آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 14 October 2018

Ji Aaya Saheb - NCERT Solutions Class VIII Urdu

جی آیا صاحب
بہ شکریہ این سی ای آر ٹی

سوچیے اور بتائیے:
1۔ انسپکٹر صاحب کا رویہ قاسم کے ساتھ کیسا تھا؟
جواب: انسپکٹر صاحب کا رویہ قاسم  کے ساتھ  اچھا نہیں تھا۔

2۔  قاسم ، انسپکٹر صاحب کے ہر حکم پر کیا کہتا تھا؟
جواب: قاسم انسپکٹر صاحب کے ہر حکم پر جی آیا صاحب اور بہت اچھا صاحب کی گردان کرتا۔

3۔ گھر کا کام قاسم کس ڈھنگ سے کرتا تھا؟
جواب: قاسم گھر کا کام بہت سلیقے سے دل لگا کر کرتا تھا۔

4۔ قاسم کی نیند کس وجہ سے پوری نہیں ہوتی تھی؟
جواب: قاسم کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا تھا ۔ اسے اپنی عمر سے زیادہ کام کرنا پڑتا۔

5۔ قاسم نے پہلی بار کام سے بچنے کے لیے کیا کیا؟
جواب: کام سے بچنے کے لیے قاسم نے تیز دھار چاقو سے اپنی انگلی کاٹ لی تاکہ زخمی انگلی دیکھ کر اسے کام کے لیے نہیں کہا جائے اور وہ کچھ دن آرام کر سکے۔

6۔ چاقو سے انگلی کٹنے کے بعد قاسم کیوں مسکرایا؟
جواب: قاسم کو اپنی نیند صاف نظر آرہی تھی اور وہ اس بات سے خوش تھا کہ اب وہ اپنی نیند پوری کر سکے گا۔

7۔ انسپکٹر صاحب نے آخری مرتبہ انگلی کاٹنے پر اس کے ساتھ کیا کیا؟
جواب: آخری بار انگلی کاٹنے کے بعد انسپکٹر صاحب نے قاسم کو گھر سے نکال دیا اور اس کی بقایہ تنخواہ بھی نہیں دی۔

8۔ ڈاکٹروں نے قاسم کے زخم کے بارے میں کیا رائے دی؟
جواب: ڈاکٹروں نے کہا کہ زخم خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔

9۔ چارپائی سے لٹکے ہوئے چوبی تختے پر کیا لکھا تھا؟
جواب: نام محمد قاسم ولد عبد الرحمٰن مرحوم
عمر دس سال

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیں
فاصلے
:
فاصلہ
لمحات :
لمحہ
حرکت
:
حرکات
گدھوں
:
گدھا
دوا
:
ادویات
کروٹیں
:
کروٹ
تختہ
:
تختے










ان لفظوں کے متضاد لکھیے
ناقابل : قابل
خفا : راضی
سیاہ : سفید
تیز : کند
فتح : شکست
غلیظ  : صاف ستھرا 

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
مشغول(مصروف، کام میں لگا ہوا) قاسم اپنے کام میں مشغول رہتا۔
جنبش(حرکت، ہلنا)  وہ اپنی جگہ سے جنبش بھی نہ کر سکا۔ 
لمحات  یہ لمحات خوشگوار تھے۔ 
انتھک   قاسم انتھک محنت کرتا۔ 
غلیظ(گندا)  اس کے کپڑے غلیظ تھے۔ 
خفگی(ناراضگی)  میڈم نے خفگی سے دیکھا۔ 
نوخیز   قاسم نوخیز لڑکا تھا۔ 
کلک برائے دیگر اسباق

Tuesday, 9 October 2018

Chand Ki Dulhan

چاند کی دُلہن

 چاند کی دُلہن

Monday, 8 October 2018

Shaitaan Ka Darbaar

شیطان کا دربار
 شیطان کا دربار

Do Gaz Zameen - NCERT Solutions Class VII Urdu

دو گز زمین 
ٹالسٹائے
Courtesy NCERT

سوچیے اور بتائیے۔
1۔  نچوم کی کیا خواہش تھی؟
جواب: نچوم کی خواہش تھی کہ وہ ایک بڑ زمین کا مالک بن جائے۔

2۔  مسافر نے نچوم کو کون سی خوش خبری سنائی؟
جواب: مسافر نے بتایا کہ والگا ندی کے اس پار ایک زمین ہے اس جگہ ایک نئی بستی بسائی جا رہی ہے  اور لوگوں کو مفت زمین دی جا رہی ہے اور جو بھی چاہے وہاں  کوئی بھی زمین خرید  سکتا  ہے۔

3۔  خوش خبری سن کر نچوم نے کیا کیا؟
جواب: خوش خبری سن کر نچوم کی بانچھیں کھل گئیں اور وہ وہاں کے لیے روانہ ہو گیا۔

4۔  تاجر نے نچوم کو کیا مشورہ دیا؟
جواب: تاجر نے نچوم کو بتایا کہ وہاں سے دور باشکروں کے علاقے میں زمین بہت سستی ہے۔ باشکروں کے پاس زمین بے حساب ہے۔ مگر وہ کیتی باڑی کرنا نہیں چاہتے۔ وہ لوگ بہت سیدھے سادے ہیں کہ اگر تحفے لے جاؤ وہ خوش ہوجائیں گے اور زمین سستے میں بیچ دیں گے۔

5۔  با شکروں نے نچوم کی کیا تواضع کی؟
جواب: باشکروں نے نچوم سے کہا کہ وہ ایک ہزار روبل میں سورج طلوع ہونے سے سورج غروب ہونے تک جتنی زمین چل کر گھیر لے وہ اتنی زمین کا مالک ہو سکتا ہے۔

