آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, 7 June 2020

ّAazmaish By Md. Mujeeb NCERT Solutions Class 10 Urdu Chapter 5


ڈراما
ڈراما یونانی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں’ کرنا‘ ۔ ادب میں  یہ  ایسی صنف ہے جس میں کرداروں، مکالموں اور مناظر کے ذریعے کسی کہانی کو پیش کیا جاتا ہے۔ قدیم ہندوستان میں سنسکرت کا ویہ میں بھی اس کی روایت بہت مضبوط تھی اور اس کو ” نا ٹیہ“ کہا جاتا تھا۔
ارسطو نے ڈرامے کو زندگی کی نقّالی کہا ہے۔ داستان ، ناول اور افسانے کے مقابلے میں ڈراما اس لحاظ سے حقیقت سے قریب تر ہوتا ہے کہ اس میں الفاظ کے ساتھ ساتھ کردار، ان کی بول چال اور زندگی کے مناظر بھی دیکھنے والوں کے سامنے آتے ہیں ۔ کرداروں کی ذہنی اور جذباتی کشمکش کو مکا لمے اور آواز کے اُتار چڑھاؤ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ ڈراما بنیادی طور پر اسٹیج کی چیز ہے لیکن ایسے بھی ڈرامے لکھے گئے ہیں اور لکھے جاتے ہیں جو صرف سنانے اور پڑھنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ ریڈیو کی وجہ سے ڈراموں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ اور ٹیلی وژن پر جس طرح کے سیریل سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں، ان کا تعلق کسی نہ کسی طرح ڈرامے ہی کی صنف سے ہوتا ہے۔
ارسطو نے ڈرامے کے اجزائے ترکیبی میں چھ چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ قصہ، کردار، مکالمہ، خیال، آرائش اور موسیقی ۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر ڈرامے میں سنگیت یا موسیقی کا عنصر ہو۔ پلاٹ، کردار، مکالموں اور مرکزی خیال کا ہونا البتہ ضروری ہے۔ ڈرامے کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں واقعات کی کڑیاں اس طرح ملائی جائیں کہ بتدریج نقطۂ عروج تک پہنچ سکیں اور ناظرین کی توجہ ایک نکتے  یا خیال پر مرکوز ہو جائے ۔ اس کے بعد ڈراما انجام کی طرف بڑھتا ہے۔ واقعات سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے ، وہ انجام کے ذریعے پیش کر دیا جاتا ہے۔ حق و باطل اور خیر و شر کی کشمکش، بنیادی انسانی اقدار اور سماجی ، قومی و سیاسی مسائل کو ڈراموں میں پیش کیا جاتا ہے۔
اردو میں ڈرامےکا آغاز واجد علی شاہ کے زمانے میں ہوا جب ”رادھا کنھیا‘‘ کا قصہ اسٹیج کیا جانے لگا۔ امانت کی” اندر سبھا‘‘ بھی اسی زمانے میں لکھی گئی جو بے حد مقبول ہوئی ۔” اندر سبھا “کے اثر سے بعد کے  پارسی اردو تھیٹر میں بھی رقص و موسیقی کا  خاصا زور رہا۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اردو تھیٹر نے بہت ترقی کی اور آغا حشر کے ڈرامے بہت مقبول ہوئے ۔ اس کے بعد امتیاز علی تاج ، حکیم احمد شجاع ، ڈاکٹر سیّد عابد حسین ، پروفیسر محمد مجیب ، مرزا ادیب ، اشتیاق حسین قریشی اور فضل الرحمٰن نے ڈراما نگاری پر خصوصی توجہ کی ۔ کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی اور ریوتی سرن شرما نے بھی ریڈیائی ڈرامے  لکھے اور ڈراما نگاری کی روایت کو مزید استحکام بخشا۔

