آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, September 21, 2019

shagufta khatir ka aurangabad bihar mein ijra

پنڈت نے دام شیخ نے قیمت وصول کی 
کتنے میں کون کون بکا ہم سے پوچھئے

اورنگ آباد میں سید حسن عسکری طارق کے مجموعہ کلام "شگفتہ خاطر" کی رسمِ اجرا  



اورنگ آباد (نمائندہ آئینہ)اورنگ آباد کے مدرستہ الصفہ سیدنا مصعب بن عُمیر ، محلہ نواڈیہہ کے کانفرنس ہال میں جناب سید ناطق قادری کے برادرِ معظم جناب سید حسن عسکری طارق مدنی نوراللہ مرقدہ کے مجموعہ کلام "شگفتہ خاطر" کا رسمِ اجرا ہوا ۔ جس میں اورنگ آباد شہر کے شائقین ادب نے شرکت کی۔ "شگفتہ خاطر" مزاحیہ شاعری کا ایک حسین ترین مجموعہ ہے ۔


اس تقریب کی نظامت مدرستہ الصفہ کے سرپرست جناب مولانا فہیم ندوی کر رہے تھے ۔ تقریب کے آغاز میں مولانا فہیم ندوی نے ایک بیحد عمدہ نعت پاک پڑھی ۔ بعد ازاں جناب سید ناطق قادری نے کتاب اور اپنے برادر مکرم جناب حسن عسکری طارق مدنی کے حوالے سے پر مغز تقریر کی و سامعین سے خطاب کیا ۔ جناب ناطق قادری نے حسن عسکری طارق  کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ طارق صاحب اگرچہ پیشے سے انجینئر تھے مگر ان کی شاعری اور ان کا دینی مزاج ان کو دوسروں سے بیحد مختلف اور ممتاز رکھتا ہے ۔ اخیر وقت میں ان کی خواہش تھی کہ مدینے کی پاک سرزمین ہی ان کا آخری ٹھکانہ ہو اور یہی ہوا بھی ۔ ان کی اس نیک خواہش کو الله نے قبول فرمایا ۔ آپ نے مدینے میں ہی آخری سانسیں لیں اور وہیں دفن ہوئے ۔ ناطق قادری نے سید حسن عسکری طارق کے کچھ عُمدہ اشعار بھی سنائے ۔


پیش ہیں چند منتخب اشعار

گھر والوں کو غصہ میرے اس کام سے آیا 
کیوں شعر سنانے کو میں دمام سے آیا 

میں نے تمہارا نام ہی ماہِ تمام رکھ دیا 
تم نے مسل کر دل میرا صورت حرام رکھ دیا  

ٹوپی اتار اتار چپت مارتا ہے کون 
دیکھو تو ذرا پیچھے ہی میرے کھڑا ہے کون  

پنڈت نے دام شیخ نے قیمت وصول کی 
کتنے میں کون کون بکا ہم سے پوچھئے 

گرگے لیکر ووٹروں کو گاؤں دھمکانے گئے 
ہم الیکشن کی بدولت ہر طرف جانے گئے 

اس تقریب میں شرکت کرنے والوں میں جناب مسیح الزماں صاحب، پروفیسر مظفر حسین راز، مولانا قاری شاہد انور ندوی صاحب، ڈپٹی الیکشن آفیسر جناب جاوید اقبال صاحب، سید الحمداللہ صاحب، شبلی فردوسی صاحب، جناب گلفام صدیقی صاحب، نور عالم صدیقی صاحب، جناب یوسف جمیل صاحب، مولانا اختر حسن قاسمی صاحب و ڈاکٹر یوسف صاحب کے علاوہ مدرستہ الصفہ کے طلبہ و طالبات موجود تھے ۔ آخر میں جناب سید ناطق قادری صاحب نے اس تقریب میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔

(آئینہ جلد ہی شگفتہ خاطر پر ایک تبصراتی مضمون پیش کرنے جارہا ہے۔)

Sunday, September 1, 2019

Taleem-e-niswaan


تعلیم نسواں


اقصیٰ  عثمانی            

ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے یہی سبب ہے کے معاشرے میں  لڑکیوں کی تعلیم کو ضروری قرار دیا   گیا ہے کے اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ بن جاتی ہے تو اس کا گھر علم کا ۔گہوارہ بن جاتا ہے۔ اسلام نے بھی عورت کو معاشرے میں عزت  کا مقام دیتا ہے اور  وہ عورتوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیتا ہے
اس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی گئ ہے اور لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں وہ علم کے ہر میدان میں ترقی کی طرف گامزن ہیں مقابلہ جاتی امتحان میں بھی وہ لڑکوں پر بازی مار رہی ہیں  یہ سب سماج میں لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت دینے اور اس پر توجہ دینے کا نتیجہ ہے آج ہر جگہ اسکول اور مدرسے کھل رہے ہیں جس میں
 لڑکیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے مدرسہ البنات جہاں صرف لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی ہے اسکی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ لڑکیاں دنیاوی تعلیم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں وہ سائنس کے میدان میں بھی آگے بڑھ رہی ہیں انجینئرنگ اور ڈاکٹری کی تعلیم بھی اب انکے لیے آسان ہے گئی ہے ہماری حکومت بھی تعلیم نسواں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور اس سلسلے میں اداروں کو بھی فراہم کرتی ہے لڑکیوں کے لئے وظیفے کا بھی خصوص انتظام ہوتا ہے آج سماج کے ہر طبقے میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے اور والدین اپنی بیٹیوں کو پڑھنے میں فخرمحصوس کرتے ہیں وہ اپنے بجٹ کا بڑا حصہ اپنی بیٹیوں پر خرچ کرتے ہیں زمانے میں تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں رہ گیا ہے لیکن اس کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے اسکول اور مدرسوں میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے تعلیم نسواں کی اہمیت کو لوگوں نے سمجھ لیا ہےاور سبھی اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم سے بہرہوار کرنا چاہتے ہیں  تاکہ وہ اپنے خاندان اور سماج کے لیے کارآمد ثابت ہوں  آج تعلیم کے میدان میں لڑکیوں اور لڑکوں کا فرق تقریباً ختم ہو چکا ہے اور تعلیم نسواں کی ضرورت اور کامیابی کا جو خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا اسکے شرمندہ ٔ تعمیر ہونے کا وقت آگیا ہے۔




خوش خبری