آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, 26 September 2020

Taleemi Taash is now ALFAAZ - Aaina Special

 تعلیمی تاش نہیں آئیے ”الفاظ“ کھیلیں
مبشرہ منصور
نوٹ: تاش ہمارے معاشرے میں ایک معیوب کھیل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی تمام تر افادیت کے باوجود
تعلیمی تاش کو اس کے نام میں تاش جڑنے کی وجہ سے بہت پسندیدہ نہیں سمجھا گیا ۔ آئینہ نے اس امر کو سنجیدگی سے محسوس کرتے ہوئے اس کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اب الفاظ کے نئے نام کے ساتھ ذہنی ورزش کے اس کھیل کو آن لائن لے کر حاضر ہے۔ 

پیارے بچّو!

پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل بھی ضروری ہے۔ کھیل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جنہیں تم گھر سے باہر اسکول کے میدان اور دوسرے میدانوں میں کھیلتے ہو اور دوسرا وہ جو تم اپنے گھر میں کھیلتےہو۔ گھر میں کھیلا جانے والا کھیل انڈور گیم کہلاتا ہے۔ اور گھر کے باہر کھیلا جانے والا آؤٹ ڈور گیم۔ اب کھیل کی ایک اور قسم آگئی ہے وہ موبائل گیم کہلاتی ہے۔ جس کی جانب بچّوں کا رجحان اب خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں آؤٹ ڈور گیم میں فٹبال، کرکٹ، والی بال، بیڈ منٹن اورباسکیٹ بال وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ یہ کھیل آپ کے جسم کو چاق و چوبند اور متحرک بناتے ہیں۔ اور ان سے آپ کے جسم کی ورزش بھی ہوجاتی ہے اس لیے ان کھیلوں کو صحت و تندرستی کے لیے اچھا مانا جاتا ہے۔ گھریلو کھیلوں میں کیرم بورڈ، لوڈو،  سانپ سیڑھی، لڑکیوں کے لیے گوٹیوں اور اسٹاپو کا کھیل وغیرہ پسندیدہ کھیل ہیں۔ لیکن جب سے موبائل گیم کی شروعات ہوئی ہے سبھی طرح کے کھیل پیچھے ہوتے جارہے ہیں اور موبائل گیمس نے بچّوں کیا بڑوں کے دل و دماغ پر قبضہ جما لیا ہے۔ یہ کھیل آپ کے لیے کتنا نقصاندہ ہیں اس جانب ابھی آپ کی توجہ نہیں گئی ہے۔ اس سے آپ کے ذہن و دماغ میں تیزی تو آتی ہے لیکن اس کا رجحان کس جانب ہے وہ آپ کے ذہن سے بالاتر ہے۔ اس مضمون میں موبائل گیمس کے نقصانات پر بحث مطلوب نہیں بلکہ یہاں آپ کو ہم ایسے کھیل کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جو اب آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جارہا ہے اور بہت سے بچّے تو اب اس کا نام بھی نہیں جانتے۔

