آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Friday, February 28, 2014

बंद का बंदरबांट

लेख : हसनैन मुबश्शिर उस्मानी

आज बिहार के लोगों के लिए एक कष्टप्रद दिन था . जो लोग किसी आवश्यकता के तहत ट्रेन यात्रा करने के लिए मजबूर थे उन्हें भाजपा के रेल रोको आंदोलन के कारण गंभीर समस्याओं का सामना करना पड़ा। भाजपा कार्यकर्ताओं ने जहां तहां रेल आवागमन में रुकावट डाली और कई महत्वपूर्ण ट्रेनों को अलग अलग  रेलवे स्टेशनों पर जबरन रोका गया . यात्री बेहाल और परेशान इधर उधर भटकने और बेजा इंतजार के लिए मजबूर कर दिए गए . और यह सब राज्य की जनता की भलाई के नाम पर किया गया . मांग थी कि बिहार को विशेष राज्य का दर्जा दिया जाए ।  हाँ यही मांग नीतीश कुमार भी लम्बे  समय कर रहे हैं लेकिन भला  हो चुनावों का कोई किसी से पीछे क्यों रहे।  नीतीश कुमार  ने 2 मार्च को बिहार बंद का ऐलान किया तो भाजपा ने आज 28 फरवरी को ट्रेन का  चक्का जाम कर दिया . अब इसमें बेचारी जनता  का जो हाल हो । . छात्र परीक्षा दे पाए या न दे पाएं इससे किसी का क्या बिगड़ता है . यात्री अपने गंतव्य तक पहुंचे या न पहुंचे किसी नेता ने यह ठेका तो ले नहीं रखा . यहाँ तो चुनाव से पहले अपनी गोटी चमकानी   है . यह जाताना है कि राज्य सबसे बड़े हितैषी तो बस उनकी ही पार्टी है . विशेष राज्य का दर्जा मिलने के बाद मिलने वाली मदद  में बेचारी जनता का क्या हिस्सा होगा यह सभी जानते हैं . उसे कल भी दो रोटी पाने के लिए अपना खून पसीने की तरह बहाना पड़ता था और उसे भविष्य में भी खून पसीना एक करना है . राज्य में बाढ़ के नाम पर करोड़ों रुपये आते हैं लेकिन प्रभावित लोगों तक कितना पहुँचता  है।
भाजपा के एक नेता ने यात्रियों को एक दिन पहले ही बंद के दिन यात्रा न करने का फरमान जारी कर दिया।  लेकिन उन्होंने यह सोचा कि अगर उन्हें कभी किसी जरूरी काम से बाहर जाना हो और उन्हें घर में बंद रहने की सलाह दी जाए तो उनके दिल पर क्या गुज़रेगी . तथ्य यह है कि इस तरह के बंद से इन नेताओं को  कोई फर्क नहीं पड़ता।  उनके रिश्तेदार और परिवार अपने घरों में ऐश करते हैं।  अब आज ही के बंद कि बात करें किसी भी ट्रेन में कोई नेता या उसके रिश्तेदार इस बंद से होने वाली तकलीफों का  शिकार बनें होंगे । शायद नहीं . दुख और पीड़ा चाहे वह किसी भी रूप में हो वह तो जनता के भाग्य में ही आई है।
विरोध के कई तरीके हैं . इन नेताओं को विरोध करना केजरीवाल से सीखना चाहिए . जिन की   एक आवाज पर लोगों की भीड़ उमड़ पड़ती है . लेकिन इसके लिए ईमानदारी पहली शर्त है ।  भाजपा हो या और कोई भी पार्टी उसके  नेता सर्दियों में चार डिग्री सेल्सियस के तापमान में जनता के लाभ  के लिए खुले आसमान के नीचे सोने की हिम्मत करेगा . नहीं वे तो बस किराए के  प्रदर्शनकारिओं  को लेकर दुकानों के शीशे तोड़ सकते हैं या मजबूर  यात्रियों की आवाजाही में रुकावट पैदा कर सकते हैं।
केजरीवाल ने धरना दिया तो इसका विरोध इतने जोरों पर किया गया  जैसे देश का सारा सिस्टम ठप पड़ गया हो . विशेष आदेश जारी कर मेट्रो का आवागमन रोक दिया गया  . हालांकि उन प्रदर्शन  करने वालों का उद्देश्य आम लोगों को तकलीफ पहुंचाना कतई नहीं था . केजरीवाल के विरोध में लोगों की भीड़  शामिल रही लेकिन कभी आम आदमी का रास्ता नहीं रोका गया ।  किसी तरह की कोई बदअमनी पैदा करने की कोशिश नहीं की गई ।  दूसरी पार्टियों को केजरीवाल का विरोध करने के बजाय उनसे सीखने की जरूरत है कि कैसे आम नागरिकों को असुविधा पहुंचाए बिना उन्हें अपने प्रदर्शन का हिस्सा बनाया जाता है ।  लेकिन इसके लिए जनता का अपने नेताओं पर भरोसा होना चाहिए जो कि शायद अब नहीं है।  यही कारण है कि यह दल अपने विरोध को सफल बनाने के लिए अराजकता का सहारा लेना जरूरी समझते  हैं।  महाराष्ट्र में इस तरह के बंद के खिलाफ अदालत ने कुछ कड़े फैसले लिए थे जरूरत है कि इस तरह के बंद से होने वाले नुकसान का हर्जाना  बंद की अपील करने वाली पार्टियों से प्राप्त किया या कम से कम जनता ही अगले चुनाव में इन पार्टियों से पांच साल तक होने वाली तकलीफों का हिसाब बराबर कर लें अब गेंद जनता के पाले में है ।

