آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, 17 November 2020

Naya Qanoon by Saadat Hasan Manto NCERT Class 10 Nawa e Urdu

نیا قانون
  سعادت حسن منٹو
منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند سمجھا جاتا تھا گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابرتھی اور اس نے کبھی اسکول کا منھ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہورہا ہے استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔
پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے اسپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ سنی تھی تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیشین گوئی کی تھی ۔” دیکھ لینا چودھری تھوڑے ہی دنوں میں اسپین میں جنگ چھڑ جائے گی۔"
اور جب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا کہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا۔ ”ولایت میں اور کہاں ؟‘‘ اسپین میں جنگ چھڑی اور جب ہر شخص کو اس کا پتہ چل گیا تو اسٹیشن کے اڈے میں جتنے کو چوان حلقہ بنائے حقہ پی رہے تھے ، دل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کررہے تھے اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے اپنی سواری سے تازہ ہندو مسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔
استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی اور اس کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ اس کے ہندوستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں مگر اس کے تنفر کی سب سے بڑی وجہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب کبھی وہ
گورے کے سرخ و سپید چہرے کو دیکھتا تو اسے متلی سی آجاتی۔ نہ معلوم کیوں وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے کو دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آجاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی جھلی گل گل کر جھڑ رہی ہو۔
جب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا تو سارا دن اس کی طبیعت مکد رہتی اور وہ شام کو اڈے میں آ کر ہل مار کہ سگریٹ پیتا یا حقے کے کش لگاتے ہوئے اس گورے کو جی بھر کر سنایا کرتا۔
یہ موئی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہتا تھا۔" آگ لینے آئے تھے اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں ۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے ۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں ۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اگلتا رہتا۔
’’ شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی جیسے کوڑھ ہورہا ہے۔ بالکل مردار ، ایک دھپے کی مار اور گٹ پٹ گٹ پٹ یوں بک رہا تھا جیسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی قسم، پہلے پہل جی میں آئی کہ ملاعون کی کھوپڑی کے پرزے اڑادوں لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے۔“ یہ کہتے کہتے تھوڑی دیر کے لیے وہ خاموش ہو جاتا اور ناک کو خا کی قمیص کی آستین سے صاف کرنے کے بعد پھر بڑ بڑانے لگ جاتا۔
"قسم ہے بھگوان کی ، ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آگیا ہوں ۔ جب کبھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون وانون بنے تو ان لوگوں سے نجات ملے ۔ تیری قسم جان میں جان آجائے ۔"
اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لا دیں اور ان کی گفتگو سے اس کو پتہ چلا کہ ہندوستان میں جدید آئین نافذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
وہ مارواڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئیں یعنی انڈیا ایکٹ کے بارے میں آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ "سنا ہے پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا۔ کیا ہر چیز بدل جائے گی ؟" "ہر چیز تو نہیں بدلے گی مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا۔ اور ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی ۔"
” کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہوگا ؟"
ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابل بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا اور چا بک سے بہت بری طرح پیٹا کرتا تھا مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھتا اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں
کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ او نیچے کر کے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کر تے ہوئے بڑے پیار سے کہتا۔ ”چل بیٹا، ذرا ہوا سے باتیں کر کے دکھا دے۔“
مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسی پی کر ایک بڑی ڈکار لی اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا۔ "ہت تیری ایسی کی تیسی ۔‘‘
شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا تو خلاف معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب وغریب طوفان برپا ہوگیا ، آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔ بہت بڑی خبر اور اس خبر کو اپنے اندر سے باہر نکالنے کے لیے وہ سخت بے چین تھا۔ لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔
آدھ گھنٹے تک وہ چا بک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بے دلی کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آرہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لا کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندوستان میں نافذ ہونے والا تھا، اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کر کے غور وفکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ" کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہوگا ؟‘‘ بار بار گونج رہا تھا اور اس کے تمام جسم میں مسرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔
    وہ بے حد مسرور تھا۔ خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں ، سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔
جب نتھو گنجا پگڑی بغل میں دبائے اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا۔ "لاہاتھ ادھر ........ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے ۔ تیری اس گنجی کھوپڑی پر بال اگ آئیں۔"
اور یہ کہہ کر منگو نے بڑے مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں ۔ دوران گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپناہاتھ مار کر کہا "تو دیکھتارہ کیا بنتا ہے، یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کر کے رہے گا۔"
استاد منگو موجودہ سوویت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نئی چیز یں بہت پسند تھیں ، اسی لیے اس نے ’’روس والے بادشاہ" کو انڈیا ایکٹ“ یعنی جدید آئین کے ساتھ ملا دیا اور پہلی اپریل کو پرانے نظام میں جونئی تبدیلیاں پیدا ہونے والی تھیں وہ انھیں’’روس والے بادشاہ " کے اثر کا نتیجہ سمجھتا تھا۔
کچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سرخ پوشوں کی تحریک جاری تھی ۔ استاد منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ”روس والے بادشاہ اور پھر نئے قانون کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی کسی سے سنتا کہ فلاں شہر میں اتنے بم ساز پکڑے گئے ہیں یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے تو ان تمام واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا اور دل ہی دل میں بہت خوش ہوتا تھا۔
ایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تنقید کر رہے تھے اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا۔
جدید آئین کا دوسرا حصہ فیڈ ریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آیا۔ اسی فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سنی نہ دیکھی گئی ہے۔ سیاسی نظریے کے اعتبار سے بھی یہ فیڈ ریشن بالکل غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں‘‘
آن بیرسٹروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی چوں کہ اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے تھے۔ اس سے استاد منگو صرف اوپر کے جملے ہی کو کسی قدر سمجھا اور اس نے خیال کیا یہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو برا سمجھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔ چناں چہ اس خیال کے زیر اثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر دل ہی دل میں کہا ’ ٹوڈی چے! "