پیارے بچّو! جانتے ہو جب ہم چھوٹے تھے تو ہماری تربیت کس طرح کی جاتی تھی۔سب سے پہلے تو ہماری بسم اللہ ہوتی اور پھر ہماری مادری زبان سے ہمارے علمی سفر کا آغاز ہوتا۔ خاندان کے بزرگ پیدائش کے چھٹے دن ہی اپنے دست مبارک سے ہماری قلم چھلائی کی رسم کراتے۔ ہمارا نام رکھا جاتا اور اس کی تفصیل ایک کاپی میں درج کی جاتی۔اس کی برکت تا عمر ہمارے ساتھ رہتی۔ قلم سے لکھی جانے والی ابجد اردو میں ہوتی اور یہی ہماری بنیاد ہوتی۔ عمر کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبان سے رغبت دلانے کا یہ سلسلہ ہمارے بڑے ہونے تک جاری رہتا۔ اس طرح ہم اپنی مادری زبان سے ذہنی اور جذباتی طور پر جڑ جاتے تھے۔ اس کے ساتھ بنیادی مذہبی تعلیم ہمارے کیرکٹر کو اور پختہ بنادیتی تھی پھر شروع ہوتا تھا ہمارے عصری تعلیم کا سلسلہ۔  جس میں انگریزی، ہندی، حساب، سائنس سبھی کچھ شامل تھا اور درجات بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ اور دراز ہوتا جاتا تھا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اس زمانے کی نسل آج کم از کم چار سے پانچ زبانوں سے واقف ہے اور کم از کم وہ تین زبانیں تو اچھی طرح لکھنے، بولنے اور پڑھنے پر قادر ہے۔ لیکن افسوس آج تربیت کی یہ ترتیب اپنا وجود کھو چکی ہے۔ آج جب ایک نئے نصاب تعلیم کی بات چل رہی ہے تو یہ لازم ہے کہ ہم اپنے اس نظام تربیت کو واپس لائیں جس میں مادری زبان کا علم بنیادی حیثیت رکھتا تھا اور باقی نصاب اس سے جڑے ہوئے ہوتے تھے۔ مادری زبان ہماری شخصیت کا حصّہ ہوتی تھی۔ ماؤں  کو چاہیے کہ وہ زبان جو ان کے وجود سے جڑی ہے اس طرح بے یار و مددگار نہ ہو جائے انہیں اردو کو اپنے بچوں کی بنیاد کا حصّہ بنانا چاہیے۔

میں بات کررہی تھی تربیت کے طریقے کی۔ ویب سائٹ  کے پہلے صفحہ پر آپ نے آئینہ کا سلوگن دیکھا ہوگا جس میں صاف لکھا ہے ”ہم اردو پڑھاتے ہیں، ہم تہذیب سکھاتے ہیں“ یعنی ہمارا مقصد صرف آپ کو پڑھانا نہیں بلکہ اپنی تہذیب سے روشناس کرانا بھی ہے۔ اردو کی شدبد ہوتے ہی ہمارے اندر الفاظ سے دوستی کا رجحان بڑھتا جاتا ہے روز ہم نئے نئے الفاظ سیکھتے۔ہمارے بڑے اس میں معاون ہوتے۔ گھر میں کوئی نہ کوئی رسالہ پابندی سے آتا۔ اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ چھوٹے اور بڑے دونوں عمر کے بچّوں کے لیے رسالہ موجود ہو لہٰذا ایک طرف جہاں ہلال ہوتا وہیں دوسری طرف نور بھی ہوتا۔ اس طرح ہمارے اندر پڑھنے کی لگن بچپن سے ہی پڑجاتی۔ اب پڑھنا ہمارا شوق بن چکا ہوتا۔ اسکول کی پڑھائی اپنی جگہ اور کہانیوں کی کتابیں پڑھنا اپنی جگہ۔ افسوس اب یہ رجحان والدین اور بچّوں دونوں میں کم ہوتا جا رہا ہے۔ تب پڑھنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس سے کیا مالی منفعت ہوگی افسوس اب بچّہ کنڈر گارڈن میں ہی ہوتا ہے کہ ہماری نگاہ اس بچّے کی تعلیم میں مستقبل کی مالی منفعت پر ہوتی ہے۔ اسی رجحان نے ہمیں تہذیبی اور علمی طور پر کھو کھلا کردیا ہے۔