यह भी देखें : साले को खूब दौड़ाया 

بند کا بندر بانٹ

تحریر: حسنین مبشر عثمانی 

آج بہار کے لوگوں کے لئے ایک پریشان کن دن تھا۔وہ  لوگ جو کسی نہ کسی ضرورت کے تحت ٹرین کا سفر کرنے کے لئے مجبور تھے انہیں بی جے پی کے ریل روکو آندولن کی وجہ سے شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔بی جے پی کے کارکنوں نے جہاں تہاں ریل کی آمد و رفت میں رخنہ ڈالا اور کئی اہم ٹرینوں کو الگ الگ ریلوے اسٹیشنوں پر زبردستی روکا گیا۔مسافر بے حال و پریشان ادھر ادھر بھٹکنے کے لئے اور بے جا انتظار کے لئے مجبور کردیے گئے۔ اور یہ سب کچھ ریاست کے عوام کی بھلائی کے نام پر کیا گیا۔مطالبہ تھا کہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دیا جائے۔جی ہاں یہی مطالبہ نتیش کمار بھی ایک عرصے سے کر رہے ہیں لیکن بھلا ہو انتخابات کا کوئی کسی سے پیچھے کیوں رہے ۔نتیش نے 2 مارچ کو بہار بند کا اعلان کیا تو بی جے نے آج ۲۸ فروری کو ہی ٹرین کا چکہ جام کردیا۔اب اس میں بے چارے عوام کا جو حال ہو۔ طلبہ امتحان دے پائیں یا نہ دے پائیں اس سے کسی کا کیا بگڑتا ہے۔مسافر اپنی منزل تک پہنچے یا نہ پہنچے کسی لیڈر نے یہ ٹھیکہ تو لے نہیں رکھا۔یہاں تو انتخابات سے قبل اپنی گوٹی چمکانا ہے۔یہ ظاہر کرنا ہے کہ ریاست کے سب سے بڑے خیر خواہ تو بس ان کی ہی پارٹی ہے۔ خصوصی ریاست کا درجہ ملنے کے بعد حاصل ہونے والی مراعات میں بے چاری عوام کا کیا حصہ ہوگا اس سے سب واقف ہیں۔ اسے کل بھی دوروٹی پانے کے لئے اپناخون پسینے کی طرح بہانا پڑتا تھا اور اسے مستقبل میں بھی اپنی خون پسینہ ایک کرنا ہے۔ریاست میں سیلاب کے نام پر کروڑوں روپے آتے ہیں لیکن متاثرہ لوگوں تک اس کا کتنا حصّہ پہنچتا ہے۔
بی جے پی کے ایک لیڈر نے مسافروں کو ایک دن قبل ہی بند کے دن سفر نہ کرنے کا فرمان جاری کردیا۔  لیکن کیا انہوں نے یہ سوچا کہ اگر انہیں کبھی کسی ضروری کام سے باہر جانا ہو اور انہیں گھر میں بند رہنے کا مشورہ دیا جائے تو ان کے دل پہ کیا گزرے گی۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے بند سے ان لیڈروں کی ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان کے رشتہ دار اور اہل خانہ اپنے گھروں میں عیش کرتے ہیں۔ اب آج ہی کے بند کو لیں کیا کسی بھی ٹرین میں کوئی لیڈر یا اس کا رشتے دار اس بند سے ہونے والی صعوبتوںکا شکار بنا ہوگا۔شاید نہیں۔دکھ اور تکلیف خواہ وہ کسی قسم کی ہو وہ تو عوام کے مقدر میں ہی آئی ہے۔