جب کبھی وہ کسی کو دبی زبان میں "ٹوڈی بچہ" کہتا تو دل میں یہ محسوس کر کے بڑا خوش ہوتا تھا کہ اس نے اس نام کو صحیح جگہ استعمال کیا ہے۔ اور یہ کہ وہ شریف آدمی اور’’ ٹوڈی بچے‘‘ میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
اس واقعے کے تیسرے روز گورنمنٹ کالج  کے تین طلبا کو اپنے تانگے میں بٹھا کر مزنگ جارہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا۔
نئے آئین نے میری امیدیں اور بڑھادی ہیں ۔ اگر.................. صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضرور مل جائے گی ۔
ویسے بھی بہت سی جگہیں نکلیں گی ۔ شاید اسی گڑ بڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آجائے۔"
‘‘ ہاں ہاں کیوں نہیں ۔"
"وہ بے کار گریجویٹ جو مارے مارے پھر رہے ہیں ان میں کچھ تو کی ہوگی ؟“
اس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی اور وہ اس کو ایسی "چیز‘‘ سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو" نیا قانون ۔!‘‘ اور وہ دن میں کئی بار سوچتا۔" یعنی کوئی نئی چیز ! " اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ نیا ساز آجاتا جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے بڑی اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر جب وہ نیا تھا جگہ جگہ لوہے کی نکل چڑھی ہوئی کیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پتیل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی " نئے قانون‘‘ کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔
پہلی بار اپریل تک استاد منگو نے جدید آئین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنا مگر اس کے متعلق جو تصور وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا ، بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہوجائے گا اور اس کو یقین تھا کہ اس کی آمد پر جو چیزیں نظر آئیں گی ان سے اس کی آنکھوں کو ضرور ٹھنڈک پہنچے گی۔
آخرکار مارچ کے اکتیس دن ختم ہوگئے اور اپریل کے شروع ہونے میں رات کے چند خاموش گھنٹے باقی رہ گئے ۔ موسم خلاف معمول سرد تھا اور ہوا میں تازگی تھی ۔ پہلی اپریل کو صبح سویرے استاد منگو اٹھا اور اصطبل میں جا کر تانگے میں گھوڑے کو جوتا اور باہر نکل گیا۔ اس کی طبیعت آج غیر معمولی طور پر مسرور تھی ۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے والا تھا۔
اس نے صبح کے سرد دھند لکے میں کئی تنگ اور کھلے بازاروں کا چکر لگایا مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی ۔ آسمان کی طرح پرانی۔ اس کی نگاہیں آج خاص طور پر نیا رنگ دیکھنا چاہتی تھیں مگر سوائے اس کلغی کے جو رنگ برنگ کے پروں سے بنی تھی اور اس کے گھوڑے کے سر پر جمی ہوئی تھی اور سب چیزیں پرانی نظر آتی تھیں ۔ یہ نئی کلغی اس نے نئے قانون کی خوشی میں 31 /مارچ کو چودھری خدا بخش سے ساڑھے چودہ آنے میں خریدی تھی۔
گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز کالی سڑک اور اس کے آس پاس تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر لگائے ہوئے بجلی کے کھمبے ، دکان کے بورڈ ، اس کے گھوڑے کے گلے میں پڑے ہوئے گھنگرو کی جھنجھناہٹ ، بازار میں چلتے پھرتے آدی ......... ان میں سے کون سی چیز نئی تھی ،ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں لیکن استاد منگو مایوس نہیں تھا۔
"ابھی بہت سویرا ہے۔ دکانیں بھی تو سب کی سب بند ہیں" ۔ اس خیال سے اسے تسکین تھی۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتا تھا۔ ” ہائی کورٹ میں نو بجے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے۔ اب اس سے پہلے نئے قانون کا کیا نظر آئے گا ؟"
جب اس کا تانگہ گورنمنٹ کالج کے دروازے پر پہنچا تو کالج کے گھڑیال نے بڑی رعونت سے نو بجائے ۔ جو طلبا کالج کے بڑے دروازے سے باہر نکل رہے تھے خوش پوش تھے۔ مگر استاد منگو کو نہ جانے ان کے کپڑے میلے میلے سے کیوں نظر آئے ۔ شاید اس کی وجہ تھی کہ اس کی نگاہیں آج کسی خیرہ کن جلوے کا نظارہ کرنے والی تھیں۔
تانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر انارکلی میں تھا۔ بازار کی آدھی دکا نیں کھل چکی تھیں اور اب لوگوں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی تھی ۔ حلوائی کی دکانوں پر گاہکوں کی خوب بھیڑ تھی ۔ منہاری والوں کی نمائشی چیز یں شیشے کی الماریوں میں لوگوں کو دعوت نظارہ دے رہی تھیں اور بجلی کے تاروں پر کئی کبوتر آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے مگر استاد منگو کے لیے ان تمام چیزوں میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ وہ نئے قانون کو دیکھنا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔
استاد منگو طبعاً بہت جلد باز واقع ہوا تھا۔ وہ ہر سبب کی عملی تشکیل دیکھنے کا نہ صرف خواہش مند تھا بلکہ متجسس تھا۔ اس کی بیوی گنگاوتی اس کی اس قسم کی بے قراریوں کو دیکھ کر عام طور پر یہ کہا کرتی۔
" ابھی کنواں کھودا نہیں گیا اور پیاس سے بے حال ہورہے ہو۔“
کچھ بھی ہو مگر استاد منگو نئے قانون کے انتظار میں اتنا بے قرار نہیں تھا جتنا کہ اسے اپنی طبیعت کے لحاظ سے ہونا چاہیے تھا۔ وہ آج نئے قانون کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے گاندھی یا جواہر لال کے جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے نکلتا تھا۔
لیڈروں کی عظمت کا اندازہ استاد منگو ہمیشہ ان کے جلوس کے ہنگاموں اور ان کے گلے میں ڈالے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے کیا کرتا تھا۔ اگر کوئی لیڈر گیندے کے پھولوں سے لدا ہو تو استاد منگو کے نزدیک وہ بڑا آدمی ہے اور اگر کسی لیڈر کے جلوس میں بھیٹر کے باعث دو تین فساد ہوتے ہوتے رہ جائیں تو اس کی نگاہوں میں وہ اور بھی بڑا تھا۔ اب نئے قانون کو وہ اپنے ذہن کے اسی ترازو میں تولنا چاہتا تھا۔
انارکلی سے نکل کر وہ مال روڈ کی چمکیلی سطح پر اپنے تانگے کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ موٹروں کی دکان کے پاس اسے چھاونی کی ایک سواری مل گئی ۔ کرایہ طے کرنے کے بعد اس نے اپنے گھوڑے کو چا بک دکھایا اور دل میں یہ خیال کیا۔
” چلو یہ بھی اچھا ہوا۔ شاید چھاؤنی ہی سے نئے قانون کا کچھ پتہ چل جائے ۔"
چھاؤنی پہنچ کر استاد منگو نے سواری کو اس کی منزل مقصود پر اتار دیا اور جیب سے سگریٹ نکال کر بائیں ہاتھ کی آخری دو انگلیوں میں دبا کر سلگایا اور اگلی نشست کے گدے پر بیٹھ گیا۔ جب استاد منگو کو کسی سواری کی تلاش نہیں ہوتی تھی یا اسے کسی بیتے ہوئے واقعے پر غور کرنا ہوتا تھا تو وہ عام طور پر اگلی نشست چھوڑ کر پچھیلی نشست پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اپنے گھوڑے کی باگیں دائیں ہاتھ کے گرد لپیٹ لیا کرتا تھا۔ ایسے موقعوں پر اس کا گھوڑا تھوڑا سا ہنہنانے کے بعد بڑی دھمیی چال چلنا شروع کردیتا تھا۔ گویا اسے کچھ دیر کے لیے بھاگ دوڑ سے چھٹی مل گئی ہے گھوڑے کی چال اور استاد منگو کے دماغ میں خیالات کی آمد بہت سست تھی، جس طرح گھوڑا آہستہ قدم اٹھا رہا تھا اسی طرح استاد کے ذہن میں نئے قانون کے متعلق نئے قیاسات داخل ہورہے تھے۔
وہ نئے قانون کی موجودگی میں میونسپل کمیٹی سے تانگوں کے نمبر ملنے کے طریقے پر غور کر رہا تھا۔ اور اس قابل غور بات کو آئین جدید کی روشنی میں دیکھنے کی سعی کر رہا تھا۔ وہ اس سوچ بچار میں غرق تھا۔ اسے یوں معلوم ہوا جیسے کسی سواری نے اسے بلایا ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے اسے سڑک کے اس طرف دور بجلی کے کھمبے کے پاس ایک ’’ گورا‘‘ کھڑا نظر آیا جو اسے ہاتھ سے بلا رہا تھا۔
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے استاد منگو کو گوروں سے بے حد نفرت تھی۔ جب اس نے اپنے تازہ گا ہک کو گورے کی شکل میں دیکھا تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہو گئے ۔
پہلے اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اس کو خیال آیا ان کے پیسے چھوڑنا بھی بے وقوفی ہے۔ کلغی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ کر دیے ہیں ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں ۔ چلو چلتے ہیں ۔"
خالی سڑک پر بڑی صفائی سے تانگہ موڑ کر اس نے گھوڑے کو چا بک دکھا یا اور آنکھ جھپکنے میں وہ بجلی کے کھمبے کے پاس تھا ۔ گھوڑے کی باگیں کھینچ کر اس نے تانگہ ٹھہرایا۔ اور پچھلی نشست پر بیٹھے بیٹھے گورے سے پوچھا۔