محمد مجیب
(1902 - 1985)
محمد مجیب لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد ایک معروف وکیل تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ کے لاریٹو کانونٹ میں حاصل کی۔ اس کے بعد دہرہ دون کے ایک پرائیوٹ اسکول سے سینیر کیمبرج کا امتحان پاس کیا۔ 1919 میں محمد مجیب نے آکسفورڈ سے جد ید تاریخ میں بی۔ اے (آنرز) کیا۔ برلن میں ان کی ملا قات ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر سیّد عابد حسین سے ہوئی۔ وہیں انھوں نے جرمن اور روسی زبانیں سیکھیں ۔ فرانسیسی زبان وہ آکسفورڈ میں سیکھ چکے تھے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ انھوں نے جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں کام کرنے کا عہد کیا۔ فروری 1926 میں وہ جامعہ ملّیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ ( وائس چانسلر) بنائے گئے اور وہ اس عہدے پر چوبیس برس تک فائز رہے۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا۔
مجیب صاحب انتظامی امور کے ساتھ تصنیف و تالیف کے کام میں بھی برابر لگے رہے۔ اردو اور انگریزی میں ان کی بہت سی کتا بیں شائع ہوئیں ۔ مجیب صاحب نے آٹھ ڈرامے لکھے جن کے نام ہیں : ”کھیتی“ ،” انجام‘‘، ”خانہ جنگی“،”حبہ خاتون “، ”،ہیروئن کی تلاش“، ”آزمائش“ اور ”دوسری شام“، اور بچوں کے لیے ایک ڈراما ”آؤڈراما کریں“ ۔ مجیب صاحب صاف، سادہ اور سلیس نثر لکھتے تھے۔ ان کے مکالموں میں بول چال کا فطری انداز ہے۔
نصاب میں جو ڈرامہ شامل ہے وہ مجیب صاحب کے ڈرامے آزمائش کا آخری ایکٹ ہے۔ یہ ڈراما 1857 کے الم ناک تاریخی واقعات پرمبنی ہے۔ جنرل بخت خاں اور اس کی ہندوستانی فوجوں کو شکست ہو چکی ہے۔ بہادر شاہ ظفر گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ انگریزوں کا دہلی پر قبضہ ہو جانے کے بعد  پکڑ دھکڑشروع ہو چکی ہے۔ رام سہائے کی بیوی بھاگ وتی نے جنگ آزادی کی دو مجاہد خواتین سلمیٰ  اور کشن کنور کو پناہ دے رکھی ہے۔ بخت خاں کے سپاہی اگر چہ ہار گئے ہیں لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں۔

آزمائش
(آخری ایکٹ)
 رام سہائے مل کے مکان میں ایک چھوٹا سا دالان ۔ رات ہوگئی ہے ۔ ڈیوَٹ پر ایک دیا جل رہا ہے۔ رام سہائے مل اس کی روشنی میں کھانا کھا رہا ہے۔ بھاگ وتی ، اس کی بیوی، آنچل سے منھ بند کیے کھڑی ہے، اس کو پنکھا جھل رہی ہے اور چپکے چپکے رو رہی ہے۔ رام سہائے مل کو اس کے رونے کا احساس نہیں ہے اور وہ کھانا کھاتا رہتا ہے۔
رام سہائے مل  :  کہو، آج پانی کافی مل گیا؟
 بھاگ وتی : (روہانسی آواز میں ) ابھی شام کو رام پرشاد لے آیا۔ بہت دور جانا پڑا، آس پاس کے کنوؤں میں لاشیں پڑی ہیں ۔