احتجاج کے بہت سے طریقے ہیں۔ان لیڈروں کو احتجاج کرنا کیجریوال سے سیکھنا چاہئے۔جس کی ایک آواز پر لوگوں کی ایک بھیڑ امنڈ پڑتی ہے۔ لیکن اس کے لئے ایمانداری پہلی شرط ہے۔کیا بی جے پی ہو یا اور کوئی بھی پارٹی اس کا لیڈر سردیوں میں چار ڈگری سیلسیس  کے درجہ حرارت میں خالص عوامی فائیدے کے لئے کھلے آسمان کے نیچے سونے کی ہمت کرے گا۔ نہیں یہ لوگ تو بس کرائے کے احتجاجیوں کو لے کر دوکانوں کے شیشے توڑ سکتے ہیں یا مظلوم مسافروں کی آمدو رفت میں رخنہ پیدا کر سکتے ہیں۔
کیجریوال نے دھرنا دیا تو اس کی مخالفت اتنے زوروں پہ کی گئی جیسے ملک کا سارا نظام ٹھپ پڑگیا ہو۔خصوصی حکمنامہ جاری کر میٹرو کی آمد و رفت معطل کردی گئی ۔حالانکہ ان احتجاج کرنے والوں کا مقصد عام لوگوں کو تکلیف پہنچانا ہرگز نہیں تھا۔کیجریوال کے احتجاج میں لوگوں  کا جم غفیر شامل رہا لیکن اس نے کبھی عام آدمی کا راستہ نہیں روکا۔ کسی طرح کی کوئی بد امنی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔دوسری پارٹیوں کو کیجریوال کی مخالفت کرنے کے بجائے ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح عام شہریوں کو تکلیف پہنچائے بغیر انہیں اپنے احتجاج کا حصہ بنایا جاتا ہے۔لیکن اس کے لئے عوام کو ان لیڈروں  پربھروسہ ہونا چاہئے جو شائد اب نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ پارٹیاں احتجاج کو کامیاب بنانے کے لئے لاقانونیت کا سہارا لینا ضروری سمجھتی ہیں۔مہاراشٹر میں اس قسم کے بند کے خلاف عدالت نے کچھ سخت فیصلے لئے تھے ضرورت ہے کہ اس قسم کے بند سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ بند کی اپیل کرنے والی پارٹیوں سے وصول کیا جائے یا کم از کم عوام ہی آئندہ انتخابات میں ان پارٹیوں سے  پانچ سال تک ہونے والی تکلیفوں کاخراج وصول کرلیں۔ 

تصویر: بہار کی راجدھانی پٹنہ میں مٹھی بھر لوگوں نے ٹرین کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

دیکھیں: سالے کو خوب دوڑایا

آئینہ The mirror

بہت جلد ہم پیش کریں گے

"حقیقی جمہوریت کی جانب"

Towards the  True  democracy

حسنین مبشر عثمانی کی خصوصی تحریر 

Wednesday, February 26, 2014

آخر یہ سلسلہ کہاں ختم ہوگا؟


سلمان خورشید نے ایسا کیا کہا کہ بی جے پی لیڈر شپ تلملا سی گئی۔ایک لفظ نے بی جے پی کے لیڈروں کو ایک زبان میں سلمان خورشید کے خلاف بولنے پر مجبور کردیا۔اس لفظ میں ایسی کون سی خاص بات ہے جس نے بی جے پی کی مردانگی کو للکار دیا۔آئیے دیکھیں کہ آخر پورا معاملہ ہے کیا۔
خبروں کے مطابق اپنے پارلیمانی حلقے فرخ آباد میں مرکزی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے منگل کو نریندر مودی کو ' نامرد ' کہا تھا . انہوں نے یہ تبصرہ گجرات میں 2002 میں ہوئے گودھرا سانحہ کو لے کر کیا . انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنے والا کیوں 2002 میں فسادات کے دوران کچھ نہیں کر پایا . انہوں نے کہا ، ' ہم تمہیں ( مودی ) لوگوں کے قتل کا ملزم نہیں کہتے . ہمارا الزام ہے کہ تم ’’نَپنسک‘‘( نامرد )ہو . تم قاتلوں کو روک نہیں سکے۔‘
اب سلمان خورشید کے اس بیان پر بی جے پی چراغ پا ہے۔سوشل میڈیا پر حریفین کے درمیان تلخ کلامی کا بازار گرم ہے۔شرم و حیا طاق پر رکھ دی گئی ہے۔ سلمان خورشید کا بیان کس سیاق وسباق میں ہے اسے لوگ بھول گئے ہیں بس اس لفظ کے لغوی معنی پر دشنام طرازی کا سلسلہ دراز ہو رہا ہے۔ لفظ کی تشریح حریفین کی جانب سے کی جارہی ہے۔ایک دوسرے کے پاجامے اتارے جارہے ہیں۔
آخر ہندوستانی سیاست کو اس  پستی میں لے جانے کے لئے ذمہ دار کون ہے؟شہزادہ،صاحبزادے وغیرہ وغیرہ سے گزرتے ہوئے الفاظ پستی میں گرتے چلے جارہے ہیں۔بیانات کو اصل پس منظر میں دیکھنے کے بجائے الفاظ کو معنے پہنائے جارہے ہیں۔ بات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں طول دیا جارہا ہے۔آخر نقصان کس کاہے۔جہاں یہ برا ہے کہ ایک ذومعنی لفظ کا استعمال کیا گیا وہیں اس سے برا یہ ہے کہ اس ذومعنی لفظ کو صرف ایک ہی معنی میں ڈھال دیا جائے۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

سہارا شری کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری

: سپریم کورٹ نے سہارا گروپ کے سربراہ سبرت رائے کے خلاف غیر - ضمانتی وارنٹ جاری کیا ، کیونکہ وہ گروپ کی دو کمپنیوں کی طرف سے سرمایہ کاروں کو 20 ہزار کروڑ روپے لوٹانے کے عدالتی ہدایات پر عمل نہیں کرنے سے متعلق معاملے میں عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ 
خبروں کے مطابق جسٹس كےایس رادھا کرشنن اور جسٹس جےایس كھهڑ کی بینچ نے کہا ، ہم نے منگل کو ہی سبرتو رائے کو ذاتی طور پر پیش ہونے سے چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تھا . وہ آج بھی پیش نہیں ہوئے ہیں اور ہم غیر - ضمانتی وارنٹ جاری کر رہے ہیں ، جس کی تعمیل 4 مارچ تک ہونی ہے . اس معاملے کی سماعت شروع ہوتے ہی رائے کی طرف سے سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے ججوں کو بتایا کہ 95 سالہ ماں کی خراب صحت کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش ہونے کے قابل نہیں ہیں . اس پر ججوں نے کہا ، اس کورٹ کے ہاتھ بہت لمبے ہیں . منگل کو ہی ہم نے ذاتی پیشی سے چھوٹ دینے کا آپ کی درخواست مسترد کردی تھی . ہم غیر - ضمانتی وارنٹ جاری کریں گے . یہ ملک کی عدالت عظمی ہے . ججوں نے کہا ، کل ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہم ذاتی پیشی سے آپ کو چھوٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں . اگر دوسرے ڈائریکٹر پیش ہو سکتے ہیں تو پھر آپ کیوں نہیں ؟ عدالت نے سرمایہ کاروں کو 20 ہزار کروڑ روپے لوٹانے کے حکم پر عمل نہیں کئے جانے کی وجہ سے 20 فروری کو سہارا گروپ کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے سبرت رائے کے ساتھ ہی سہارا انڈیا ریئل اسٹیٹ كارپ لمیٹڈ اور سہارا انڈیا ہاؤسنگ انوسٹمینٹ كارپ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز روی شنکر دوبے ، اشوک رائے چودھری اور وندنا بھارگو کو سمن جاری کیے تھے۔

Tuesday, February 25, 2014

میں مصور ہوں

آئینہ اپنے قارئین کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی تخلیقات شائع کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے ۔آپ بھی بلا تکلف اپنے بچوں کی کاوش ہمیں بھیجیں ۔بھیجنے کا پتہ:
 merinazar2013@gmail.com

اقصیٰ عثمانی ، درجہ دوم، خدیجة الکبریٰ گرلس پبلک اسکول، نئی دہلی
















मूंग फली ही सही . ........


चुनाव का आगमन आगमन है  , रैलियां , बैनर और प्रचार का बाजार गरम   है . राजनीतिक दलों की तिजोरिओं का  मुंह खुला है , जनता से लूटा   गया धन का कुछ हिस्सा आम लोगों पर खर्च किया जा रहा है . इस से  कुछ भला आम आदमी का भी हो रहा है . पेनटिंग , होर्डिंग , मंच , झंडा , टोपी इतियादी  बनाने का काम जोर और शोर से जारी है . चुनावी सभाओं में भीड़ लगाने के लिए कोई न कोई पार्टी कुछ घंटों के लिए ही सही उन्हें रोजगार दे रही है . गरीब जनता का चूल्हा जल रहा है .
 जनता पुरानी बातें भूल जाती  हैं , इसलिए जनता को फिर से मूर्ख और कुछ झूटे सच्चे वादों के बीच कुछ न कुछ काम  भी देखने  में आ रहा है , जैसे नालियों की सफाई , थूक  से ही सही मगर टूटी फूटी  सड़कों की मरम्मत  है
इन चार महीनों के बाद किसी पार्टी की सरकार बन जाएगी और जनता के चार महीने बहार के बाद शुरू होगा पंचवर्षीय सूखा  और संसद तक पहुंचने वाले नेताओं का पंचवर्षीय वसंत .
 फिर  वही घपले और मातृभूमि को लूटकर निजी तिजोरी भरने का दौर .
मेरा मानना ​​है कि जितना भार  एक चुनाव कराने में देश पर पड़ता बे इससे कई गुना अधिक इन  नेताओं के घपलों और निजी तिजोरियां भरने में एक दूसरे से आगे निकल जाने की होड़ से पड़ता है तो इससे अच्छा यह नहीं कि एक चुनाव बाद अगला चुनाव आता रहे और मूंगफली या कम से कम एक कप चाय ही सही लोगों को भी  कुछ न कुछ  मिलता रहे .

نشتر

مونگ پهلی ہی سہی. ........

