آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Wednesday, 13 February 2019

Ghode Aur Hiran Ki Kahani - NCERT Solutions Class VI Urdu

گھوڑے اور ہرن کی کہانی
 ہزاروں سال پرانی بات ہے ایک ہرن اور گھوڑے میں بڑی دوستی تھی۔ ایک بار کسی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا ، مار پیٹ کی نوبت آگئی ۔ ہرن ہلکا پھلکا اور پھر تیلا تھا۔ اُس نے اُچھل اُچھل کر گھوڑے کو پیٹا۔ مار پیٹ میں گھوڑے کو بہت چوٹ آئی ۔ اُسے اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ گھوڑا کچھ نہ کر پایا اور ہرن مار پیٹ کر چلتا بنا۔
گھوڑے کو بہت غصّہ آیا۔ اُس نے سوچا، ہرن سے بدلہ لینا چاہیے۔ لیکن بدلہ لے تو کیسے ! بہت دنوں تک جنگل میں مارا مارا پھرتا رہا۔ ایک دن اُس کی نظر ایک آدمی پر پڑی جو تیر کمان لیے شکار کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ گھوڑے نے پوچھا : ”بھائی آدمی! تم جنگل میں اکیلے کیا کرتے پھر رہے ہو؟“
آدمی نے جواب دیا : ” میں شکاری ہوں اور شکار کی تلاش میں ہوں ۔“
گھوڑے نے کہا : ”اگر میں تمھیں کوئی شکار دکھادوں ، تو کیا تم اُسے مار دوگے؟“
 ”ہاں کیوں نہیں! میرا تو کام ہی یہ ہے۔" شکاری نے کہا۔
اب تو گھوڑا خوش ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں ایک ترکیب آ گئی ۔ اس نے شکاری سے کہا : ”اس جنگل میں ایک ہرن رہتا ہے۔ تم چاہو تو اس کو مار سکتے ہو۔“
شکاری نے کہا : مارنے کو تو میں مار دوں لیکن تم ہی بتاؤ کہ میں اُس کے پیچھے کیسے دوڑ سکتا ہوں؟ اگر تم میری مدد کرو تو میں اُسے مار دوں ۔“
گھوڑے نے کہا : "میں تیار ہوں ۔ بتاؤ میں تمھاری کیا مدد کروں؟"
 شکاری نے کہا : "مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھالو اور وہاں لے چلو جہاں وہ ہرن رہتا ہے۔"
گھوڑے نے شکاری کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا تو شکاری نے کہا : ” بھائی گھوڑے ! ایک بات سنو اگر تمھیں تکلیف نہ ہوتو میں تمھارے منھ میں لگام ڈال لوں؟“
لگام سے کیا ہوگا ؟‘‘ گھوڑے نے پوچھا۔
شکاری نے کہا : ” لگام سے ہہ فائدہ ہوگا کہ جس طرف ہرن نظر آئے گا، میں اسی طرف لگام موڑ دوں گا، تم ادھر چل پڑنا۔ پھر میں اسے اپنے تیر کا نشانہ بنادوں گا۔“
گھوڑا تو ہر قیمت پر ہرن سے انتقام لینا چاہتا تھا۔ اس نے کہا: "اچھی بات ہے، تم میرے منہ میں لگام ڈال دو-‘‘
شکاری نے گھوڑے کے منہ میں لگام ڈال دی اور دونوں ہرن کی تلاش میں نکل پڑے۔ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ہرن نظر آیا۔ گھوڑے نے کہا : یہی ہے وہ ہرن، تم اسے مار دو۔
شکاری نے گھوڑے کو اس کے پیچھے ڈال دیا۔ گھوڑا تیز تیز دوڑنے لگا۔ دوڑتے دوڑتے وہ ہرن کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ شکاری نے تیر چلایا۔ تیر ہرن کے سینے پر لگا۔ ہرن نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن تھوڑی دور جا کر گر پڑا۔
اب گھوڑے نے اطمینان کا سانس لیا کہ اس کا دشمن مارا گیا۔ اس نے شکاری سے کہا "بھائی شکاری! میں تمھارا احسان مند ہوں کہ تم نے میرے دشمن کا کام تمام کر دیا۔ اب تم اپنا شکار لے جا سکتے ہو۔"
شکاری نے کہا :" اس میں احسان کی کیا بات ہے۔ مجھے شکار ملا اور اس کے ساتھ ایک اور فائدہ بھی ہوا۔“
گھوڑے نے پوچھا : "کیا فائدہ؟"
شکاری نے کہا: "مجھے پہلے نہیں معلوم تھا کہ تم اتنے کار آمد ہو۔ اب پتہ چلا ہے کہ تم تو بڑے کام کے جانور ہو۔" یہ کہہ کر اس نے لگام کھینچی ۔ گھوڑا بے چارہ بے بس ہو گیا۔ کرتا تو کیا کرتا۔ شکاری گھوڑے کو بستی میں لے آیا۔ وہ دن اور آج کا دن گھوڑے کے منھ سے لگام نہیں نکلی اور گھوڑے کا کام ہی یہ ہے کہ وہ آدمی کو اپنی پیٹھ پر بٹھائے پھرتا ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ آپس کا لڑنا جھگڑنا ٹھیک نہیں۔"
سوچیے اور بتائیے
1. ہرن نے گھوڑے کو کیوں مارا؟
جواب: ایک بار کسی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا اور ہرن نے گھوڑے کو خوب مارا۔