میں پھرموضوع سے بھٹک گئی۔ میں آپ کو بتانے جارہی تھا اس کھیل کے بارے میں جو ہماری تربیت کا حصّہ تھا ۔ جب ہم نے حروف کو پہچان لیا تو ہمارے لیے الفاظ کو پہچاننے کی قواعد شروع ہوئی۔ بڑے بھائیوں اور والدین نے ہمارے لیے کہانیوں کی کتابیں لانا شروع کیں۔ وہ جب چھٹیوں میں گھر آتے تو ہم بہن بھائیوں کے لیے تحفے میں کہانیوں کی کتابیں لاتے۔ گھر میں نسیم بکڈپو اور مکتبہ الحسنات کی سبق آموز اور دلچسپ کہانیوں کا ایک ذخیرہ اکٹھا ہو چکا تھا۔ ایک ایک کتاب ہم کئی کئی بار پڑھتے۔ اب الفاظ ہمارے ذہن کا حصّہ بنتے جارہے تھے۔ اب اس میں مزید تنوع لانے اور ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کے لیے ایک ایسے گھریلو کھیل سے روشناس کرایا گیا جو واقعی نہ صرف دلچسپ تھا بلکہ اس نے ہمارے ذہن و دماغ کو جلا بخشی۔ 

اس کھیل کا نام ہے ”تعلیمی تاش“ ۔یہ کھیل تاش کے پتّوں کی طرح کے کارڈس سے کھیلا جاتا ہے  ۔ اس میں الگ الگ پتّوں پر حروف تہّجی لکھے گئے ہیں۔ اس کھیل کو چار سے پانچ یا چھ بچّے ایک ساتھ کھیلتے ہیں۔ حروف پر ابجد کے قاعدے کے حساب سے نمبر لکھے ہوتے ہیں۔ بچّے ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اور ان میں برابر برابر پتّے تقسیم کردیے جاتے ہیں ۔ہر کھلاڑی کے پاس پانچ یا چھ پتّے ہوتے ہیں۔ اتنا ہی پتّہ کھلاڑیوں کے سامنے ہوتا ہے۔ ہر کھلاڑی دوسروں سے اپنے پتّے چھپاکر رکھتا ہے۔ اور پھر ایک کھلاڑی نیچے پڑے پتوں سے اپنے ایک  پتّے کو ملاکر الفاظ بنانے کا سلسلہ شروع کرتا ہے مثلاً کسی کھلاڑی کے سامنے پڑے 6 پتّوں میں ل اور م ہیں اور اس کھلاڑی کے پاس ظ ہے تو وہ اپنی باری آنے پر ظلم بنا سکتا ہے۔ اور پھر بنائے گئے لفظ کے پتّوں کو اپنے پاس ایک طرف رکھ لیتا ہے۔ اور  اس کے بعد وہیں پر پلٹ کر رکھے ہوئے تاش کے پتّوں میں سے ایک خود لیتا ہے اور دو پتے جو وہاں سامنے رکھے پتّوں میں کم ہوئے ان میں ملادیتا ہے۔ اب اس کے داہنی طرف بیٹھے کھلاڑی کی باری ہوتی ہے اور وہ  اپنے کسی ایک پتّے سے وہاں سامنے رکھے پتّوں سے ملاکر کوئی دوسرا لفظ بناتا ہے۔ اگر وہ لفظ نہیں بنا پاتا تو اپنے کسی ایک پتے کو سامنے پڑے پتوں کے ساتھ ڈال دیتا ہے اور پھر اس کے داہنے بیٹھے کھلاڑی کی باری ہوتی ہے اس طرح یہ کھیل دائرے کی شکل میں گھومتا رہتا ہے یہاں تک کے سارے پتّے ختم ہو جاتے ہیں ۔ اب باری  آتی ہے بنائے گئے الفاظ کے پتّوں کے نمبروں کو جوڑنے کی۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ جن حروف کا نمبر 100 اور اس سے زیادہ ہوتا ہے صرف انہیں اعداد کو جوڑا جاتا ہے اس لیے 100 اور اس سے اوپر نمبر والے حروف قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح جس کھلاڑی کے کل نمبر سب سے زیادہ ہوتے ہیں وہی فاتح قرار دیا جاتا ہے۔ اس کھیل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کھیل ہی کھیل میں آپ کا ذخیرۂ الفاظ بڑھتا جاتا ہے ساتھ ہی  حساب بھی مضبوط ہوتا ہے۔ انگریزی میں یہ کھیل اسکریبل کے نام سے جانا جاتا ہے جو اس سے بہت حد تک ملتا جلتا ہے۔ 