الیکشن کی آمد آمد ہے، ریلیاں،  بینرس اور پروپیگنڈہ کا بازار گرم ہے. سیاسی پارٹیوں کی تجوریوں کا منہ کهلا ہے، عوام سے لوٹی گئی دولت کا کچھ حصہ عوام پر خرچ کیا جا رہا ہے. جس سے کچھ نہ کچھ بهلا عام آدمی کا بھی ہورہا ہے. پنٹنگ ،  ہورڈنگ ، اسٹیج،  جھنڈا ، ٹوپی وغیرہ بنانے کا کام زور و شور سے جاری ہے. انتخابی جلسوں میں بھیڑ لگانے کے لئے کوئی نہ کوئی پارٹی کچھ گھنٹوں کے لئے ہی سہی انہیں روزگار دے رہی ہے۔ غریب عوام کا چولہا جل رہا ہے. 
 عوام پرانی باتیں بهول جاتے ہیں، لہٰذا عوام کو پهر سے  بیوقوف بنانے اور کچھ جهوٹے سچے وعدوں کے بیچ کچھ نہ کچھ کام بهی دیکهنے میں آرہا ہے، جیسے نالیوں کی صفائی،  تهوک سے ہی سہی مگر کی جانے والی سڑکوں کی مرمت. 
ان چار مہینوں کے بعد کسی نہ کسی پارٹی کی حکومت بن جائے گی اور عوام کی چار ماہ کی بہار کے بعد شروع ہوگا پنچ سالہ موسم خزاں اور پارلیمنٹ تک پہنچنے والے لیڈروں کا پنچ سالہ موسم بہار.
 پهر وہی گهپلے اور مادر وطن کو لوٹ کر ذاتی تجوری بهرنے کا دور۔
میرا ماننا ہے کہ جتنا وزن ایک الیکشن کرانے میں ملک پر پڑتا بے اس سے کئی گنا زیادہ ان لیڈروں کے گهپلوں اور ذاتی تجوریاں  بهرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی ہوڑ سے پڑتا ہے تو کیا اس سے اچھا یہ نہیں کہ ایک الیکشن کے بعد دوسرا الیکشن آتا رہے اور مونگ پھلی یا کم از کم ایک کپ چائے ہی سہی عوام کو بهی  کچھ نہ کچھ ملتارہے. 

Monday, February 24, 2014

صفائی نصف ایمان ہے !


कूड़ा सड़क पर न फेंकें


खुद को बदलें देश बदले गा

किसी भी तरह के विरोध, या मांग के लिए बंद का आह्वान करना और फिर इसे सफल साबित करने के लिए पार्टी के ज़रिए जिन नागरिकों के अधिकारों की लड़ाई लड़ने का दावा है, उन्हीं लोगों की गाड़ियां तोड़ने, दुकानों के शीशे तोड़ना और टायर जलाकर रास्ता बंद करना जिससे कोई मरीज़ अस्पताल तक न  न पहुंच पाए, कैसा है? यह असंवैधानिक और उनके मौलिक अधिकारों का उल्लंघन नहीं? अपनी राय दें:


Sunday, February 23, 2014

میں مصور ہوں



آئینہ اپنے ننھے قارئین کے لئے مصوری کا ایک خاص صفحہ لے کر آیا ہے۔آئینہ کے ننھے مصور اپنی تخلیقات ہمیں بھیجیں۔ہم ان کے نام اور پتے کے ساتھ شائع کریں گے


کے پتے پر ای میل کریں۔ merinazar2013@gmail.com آپ اپنی پینٹنگس

احمد ماحی عثمانی، ڈینوبلی اسکول،،جھریا، دھنباد 

آج وھاٹس ایپ کا سرور ڈاؤن ہوگیا۔!

 کل ہم نے گوگل کے ڈاؤن ہونے کی خبر دی تھی  آج وھاٹس ایپ کے ڈاؤن ہونے کی خبر آگئی۔
حال ہی میں فیس بک اور  وھاٹس ایپ  کے درمیان ڈیل ہوئی تھی ، جس میں فیس بک نے  وھاٹس ایپ  کو خرید لیا تھا . ابھی ڈیل ہوئے 3 دن ہی گزرے تھے کہ  وھاٹس ایپ کا سرور ڈاؤن ہو گیا جس سے دنیا بھر کے تقریبا 450 ملین یوزرس کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا . کچھ لوگ اپنے دوستوں سے  وھاٹس ایپ  پر رابطہ نہیں کر پا رہے تھے ، تو کچھ کا 
کہنا تھا کہ ان کے پیغام نہیں جا رہے ہیں . 