 رام سہائے مل : رام رام ، رام رام ۔۔۔۔(اس کی طرف دیکھ کر ) مگرتم رو کیوں رہی ہو؟
بھاگ وتی : میرا بھی مر جانے کو جی چاہتا ہے۔
رام سہائے مل : کیوں ، تم کیوں بیٹھے بیٹھے جان سے بیزار ہوگئی ہو؟
بھا گ وتی : کیا بتاؤں؟
رام سہائے مل  : پر ماتما کا شکر کرو ۔ اتنی بڑی مصیبت آئی اور گزرگئی۔
بھاگ وتی : ہاں۔
رام سہائے مل : مگر ابھی بہت چوکس رہنا ہے۔ دیکھتی رہنا دروازے سے پہرے والے نہ ہٹیں۔
بھاگ وتی : نہیں ، میں تو برابر چکر لگاتی رہتی ہوں ۔
رام سہائے مل : اور کوئی اندر نہ آنے پائے ۔ مرد، عورت، بچہ۔
بھاگ وتی :  نہیں ، قصور ہوگا تو میرا ہو گا۔ میں کہہ دوں گی کہ میں نے آپ کو بتائے بغیر کیا ہے۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ جان پہچان کی کوئی عورت یا  بچّہ پناہ مانگے اور میں اسے پناہ نہ دوں ۔
رام سہائے مل : (بھاگ وتی کو دیر تک غور سے دیکھ کر )معلوم ہوتا ہے تم نے مجھے بتائے بغیر کسی کو گھر میں چھپا لیا ہے ۔ اب تو ہماری جان پر ماتما کی د یا سے ہی بچ سکتی ہے۔ تمھارا دل اتنا کمزور ہے تو تم مجھے کیوں نہیں بلا لیتی ہو؟
بھاگ وتی : میں چاہتی ہوں کہ آپ کو معلوم ہی نہ ہو۔
رام سہائے مل  : یہ کون مانے گا کہ میرے گھر میں آدمی چھپے ہیں اور مجھے معلوم نہیں۔
بھاگ وتی : آدمی نہیں، لاوارث عورتیں بھوکے پیاسے بچّے!
رام سہائے مل : کس کی عورتیں، کسی کے بچّے؟
بھاگ وتی : یہ میں پوچھتی ہی نہیں ہوں۔
رام سہائے مل : يا پوچھا ہے اور مجھے بتانا نہیں چاہتی ہو۔ ہمارے محلے میں ایسے لوگ ہیں ہی نہیں جنھوں نے بغاوت میں حصہ لیا ہو۔ یہ عورتیں اور بچے تو باہر سے آئے ہوں گے۔ (بھاگ وتی زمین پر بیٹھ کر اور اپنا منہ بند کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے۔ بتاؤ تو یہ ہیں کون؟ کبھی پوچھ تاچھ ہو تو میں جواب تو دے سکوں (بھاگ وتی سر ہلاتی ہے۔) اچھا، نہ بتاؤ۔ (خاموشی) جب لڑائی ہورہی تھی تو تمہاری زبان پر تین چار نام رہا کرتے تھے....................... بخت خاں کی آل اولاد یہاں تھی ہی نہیں، سدھاری سنگھ بھی باہر کا آدمی ہے۔ کیا کسی مسلمان عورت کو پناہ دی ہے؟.............. ہند و عورتوں میں تو تمھارے رانی کشن کنور سے تعلقات تھے۔ نہارسنگھ روپیہ وصول کرنے آنا چاہتا تو زمین تیار کرنے سے پہلے اسی کو بھیجتا تھا۔ مگر کیا معلوم رانی ب
بلّبھ گڑھ میں ہے یا یہاں ۔ بہر حال، جہاں بھی ہو، کوئی نہ کوئی اس کا پتہ دے گا ضرور ............ اگر نہار سنگھ کو پکڑ لیا ہے تو شاید اس کو تلاش نہ کرے۔
بھاگ وتی  : پکڑ لیا ہے! ( پھر زور سے روتی ہے)
رام سہائے مل :  پکڑ لیا ہے تو اب تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اس کے برابر سونا دے کر اسے مول لینا چاہو تو نہ دیں گے ....... تو رانی کشن کنور نے تمہارے یہاں پناہ لی ہے.......... بے چاری! (رام سہائے سے اب اور کھایا نہیں جاتا۔ برتن سامنے سے کھسکا دیتا ہے۔ پانی پینا چاہتا ہے مگر پیالا دیر تک ہاتھ میں لیے رہتا ہے اور پی نہیں پاتا۔)
کیا بہت رورہی ہے؟
بھاگ وتی : (سر ہلا کر)نہیں، اس کا افسوس کر رہی ہے کہ جہادی عورتوں کے ساتھ میدان میں نہیں گئی اور ماری نہیں گئی۔
رام سہائے مل : رام رام، کیا ہمت ہے۔ اس کو اچھی طرح رکھنا۔ میں بھی کبھی اس کے درشن کروں گا۔ اس کا ہمارے گھرمیں رہنا کچھ ایسا خطرناک نہیں ہے۔ مسلمان عورت کی بات اور ہے۔
بھاگ وتی : ایک مسلمان بہن بھی ہے۔
رام سہائے مل : ہائے! کون؟
بھاگ وتی : سلمیٰ۔
رام سہائے مل : ارے وہی یوسف میاں کی منگیتر؟ وہ تو مورچوں پرلڑی بھی تھی۔
بھاگ وتی : ہاں اس نے گھروں کی چھتوں پر سے بھی گولی چلائی ۔ رانی کشن کنور بھی اس کے ساتھ بندوق چلا رہی تھیں۔پھر وہ زخمی ہوگئی ۔ رانی کشن کنور نے نہ جانے کس طرح اس کو یہاں پہنچایا۔ میں  تو سمجھتی تھی کہ مر جائے گی، مگر اب بھلی چنگی ہے۔ سوچ رہی ہے کہ کسی طرح دلّی سے نکل جائے اور بخت خاں کی فوج میں مل جائے۔رانی کشن کنور کہتی ہیں کہ وہ بھی ساتھ جائیں گی۔
 رام سہائے مل : دیکھو، یہ نہیں ہوسکتا۔ میں اس پر تیار ہوں کہ وہ یہاں چھپی رہیں، اور جب خطرہ نہ رہے تو چپکے سے چلی جائیں۔ یہاں وہ سال بھر تک رہیں ۔ مگر باہر جا کر پھر کہیں لڑائی میں شامل ہوئیں تو تم پکڑی جاؤ گی، اورمجھے تو ضرور پھانسی ہو جائے گی............... اور یوسف میاں کو کیا ہوا؟
بھاگ وتی : سلمیٰ کو کچھ معلوم نہیں۔
رام سہائے مل : اورتم کو معلوم ہوگا تو بتاؤ گی نہیں۔
بھاگ وتی : سنا ہے وہ آخر وقت تک لڑتے رہے۔ اردو بازار میں کسی گورے نے ایک عورت کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اسے جان سے مار دیا۔ اس میں نہ معلوم کتنے پکڑے گئے مگر وہ نہیں تھے۔ کہتے ہیں اب اردو بازار پر گولہ باری ہوگی ۔ ایک مکان بھی کھڑا نہ چھوڑا جائے گا۔
رام سہائے مل : اب پر ماتما بچائے ہم سب کو۔
(ایک عورت گھبرائی ہوئی اندر آتی ہے، اس کے منھ سے بات نہیں نکلتی ۔ پھر ایک ملازم آتا ہے۔)
ملازم : سرکار، دروازے پر چار سپاہی آئے ہیں۔ کہتے ہیں دروازہ کھولو، ہم تلاشی لیں گے۔
رام سہائے مل : میرے گھر میں نہیں آ سکتے۔ میرے پاس امان کا پروانہ ہے۔
ملازم : سرکار، وہ ہماری بات نہیں مانیں گے۔
بھاگ وتی : پروانہ میرے پاس ہے۔ چلو میں دکھا دوں گی۔
رام سہائے مل : تم کہاں جاؤ گی؟
بھاگ وتی : میں نہیں جاؤں گی تو اور کون جائے گا؟ میں نے مشہور کر دیا ہے کہ آپ انگر یز کمانڈروں سے بات چیت کررہے ہیں گھر پر نہیں ہیں۔
رام سہائے مل :  نہیں ، تم بیٹھو، میں جاتا ہوں۔
(بھاگ وتی جلدی سے دِیا بجھا کر بھاگ جاتی ہے۔ رام سہائے مل اندھیرے میں بیٹھا رہتا ہے۔ کچھ دیربعد دائیں طرف سے بھاگ وتی الٹے پاؤں چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چار سپاہی اسے سنگینوں سے دھمکا رہے ہیں ۔ پہلا سپاہی ان کا سردار معلوم ہوتا ہے۔)
پہلا سپاہی : بتا کہاں ہیں وہ دونوں!
بھاگ وتی : (سہمی ہوئی روہانسی ، مگر بہت دبی آواز میں ) یہاں کوئی نہیں چھپا ہے۔
پہلا سپاہی : یہاں دو عورتیں چھُپی ہیں ۔ ہمارے آدمیوں نے ان کو گولی چلاتے دیکھا، پھر وہ بھاگ کر اس گھر میں آتےہوئے دیکھی  گئیں۔ رام سرن اس عورت کو لے جا کر دیوار کے ساتھ کھڑا کرو، باقی تین آدمی فَیر کرو۔
(رام سرن بھاگ وتی کی طرف بڑھتا ہے۔)
رام سہائے مل  :  ارے تم لوگوں کو شرم نہیں آتی۔ ایک بے قصور عورت کو اس طرح مار رہے ہو۔
پہلا سپاہی : اچھا، لالہ جی چھُپے بیٹھے ہیں ، سوچا تھاللائن ہم کو بہلا پھسلا کر رخصت کر دے گی۔ رام سرن! کھڑا کروا نھیں بھی للائن کے ساتھ۔
بھاگ وتی  : (چلّا کر) ا ے مجھے مار ڈالو، انھیں چھوڑ دو! یہ بالکل کچھ نہیں جانتے ! ارے یہ بالکل بے قصور ہیں۔
پہلا سپاہی : اچھا یہ بے قصور ہیں تو تمھیں تو معلوم ہے کہ دونوں عورتیں کہاں چھپی ہیں۔
بھاگ وتی : (ویسے ہی چلّا کر) ارے انھیں چھوڑ دو! ہائے میری قسمت! یہ بالکل بھی نہیں جانتے، ہائے ہائے!
(اسٹیج کے دائیں طرف کے کونے سےسلمیٰ اورکشن کنور اندر آتی ہیں۔)
سلمیٰ : ان دونوں کا پیچھا چھوڑ دو۔ ہم آگئے ہیں ہمیں جو سزا چاہو دے دو۔ سیٹھ صاحب اور ان کی بیوی بالکل بے قصور ہیں۔
پہلا سپاہی :  (سلمیٰ اورکشن کنور کو غور سے دیکھنے کے بعد) مجھے تو تم اسی گھرانے کی عورتیں معلوم ہوتی ہو۔
 کشن کنور : ان دونوں کو چھوڑ دو۔ ہم تمھارے ساتھ چلنے کو تیار ہیں ۔ شہر میں ہزاروں آدمی ہم کو پہچان لیں گے۔
پہلا سپاہی : ہاں، میں تم کو لے کر باہر چلا جاؤں اور اس دوران میں اصلی مجرم نکل جائیں۔
سلمیٰ : تمھاری مرضی، بے گناہوں کا خون کرنا تو تمھارا کام ہی ہے۔
پہلا سپاہی : اچھا تو بتاؤ، کیا نام ہیں تمھارے؟
سلمیٰ : سلمیٰ
کشن کنور : کشن کنور
پہلا سپاہی : تم اپنے جرم کا اقبال کرتی ہو؟
سلمیٰ : ہم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ ہم اپنے ملک کے لیے، اپنے بادشاہ کی طرف سے لڑے ہیں۔
پہلا سپاہی : تم لڑائی میں شریک ہوئی ہو؟
سلمیٰ :  دل و جان سے ہم شریک ہوئے ، ہم نے دوسروں کو لڑنے پر آمادہ کیا۔ ہم مورچوں پر لڑے، ہم نے دشمنوں کو مارا۔
کشن کنور : ہمیں افسوس اس کا ہے کہ اس سے زیادہ نہ کر سکے۔
پہلا سپاہی : تو جاؤ کھڑی ہو جا ؤ دیوار سے لگ کر۔
سلمیٰ  : ہم دیوار سے لگ کر کیوں کھڑے ہوں؟ ہم صحن میں کھڑے ہوں گے اور تمھاری بندوقوں پر ہنسیں گے۔
پہلا سپاہی : تو چلو کھڑی ہو جاو ٔ! اسی بات پر۔
(سلمیٰ اورکشن کنور  بیچ صحن میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ پہلے سپاہی کے اشارے پر تین سپاہی ان سے تین چار قدم ہٹ کر اور ایک گھٹنے کو زمین پر ٹیک کر بندوقیں تانتے ہیں ۔ بھاگ وتی چیخ مار کر سپاہیوں اور دونوں عورتوں کے بیچ میں آ جاتی ہے۔ مگر غش کھا کر گر پڑتی ہے۔ سپاہی بندوقیں تانے رہتے ہیں، مگر انھیں فائر کرنے کا حکم نہیں ملتا۔سلمیٰ کے چہرے پر مسکراہٹ ہے اور وہ بندوقوں کی طرف دیکھتی رہتی ہے ۔ کشن کنور کی نظر آسمان کی طرف ہے، اس کے چہرے پر وجد کی کیفیت ہے۔ سپاہی  فائرنہیں کرتے۔ ایک بارگی پہلا سپاہی گھٹنوں پر جاتا ہے۔)
پہلا سپاہی : (ہاتھ جوڑ کر) ہماری خطا معاف کیجیے۔ ہم صرف اس کا یقین کرنا چاہتے تھے کہ آپ وہی ہیں جنھیں ڈھونڈ کرلانے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا۔
(تقدیر کے اس انقلاب کو برداشت کر ناسلمیٰ اورکشن کنور کے بس میں نہیں ۔کرشن کنور چیخ مار کر گر پڑتی ہے۔سلمیٰ کی آنکھیں چڑھ جاتی ہیں ، ہاتھ پاؤں جواب دے دیتے ہیں اور وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔)
رام سہائے مل : ظالموں! اب کب تک ان بے چاریوں کو ستاؤ گے؟ ارے مارنا ہے تو ایک دفعہ مار دو۔
پہلا سپاہی : (انتہائی ندامت کے انداز میں ) ہم انھیں تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے، ان کے دل کی آرزو پوری کرناچاہتے تھے۔ ہمیں جنرل بخت خاں نے انگریزی فوج کی وردیاں پہنا کر بھجوایا ہے کہ انھیں جلد سے جلد تلاش کر کے ان کے پاس پہنچا دیں ۔ ہم نے ان کو صحیح سلامت نہ پہنچایا تو ہمارے گولی مار دی جائے گی، یا انگریز ہمیں پکڑ کر پھانسی دے دیں گے۔
( بھاگ وتی اس دوران میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے، اورکشن کنور اورسلمیٰ کے منھ پر پانی کے چھینٹے دیتی ہے اور ان کے سر سہلاتی ہے۔)
بھاگ وتی : اٹھو پیاری ، تمھارے بخت خاں نے تمھیں بلایا ہے۔ اپنے پیاروں کا بدلہ لو، اپنے ملک کی آبرو بڑهاؤ!
(آہستہ آہستہ سلمیٰ اورکشن کنور کو ہوش آتا ہے۔ وہ اٹھ کر بیٹھتی ہیں ۔ بھاگ وتی ا نھیں پانی پلاتی ہے۔)
پہلا سپاہی : آپ سے پھر آپ کے قدموں پر گر کر معافی مانگتا ہوں ۔ (سلمیٰ اورکشن کنور مسکرا دیتی ہیں۔) مگر ابھی ایک اور گستاخی کرنا ہے۔ ہم آپ کو شہر کے باہر صرف قیدی بنا کر لے جا سکتے ہیں۔ ہمیں آپ کی مُشکیں کسنا ہوں گی اور گلے میں رسیّاں باندھنا۔
(سلمیٰ اورکشن کنور ایک دوسرے کی طرف دیکھتی ہیں۔ پھر دونوں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ سپاہی جلدی جلدی اُن کی مشکیں کستے ہیں اور گلے میں پھندا ڈالتے ہیں ۔ پھر ایک سپاہی آگے، دو پیچھے اٹینشن ہو جاتے ہیں۔ پہلا سپاہی روانگی کا حکم دیتا ہے۔)

0 comments:

Post a comment

خوش خبری