6۔  باشکروں کے سردار نے زمین فروخت کرنے کی کیا شرط رکھی؟
جواب: باشکروں کے سردار نے یہ شرط رکھی کہ سورج نکلنے سے لے کر ڈوبنے تک وہ جتنی زمین پر چلے گا وہ اسے مل جائے گی۔

7۔  نچوم آگے کیوں بڑھتا چلا گیا؟
جواب: نچوم زیادہ زمین گھیرنے کی لالچ میں آگے بڑھتا چلا گیا۔ وہ جتنا آگے جاتا اس کے پیروں کے نیچے زرخیز زمین آتی جاتی۔

8۔  نچوم کا یہ انجام کیوں ہوا؟
جواب: نچوم کا یہ انجام لالچ کرنے کی وجہ سے ہوا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
حیثیت : ہمیں اپنی حیثیت کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
اطمینان : رزلٹ دیکھ کر اسے اطمینان ہوا۔
بقایا : سلیم نے بقایا رقم ادا کردی۔
قطار : بچے قطار میں کھڑے ہو گئے۔
تواضع : مہمان کی تواضع کرنی چاہیے۔
رفتار : گاڑی کی رفتار تیز تھی۔
سفر : دہلی کا سفر کامیاب رہا۔
زرخیز : کھیت بہت زرخیز تھا۔
لالچ : لالچ بری بلا ہے۔
قبضہ : اس نے ہماری زمین پر قبضہ کر لیا۔
احساس : اسے اپنی غلطی کا احساس تھا۔
شرابور : وہ شرم سے شرابور ہوگیا۔
نسیم بارش میں شرابور ہوگیا۔
واحد سے جمع اور جمع سے واحد لکھیے۔
جمع : واحد
رقوم : رقم
تحفے : تحفہ
مطالب : مطلب
اطراف : طرف
شرائط : شرط
اعتراضات : اعتراض
ٹوپیاں : ٹوپی
احساسات : احساس
مناظر : منظر
سیٹیاں : سیٹی
انگلیوں : انگلی
حرکات : حرکت
کھونٹیاں : کھونٹی
ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔
اطمینان : بے اطمینان
زرخیز : بنجر
موجود : غائب
بوجھل : ہلکا
دھندلا : صاف
غروب : طلوع
دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

Sunday, 7 October 2018

Maulana Abul Kalam Azad - NCERT Solutions Class VII Urdu

مولانا ابوالکلام آزاد


سوچیے اور بتائیے۔
۱۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام کیا تھا؟
جواب: مولانا آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔

۲۔ مولانا آزاد کی پرورش کیسے خاندان میں ہوئی؟
جواب: مولانا آزاد کی پرورش مذہبی مزاج کے خاندان میں ہوئی۔

۳۔ مولانا آزاد کو بچپن سے کس بات کا شوق تھا۔
جواب: مولانا آزاد کو بچپن سے مطالعہ کا شوق تھا۔

۴۔ مولانا کا تخلص آزاد کس نے رکھا؟
جواب: مولوی عبد الواحد نے مولانا کا تخلص آزاد رکھا۔

۵۔ مولانا نے کون کون سے اخبار جاری کیے؟
جواب: مولانا نے الہلال اور البلاغ اخبار نکالے۔

۶۔ ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے مولانا آزاد نے کیا خدمات انجام دیں؟
جواب: مولانا نے پر جوش صحافتی خدمات اور خطبات سے ہندوستان کو آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

۷۔ مولانا آزاد نے کس نظریے کی مخالفت کی؟
جواب: مولانا آزاد نے دو قومی نظریے کی سخت مخالفت کی۔

۸۔ گاندھی جی اور نہرو جی کی نظروں میں مولانا کا کیا مقام تھا؟
جواب: گاندھی جی اور نہرو جی مولانا آزاد کی بہت عزت کرتے اور ان سے اہم باتوں میں مشورہ کرتے تھے۔

۹۔ مولانا آزاد سے انگریز حکمراں کیوں ڈرتے تھے؟
جواب: مولانا بہت اچھی زبان لکھتے اور بولتے تھے۔ ان میں بہت تاثیر تھی ۔ وہ بہت اچھی اور پرزور تقریر کرتے تھے۔ اسی یے انگریز ان سے ڈرتے تھے۔

۱۰۔ آزادی کے بعد مولانا کو کون سا عہدہ دیا گیا؟
جواب: آزادی کے بعد مولانا آزاد ملک کے وزیر تعلیم بنائے گئے۔

۱۱۔ مولانا آزاد نے کون کون سے ادارے قائم کیے؟
جواب: مولانا آزاد نے ساہتیہ اکادمی، سنگیت اکادمی اور للت اکادمی اور انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنس نامی ادارے قائم  کیے۔

۱۲۔ مولانا آزاد کی دو مشہور کتابوں کے نام لکھیے؟
جواب: مولانا آزاد کی دو مشہور کتابیں ترجان القران اور غبار خاطر ہے۔

