آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 26 December 2020

Waqt By Deputy Nazir Ahmad NCERT Urdu Class 9 Jaan Pehchan

وقت
ڈپٹی نذیر احمد
دنیا میں ہر چیز کی کچھ نہ کچھ تلافی ہے۔ مگر نہیں ہے تو وقت کی ۔ جو گھڑی گزرگئی وہ کسی طرح تمھارے قابو میں نہیں آسکتی اور وقت کے گزر جانے پرغور کریں تو اسے کسی چیز کے ساتھ تشبیہ نہیں دی جاسکتی ۔ وقت ریل سے زیادہ تیز ہے، ہوا سے بڑھ کر اڑنے والا، بجلی سے سوا بھاگنے والا اور دبے پاؤں نکلا جاتا ہے کہ خبر نہیں ہوتی صبح ہوئی ، سوکر اٹھے جب تک معمولی ضرورتوں سے فراغت حاصل کرو، ذرا ناشتہ وغیرہ کھاؤ پیو، پھر دن چڑھ آیا۔ پھر گھڑی دو گھڑی ادھر ادھر اٹھے بیٹھے، گپ شپ اڑائی تو دس بجنے کو آئے۔ مدرسہ جانے کو دیر ہوتی ہے۔ جلد کھایا پیا، مدر سے گئے۔ وہاں دوستوں سے ہنسی مذاق کرتے رہے۔ استاد کی تاکید سے دو ایک مرتبہ بری بھلی طرح سبق پڑھا، چلو شام ہوئی ۔ دن رخصت ہوا گھر آئے تو پھر کھانے کو سوجھی، کھانا کھانے سے کسل پیدا ہوا، ذرا لیٹے تو پھر صبح موجود۔ کام تو کچھ بھی نہ ہوا، لیکن چوبیس گھنٹے گزرتے ہوئے معلوم نہ ہوئے اور ایک چوبیس گھنٹے کیا، ایسے ایسے صد ہا ہزاروں چوبیس گھنٹے اسی طرح گزر جاتے ہیں۔ بیت:
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں  ہی تمام  ہوتی ہے
جب وقت کی بے ثباتی کا یہ حال ہے اور جو وقت گزرا وہ ہمارے اختیار سے باہر ہوا تو نہایت ضروری ہے کہ وقت پر ہمارا اختیار ہو۔ اس کو ضائع نہ ہونے دیں۔ یہی وقت ہے کہ سونے اور کھیلنے میں گزر جاتا ہے اور آدمی کو سست اور غبی، رسوا اور خوار اور محتاج اور طرح طرح کے امراض میں مبتلا اور بداخلاقیوں میں گرفتار کر دیتا ہے۔
یہی وقت ہے کہ اگر اس کو اچھے شغل، اچھے کام، اچھی بات میں لگایا جائے تو انسان کو عالم، فاضل، لائق، ہنرمند، نام ور محترم، نیک ہر دل عزیز بنا کر طرح طرح کی خوبیوں اور بھلائیوں سے آراستہ کر سکتا ہے۔
اے لڑکو! یہ فراغت کا وقت جو تم کو اب میسر ہے بس غنیمت سمجھو۔ اب نہ تم کو کھانے کی فکر ہے نہ کپڑے کا سوچ۔ جو کچھ تم سے سیکھتے اور حاصل کرتے بن پڑے لگ لپٹ کر جلد سیکھ ساکھ لو کہ آئندہ تمھارے کام آئے ۔ ورنہ پھر کہاں تم اور کہاں یہ فراغت ۔ اس وقت تم سر پر ہاتھ رکھ کر روؤ گے اور رونا کچھ سود مند نہ ہوگا۔ بہت پچھتاؤ گے اور پچھتانا کچھ فائدہ نہ بخشے گا۔ بہت افسوس کرو گے اور افسوس سے کچھ نہ ہو گا۔ یہ وقت جو تم کو اب حاصل ہے ان وقتوں کی مانند نہیں، جو جوانی اور پیری میں تم کو آئندہ پیش آئیں گے۔ لڑکپن کا وقت جو تنے اور بونے کا وقت ہے اور جوانی اور پیری کا وقت کاٹنے اور گا ہنے کا ۔ اگر اس وقت میں تم کچھ جوت بو رکھوگے تو جوانی اور پیری دونوں میں کاٹ سکو گے۔ اس وقت کو اس طرح صرف کرو کہ جوانی اور پیری دونوں میں آرام آسائش سے رہو اور چا ہو تو اس وقت کو ایسا اکارت کرو کہ جوانی بھی خراب ہو اور پیری بھی برباد ہو۔ ایک وقت وہ آرہا ہے کہ تم فرصت کو ڈھونڈو گے اور فرصت کا پتہ نہ پاؤ گے اور فراغت کی تلاش کرو گے اور فراغت کا سراغ نہ ملے گا۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ دنیا کا بار تمھاری پیٹھ پر لدا ہوگا۔ خانہ داری کے بکھیڑوں میں تم اس طرح پھنسے ہوگے جس طرح دلدل میں گدھا۔ ایک طرف تو فکر معاش تم کو سر کھجانے کی مہلت نہ دے گی اور دوسری طرف انتظام تعلقات تم کو دم نہ لینے دے گا۔ اس وقت کسب کمال کا کیا مذکور، اگر حواس بجا رکھ کر ان ہی کاموں سے عہدہ بر آ ہو جاؤ تو صد آفریں۔