تعلیمی تاش کے حروف کے نمبرات جدول ابجد کے حساب سے ہوتے ہیں

ابجد

 ا  ب  ج چ  د
1 2 3 4
ہوز
 ہ و زژ
5 6 7
حطی
 ح  ط ی
8 9 10
کلمن
ک ل م ن
20 30 40 50
سعفص
 س  ع  ف  ص
 60  70  80  90
قرشت
 ق  ر ڑ ش ت
 100  200  300  400
ثخذ
 ث  خ ذ
 500  600 700
ضظغ
ض ظ غ
800 900 1000


بچّوں سے گزارش!

پیارے بچّوں! آپ اپنے علم کا دائرہ سمٹنے نہ دیں۔خوب پڑھیں اور مفید گیم کھیلیں۔ چاہے وہ تعلیمی تاش ہو یا اسکریبل۔ جان بوجھ کر اپنی مادری زبان کو کمتر نہ سمجھیں۔ احساس کمتری سے باہر آئیں۔ یہ زبان کتنی امیر ہے اس کا آپ کو اندازہ نہیں۔ اپنے اندر اس نے کیسے کیسے خزانے چھپا رکھے ہیں اس کا آپ کو ابھی علم نہیں۔ اگر آپ کہانیاں پڑھنے پر آئیں گے تو عربیَن نائٹس اپنی اصل شکل میں عربی و  اردو میں ہی ملے گی۔آپ خوب انگریزی پڑھیں، ہندی پڑھیں، حساب پڑھیں، سائنس پڑھیں لیکن ساتھ ساتھ اردو بھی پڑھیں جو کہ آپ کی ماں کی زبان ہے اور جن سے آپ یقیناً محبت کرتے ہیں۔

اوپر ہم نے حروف کے نمبرات کا قاعدہ درج کیا ہے تاکہ آپ اگر گھر میں تعلیمی تاش بنانا چاہیں تو بنالیں اور اسے اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ کھیلیں۔ اب فیملی چھوٹی ہونے لگی ہے اس لیے آپ دو بھائی بہن بھی اس کھیل کو آسانی سے کھیل سکتے ہیں۔

اور اب والدین سے ایک گزارش!

ہو سکتا ہے اس کھیل کے غیر مقبول ہونے میں اس کے نام میں تاش جیسے لفظ کا شامل ہونا ہو۔ تاش کو ایک ناپسندیدہ اور معیوب کھیل سمجھا جاتا ہے۔ بہتر ہوتا کہ اس وجہ سے اس کھیل کو ترک کرنے کے بجائے اس کا ایک اچھا سا نام تلاش کرلیا جاتا اور ایک بار پھر اس کھیل کی تجدید کی جاتی۔ کاش کوئی اردو کا عاشق اس کھیل کا ایپ بنا دیتا اور بےکار گیمس کی جگہ ایک مفید گیم کا اضافہ ہوجاتا۔  اگر تعلیمی تاش دستیاب ہو تو اسے اپنے بچّوں کو ضرور لاکر دیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچّوں کی تربیت اسی طرح کریں جیسے اُن کے والدین نے اُن  کی کی ہے، یہی اُن کا اپنے والدین کو بہترین خراج عقیدت ہوگا۔

اردو کو اپنی گھریلو تہذیب کا حصّہ بنائیے اور ادب کے اس ذخیرے کو دوام عطا کیجیے۔

اردو کو مالی منفعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے تہذیبی خزانے کی حفاظت کے لیے زندہ رکھیے۔

بھلے اردو کو اپنی عصری تعلیم کا حصّہ مت بنائیے لیکن خدارا اس نعمت کو اپنے گھر سے جانے بھی مت دیجیے۔ 

زبان ایک نعمت ہے اور آپ ایک بہترین زبان کے قدرتی مالک ہیں۔


0 comments:

Post a comment

خوش خبری