آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 26 December 2020

Gaon Panchayat NCERT Urdu Class 9 Jaan Pehchan

گاؤں پنچایت
کسی زمانے میں ہمارے ملک میں گاؤں کا انتظام گاؤں والوں کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ گاؤں کی حفاظت ، صفائی، کھیتی تعلیم کا بندوبست گاؤں والے خود کر لیا کرتے تھے۔ جب انگریزوں کی حکومت آئی تو گاؤں کا انتظام سرکار نے اپنے ذمے لیا۔
مہاتما گاندھی چاہتے تھے کہ گاؤں کے انتظام میں گاؤں والوں کا پورا ہاتھ ہو۔ اس لیے آزادی کے بعد ہماری سرکارنے گاؤں کی طرف دھیان دیا۔ ہماری ریاستوں میں پنچایت راج قانون بنایا گیا، جس سے گاؤں والوں کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ اپنے گاوں کا انتظام خود کریں۔
اس قانون کے مطابق ہر اس گاؤں میں گاؤں سبھا بنائی جاتی ہے جس کی آبادی ڈھائی سو یا اس سے زیادہ ہو گاؤں سبھا کی ہر سال دو بیٹھکیں ہوتی ہیں۔ ایک خریف میں اور ایک ربیع میں ۔ خریف میں گاؤں سبھا آئندہ سال کا بجٹ منظور کرتی ہے اور ربیع کی بیٹھک میں پچھلے سال کے حساب کی جانچ کرتی ہے۔
گاؤں سبھا اپنے ممبروں میں سے پردھان اور گرام پنچایت کا چناؤ کرتی ہے۔ اس انتظامیہ کمیٹی کا نام گاؤں پنچایت ہے۔ اس میں پندرہ سے تیس ممبر تک ہوتے ہیں ۔ ان ممبروں کا چناو پانچ سال کے لیے ہوتا ہے ۔ گاؤں پنچایت کے ممبر ہر سال اپنا ایک’ اپ پر دھان' چنتے ہیں ۔اگر گاؤں سبھا کسی وقت یہ دیکھے کہ پردھان اور اپ پردھان اس کی ہدایتوں کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں تو اسے یہ اختیار بھی رہتا ہے کہ انھیں ان کے عہدوں سے ہٹا دے۔
گاؤں سبھا کا پردھان ہی گاؤں پنچایت کی بیٹھکوں کی صدارت کرتا ہے۔ پردھان اور اپ پردھان کے علاوہ گاؤں پنچایت کا ایک سکریٹری بھی ہوتا ہے جسے سرکار مقرر کرتی ہے۔ یہی گاؤں پنچایت ، گاؤں سبھا کی نگرانی میں گاؤں کا انتظام کرتی ہے۔ گاؤں میں اسکول ، ریڈنگ روم اور کتب خانے کھولنا، علاج اور صفائی کا انتظام کرنا کھتی اور دست کاری کو ترقی دینا، سڑکیں اور چھوٹے چھوٹے پل بنانا، میلے اور بازارلگوانا، مویشیوں کی دیکھ بھال اور علاج کا انتظام کرنا، درخت لگوانا اور گاؤں کی حفاظت کے لیے رضا کار بنانا گاؤں پنچایت کے خاص کام ہیں ۔ گاؤں پنچایت کو ان کاموں کے لیے کچھ روپے سرکار سے ملتے ہیں اور کچھ ٹیکس وغیرہ کے ذریعے پنچایت خود حاصل کرتی ہے۔
گاؤں کے جھگڑے طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے جسے" پنچایتی عدالت“ کہتے ہیں۔ اس کا چناؤ ہر پانچویں سال ہوتا ہے۔ اس کے صدر کو سر پنچ اور نائب صدر کو نائب سرپنچ کہتے ہیں۔ پنچایتی عدالت میں پانچ پنچوں کی چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں ہوتی ہیں جو پنچ منڈل کہلاتی ہیں۔ یہ پنچ منڈل سال بھر کام کرتے ہیں اور پھر ان کے ممبروں کو تبد یل کر دیا جاتا ہے۔ جب کوئی مقد مہ پنچایتی عدالت کے سامنے آتا ہے تو سرپنچ اس کو ایک پنچ منڈل کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس طرح اب گاؤں کے لوگوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے تھانے اور کچہری نہیں دوڑ نا پڑتا۔ سنچائی، مینڈ ، لین دین اور مار پیٹ کے جھگڑے گاؤں ہی میں طے ہو جاتے ہیں ۔ گاؤں کے اس انتظام کے دو فائدے ہیں ۔ ایک تو اس میں کسی طرف سے وکیل کی ضرورت نہیں ہوتی اور دوسرے پنچ گاؤں ہی کے ہوتے ہیں اس لیے وہ معاملے کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور انصاف کر سکتے ہیں۔
پنچایتی راج قائم کرنے سے ہمارے گاوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ لیکن اس نظام سے جہاں ہمارے گاؤں والوں کو بڑے بڑے اختیار ملے ہیں وہاں ان کی ذمے داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔
گاؤں پنچایت کے ممبران کا فرض ہے کہ وہ مل کر گاؤں کی ترقی کے لیے کوشش کریں۔ وہ دن دور نہیں کہ گاؤں کی زندگی ویسی ہی بن جائے گی جیسی گاندھی جی چاہتے تھے۔

.
غور کیجیے:

پنچایت راج گاندھی جی کے خیالات کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے گاؤں والوں کو بہت سے فائدے حاصل ہورہے ہیں۔
سوچیے اور بتایئے:
1۔ انگریزی حکومت سے پہلے ہمارے گاؤں کا انتظام کیسے ہوتا تھا؟
  2۔ آزادی کے بعد ہمارے گاؤں کے انتظام میں کیا تبدیلی آئی؟
  3۔ پنچایت راج قانون کے مطابق گاؤں کا انتظام کس طرح کیا جاتا ہے؟
  4۔ گاؤں پنچایت کے کیا کیا کام ہیں؟
  5۔ گاؤں پنچایت سے کیا فائدے ہیں؟
  6۔ گاؤں پنچایت سے گاندھی جی کا خواب کس طرح پورا ہور ہا ہے؟

0 comments:

Post a comment

خوش خبری