۱۳۔ مولانا آزاد کا انتقال کب ہوا؟
جواب: مولانا کا انتقال 1958 میں ہوا۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے۔
۱۔ مولانا ابولکلام آزاد مکہ میں پیدا ہوئے۔
۲۔ مولانا آزاد کو بچپن ہی سے مطالعہ کا شوق تھا۔
۳۔ انہوں نے ۱۳ برس میں فارسی کی تعلیم مکمل کی۔
۴۔ مولانا بیس سال کی عمر میں اخبار الہلال کے ایڈیٹر بنے اور بڑا نام پایا۔
۵۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مولانا نے بہت اہم کردار ادا کیا۔
۶۔ انہوں نے متحدہ قومیت اور ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔
۷۔ مولانا آزاد گاندھی جی اور پنڈت نہرو سے بہت قریب تھے۔
۹۔ آزادی کے بعد وہ پہلے وزیر تعلیم بنے۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔
پسند : ناپسند
خراب : اچھا
زندگی : موت
آغاز : انجام
آزادی : غلامی
نفرت : محبت
عزت : بے عزت
بہادر : کمزور

واحد سے جمع اور جمع سے واحد لکھیے۔
واحد : جمع
خاندان : خاندانوں
خطبہ : خطبات
خواب : خوابوں
مضمون : مضامین
نظریہ : نظریات
زبان : زبانیں
تقریر : تقریریں
حکمراں : حکمرانوں
مقالہ : مقالات
مکتوب : مکاتیب
وقت : اوقات
موم بتی : موم بتیاں
انگریز : انگریزوں

مذکر اور مونث الگ کیجیے۔
مذکر : مونث
نام : کتاب
مطالعہ : جیب
شوق : موم بتی
والد : لحاف
وقت : عزت
بازار : زبان
دوست : تقریر
مشورہ : جدوجہد

: آزادی
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
پرورش : مولانا آزاد کی پرورش مذہبی خاندان میں ہوئی۔
مطالعہ : مولانا آزاد کو کتابوں کے مطالعے کا شوق تھا۔
تعلیم : انہوں نے فارسی کی تعلیم مکمل کی۔
حافظہ : مولانا کا حافظہ بہت اچھا تھا۔
مجاہد : مولانا آزاد مجاہد آزادی تھے۔
محّب وطن : مولانا آزاد سچّے محب وطن تھے۔
ایڈیٹر : مولانا آزاد الہلال اخبار کے ایڈیٹر تھے۔
نظر بند : مولانا آزاد رانچی میں نظر بند تھے۔
دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

Thursday, 4 October 2018

Subah Ke Nazare - NCERT Solutions Class VII Urdu

صبح کے نظارے
سعادت نظیر
Courtesy NCERT

جاگا ہے بوٹا بوٹا، چٹکا ہے غنچہ غنچہ
چمکا ہے ذرّہ ذرّہ، روشن ہے چپّہ چپّہ
گردوں پہ جگمگاہٹ کھیتوں میں لہلہاہٹ
چڑیوں کی چہچہاہٹ کلیوں کی مسکراہٹ

شبنم کے آئینے کا عکس چمن دکھانا
پتّوں کا شاد ہونا اور تالیاں بجانا
پھولوں میں دلکشی ہے، کانٹوں میں تازگی ہے
ہر دل میں ایک خوشی ہے ہر سمت روشنی ہے

وادی، پہاڑ، صحرا ہر ایک جگمگایا
دریا کو جوش آیا ساحل بھی گنگنایا

فطرت بہار پر ہے، دنیا نکھار پر ہے
ہر شئے ہے خوبصورت، رنگین ہر نظر ہے
سچ پوچھیے تو منظر کیسے ہیں پیارے پیارے
دیتے ہیں لطف کیا  کیا یہ صبح کے نظارے

سوچیے اور بتائیے۔
1۔’’بوٹا بوٹا‘‘ جاگنے سے کیا مراد ہے؟
جواب: بوٹا بوٹا جاگنے سے مراد یہ ہے کہ صبح ہوتے ہی ساری کلیاں کھل جاتی ہیں اور ہر جاندار اپنے اپنے کام میں مصروف ہوجاتا ہے۔

2۔چپّہ چپّہ کیوں روشن ہے؟
جواب: صبح ہوتے ہی سورج کے طلوع ہونے سے چپّہ چپّہ روشن ہو جاتا ہے۔
چپّہ چپّہ اس لیے روشن ہے کہ سورج طلوع ہوچکا ہے۔

3۔’’گردوں پہ جگمگاہٹ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟
جواب: ”گردوں پہ جگمگاہٹ“ سے شاعر کا مطلب ہے کہ سورج طلوع ہوتے ہی آسمان پر روشنی پھیل گئی ہے جو سارے جہان کو منور کر رہی ہے۔

4۔صبح کے وقت ہر شے خوبصورت کیوں ہوجاتی ہے؟
جواب: صبح کے وقت ہر شئے  اس لیے خوبصورت ہوجاتی ہے کہ صبح ہوتے ہی پھول  کھل جاتے ہیں۔ کھیتوں میں لہلہاہٹ آجاتی ہے، چڑیاں چہچہانے لگتی ہیں۔پتوں پر شبنم کے قطرے چمکنے لگتے ہیں اور ہر سمت روشنی پھیل جاتی ہے۔ یہ ساری باتیں صبح کو خوبصورت بنا دیتی ہیں۔


نیچے دیے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
جگمگاہٹ : روشنی کی جگمگاہٹ پھیل گئی۔
لہلہاہٹ : پودے کی لہلہاہٹ نے دل جیت لیا۔
چہچہاہٹ : چڑیوں کی چہچہاہٹ سے چمن گلزار ہوگیا۔
مسکراہٹ :  اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
عکس : وہ پانی میں اپنا عکس دیکھ کر مسکرا دیا۔
تازگی : ٹھنڈی ہوا سے اس کے چہرے پر تازگی آگئی۔
جوش : لتا کا نغمہ جوش سے بھرا تھا۔
نکھار : کریم لگانے سے اس کے چہرے پر نکھار آگیا۔
نظر : یہ سب نظر کا دھوکہ تھا۔
منظر :  صبح کا منظر سہانا تھا۔
لطف : اسے سیر میں بہت لطف آیا۔

واحد سے جمع بنائیں۔
ذرّہ : ذرّات
دنیا : جہان
شے : اشیا
منظر : مناظر
وادی : وادیاں

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔
جاگا : سویا
شاد : ناشاد
روشنی : تاریکی
خوشی : رنج
خوبصورت : بدصورت

املا درست کیجیے۔
ذرّا : ذرّہ
اکس : عکس
طالیاں : تالیاں
طازگی : تازگی
سہرا : صحرا
ساہل : ساحل
فترت : فطرت
نزر : نظر
لتف : لطف
دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

Wednesday, 3 October 2018

Hasrat Mohani - NCERT Solutions Class VII Urdu

حسرت موہانی
سوچیے اور بتائیے۔
1۔حسرت موہانی کا نام کیا تھا؟
جواب: حسرت موہانی کا نام سید فضل الحسن تھا۔

2۔1903 کا سال حسرت کی زندگی میں کیوں اہم ہے؟
جواب: اسی سال وہ اپنے باغیانہ خیالات کی وجہ سے کالج سے نکالے گئے۔اسی سال ان کی چچازاد بہن نشاط النسا بیگم سے ان کی شادی ہوئی۔ اسی سال انہوں نے ایک علمی و ادبی رسالہ اردوئے معلیٰ جاری کیا۔

3۔حسرت نے کون سا رسالہ نکالا۔ اس میں کس طرح کے مضامین شائع ہوتے تھے۔
جواب: حسرت موہانی نے علمی و ادبی رسالہ اردوئے معلیٰ جاری کیا۔ اردوئے معلیٰ میں ادبی و سیاسی دونوں طرح کے مضامین شائع ہوا کرتے تھے۔

4۔حسرت کو 1908 میں جیل کیوں بھیجا گیا؟
جواب: اپریل1908 کے اردوئے معلیٰ میں ایک مضمون کی اشاعت پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے انہیں دو سال قید با مشقت کی سزا سنائی۔ اور 500 روپے جرمانہ کیا۔

5۔انگریزی حکومت کو حسرت موہانی کی سیاسی سرگرمیاں کیوں پسند نہ تھیں؟
جواب: حسرت موہانی کی سیاسی سرگرمیاں لوگوں کے اندرسیاسی بیداری اور باغیانہ جذبہ پیدا کرتی تھیں۔

6۔حسرت نے مکمل آزادی کی قرارداد کب اور کہاں یش کی تھیں؟
جواب: 1921 میں حسرت موہانی نے احمد آباد کے کانگریس اجلاس میں مہاتما گاندھی اور حکیم اجمل خاں کی مخالفت کے باوجود مکمل آزادی کی قرار داد پیش کی۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے
با ہمت : بے ہمت
مستقل مزاج : غیر مستقل مزاج
مخالفت : حمایت
مکمل : نا مکمل
انکار : اقرار
نشاط : رنج
نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے
صحافی : حسرت موہانی ایک معروف صحافی تھے۔
باغیانہ : حسرت کے اخبار کا لہجہ باغیانہ تھا۔
خیر باد کہنا : عامر اپنے گھر والوں کو خیر باد کہہ کر شہر روانہ ہوگیا۔
شہزادے نے ملک کو خیر باد کہہ دیا۔
آبدیدہ : وطن سے رخصت ہوتے وقت وہ آبدیدہ ہو گئے۔
اپنی ماں سےرخصت ہوتے وقت نغمہ آبدیدہ ہو گئی۔
خود داری : حسرت کی خود داری نے کسی سے مالی مدد لینا گوارا نہ کیا۔
دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

Pathar Ka Soup - NCERT Solutions Class VII Urdu

پتھر کا سوٗپ 
اطہرپرویز
courtesyNCERT
Courtey NCERT
سوچیے اور بتائیے
1۔بوڑھا کہاں رہتا تھا؟
جواب: بوڑھا آئرلینڈ میں رہتا تھا۔

2۔بوڑھے کو سفر کے دوران کیا مصیبت پیش آئی؟
جواب:سفر کے دوران بوڑھے کا کھانا ختم ہوگیا اور بوڑھے کو بھوک لگی تھی بارشبھی شروع ہوگی اور رات کی تاریکیِ بھی چھا گئی۔

3-بوڑھے نے باورچی سے کیا درخواست کی؟
جواب: بوڑھے نے درخواست کی کے وہ بہت بھوکا ہے اسے تھوڑا کھانا کھلا دے۔

4.بوڑھے کو اپنی بھوک مٹانے کے لیے کیا ترکیب سوجھی؟
جواب: بوڑھے نے اپنی بھوک مٹانے کے لیے اس شخص کو پتھر کا سوپ بناکر بے وقوف بنانے کی ترکیب سوجھی۔

5. بوڑھے نے پتھر کا سوپ کس طرح تیار کیا؟
جواب: بوڑھے نے ایک ہانڈی میں پانی گرم کیا اور اپنی جیب سے صاف ستھرے پتھر نکال کر اس میں ڈال دیے۔پھر باورچی سے نمک مانگا۔جتنی دیر میں باورچی نمک لانے گیا بوڑھے نے میز پر رکھی سبزی ترکاری ہانڈی میں ڈال دی۔پھر اس نے پیاز ،لہسن اور مرچ بھی ڈال دی۔ پھر اس نے کہا کہ اب اس کو صرف چلانے کی ضرورت ہے۔ پھر بوڑھے نے سامنے رکھے گوشت سے ایک بڑی ہڈی مانگی اور اس سے ہانڈی میں چلانے لگا۔اس ہڈی کے کنارے پر بہت سارا گوشت لگا ہوا تھا۔ وہ سوپ کو چلانے لگا ۔اب سوپ سے بڑی اچھی خوشبو نکلنے لگی تھی۔ باورچی غور سے دیکھ رہا تھا ۔پھر اس نے سوپ میں تھوڑا آٹا بھی ڈال دیا۔ پھر اس میں تھوڑی کمی کی بات کہ کر سوپ میں تھوڑا مکھن اور دودھ بھی ڈال دیا اور اس میں مرغی کا گوشت بھی ڈال دیا۔اور اس طرح پتھر کا سوپ تیار ہوگیا۔

6. باورچی کس بات سے حیرت میں پڑگیا؟
جواب: جب بوڑھے نے ہانڈی میں سے پتھر نکالا اور اسے دھو کر کہا کہ دیکھو یہ جیوں کا تیوں ہے۔باورچی یہ دیکھ کر حیرت میں پڑگیا۔

7. باورچی نے خوش ہوکر بوڑھے کو کیا دیا؟
جواب: باورچی نے خوش ہوکر بوڑھے کو ایک پونڈ دیا۔

8. بوڑھے نے یہ کیوں کہا کہ عقل بڑی ہوتی ہے یا بھینس؟
جواب: اس لیے کہ باورچی بوڑھے کی باتوں میں آگیا تھا اور وہ اس کی ترکیب کو حقیقت سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی سوچ رہا تھا۔

نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے
شاندار : کل دعوت میں ایک شاندار سماں تھا۔
خوشامد : سارے نوکر بادشاہ کی خوشامد کرنے لگے۔
ترکیب : بوڑھے آدمی کو ایک شاندار ترکیب سوجھی ۔
سوپ : ہمیں بیماری کے وقت سبزیوں کا سوپ پینا چاہئے
مزہ : سوپ کا مزہ اچھا تھا۔
حیرت : اسے دیکھ کر وہ حیرت میں پڑ گیا۔
ان لفظوں کے متضاد لکھے
گرمی : سردی
عقلمند : بیوقوف
خوشبو : بدبو
آدھا : پورا
صبر : بے صبر

 دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

Sunday, 30 September 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan - 2

یہ ہے کولکتہ میری جان ۔۲
صحبہ عثمانی
ناخدا مسجد کا اندرونی حصّہ

صبح جب آنکھ کھلی تو ہمارے میزبان صبح کی چائے اوراردو کا اخبار لے کر حاضر تھے۔کولکتہ میں صبح سویرے چائے کے ساتھ اردو کا اخبار پڑھنے کا رواج عام ہے۔ ایک عام دوکاندار اور کم آمدنی والا مزدور بھی اخبار خرید کر پڑھنا اپنی شان سمجھتا ہے۔یہی سبب ہے کہ آزاد ہند اور اخبار مشرق کو کولکتہ میں بے پناہ عروج حاصل ہوا ۔ مغربی بنگال کے ساتھ ساتھ یہی مزاج جھارکھنڈاوربہارمیں بھی پایا جاتا ہے اور یہاں بھی اردو کے اخبارات کافی مقبول ہیں۔خیر پاپا اور ابو صبح کی چائے کے ساتھ اخبار دیکھتے رہے اور ہم سب باہر نکلنے کی تیاری  میں لگ گئے۔ ہم سب اپنا وقت بالکل ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ہم نے کھڑکی سے باہر جھانکا سامنے ناخدا مسجد نظارے کی دعوت دے رہی تھی۔

ناخدا مسجد کا خوبصورت منبر

پاپا اور ابو صبح کی نماز پڑھ کر واپس آچکے تھے۔ کچھ نمازی ابھی بھی مسجد کے دروازے سے باہر آرہے تھے۔ اطراف کے دوکاندار  جس طرح اپنی دوکانیں چھوڑ گئے تھے وہ اسی طرح ترپالوں سے ڈھکی تھیں۔مسجد ان بے یار و مددگار دوکانداروں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے جو فٹ پاتھ پر اپنی دوکانیں لگاتے ہیں۔ مسجد سے ملحق بھی بہت ساری دوکانیں ہیں جن کا کرایہ کمیٹیوں کے زیر انتظام ہے۔ہم سب نے سوچا ناخدا مسجد کو اندر سے دیکھنے کا یہ بہترین موقع ہے۔اس سے پہلے کے لوگوں کی بھیڑ ہو ہم خاموشی سے مسجد دیکھ آئیں۔ ہم سب فوراًہی اسے دیکھنے کے لیے اپنے کمرے سے نکل پڑے۔ مسجدکے عالیشان دروازہ پر پہنچ کر ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ کسی مسجد کا اتنا بلند دروازہ ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اندر داخل ہونے کے بعد سامنے ہی ذرا بلندی پرسنگ مرمر کا ایک حوض نظر آیا۔یہ تقریباً دو فٹ گہرا ہےجس میں پانی بھرا رہتا ہےاور  رنگ برنگی مچھلیاں تیر تی رہتی ہیں۔ معلوم ہوا  کہ حوض وضو بنانے کے لیے ہے۔ ہم نے اندر سے مسجد کی عمارت کو دیکھا۔مسجد کے اندر نقش و نگار نے ہمیں کافی متاثر کیا۔ وہ محراب و منبر جہاں امام مسجد خطبہ دیتے ہیں سنگ مر مر کا بنا تھا۔اور درمیانی گنبد میں کافی نقش و نگار بنے تھے۔ اونچائی اتنی تھی کہ سر اٹھاکر دیکھیں تو ٹوپی گرجائے۔ ہم نے کولکتہ کے سیر کا آغاز ایک خوبصورت اور پاکیزہ مقام سے کردیا تھا۔ ہم سب ہوٹل واپس آئے۔ناشتہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ ناشتے سے فارغ ہوکر ہمیں اہم مقامات کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔گاڑی آچکی تھی اور ہمارے نکلنے میں صرف ناشتہ کرنے کی دیر تھی۔