"صاحب بہادر کہاں جانا مانگتا ہے؟‘‘
اس سوال میں بلا کا طنز یہ انداز تھا۔ صاحب بہادر کہتے وقت اس کا اوپر کا مونچھوں بھرا ہونٹ نیچے کی طرف کھینچ گیا اور پاس ہی گال کے اس طرف جو مدھم سی لکیر ناک کے نتھنے سے ٹھوڑی کے بالائی حصے تک چلی آرہی تھی ، ایک لرزش کے ساتھ گہری ہوگئی۔ گویا کسی نے نوکیلے چاقو سے شیشم کی سانولی لکڑی میں دھاری ڈال دی۔ اس کا چہرہ ہنس رہا تھا اور اپنے اندر اس نے اس" گورے" کو سینے کی آگ میں جلا کر بھسم کر ڈالا تھا۔
جب "گورے‘‘ نے جو بجلی کے کھمبے کی اوٹ میں ہوا کا رخ بچا کر سگریٹ سلگا رہا تھا ، مڑ کر تانگے کے پائیدان کی طرف قدم بڑھایا تو اچانک استاد منگو اور اس کی نگاہیں چار ہوئیں ۔ اور ایسا معلوم ہوا کہ ایک وقت آمنے سامنے کی بندوقوں سے گولیاں خارج ہوئیں اور آپس میں ٹکرا کر ایک آتشیں بگولا بن کر اوپر کو اڑ گئیں۔
استاد منگو جو اپنے دائیں ہاتھ سے باگ کے بل کھول کر تانگے پر سے نیچے اترنے والا تھا اپنے سامنے کھڑے گورے کو یوں دیکھ رہا تھا گویا وہ اس کے وجود کے ذرے ذرے کو اپنی نگاہوں سے چبا رہا ہے اور گورا کچھ اس طرح اپنی نیلی پتلون پر سے غیر مرئی چیز یں جھاڑ رہا ہے گویا وہ استاد منگو کے اس جملے سے اپنے وجود کے کچھ حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گورے نے سگریٹ کا دھواں نگلتے ہوئے کہا۔” جانا مانگٹا یا پھر گڑ بڑ کرے گا۔
"وہی ہے ۔ " یہ الفاظ استاد منگو کے ذہن میں پیدا ہوئے ۔ اور اس کی چوڑی چھاتی کے اندر ناچنے لگے۔
"وہی ہے۔ " اس نے یہ الفاظ اپنے منہ کے اندر ہی اندر دہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہوگیا کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی اور خواہ مخواہ کے جھگڑے میں جس کا با عث گورے کے دماغ میں چڑھی ہوئی شراب تھی۔ اسے طوعاً و کر ہا بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں ۔ استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا بلکہ اس کے پرزے اڑا دیے ہوتے مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس قسم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔
استاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اور پہلی اپریل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا۔ کہاں جانا مانگٹا ہے؟
استاد منگو کے لہجے میں چابک ایسی تیزی تھی۔
گورے نے جواب دیا۔ ”ہیرا منڈی ‘‘
"کرایہ پانچ روپیہ ہوگا۔ " استاد منگو کی مونچھیں تھرتھرائیں۔
یہ سن کر گورا حیران ہوگیا۔ وہ چلایا۔ "پانچ روپے؟ کیا تم ........"
"پانچ روپے ‘‘ یہ کہتے ہوئے استاد منگو کا داہنا بالوں بھرا ہاتھ بھنچ کر ایک وزنی گھونسے کی شکل اختیار کر گیا۔ کیوں جاتے ہو۔ یا بے کا ر با تیں بناؤ گے؟
استاد منگو کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا۔
گورا پچھلے برس کے واقعے کو پیش نظر رکھ کر استاد منگو کے سینے کی چوڑائی کو نظر انداز کر چکا تھا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اس کی کھوپڑی پھر کھجلا رہی ہے۔ اس حوصلہ افزا خیال کے زیراثر وہ تانگے کی طرف اکڑ کر بڑھا اور اپنی چھڑی سے استاد منگو کو تانگے پر سے نیچے اترنے کا اشارہ کیا۔ بید کی یہ پالش کی ہوئی پتلی چھڑی استاد منگو کی موٹی ران کے ساتھ دو تین مرتبہ چھوئی ۔ اس نے کھڑے کھڑے اوپر سے پستہ قد گورے کو دیکھا۔ گویا وہ اپنی نگاہوں کے وزن ہی سے اسے پیس ڈالنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا گھونسہ کمان میں سے تیر کی طرح سے اوپر کو اٹھا اور چشم زدن میں گورے کی ٹھڈی کے نچے جم گیا۔ دھکا دے کر اس نے گورے کو پرے ہٹایا اور نیچے گرا کر اسے دھڑا دھڑ پیٹنا شروع کر دیا۔
ششدر و متحیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پر دیوانگی کی سی حالت طاری ہے اور اس کی آنکھوں میں شرارے برس رہے ہیں تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔ اس چیخ و پکار نے استاد منگو کی بانہوں کا کام اور بھی تیز کر دیا جو گورے کو جی بھر کے پیٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا۔
"پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں ....... پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں ۔ اب ہمارا راج ہے بچہ!"
لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی چوڑی چھاتی پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہورہی تھی ۔ منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہا نیتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا۔
وہ دن گزر گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ اب نیا قانون ہے میاں ۔ نیا قانون !
اور بے چارہ گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کی مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی ہجوم کی طرف۔
استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے ۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ " نیا قانون ، نیا قانون چلاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔
”نیا قانون" ، نیا قانون ۔ کیا بک رہے ہو۔ قانون وہی ہے پرانا !"
اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔

سعادت حسن منٹو
(1912–1955)
منٹوضلع لدھیانہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق کشمیر سے تھا۔ منٹو کی ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہوئی ۔ اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ آئے۔ اسی دوران تعلیم منقطع کر کے ملازمت کر لی ۔ منٹو ابتدا میں روسی ادب سے متاثر ہوئے اور کئی روسی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ ترقی پسند تحریک کے آغاز میں وہ اس تحریک سے متاثر ہوئے لیکن آگے چل کر وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے ۔ ابتدا میں اخبار "مساوات‘‘(امرتسر) سے وابستہ رہے پھر ہفت روزہ مصور“ (بمبئی) میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا ۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی منسلک رہے۔ کچھ عرصہ علمی دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ کئی فلموں کے لیے کہانیوں کے ساتھ مکالے اور اسکرین پلے بھی لکھے۔ ملک کی آزادی کے بعد 1948 میں وہ مستقل طور پر لاہور چلے گئے۔
’’ تماشا‘‘ منٹو کا پہلا افسانہ تھا جو انھوں نے جلیاں والا باغ کے سانحے سے متاثر ہو کر لکھا۔ منٹو نے افسانہ نگاری میں موضوع اور ہیت کے کئی ایسے تجربے کیے جو ان سے پہلے افسانہ نگاروں کے یہاں نظر نہیں آتے ۔ منٹو کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبی حقیقت نگاری ہے۔ ”نیا قانون، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاوہ "سیاہ حاشیے‘‘ کے مختصر افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ منٹو نے سیاسی مسائل اور موضوعات پر بھی قلم اٹھایا۔ افسانوں کے علاوہ منٹو نے ڈرامے،خاکے، ادبی اور فکاہیہ مضامین تحریر کیے اور ایک ناول "بلا عنوان" بھی شائع ہوا۔
’’ چغد‘‘ ’’سیاہ حاشیے‘‘ ’’ شکاری عورتیں،" پھندے‘‘ ’’ "سرکنڈوں کے پیچھے‘‘ ’’ یزید‘ ’’ ٹھنڈا گوشت‘‘ ’’سڑک کے کنارے‘‘ ’’ دھواں‘‘ ’’ لذت سنگ‘‘ ’’ خالی بوتلیں خالی ڈبے‘‘ ’’ نمرود کی خدائی‘‘ وغیرہ ان کے افسانوں کے قابل ذکر مجموعے ہیں ۔

غور کرنے کی بات:
افسانہ نیا قانون‘ کا مرکزی کردار منگو کوچوان ہے۔ منگو کوچوان کے ذریعے منٹو نے ایک سیدھے سادے ان پڑھ تانگے والے کی سمجھ کو خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ یہ افسانہ اس دور میں لکھا گیا جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ انگریزوں کی یہ حکومت منگو کوچوان کو بہت کھلتی تھی۔ وہ
انگریزوں سے نفرت کرتا تھا اور اپنے ملک کو آزاد دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ اس افسانے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی سے پہلے ہندوستانی عوام میں انگریزوں کے خلاف غم وغصہ تھا۔ انگریزوں نے نہ صرف
حکومت کی بلکہ ہندوستانی عوام پر بہت ظلم بھی ڈھائے اور انھیں بے عزت بھی کیا۔
سوالوں کے جواب :
1- استاد منگو کون تھا اور اسے دنیا کے حالات کی خبر یں کس طرح ملا کرتی تھیں؟
2۔ منگو کوچوان انگریزوں سے کیوں نفرت کرتا تھا؟
3۔ ”نیا قانون کے آنے کی خبر سے منگو کوچوان کیوں خوش تھا؟

0 comments:

Post a comment

خوش خبری