آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 17 January 2021

Dhoondo ge agar mulkon mulkon by Shad Azimabadi Class10 Nawa e Urdu

 ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
شاد عظیم آبادی

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم 
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے نفسو!وہ خواب ہیں ہم 

اے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلا 
ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بے تاب ہیں ہم 

ہے دل میں تڑپتے جی بھر کر پر ضعف نے مشکیں کس دی ہیں 
ہو بند اور آتش پر ہو چڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم 

میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر 
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم 

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو اک 
اے اہل زمانہ قدر کرو، نایاب نہیں کم یاب ہیں ہم 

مرغان قفس کو پھولوں نے اے شادؔ یہ کہلا بھیجا ہے 
آ جاؤ جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم

شادعظیم آبادی
(1846- 1927)
علی محمد شاد عظیم آباد(پٹنہ ) میں پیدا ہوئے۔ گھر پر عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصے تک انگریزی بھی پڑھی علوم اسلامی کی تحصیل کے ساتھ ساتھ انھوں نے عیسائیوں، پارسیوں اور ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا۔
نثر ونظم دونوں میں شادنے کئی تصانیف اپنی یادگار چھوڑیں ہیں ۔ شاد کی غزلوں کا دیوان ان کی وفات کے بعد 1938 میں" نغمہ الہام‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بعد میں ان کی خودنوشت اور متعدد مجموعے منظر عام پر آئے۔
شاد نے مثنوی، غزل ، قصیده، مرثیہ اور دوسری اصناف سخن میں طبع آزمائی کی لیکن ان کی شہرت کا اصل باعث ان کی ساده ، مترنم اور شیریں غزلیں ہیں۔

0 comments:

Post a comment

خوش خبری