انڈین میوزیم ۔ کولکتہ

ناشتہ کے بعد ہم سب جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ آج ہم سب کا پروگرام کولکتہ کے قومی میوزیم کو دیکھنے کا تھا۔ اس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہماری سب سے زیادہ دلچسپی یہاں رکھی ممیوں کے بارے میں تھیں۔ ممی صدیوں پرانی حنوط شدہ لاش کو کہتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ سب سے قدیم ممیاں اہرام مصر میں ہیں۔ دل میں کچھ خوف بھی تھا اور ممی دیکھنے کا جوش بھی۔ہم جہاں ٹھہرے تھے وہاں سے میوزیم کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔ بائیں جانب دوکانوں کو دیکھتے ہوئے ہم جلد ہی میوزیم کے سامنے کھڑے تھے۔ ابّو نے میوزیم میں داخلے کا ٹکٹ منگوایا  اور ہم سب چیکنگ کے بعد میوزیم کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ میوزیم مختلف حصّوں میں بٹا ہوا ہے۔ جانوروں کے ڈھانچے، قدیم سکے، نادر مورتیاں ، محفوظ کیے گئےنایاب پرندے اور خطرناک سانپ اس کے علاوہ تاریخی نوادرات۔ معلومات کا ایک سمندر تھا جس کی سیر ہمیں چند ہی گھنٹوں میں کر لینی تھی۔ اس میوزیم کا تنوع ہی اس کی شناخت تھا۔ہم ایک ہال میں داخل ہوئے سامنے ایک بڑے ہاتھی کا ڈھانچہ رکھا تھا۔ ہاتھی کی ہذیوں کو بڑے سلیقے سے سجا کر کھڑا کیا گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اب اس ڈھانچے پر گوشت اور چمڑہ چڑھے گا ،اس میں جان آجائے گی اور یہ زور سے چنگھاڑے گا لیکن ایسا کچھ نہیں تھا ہم اسے چھونے کو بیتاب تھے لیکن اسے چھونا منع تھا۔ پاس ہی ایک بڑے ڈائناسور کی بھی ہڈیاں تھیں۔ شیشے کے بڑے بڑے شو کیس بنے تھے جس میں جنگلی جانور  مثلاً چیتا، شیر اور بھالو وغیرہ بالکل اپنی اصل شکل میں موجود تھے۔ یہیں پرندوں کو بھی الگ شوکیس میں محفوظ کیا گیا تھا۔ مجھے اپنی کتاب کے سبق میں پڑھائے گئے ماہر طیور سالم علی یاد آئے جنہوں نے پرندوں کی کھالوں میں بھراؤ کر انہیں محفوظ کرنے کا علم حاصل کیا تھا۔ پرندوں کو اس شکل میں دیکھ کر ہمیں وہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی۔ ہم نے بڑی دلچسپی سے ایک ایک پرندے کو دیکھا۔ بعض پرندے بڑے نایاب تھے۔ ریکارڈ کے لیے ہم نے ان سب کی تصویریں اتاریں۔ وہ ساری تصویریں ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہم ان تصویروں کو آپ کے ساتھ ضرور شیئر کریں گے۔ اس طرح آپ اپنے گھر بیٹھے اس میوزیم کو دیکھ سکیں گے۔


میوزیم کے مختلف ہالوں میں گھومتے ہوئے اب ہم شیشے کے تابوت کے سامنے کھڑے تھا۔ دیکھا تو اس میں ایک حنوط شدہ لاش پڑی تھی۔ میرے بدن میں جھر جھری سی آگئی۔ میں ایک ممی کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کا حصّہ خوفناک تھا۔ایسا لگا کسی ہارر فلم کی طرح اب وہ اپنے تابوت سے نکل جائے گی اور اس کے دانت ہماری گردن پر ہوں گے۔ ہم سب بہنیں ایک جگہ یکجا ہو گئے تھے اور تجسس بھری نظروں سے سے دیکھ رہے تھے۔


عریشہ اور اسرا آپی اس کی تصویریں لینے میں لگی تھیں۔ میں نے ہمت کرتے ہوئے اس کے قریب جا کر اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ ایک ڈراونی سے کھوپڑی آنکھوں کی جگہ دو بڑے سوراخ جو گہرے غار کے مانند تھے ، ناک کی جگہ خالی گڑھا اور پھر مکمل جبڑا جس پر دانت بڑے ڈراونے لگ رہے تھے۔کھوپڑی جسم پر رکھی تھی۔ ممی کا تعلق مصر سے تھا۔اہرام مصر کی ممیاں۔ کولکتہ میں بیٹھ کر مصر کی ممیاں دیکھنا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ممی اور اس کی نقل دونوں ایک ہی بڑے باکس میں رکھی تھیں۔
(جاری)

Saturday, 15 September 2018

Yeh Hai Kolkata Meri Jaan!

صحبہ عثمانی
جنوری کی ایک خوبصورت شام تھی اور ہم سب دھنباد سے کولکتہ جانے والی ٹرین پر سوار تھے۔ ہم سب نے دہلی میں جاڑے کی چھٹیوں میں کولکتہ جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ میرے پاپا نے اپنے بڑے بھائی جنہیں میں ابو بلاتی ہوں کے ساتھ کولکتہ گھومنے کا پروگرام طے کر رکھا تھا۔ وہ جمشید پور سے اپنی فیملی کے ساتھ کولکتہ کے لیے روانہ ہو چکے تھے اور ہم سب بھی کولکتہ کے راستے میں تھے۔ ان کی ٹرین ہماری ٹرین سے ایک گھنٹے پہلے پہنچنے والی تھی اور وہ لوگ اسٹیشن پر ہی ہم سب کا انتظار کرنے والے تھے۔ کولکتہ پہنچنے کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا تھا ہمارا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ ابو ہوڑہ اسٹیشن پہنچ چکے تھے اور اب ان کا فون آرہا تھا کہ ہم کتنی دور ہیں۔ہمیں بھی اب دور سے جھلملاتی روشنیاں نظر آنے لگیں تھیں۔ رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے اور ہم سب رات کے اندھیرے میں ہی کولکتہ کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہتے تھے۔ کسی بھی عام شہر کی طرح وہاں بھی ریلوے لائن کے کنارے پرانی عمارتیں نظر آنے لگی تھیں۔ دیواروں پر بنگلہ میں لکھے اشتہارات جنہیں ہم صرف تصویر سے پہچان سکتے تھے نظر آنے لگے تھے کہ اچانک پاپا نے بتایا دیکھو ہوڑہ برج کا ایک حصّہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہم نے ٹرین کے اندر سے ہی اسٹیل کے اونچے اونچے جالی دار ستون دیکھے۔ ایسا لگا جیسے پوارا کولکتہ ہی ہماری آنکھوں کے سامنے آگیا ہو۔ ٹرین اب آہستہ آہستہ ہوڑہ اسٹیشن میں داخل ہو رہی تھی۔
شہر کولکتہ کے ریلوے اسٹیشن کا نام ہوڑہ جنکشن ہے۔ یہ اسٹیشن 1854 میں عام لوگوں کے لیے کھولا گیا۔ہگلی ندی پر بنا مشہور ہوڑہ برج اس کے قریب ہی واقع ہے۔یہ پُل ہوڑہ اور کولکتہ دو شہروں کو جوڑتا ہے۔یہ پُل 1936 میں بننا شروع ہوا اور 1942 میں مکمل ہو31 فروری1943 کو اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔۔ ابو، سنجھلی امی اور یمنیٰ آپی اسٹیشن پر ہم سب کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی ہم لوگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہمارے چہرے کھل اٹھے۔ کولکتہ کو قریب سے دیکھنے کا ہمارا خواب اب حقیقت میں بدل چکا تھا۔ ہم سب اسٹیشن پر اترے۔ ابّو کے ساتھ کئی لوگ ہمارے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔کولکتہ اسٹیشن کافی اونچا اور بڑا تھا۔ اس اسٹیشن کی خوبی یہ تھی کہ یہاں گاڑی لینے کے لیے آپ کو اسٹیشن کے باہر نہیں جانا تھا بلکہ گاڑیوں کو اندر آپ کے اسٹیشن تک لانے کی سہولت تھی۔ میں نے یہ پہلا اسٹیشن دیکھا جہاں آپ کی کار اسٹیشن پر ہی آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ میں ۵ گھنٹے کا سفر کر کے تھک چکی تھی۔ اسٹیشن کافی لمبا اور صاف ستھرا تھا اور ہم میں مزید پیدل چلنے کی ہمت نہیں تھی۔ہم سب جلدی جلدی دو گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔ ہمارا قافلہ ہوٹل کی جانب روانہ ہوگیا۔ ابو نے ناخدا مسجد کے سامنے ہی ہوٹل کا کمرہ بک کرا رکھا تھا۔
CourtesyAaina
ہوگلی ندی میں اسٹیمر سے ہوڑہ برج کی ایک تصویر۔
اسٹیشن سے نکلتے ہی روشنی میں جگمگاتا ہوڑہ برج ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ گاڑیوں کی طویل قطار سے جام جیسا منظر تھا۔ لیکن ہم خوش تھے کہ ایک تاریخی پُل کو ہمیں اتنے قریب سے دیر تک دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب تک تصویروں میں دیکھ کر یہ برج ہمارے آنکھوں میں بس چکا تھا اور اب اتنے قریب سے دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ہمیں ہوڑہ برج دیکھنے کے لیے الگ سے پروگرام نہیں بنانا پڑا تھا اور اب ہم دھیرے دھیرے اس پُل سے گزرنے والے تھے۔ اس پُل کی خوبی یہ ہے اس پُل کے نیچے کوئی ستون نہیں ہے اور یہ پورا پُل معلق ہوا میں ٹنگا ہے۔ اسٹیل کے بڑے بڑے گٹروں نے سارا بوجھ ندی کے کنارے مضبوط ستونوں پر کھینچ رکھا ہے اور اس کے نیچے سے بڑے بڑے جہاز اور اسٹیمر بہ آسانی گزر سکتے ہیں۔ اس پر سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں گزرتی ہیں اورتقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ اسے پیدل پار کرتے ہیں۔اب ہم ہوڑہ برج میں داخل ہو چکے تھے۔ کار کے پچھلے شیشے سے ہماری نگاہیں اس کے لوہے کے اس ستون کی بلندی دیکھنے کو بیتاب تھیں۔ لوہے کے چوڑے چوڑے گٹر ایک دوسرے سے جڑے تھے۔ اسے بنانے والے کاریگروں کا کمال تھا کہ انہوں نے بڑی کامیابی سے اس پُل کو ہوا میں نہ صرف معلق رکھا تھا بلکہ اس پر سے ہزاروں گاڑیوں کا گزرنا بھی ممکن بنایا تھا۔ سڑک بہت زیادہ چوڑی نہیں تھی۔ اور دونوں جانب سے ٹریفک کا بحال رکھنا ایک مسئلہ تھا۔ لیکن ٹریفک پولس والے بڑی مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور گاڑیوں کو ایک ترتیب سے پار کرا رھے تھے۔ بتاتے ہیں کہ کوککتہ کی ٹریفک پولس اپنے اصولوں کی بڑی پکّی ہے۔ اور ٹریفک ضابطوں کی ان دیکھی کرنے پر سخت جرمانہ کرتی ہے۔ لہذا گاڑی چلانے والے اس سلسلہ میں بہت محتاط رہتے ہیں اور کوئی بھی اپنا چالان کٹوانا نہیں چاہتا۔ ہماری گاڑی ہوڑہ برج سے گزر چکی تھی۔برج کے بلند ستون دور سے چھوٹے ہوتے ہوتے اب ہماری نظروں سے اوجھل ہورہے تھے۔ ہم نے کولکتہ کی سب سے اہم یادگار کا دیدار کر لیا تھا۔
ناخدا مسجد کا صدر دروازہ
اب ہم اپنے ہوٹل کے قریب پہنچنے والے تھے۔دونوں جانب دوکانیں کھلی تھیں۔ ہماری گاڑی روشنی میں جگمگاتے بازار سے گزرتے ہوئے اپنے ہوٹل تک پہنچنے والی تھی کہ بیچ سڑک پر ریلوے کی پٹری نظر آنے لگی۔ معلوم ہوا اس پر ٹرام چلتا ہے۔ ٹرام کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا اور اسے بھی دیکھنے کا شوق تھا۔ لیکن اس وقت کوئی ٹرام نظر نہیں آیا۔ ہم تقریباً اپنی منزل تک پہنچ چکے تھے اور سامنے ناخدا مسجد نظر آرہی تھی۔ ہماری گاڑی ناخدا مسجد کے دروازے پر جاکر رک گئی۔