2. گھوڑا ہرن سے کیوں بدلا لینا چاہتا تھا؟
جواب: ایک بار جھگڑے میں ہرن نے گھوڑے کو پیٹ پیٹ کر زخمی کردیا تھا اس لیے گھوڑا ہرن سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔

3. شکاری سے مل کر گھوڑا کیوں خوش ہوا؟
جواب: شکاری سے مل کر گھوڑا اس لیے خوش ہوا کہ اسے لگا کہ اب وہ شکاری کی مدد سے ہرن سے بدلہ لے سکے گا۔

4. گھوڑے نے ہرن سے کس طرح بدلا لیا؟
جواب: گھوڑے نے ایک شکاری کو ہرن کا نہ صرف پتہ بتایا بلکہ اپنی ۔پیٹھ پر شکاری کو بٹھاکر اسے ہرن‌کے پاس لے گیا۔اور شکاری نے ہرن کو مار دیا۔

5. ہرن کے مارے جانے کے بعد گھوڑے نے شکاری سے کیا کہا؟
جواب: گھوڑے نے شکاری سے کہا” بھائی شکاری! میں تمہارا احسان مند ہوں کہ تم نے میرے دشمن کا کام تمام کردیا۔ اب تم اپنا شکار لے جا سکتے ہو۔“

6. شکاری نے گھوڑے کو کیا جواب دیا؟
جواب: شکاری نے گھوڑے سے کہا کہ اس میں احسان کی کیا بات ہے۔ مجھے تو ایک فایدہ اور ہوا کہ مجھے ایک کام کا جانور مل گیا۔

7. شکاری نے گھوڑے کو کام کا جانور کیوں سمجھا؟
جواب: شکاری نے گھوڑے کو کام جانور اس لیے کہا کا وہ آرام سے اس کی سواری کر سکتا تھا۔

8. آپس میں لڑنا جھگڑنا کیوں ٹھیک نہیں؟
جواب: لگام کس سجانے کے بعد گھوڑے کو اپنی بے بسی سے سمجھ آیا کہ لڑنا جھگڑنا اچھی بات نہیں۔

صحیح جملوں پر صحیح اور غلط پر غلط کا نشان لگائیے
1. ہرن اور گھوڑے میں بہت دوستی تھی۔(صحیح)
2. گھوڑا ہلکا پھلکا اور پھرتیلا تھا۔(غلط)
3. شکاری نے گھوڑے کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیا۔(غلط)
4. گھوڑا ہر قیمت پر ہرن سے انتقام لینا چاہتا تھا۔(صحیح)
5. آپس میں لڑنا جھگڑنا ٹھیک بات ہے۔(غلط)

نیچے لکھی ہوئی باتوں کی وجہ لکھیے۔
1. ہرن نے گھوڑے کو بہت پیٹا کیونکہ وہ ہلکا پھلکا اور پھرتیلا تھا۔
2. گھوڑے کو غصّہ اس لیے آیا کہ وہ ہرن سے بری طرح پِٹ گیا۔
3. ہرن کے مرنے کے بعد گھوڑے نے اطمنان کا سانس لیا کیونکہ اب اس کا انتقام پورا ہو چکا تھا۔
4. شکاری کے سامنے گھوڑا بے بس تھا کیونکہ شکاری نے اس کو لگام ڈال دی تھی
5. آپس میں لڑنا جھگڑنا ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے دونوں کا ہی نقصان ہوتا ہے۔

نیچے دیے ہوئے جمع الفاظ کی واحد لکھیے
تراکیب : ترکیب
مشکلات : مشکل
فوائد : فائدہ
تکالیف : تکلیف
تجاویز : تجویز



دیگر اسباق کے لیے کلک کریں

0 comments:

Post a comment

خوش خبری