آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Monday, 6 April 2020

Nazeer Ahmad Ki Kahani - NCERT Solutions Class 9 Urdu

Nazeer Ahmad ki kahani by Mirza Farhatullah Baig  Chapter 6 NCERT Solutions Urdu
(اس صفحہ پر ابھی کام جاری ہے)
نذیر احمد کی کہانی کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی
مرزا فرحت اللہ بیگ

مولوی صاحب کا حلیہ سنیے :
رنگ سانولا مگر روکھا، قد خاصا اونچا۔ مگر چوڑان نے لمبان کو دبا دیا تھا دوہرا بدن گدرا ہی نہیں بلکہ موٹاپے کی طرف کسی قدر مائل ۔ فرماتے تھے کہ بچپن میں کسی قدر ورزش کا شوق تھا۔ ورزش چھوڑ دینے سے بدن جس طرح مرمروں کا تھیلا ہو جاتا ہے بس یہی کیفیت تھی۔ بھاری بدن کی وجہ سے چونکہ قد ٹھگنا معلوم ہونے لگا تھا اس لیے اس کا تکمله اونچی تر کی ٹوپی سے کر دیا جاتا تھا۔ کمر کا پھیر ضرورت سے زیادہ۔ توند اس قدر بڑھ گئی تھی کہ کمر میں ازار بند باندھنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ تکلیف دہ سمجھا جاتا تھا اورمحض ایک گرہ کو کافی خیال کیا جاتا تھا۔ گرمیوں میں تہمد (تہ بند) باندھتے تھے۔ اس کے پلو اڑسنے کے بجائے ادھر ادھر ڈال لیتے تھے مگر اٹھتے وقت بہت احتیاط کرتے تھے۔ اول تو قطب بنے بیٹھے رہتے تھے۔ اگر اٹھنا ہوا تو پہلے اندازہ کرتے تھے کہ فی الحال اٹھنے کو ملتوی کیا جاسکتا ہے کہ نہیں ۔ ضرورت نے بہت ہی مجبور کیا تو ازار بند کی گرہ یا تہمد کے کونوں کے اڑ سنے کا دباؤ توند پر ڈالتے تھے۔ سر بہت بڑا تھا مگر بڑی حد تک اس کی صفائی کا انتظام قدرت نے اپنے اختیار میں رکھا تھا۔ جوتھوڑے رہے سہے بال تھے وہ اکثر نہایت احتیاط سے صاف کرادیے جاتے تھے ورنہ بالوں کی یہ کگر سفید مقیش کی صورت میں ٹوپی کے کناروں پر جھالر کا نمونہ ہو جاتی تھیں۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی ذرا اندر کو دھنسی ہوتی تھی۔ بھویں گھنی اور آنکھوں کے اوپرسایہ فگن تھیں۔ آنکھوں میں غضب کی چمک تھی وہ چمک نہیں جو غصہ کے وقت نمودار ہوتی ہے بلکہ یہ وہ چمک تھی جس میں شوخی اور ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اگر میں ان کو’ مسکراتی ہوئی آنکھیں‘  کہوں تو بےجا نہ ہوگا کہ کلّہ جبڑا بڑا زبردست پایا تھا چونکہ دہانہ بھی بڑا تھا اور پیٹ کے محیط نے سانس کے لیے گنجائش بڑھادی تھی۔ اس لیے نہایت اونچی آواز میں بغیر کھینچے بہت کچھ کہہ جاتے تھے۔ آواز میں گرج تھی مگر لوچ کے ساتھ کوئی دور سے سنے تو یہ سمجھے کہ مولوی صاحب کسی کو ڈانٹ رہے ہیں لیکن پاس بیٹھنے والا ہنسی کے مارے لوٹ رہا ہو۔ جوش میں آ کر جب آواز بلند کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ ترم بج رہا ہے اس لیے بڑے بڑے جلسوں پر چھا جاتے تھے ناک کسی قدر چھوٹی تھی اور نتھنے بھاری ، اسی ناک کو گنواروں کی اصطلاح میں گاجر اور دلی والوں کی بول چال میں پھلکی کہا جاتا ہے۔ گو متانت چھو کر نہیں گئی تھی لیکن جسم کے بوجھ نے رفتار میں خود بہ خود متانت پیدا کر دی تھی ۔ داڑھی بہت چھدری تھی ایک ایک بال بآسانی گنا جا سکتا تھا داڑھی کی وضع قدرت نے خودفرنچ فیشن بنادی تھی۔
انھوں نے اپنے بارے میں بتایا لو بھئی ہم بہت غریب لوگ تھے نہ کھانے کو روٹی نہ پہننے کو کپڑا تعلیم کا شوق تھا اس لیے پھرتا پھراتا پنجابیوں کے کڑے کی مسجد میں آ کر ٹھہر گیا یہاں کے مولوی صاحب بڑے عالم تھے ان سے پڑھتا اور توکل پر گزارہ کرتا ۔ مولوی صاحب کے دو چار شاگرد اور بھی تھے انہیں بھی پڑھاتے اور مجھے بھی پڑھاتے دن رات پڑھنے کے سوا کچھ کام نہ تھا تھوڑے سے دنوں میں، میں نے کلام مجید پڑھ کر ادب پڑھنا شروع کیا چار برس میں معلقات پڑھنے لگا گو میری عمر بارہ سال کی تھی مگر قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے نو دس برس کا معلوم ہوتا تھا۔ پڑھنے کے علاوہ میرا کام روٹیاں سمیٹنا تھا۔ صبح ہوئی اور میں چھڑی ہاتھ میں لے گھر گھر روٹیاں جمع کرنے نکلا کسی نے رات کی بچی ہوئی دال ہی دے دی کسی نے قیمہ کی لگدی ہی رکھ دی کسی نے دو تین سوکھی روٹیوں ہی پر ٹرخایا۔ غرض رنگ برنگ کا کھانا جمع ہو جاتا۔ مسجد کے پاس ہی عبدالخالق صاحب کا مکان تھا اچھے کھاتے پیتے آدمی تھے انھیں کے بیٹے ڈ پٹی عبدالحامد ہیں جو سامنے والے مکان میں رہتے ہیں ان کے ہاں میرا قدم رکھنا مشکل تھا ادھر میں نے دروازے میں قدم رکھا ادھر ان کی لڑکی نے ٹانگ لی جب تک سیر دو سیر مصالحہ مجھ سے نہ پسوالیتی نہ گھر سے نکلنے دیتی نہ روٹی کا ٹکڑا دیتی ۔ خدا جانے کہاں سے محلّہ بھر کا مصالحہ اٹھالا تی تھی پیستے پیستے ہاتھوں میں گٹّے پڑ گئے تھے جہاں میں نے ہاتھ روکا اور اس نے بٹّہ انگلیوں پر مارا بخداجان سی نکل جاتی تھی۔ میں نے مولوی صاحب سے کئی دفعہ شکایت بھی کی مگر انھوں نے ٹال دیا، خبر نہیں مجھ سے کیا دشمنی تھی تاکید کر دیا کرتے تھے کہ عبد الخالق صاحب کے مکان میں ضرور جانا بہرحال اس مارا دھاڑی سے روزانہ وہاں جانا پڑتا تھا اور روز یہی مصیبت جھیلنی پڑتی تھی۔ تم سمجھے بھی پہ لڑکی کون تھی میاں یہ لڑکی وہ تھی جو بعد میں ہماری بیگم صاحبہ ہوئیں۔ جب سوچتا ہوں تو پچھلا نقشه آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ اکثر ہم دونوں پہلی باتوں کو یاد کرتے اور خوب ہنستے تھے۔ خدا غریق رحمت کرے  جیسیبچپن  میں شریر تھیں ویسی ہی جوانی میں غریب ہوگئیں۔
ایک روز جو کشمیری دروازے کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دہلی کا لج میں بڑا ہجوم ہے کالج وہاں تھا جہاں اب گورنمنٹ اسکول ہے۔ میں بھی بھیٹر میں گھس گیا معلوم ہوا کہ لڑکوں کا امتحان لینے مفتی صدر الدین صاحب آئے ہیں ۔ ہم نے کہا چلو ہم بھی چلیں، برآمدے میں پہنچا قد چھوٹا تھا لوگوں کی ٹانگوں میں سے ہوتا ہوا گھس گھسا کر کمرے کے دروازہ تک پہنچ ہی گیا۔ دیکھا کہ کمرے کے بیچ میں میز بچھی ہے۔ اس کے سامنے کرسی پرمفتی صاحب بیٹھے ہیں، ایک لڑکا آتا ہے اس سے سوال کرتے ہیں اور سامنے کاغذ پر کچھ لکھتے جاتے ہیں میز کے دوسرے پہلو کی کرسی پرایک انگریز بیٹھا ہے یہ مدرسے کے پرنسپل صاحب تھے ہم تماشہ میں محوتھے کہ صاحب کسی کام کے لیے اٹھے چپراسیوں نے راستہ صاف کرنا شروع کیا جو لوگ دروازہ روکے کھڑے تھے وہ کسی طرح پیچھے ہٹتے ہی نہیں تھے چپراسی زبردستی دھکیل رہے تھے غرض اس دھکا پیل میں میرا قلیہ ہو گیا ، دروازہ کے سامنے سنگ مرمر کا فرش تھا اس پر سے میرا پاؤں رپٹا اور میں دھم سے گرا ، اتنی دیر میں پرنسپل صاحب بھی دروازے تنگ آگئے تھے۔ انھوں نے جو مجھے گرتے دیکھا تو دوڑ کر میری طرف  بڑھے، مجھے اٹھایا پوچھتے رہے کہیں چوٹ تو نہیں آئی۔ ان کی شفقت آمیز باتیں اب تک میرے دل پرکال نقش في الحجر ہیں ۔ باتوں ہی باتوں میں پوچھا۔” میاں صاحب زادے کیا پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ” معلقات‘‘۔ ان کو بڑا تعجب ہوا پھر پوچھا۔ میں نے پھر وہی جواب دیا۔ میری عمرپوچھی، میں نے کہا: ”مجھے کیا معلوم ؟“ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر بجائے اپنے کام کو جانے کے سیدھامجھ کو مفتی صاحب کے پاس لے گئے اور کہنے لگے” مفتی صاحب یہ لڑکا کہتا ہے میں معلقات پڑھتا ہوں ۔ ذرا دیکھیے تو سہی سچ کہتا ہے یا یونہی باتیں بناتا ہے۔“ مفتی صاحب نے کہا ۔ ”بولوتو کیا پڑھتا ہے؟“ میں نے کہا ”معلقات“ کہنے لگے ”کہاں پڑھتا ہے؟“ میں نے کہا” پنجابیوں کے کڑے کی مسجد میں ۔“ پھر کہا ” معلقات دوں، پڑھے گا“ میں نے کہا ” لائے“ انھوں نے میز پرسے کتاب اٹھائی اور میرے ہاتھ میں دے دی۔ اور کہا ”یہاں سے پڑھ “ جس شعر پر انھوں نے انگلی رکھی تھی وہ معلقات سے عمرو بن کلثوم کا شعر تھا۔ اسے میں نے پڑھا اور معنی بیان کیے۔ انھوں نے تر کیب پوچھی وہ بیان کی مفتی صاحب بہت چکرائے ۔ پوچھنے لگے تم کو کون پڑھاتا ہے؟ میں نے کہا مسجد کے مولوی صاحب کہا ” مدرسے میں پڑھے گا ؟“ میں نے جواب دیا ”ضرور پڑھوں گا۔“ مفتی صاحب نے کاغذ اٹھا کر چند سطریں لکھیں اور پرنسپل صاحب کو دے کر کہا اس کو پریسیڈنٹ صاحب کے پاس پیش کر دینا۔ ہم وہاں سے نکل کر اپنے گھر آئے مولوی صاحب سے کچھ نہ کہا۔ کوئی سات آٹھ روز کے بعد کالج کا چپراسی مولوی صاحب کے پاس ایک کاغذ دے گیا اس میں لکھا تھا کہ نذیر احمد کو کالج میں داخل کرنے کی اجازت ہوگئی ہے۔ کل سے آپ اسے کالج میں آنے کی ہدایت کر دیجیے۔ اس کا وظیفہ بھی ہو گیا ہے۔ چپراسی تو یہ حکم دے چلتا بنا۔ مولوی صاحب نے مجھے بلایا خط دکھایا اور پوچھا یہ معاملہ کیا ہے میں نے کچھ جواب نہ دیا جب ذراسختی کی تو تمام واقعہ بیان کیا وہ بہت خوش ہوئے اور دوسرے روز لے جا کر میرا ہاتھ پرنسپل صاحب کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس زمانے میں سید احمد خان فارسی کی جماعت میں تھے ۔ منشی ذکا ءاللہ حساب کی جماعت میں اور پیارے لال انگریزی کی جماعت میں پڑھتے تھے ، میں عربی کی جماعت میں شریک ہوا۔
میں نے کہا مولوی صاحب آپ کی جماعت کہاں بیٹھتی تھی کہنے لگے پرنسپل صاحب کے کمرے کے بازو میں جو چھوٹا کمرہ ہے اس میں ہماری جماعت تھی ۔ دوسرے پہلو میں جو کمرہ ہے اس میں فارسی کی جماعت دانی نے کہا ”مولوی صاحب آپ کے اختیاری مضامین کیا تھے؟ “مولوی صاحب ہنسے اور کہا میاں دانی‘‘ ہم پڑھتے تھے آج کل کے طالب علموں کی طرح گھاس نہیں کاٹتے تھے۔ مولوی صاحب اس فقرے کا بہت استعمال کرتے تھے۔ ارے بھئی ایک ہی مضمون کی تکمیل کرنا دشوار ہے۔ آج کل پڑھاتے نہیں لادتے ہیں۔ آج پڑھا کل بھولے۔ تمھاری تعلیم ایسی دیوار ہے جس میں گارے کا بھی ردا ہے۔ ٹھیکریاں بھی گھسیڑ دی ہیں مٹی بھی ہے پتھر بھی کہیں چونا اور اینٹ بھی ہے ایک دھکا دیا اور اڑا اڑادهم گرگئی ۔ ہم کو اس زمانے میں ایک مضمون پڑھاتے تھے مگر اس میں کامل کر دیتے تھے۔ پڑھانے والے بھی ایرے غیرے پچکیاں نہیں ہوتے تھے۔ ایسے ایسے کو چھانٹا جاتا تھا جن کے سامنے آج کل کے عالم محض کاٹھ کےالّو ہیں۔
مولوی صاحب کو اپنے ترجنے پر بڑا ناز تھا اور اکثر اس کا ذکر فخریہ لہجے میں کیا کرتے تھے۔ اردو ادب میں ان کی جن تصنیفات نے دھوم مچارکھی ہے ان کے نزدیک وہ بہت معمولی تھیں ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری تمام عمر کا صلہ کلام مجید کا ترجمہ ہے۔ اس میں مجھے اتنی محنت اٹھانی پڑی  ہے اس کا اندازہ کچھ میں ہی کرسکتا ہوں ۔ ایک ایک لفظ کے تر جمے میں میرا سارا سارا دن صرف ہو گیا۔ میاں سچ کہنا کیسا محاورہ کی جگہ محاورہ بٹھایا ہے۔ ہم نے کہا ۔ مولوی صاحب بٹھایا نہیں ٹھونسا ہے۔ جہاں یہ فقرہ کہا مولوی صاحب اچھل پڑے۔ بڑے خفا ہوتے اور کہتے کل کے لونڈو ! میرے محاوروں کو غلط بتاتے ہو۔ میاں میری اردو کا سکہ تمام ہندوستان پر بیٹھا ہوا ہے خود لکھو گے تو چیں بول جاؤ گے “
 مولوی صاحب نے کئی مرتبہ اس عاجز پر بھی رقمی حملے کئے لیکن یہ ذرا ٹیڑھا مقابلہ تھا۔ ایک چھوڑ کئی کتا بیں مولوی صاحب سے اینٹھیں کبھی ایک پیسہ نہ دیا۔ یہ نہیں کہ خدانخواستہ وعدہ کرتا اور رقم نہ دیتا تھا۔ یہ کہ اس وقت تک کتاب لیتاہی نہ تھا۔ جب تک مولوی صاحب خود نہ فرمادیتےکہ ”اچھا بھئی تو یوں ہی لے جا مگر میرا پیچھا چھوڑ دے۔‘‘ میری ترکیب یہ تھی کہ پہلے کتاب پر قبضہ کرتا ، مولوی صاحب کتاب کی قیمت مانگنے میں حجت کرتے ، وہ جواب دیتے ۔ میں اس کا جواب دیتا ریویو کے لیے جو کتا ہیں آتی تھیں وہ تو ہمارے باپ دادا کا مال تھیں کتابیں تو کتابیں میں نے مولوی صاحب کی ایل ای ڈی کی گون پر بھی قبضہ کرنے کا فکر کیا تھا۔
حیدر آباد آنے کے تھوڑے ہی دنوں بعد معلوم ہوا کہ اس چہکتے ہوئے بلبل نے اس گلشن دنیا سے کوچ کیا۔ جب کبھی دہلی جاتا ہوں تو مولوی صاحب کے مکان پر ضرور جاتا ہوں اندر قدم نہیں رکھتا مگر باہر بڑی دیر تک دیوار سے لگ کر دروازے کو دیکھتا ہوں اور رہ رہ کر ذوق کا یہ شعر زبان پر آتا ہے۔
یہ چمن یونہی رہے گا اور سارے جانور اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے۔ اللہ بس باقی ہوس

Nazeer Ahmad ki kahani by Mirza Farhatullah Baig  Chapter 6 NCERT Solutions Urdu
مرزا فرحت اللہ بیگ
(1884ء - 1947ء)
مرزا فرحت الله بیگ دہلی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مکتب میں حاصل کرنے کے بعد ہندو کالج سے 1905 ء میں بی ۔اے پاس کیا۔ 1907ء میں وہ حیدرآباد گئے اورمختلف ملازمتوں پر مامور رہے اور ترقی کرتے کرتے اسسٹنٹ ہوم سکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔ 1919ء میں انھوں نے اپنا سب سے پہلا مضمون رسالہ' افادہ‘‘ آگرہ میں لکھا۔ اور 1923 ء سے وہ باقاعدہ مضامین لکھنے لگے۔ انھوں نے تنقید ، افسانہ، سوانح حیات ، معاشرت اور اخلاق ہر موضوع پر کچھ نہ کچھا لکھا اور اچھا لکھالیکن ان کے مزاحیہ مضامین سب سے زیادہ کامیاب ہوئے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضامین سات جلدوں میں’ مضامین فرحت‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں نظم کا مجموعہ’ میری شاعری‘ کے نام سے چھپ چکا ہے۔ اس میں بھی مزاحیہ رنگ نمایاں ہے۔
ہنسنے اور ہنسانے کا کوئی اصول مقرر نہیں ہوسکتا۔ تمام مزاح نگار اپنا انداز جدا رکھتے ہیں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کا بھی ایک مخصوص رنگ ہے، جسے عظمت اللہ بیگ نے خوش مذاقی کہا ہے۔ خوش مذاقی میں قہقہے کے مواقع کم اور تبسم کے زیادہ ملتے ہیں۔ ان کے یہاں ایسا انبساط ملتا ہے جسے دیر پا کہا جاسکتا ہے۔
مرزا فرحت اللہ بیگ کے یہاں دلچسپی کے کئی سامان ہیں۔ ان کی مزاح نگاری میں دلّی کے روز مرہ اور محاورات کا لطف پایا جاتا ہے ۔ وہ اکثر ایسے محاورات اور الفاظ اپنی تحریر میں لاتے ہیں جو دلّی کے لوگ گفتگو میں استعمال کرتے ہیں۔ زیر نظر مضمون ان کی انھیں خصوصیات  کا آئینہ دار ہے۔ اس کی مزید خوبی یہ ہے کہ اس سے ہمیں اردو کے ایک بہت بڑے ادیب اور انیسویں صدی کے ہندوستان کے ایک بڑے شخص مولوی نذیر احمد کے بارے میں بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں جو اور کسی طرح نہ معلوم  ہوسکیں۔

مشق
لفظ ومعنی
حلیہ : شکل صورت
تکملہ : تکمیل
قطب بنے بیٹھے رہتے : اولیاء اللہ میں کچھ لوگ قطب کے درجے پر ہوئے ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ اپنی جگہ یعنی اپنے گھر سے کہیں باہر نہیں جاتے ۔ اسی لیے فارسی میں کہاوت ہےقطب از جانسنجیدگی ، وقار، بھاری پنمی جنبد (قطب اپنی جگہ سے نہیں ہلتا)
مُرمُرا : بھنے ہوئے چاول
مقیش : سونے چاندی کے تار
سایہ فگن : سایہ ڈالنے والا
نمودار : ظاہر، نمایاں
شوخی : چُلبلاپن
ذہانت : دماغ کی تیزی ، ذہین
محیط : پھیلاؤ
اصطلاح : کسی علمی یا فنی شعبے کا کوئی لفظ جسے عام معنوں کےعلا وہ خاص معنوں میں استعمال کیا گیا ہو۔
متانت : سنجیدگی ، وقار، بھاری پن
وضع : ڈھنگ
توکل : خدا پر بھروسہ کرنا
معلّقات : معلق کی جمع ، کہا جاتا ہے کہ قدیم عرب میں طریقہ تھا کہ ہر سال کی شاعری کے سب سے اچھے نمونوں کو خانہ کعبہ کے دروازےپرآویزاں کر دیا جاتا تھا۔ ان نظموں کو جو قصیدے کی ہیئت میں ہوتی تھیں معلقات (لٹکائی ہوئی) کہا جاتا ہے۔ ان کیتعداد سات بتائی گئی ہے
عمرو بن كلثوم :
عربی کا مشہور شاعر عمرو میں عین پر زبر اور میم پر جزم ہے اور
و نہیں پڑھا جاتا ۔ لیکن عمر کو Amr پڑھیے
کالنقشفی الحجر : پتھر پر بنائے ہوئے نقش کی طرح
پچکلیاں : مختلف رنگوں سے رنگا ہوا(وہ جانور جس کے چاروں پیر اورماتھا سفید ہو)
حُجّت : دلیل، بحث
ریویو(انگریزی) : تبصرہ

غور کرنے کی بات
 * اس مضمون میں نذیر احمد کی شکل و صورت، وضع قطع اور حلیہ کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیاگیا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ نذیر احمد نے تعلیم کس قدر مشقت سے حاصل کی۔
*  مضمون میں نذیراحمد کے زمانے کی معیاری اور مفید تعلیم کے مختلف پہلوؤں کو بھی پیش کیاگیا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے :

 1. نذیراحمدکی شخصیت کے دلچسپ پہلوؤں کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔
جواب:

2. نذیر احمد نے اپنے بچپن کے کن واقعات کواطف لے کر بیان کیا ہے؟ بتایئے۔
جواب:

 3.  نذیر احمد کے ساتھ پڑھنے والوں میں کون کون سے ادیب شامل تھے؟
جواب:

 4.  نذیر احمد نے آج کل کی تعلیم کی کون کون سی خامیاں بتائی ہیں؟
جواب:

عملی کام 
*  اس سبق کا بغور مطالعہ کیجیے اور بتایئے کہ آپ کونذیراحمد کی کون سی باتیں سب سے اچھی لگی ہیں۔
*  سبق میں جہاں مزاحیہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اس کی نشاندہی کیجیے۔
*  سبق  کاخلاصہ تحریر کیجیے۔
*  اس سبق میں جو محاورے استعمال ہوئے ہیں انہیں تلاش کر کے لکھیے۔

کلک برائے دیگر اسباق

0 comments:

Post a comment

خوش خبری