سے بڑھ کر کوئی غلطی نہیں ہو سکتی کہ اس زبان کو مٹانے اور اس رشتے کوتوڑنے کی کوشش کی جائے۔“ (تلخیص)
___ مولوی عبدالق

مولوی عبدالحق

(1870 - 1961)

بابائے اردو مولوی عبدالق اردو زبان کے ان شیدائیوں میں سے تھے جنھوں نے اپنی ساری زندگی اس زبان کی خدمت میں صرف کر دی۔ وہ قصبہ ہاپوڑ میں پیدا ہوئے ۔ بچپن ہی سے پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ 1894 میں ایم ۔ اے ۔ او۔ کالج علی گڑھ سے بی۔ اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد پنجاب اور حیدرآباد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے ۔ عثمانیہ کالج اورنگ آباد میں بطور پرنسپل کام کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے صدر اور پروفیسر رہے۔ انجمن ترقی اردو کے سکریٹری مقرر ہوئے اور زندگی بھر اس ادارے کی ترقی اور کامیابی کے لیے جی جان سے کوشش کرتے رہے۔ انجمن کی جانب سے مولوی عبدالحق کی ادارت میں ایک سہ ماہی ادبی رسالہ" اردو" جاری ہوا، جس نے تحقیقی, علمی اور ادبی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ۔ حیدر آباد یونیورسٹی نے ایل۔ ایل ۔ ڈی اور علی گڑھ یونیورسٹی نے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگریاں دے کر مولوی عبد الحق کی مجموعی خدمات کا اعتراف کیا۔ آزادی کے بعد وہ پاکستان چلے گئے اور کراچی میں ان کا انتقال ہوا۔

مولوی عبدالق ایک محقق ، سوانح نگار ، زبان داں ،لغت نویس، ماہر قواعد اور صاحب طرز انشا پرداز تھے ۔ ان کی تحریروں پر حالی کا سب سے زیادہ اثر ہے ۔ بول چال کی سادہ زبان میں پر خلوص جذبات کا بے لاگ اظہار کرتے ہیں۔ ہر بات خوب سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں ۔ عبارت میں الجھاو نہیں مشکل زبان لکھنے والوں کو وہ اردو کا دشمن کہتے تھے اور آسان زبان لکھنے پر زور دیتے تھے۔ اردو ادب میں قدیم کتابوں کی تدوین، ترتیب اور اشاعت ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ان کتابوں پر ان کے مقدمات اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انگریزی اردو لغت اور اردو زبان کی قواعد کا بنیادی کام بھی مولوی عبدالحق کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔


غور کرنے کی بات:
مولوی عبد الحق کے اس مضمون سے اردو زبان کی بنیادی خصوصیات پر روشنی پڑتی ہے۔
اردو زبان کی سب سے بڑی خوبی اس کی وسعت ہے۔ اس میں غیر زبانوں کے بہت سے الفاظ اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ بولنے اور پڑھنے والوں کو احساس تک نہیں ہوتا ۔ یہ اندازہ لگانا ہمارے لیے مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سے الفاظ دیسی ہیں اور کون سے الفاظ بد یسی۔
سوالوں کے جواب لکھیے :
1. مخلوط زبان سے کیا مراد ہے؟ وضاحت کیجیے۔
جواب:
2۔ زبان میں بدیسی الفاظ داخل ہونے کے کیا فائدے بیان کیے گئے ہیں؟
جواب:
3۔ اس مضمون میں اردو زبان کی کن خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے؟
جواب:
عملی کام :
ذیل میں دیئے گئے الفاظ اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
مخلوط۔    مترادف     قدر و منزلت     بے بہا
سبق میں جومحاورے اور کہاوتیں بیان کی گئی ہیں ان کی فہرست بنائیے۔
اس مضمون میں سر تیج بہادر سپرو نے اردو زبان کے بارے میں جو کہا ہے اسے اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری