آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 26 December 2020

Mulla Nasruddin By Ahmad Jamal Pasha NCERT Urdu Class 9 Jaan Pehhan

ملا نصرالدین
ملا نصرالدین کے بارے میں عجیب و غریب روایتیں ہیں۔ مثلا یہ کہ سیر و سفر کے رسیا اس ازلی سیاح نے اپنے سست رفتار گدھے پر دنیا کا سفر کیا تھا۔ ملا نے ٹٹو پر دنیا کا سفر کیا یا نہیں مگر اپنے لطائف کے دوش پر یہ سفر ضرور پورا کر لیا۔ ملا کا گدھا کسی بھی صورت میں ڈان کو یکزاٹ اور خوبی کے ٹٹو سے کم نہیں ۔ ملا کا سفر ابد تک جاری رہے گا۔ دنیا کی تقریباً ہر زبان میں ملا کے واقعات ، فیصلے ، لطیفے ، حکایتیں ، مضحک واقعات اور سفر نامے ترجمہ ہو کر مقبول ہو چکے ہیں۔
ملا نصرالدین اپنی حاضر جوابی ، خوش باشی، زندہ دلی کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں ۔ ملا کا مزاح لا فانی ہے اور اس وقت تک کبھی پرانا نہ ہوگا جب تک کہ ایسے لوگ باقی ہیں جو ایک ستھرے اور شستہ مذاق کو پسند کرتے ہیں ۔ ملا کے ان پر لطف واقعات اور باتوں پر آج بھی لوگ اسی طرح ہنستے ہیں جیسے ملا کے زمانے میں ان پر لوگ ہنسا کرتے تھے۔ ملا سے متعلق روایات کے مطابق انھوں نے مختلف ملکوں کا سفر کیا تھا اور مختلف در باروں سے وابستہ رہے تھے۔ اکثر تذکروں میں ملا کے تر کی ، ایران، عرب، ہندوستان، روس، چین جانے کے بارے میں روایتیں ہیں مگر آن روایتوں کی حیثیت قیاس آرائی سے زیادہ نہیں۔ ملا کب کس زمانے میں اور بادشاہ کے عہد میں کس ملک میں رہے اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔
ملا کا باقاعدہ گھر بار ہے جو بار بار بستا اور آجڑ تا ہے۔ اس میں ویرانی کے بجائے ایک چہل پہل اور فاقہ مستی ہے۔ ملا کے بیوی بچوں سے لے کر گدھے تک سب اسی رنگ میں سرشار نظر آتے ہیں۔
ملا ہر فن مولا ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا پیشہ ہو جسے ملا نے اختیار نہ کیا ہو کبھی وہ معلم کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں، کبھی منبر پر وعظ دیتے نظر آتے ہیں۔ کبھی ایک تاجر کی حیثیت سے مصروف نظر آتے ہیں کبھی معمار کی شکل میں مکان بناتے ملتے ہیں۔ کبھی درزی کی حیثیت سے کپڑے سیتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی قاضی کی حیثیت سے دونوں فریقوں کے حق میں فیصلہ کرتے ہو تے ہیں اور کبھی ایک سیاح کی طرح جہاں گردی میں ٹٹو پر سوار نظر آتے ہیں ۔ ان کی زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔
ملا نصر الدین کوئی خیالی کردار نہیں۔ البتہ بے شمار من گھڑت واقعات اس کی ذات سے منسوب کر دیے گئے ہیں۔ ملا کی زندگی میں ایسے واقعات بہت ہوئے جو اپنے انوکھے پن اور ذہانت کی وجہ سے ہمیشہ دل چسپی کا باعث رہیں گے ۔ یہی واقعات ملا کی ہر دل عزیزی اور لا زوال شہرت کا باعث ہیں۔ ہر محفل کو گرم کرنے کے لیے آج بھی ملا کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔
مالا ہنسی ہنسی میں اہم اور ٹیڑھی باتیں اور بار یک نکتے ، بالکل سیدھے سادے طور پر سمجھادیتا تھا۔ اس کا مزاح اور طنز آمیز باتیں دل پر فوراً اثر کرتیں ۔ سننے والے ہنستے ہنستے زندگی کی کسی بڑی حقیقت پر غور کرنے لگتے۔
ملا نے سنجیدہ فکر کو بیدار کرنے کے لیے کبھی پند و نصائح سے کام نہیں لیا حالاں کہ ملا نے زندگی بھر صرف نصیحتیں ہی کیں مگر براہ راست نہیں۔
ملا کا نظریہ یہ تھا کہ اس رونی منہ بسورتی دنیا میں لوگوں کو سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی سمجھ کے مطابق بات کی جائے اور بات سمجھانے کے لیے ہنسی مذاق کو اپنا شعار بنایا جائے ۔ ملا نصر الدین نے اپنے اس نظریے کو اس حد تک عملی جامہ پہنایا کہ وہ خود جان بوجھ کر ظرافت کے اس عمل سے گزرتے رہے جس میں تماشے اور تماشائی میں فرق نہیں رہ جاتا اور ہنسانے والے کی اعلی ظرفی اپنے اوپر قہقہے لگانے اور لگوانے پر بھی قادر ہوجاتی ہے۔ اس طور پر ملا نے عقل مندی کے ساتھ لوگوں کو اچھی باتیں ذہن نشین کرا کے لطیفے کے افادی مر تبے کو بہت بلند منزل عطا کردی۔
(احمد جمال پاشا)
 احمد جمال پاشا
(1929 -1987)
احمد جمال پاشا کا اصلی نام محمد نزہت پاشا تھا۔ وہ الہ آباد میں پیدا ہوئے ۔ لکھنو یو نیورسٹی سے بی اے اور علی گڑھ مسلم یونیورٹی سے ایم ۔ اے کیا۔ لکھنؤ سے اودھ پنچ نکالنا شروع کیا جسے اس کا تیسرا دور کہا جاتا ہے۔ بعد میں قومی آواز اخبار کے شعبہ ادارت سے منسلک ہو گئے ۔ 1976 میں سیوان (بہار) منتقل ہوگئے، جہاں ذکیہ آفاق اسلامیہ کالج میں اردو کے استاد کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ پٹنہ میں انتقال ہوا۔
احمد جمال پاشا نے 1950 سے لکھنا شروع کیا۔ زمانہ طالب علمی میں علی گڑھ کے رسالے ” اسکالر " کے مدیر ہوئے اور اس کے ’’ پیروڈی نمبر " کی وجہ سے شہرت پائی۔ "اندیشہ شہر" ، " ستم ایجاد"، "لذت آزار"،" مضامین پاشا"، "چشم حیران" اور" پتیوں پر چھڑ کاو" وغیرہ ان کی مشہور مزاحیہ کتابیں ہیں ۔ ” ظرافت اور تنقید"  ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔
احمد جمال پاشا کو ادبی خدمات کے لیے غالب ایوارڈ اور بہار اردو اکادمی کا اختر اور نیوی ایوارڈ دیا گیا۔

غور کیجیے :
لطیفے، چٹکلے یوں تو ہنسنے ہنسانے کے لیے ہوتے ہیں لیکن ان کے پیچھے سماجی ، تہذیبی اور اخلاقی مقاصد بھی پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ اسی لیے ملا نصرالدین کے لطیفے صرف ہنسنے کے لیے نہیں ہیں بلکہ ان سے ہماری سماجی برائیوں کی اصلاح بھی ہوتی ہے۔
سوچیے اور بتایئے:
1. ملا نصر الدین کے بارے میں کیا کیا روایتیں مشہور ہیں؟
2. ملا نصر الدین کا نام آج بھی کیوں زندہ ہے؟
3۔ ملا نصر الدین کو ہرفن مولا کیوں کہا جاتا ہے؟
4۔ ملا نصر الدین کی باتیں دل پر کیوں اثر کرتی تھیں؟ 5۔ ملا نصر الدین نے ہنسی مذاق کو اپنا شعار کیوں بنایا؟

0 comments:

Post a comment

خوش خبری