بس یہ خیال ہرگز اپنے دل میں مت آنے دو کہ ابھی سیکھنے کا بہت وقت آرہا ہے ۔ ایسی کیا بھا گڑ مچی ہے کہ رات دن لکھنے پڑھنے کے پیچھے مر مٹے۔ اگلا حال کچھ کسی کو معلوم نہیں ۔ کون جانے کہ تندرستی رہے نہ رہے۔ زمانہ فرصت دے یا نہ دے۔ یہ سب سامان جواب میسر ہیں ، میسر ہوں یا نہ ہوں ۔ بے شک وقت کی قدر و قیمت اور اس کی بھاگا بھاگ تو یہ چاہتی ہے کہ تم خواب و خور اپنے اوپر حرام کر کے رات دن کتاب پر سے سر نہ اٹھاؤ لیکن انسان کی طبیعت کو خدا نے تازگی پسند بنایا ہے۔ کیسا ہی کوئی دل چسپ شغل ہو ایک عرصے کے بعد ضرور اس سے جی گھبرا اٹھتا ہے اور طبیعت اکتانے لگتی ہے اور اگر طبیعت کو مجبور کر کے اس کام پر لگائے رہو تو وہ کام بھی اچھی طرح نہیں ہوتا اور حواس بھی کند ہو جاتے ہیں ۔ اس واسطے مناسب ہے کہ کتاب کا مطالعہ ایسے اعتدال کے ساتھ جاری رکھو کہ تندرستی کو خلل نہ پہنچے اور ہمیشہ چند قسم کا شغل رکھو۔ مثلاً نظم و نثر، تاریخ و جغرافیہ اور حساب ایک ساتھ پڑھو ۔ جب نثر سے طبیعت ملول ہوئی نظم دیکھنے لگے۔ تھوڑی دیر تاریخ پڑھی ۔ کچھ دیر جغرافیہ کی سیر کی، پھر حساب میں طبع آزمائی کی۔ ان سب سے گھبرائے تو کچھ لکھنے بیٹھ گئے۔ جب رات کو سونے لگو تو ضرور سوچو کہ آج ہم نے کون سی نئی بات حاصل کی ۔ اگر معلوم ہو کہ آج کچھ نہیں سیکھا تو جانو کہ دن رائیگاں گیا اور اس نقصان کی تلافی اپنے ذمے لازم سمجھو۔ کسی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ جس کے دو دن برابر ہوں یعنی ایک شخص جیسا کل تھا آج بھی ویسا ہی رہے اور اپنی حالت دیروز ہ میں ترقی نہ کرے تو وہ خسارے میں ہے۔
         
 ڈپٹی نذیر احمد
(1831 - 1912)
ڈپٹی نذیر احمد اتر پردیش کے ضلع بجنور، تحصیل نگینہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں ریہڑ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولوی سعادت علی تھا۔ نذیر احمد کی ابتدائی تعلیم بجنور مظفر نگر اور دہلی میں ہوئی ۔ اعلی تعلیم دلی کالج میں ہوئی جو اب ذاکر حسین کالج کے نام سے مشہور ہے۔
1854 میں تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے پنجاب کے ایک مدرسے میں مدرسی کا پیشہ اختیار کیا۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں' شمس العلما' کا خطاب دیا۔ 1902 میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ۔ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔
ڈپٹی نذیر احمد ترجمہ نگار، ادیب، ناول نگار اور مقرر بھی تھے۔ اردو ادب میں ان کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ اردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔ "مراۃ العروس" بنات النعش"،" توبتہ النصوح‘‘ اور" ابن الوقت" ان کے اہم ناول ہیں۔ ان کے ناول حقیقت پسندی ، اخلاقی تربیت اور دلچسپ کرداروں سے بھر پور ہیں۔ لہجہ پر جوش اور اثر انگیز ہے۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری