آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, February 13, 2019

Gandhi Ji - NCERT Solutions Class VI Urdu

گاندھ style="color: blue; font-size: x-large;"ی جی
سوچیے اور بتائیے

1. گاندھی جی کہاں تشریف لے گئے تھے؟
جواب: گاندھی جی میرٹھ تشریف لے گئے تھے۔
2. گاندھی جی نے اچکن کی طرف اشارہ کرکے کیا فرمایا؟
جواب: گاندھی جی نے اچکن کی طرف اشارہ کرکے فرمایا''دیسی کیہں نہیں پہنتے۔''

3.گاندھی جی نے قہقہہ کیوں لگایا؟
جواب: گاندھی جی نے مصنف کی اس بات پر قہقہہ لگایا کہ وہ چار دیسی چیزیں، دیسی آم، دیسی پان، دیسی آلو اور دیسی شکر استعمال کرتا ہے تو کیا پانچویں چیز دیسی اچکن بھی استعمال کرنا ضروری ہے۔

4. گاندھی جی مسوری میں کس جگہ ٹھہرے ہوئے تھے؟
جواب: گاندھی جی مسوری پہاڑ پر برلا ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔
5. لداخی مزدور گرمی کے موسم میں مسوری کس لیے آتے ہیں؟
جواب: لداخی مزدور ہر سال کام کی تلاش میں مسوری آجاتے ہیں۔

6.لداخی مزدوروں پر گاندھی جی کو کیوں ترس آیا؟
لداخی مزدوروں پر گاندھی جی کو اس لیے ترس آیا کہ یہ بے چارے بہت غریب تھے۔ایک ذھٹے ہوئے جانگیے اور پیوند لگے ہوئے شلوکے کے سوا آن کے بدن پر کچھ نہ ہوتا تھا۔رات کے وقت وہ ٹاٹ کے بورے میں لپٹ جاتے۔یہی بورا ان کا لحاف بھی تھا اور ان کا گدا بھی۔

7. ''غریب خانہ" کس کو کہا جاتا ہے؟
جواب: اپنے ہی گھر کو انکساری کی وجہ سے غریب خانہ کہتے ہیں۔

8.ستیہ گرہ آشرم میں کن قواعد کی پابندی ہوتی تھی۔
جواب: ستیہ گرہ آشرم میں نیک چلنی اور سچائی کے قواعد بڑے سخت تھے۔چھوٹے بڑے کب کو اس پر عمل کرنا پڑتا تھا۔

9.بچی کو نوجوان کیا واقعی دھوکہ دینا چاہتا تھا
جواب: نہیں وہ صرف اسے بہلانا چاہتا تھا۔ اور یہ سب محض ایک مذاق تھا۔

خالی جگہ کو صحیح لفظ سے بھریے

1. مجھے ان سے ملنے کا بڑا شوق تھا۔

2. تین چار دیسی چیزیں۔مستقل طور پر۔۔ استعمال کرتا ہوں۔

3. گاندھی جے نے بڑے زور سے قہقہہ لگایا۔

4.مسوری میں ان دنوں بہت سے لداخی مزدور کام کی تلاش میں آنے۔۔۔۔ہوئے تھے۔

5. وہ ہر سال گرمی کے موسم میں کام کی تلاش میں مسوری اور دوسرے مقامات پر آجاتے ہیں۔

6. انھیں اس حالت میں دیکھ کر گاندھی جی ۔۔کو بڑا ترس آیا۔

7. آخر فیصلہ ہوا کہ اسے ۔۔غریب خانہ۔۔ کہا جائے۔


ترتیب

0 comments:

Post a Comment

خوش خبری