آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 26 December 2020

Masnuyi Sayyara NCERT Urdu Jaan Pehchan Class 9

مصنوعی سیاره

اگر آپ کو ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ہے تو آپ نے وہ ٹکٹ ضرور حاصل کرلیا ہوگا جسے بھارت سرکار نے 19 اپریل 1975 کو جاری کیا تھا۔ اس ٹکٹ کے آدھے حصے میں زمین کا کنارہ دکھایا گیا ہے۔ پیچھے گہرا نیلا آسان ہے۔ بیچ میں ہلکے آسمانی رنگ کا نگینے جیسا ایک مصنوعی سیارہ ہے۔ دائیں طرف ہندی اور انگریزی میں ’’ آریہ بھٹ 1975 ‘‘ لکھا ہے۔ ایسے ٹکٹوں کو یادگاری ٹکٹ کہتے ہیں۔ یہ آریہ بھٹ کے خلا میں بھیجے جانے کے موقعے پر جاری کیا گیا تھا۔

آریہ بھٹ ہمارے ملک ہندوستان کا پہلا مصنوعی سیارہ تھا جو 19 اپریل 1975 کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اس مصنوعی سیارے کا نام قدیم ہندوستان کے مشہور ریاضی داں آریہ بھٹ کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ہندوستان سے پہلے روس، امریکہ، برطانیہ، کناڈا، اٹلی ، فرانس، آسٹریلیا ، مغربی جرمنی، چین اور جاپان اپنے مصنوعی سیارے خلا میں بھیج چکے تھے۔ ہندوستان گیارھواں ملک ہے جس نے مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ مصنوعی سیارہ کسے کہتے ہیں؟ یہ کیسے اور کیوں اڑایا جاتا ہے؟ ہمارے عہد میں سائنس کی مدد سے جو بڑی بڑی ایجادیں ہوئی ہیں ان میں سے ایک اہم ایجاد مصنوعی سیارہ بھی ہے۔ مصنوعی سیارہ دھات کا بنا ہوا ایک طرح کا دو یا تین منزلہ مکان ہوتا ہے ۔ اس میں مختلف کاموں کے لیے سائنسی آلات لگائے جاتے ہیں۔ اسے زمین کی قوت کشش کے اصولوں کی روشنی میں بنایا گیا ہے۔

مصنوعی سیارے کو راکٹ کی مدد سے خلا میں بھیجا جاتا ہے۔ را کٹ آتش بازی کی ’ ہوائی‘‘ جیسا ہوتا ہے اور اسی طرح کام بھی کرتا ہے۔ مصنوعی سیارے کو خلا میں بھیجنے کے لیے دو یا تین منزلہ راکٹ استعمال کیے جاتے ہیں ۔ جب پہلی منزل کا ایندھن ختم ہو جاتا ہے تو وہ کٹ کر گر جاتی ہے اور دوسری منزل اپنا کام شروع کر دیتی ہے۔ راکٹ کے ایندھن میں اتنی توانائی ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی سیارے کو زمینی کشش کی حد سے باہر خلا میں پہنچا دیتا ہے پھر زمینی مرکز سے سائنس داں اسے خلا میں مناسب جگہ پر نصب کر دیتے ہیں۔

مصنوعی سیارہ ایک نہایت مفید ایجاد ہے۔ اس میں لگائے گئے طاقت ور کیمروں کی مدد سے زمین کو ہر طرف سے دیکھا جاسکتا ہے اور صحیح نقشہ بنایا جاسکتا ہے۔ مصنوعی سیارے کی مدد سے دنیا کے مختلف حصوں میں موسم کے بدلتے ہوئے حالات کا پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے ۔ اس کی مدد سے سمندری طوفانوں کی پیشین گوئی کرنا آسان ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی زمین کے اندر آتش فشاں اور زلزلے کے مرکز کا علم بھی ہوجاتا ہے۔

مصنوعی سیارے میں لگے ہوئے پیغام رسانی کے آلات کی مدد سے ریڈیو اور ٹیلی فون کا نظام بہت بہتر ہو گیا ہے۔ اب آوازوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے کسی بھی حصے کی تصویریں ، وہاں کے حالات اور واقعات کو پلک جھپکتے دنیا کے گوشے گوشے میں دیکھا اور دکھایا جا سکتا ہے ۔ ٹیلی ویژن کی شکل میں یہ سہولت ہمیں مصنوعی سیارے کے ذریعے ہی حاصل ہوئی ہے۔ اس ایجاد نے دنیا کے سارے ملکوں کو اس طرح جوڑ دیا ہے کہ ساری دنیا ایک گاؤں معلوم ہونے لگی ہے۔


سوچنے اور بتایئے:

1۔ 19 اپریل 1975 کو جاری کیے گئے ٹکٹ کی کیا خصوصیات ہیں؟

2۔ ہندوستان کے پہلے مصنوعی سیارے کا کیا نام ہے؟

3۔ آریہ بھٹ کون تھے؟

4۔ ہندوستان سے پہلے کن ملکوں نے خلا میں مصنوعی سیارے بھیجے؟

5۔ مصنوعی سیارے کے کیا فائدے ہیں؟

  6۔ ساری دنیا ایک گاؤں میں کیسے تبدیل ہوگئی ہے؟ 


عملی کام :

  مصنوعی سیارے سے متعلق پانچ جملےلکھیے۔


0 comments:

Post a comment

خوش خبری