ناخدا مسجد کے صدر دروازہ پر نصب کتبہ۔(تصویر آئینہ)
مین گیٹ کے سامنے ہی ہمارا ہوٹل تھا جہاں گیٹ کے سامنے ہی دوسری منزل پر ہمارے ٹھہرنے کا انتظام تھا۔ کاؤنٹر پر ضروری خانہ پری کے بعد ہم سب اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے چلے گئے۔کولکتہ جہاں اپنے سیاحتی و تاریخی مقامات کے لیے مشہور ہے وہیں خورد و نوش کے معاملے میں بھی اس کا جواب نہیں۔ یہاں غریب سے غریب اور امیر سے امیر آدمی بھی اپنے غذائی تعیش کی تسکین کر سکتا ہے۔ ایک عام انسان بھی اچھے کھانے پینے اور آسائش کا لطف اٹھا سکتا ہے۔کھانے کی خواہش نہیں تھی لیکن ہمارے میزبان دسترخوان سجا چکے تھے۔ یہ ایک بڑا ہال تھا اور اس سے ملحق ایک کمرہ تھا۔ کمرے میں میری امی، سنجھلی امی اور میری بڑی بہنوں اسرا، یمنی اور چھوٹی بہن اقصیٰ کے رہنے کا نظم تھا اور ہاں یاد آیا ان سب کے ساتھ ہماری پھوپھی زاد بہن عریشہ آپی بھی تھیں۔ان کے کھلکھلاتے قہقہوں کو میں اب تک کیسے بھولی بیٹھی تھی۔ شاید میں کولکتہ کے ذکر میں کھو گئی تھی۔اُف یہ کولکتہ۔ ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ دسترخوان سج چکا تھا۔آپ کولکتہ جائیں اور ناخدا مسجد کے پاس ٹھہریں اور کباب پراٹھا نہ کھائیں تو آپ سے بڑا بد ذوق اور کوئی نہیں۔ یہاں کباب اور پراٹھے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ کولکتہ میں دو ہی چیزیں مشہور ہیں ایک روئل کی بریانی اور ناخدا کے کباب پراٹھے۔ اور ہاں جاڑوں میں حلیم کا بھی جواب نہیں۔گرمیوں میں ٹیپو سلطان کی مسجد کے قریب ملنے والے فالودے بھی کافی لذیذ ہوتے ہیں۔ اب بڑے بڑے مال کھل چکے ہیں جس کا ذکر بعد میں آئے گا وہاں مغربی اور چائینیز ڈشوں کی بھرمار ہے لیکن لوگ ابھی بھی روائتی ڈشوں کے دیوانےہیں۔

کھانے کے بعد ہم اپنے بستروں پر سونے کے لیے چلے گئے۔ نیند آنکھوں سے دور تھی آنکھ بند کرتے ہی سامنے عالیشان ہوڑہ برج آنکھوں کے سامنے آجاتا اور میں ان مزدوروں اور انجینیروں کے بارے میں سوچنے لگتی جنہوں نے اس کی تعمیر میں حصّہ لیا تھا۔ انگریز بھی ہمارے ملک میں کیسے کیسے کارنامے انجام دے گئے۔پاپا اور ابو دوسرے دن گھومنے کا پروگرام ترتیب دے رہے تھے اور میں آہستہ آہستہ نیند کی آغوش میں جا رہی تھی۔

خوش خبری