آئینہ نے کل گوگل کے سرور ڈاؤن ہونے اور اس کی جگہ یاہو کے لینے پر جن خدشات کا اظہار کیا تھا جو درست ثابت ہوئے۔بڑی کمپنیوں کے درمیان بلین ڈالرس کی ڈیل کو لے کر شروع ہونے والی چپقلش خطرناک رخ اختیار کرے اس سے پہلے ہی  ان کمپنیوں کو درمیانی راستہ تلاش کر لینا چاہئے ورنہ مسابقت کی اس جنگ میں صارفین کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ بہت سارے یوزرس کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اس ڈیل کو بریک کر دینا چاہئے۔

وھاٹس ایپ  نے ٹوئٹر پر لکھا تھا ، " ہمیں افسوس ہے کہ سرور ڈاؤن ہونے کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے . ہم جلد ہی اسے درست کر لیں گے اور آپ پھر سے سہولت کا لطف اٹھا پائیں گے ۔‘‘ 
تاہم، آج ایک ٹویٹ کے ذریعے واٹسےپ نے کہا کہ پیغام رسانی سروس میں آئی اس خرابی کو دور کر دیا گیا ہے . وھاٹس ایپ  نے اپنے ٹویٹ میں کہا ، " وھاٹس ایپ  کی سروسز کو صحیح کر دیا گیا ہے . سرور ڈاؤن ہونے سے آپ کو ہوئی پریشانی کے لئے ہمیں افسوس ہے۔‘‘

خود کو بدلو دیش بدلے گا

کسی بهی  طرح کے احتجاج ، یا مطالبہ کے لئے بند کا اعلان کرنا اور پهر اسے کامیاب ثابت کرنے کے لئے پارٹی  کے زریعہ جن شہریوں کے حقوق کی لڑائی لڑنے کا دعویٰ ہے،  ان ہی شہریوں کی گاڑیاں توڑنا، دکانوں کے شیشے توڑ نا اور ٹائر جلا کر راستہ بند کرنا جس سے کوئی اسپتال بهی نہ پہنچ پائے، کیسا ہے؟ کیا یہ غیر آئینی اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟  اپنی رائے دیں

اسے معصومیت کہوں یا تیری ادا!

ہم سب حساس لوگ ہیں جیسے ہی  معلوم ہوا کہ یکم مارچ کو سی بی ایس ای کا امتحان ہے تو میں نے بہار بند کی تاریخ میں تبدیلی کرکے یکم مارچ کے بدلے دو مارچ کردیا. 

نیتیش کمار. 'وزیر اعلیٰ، بہار'

साले को खूब दौड़ाया

लेख : हसनैन मुबश्शिर उस्मानी

आज मुझे नानी  अम्मा के बगल में लेटकर सुनी गई वो कहानी याद आ रही है कि एक  तोते के मालिक किसी वजह से अपने तोते से नाराज था  और उसे सज़ा देना चाहता था . आखिर उसने उसे सजा देने का एक निराला तरीका निकाला . उसने सोचा आज मैं इस बदतमीज तोते को खूब दोड़ाउंगा  , इसलिए उसने तोते का पिंजरा उठाया और इसे लेकर खूब दौड़ा और जब थक हार कर बैठा  तो बोला " साले को खूब दौड़ाया . "
हाँ यही हाल हमारे राजनेताओं का है . अब बिहार के मुख्यमंत्री नीतीश कुमार को ही देखिए . बिहार को विशेष राज्य का दर्जा दिए जाने की मांग पर मुख्यमंत्री ने दो मार्च को बिहार बंद का ऐलान किया है . जरा सोचिए इस बिहार बंद से किसको कितना नुकसान किसको कितना लाभ  होगा . यह सही है कि मुख्यमंत्री अपने मांग में उचित है लेकिन अगर सरकार खुद ही बंद का ऐलान करेगी तो इससे राज्य को कितना नुकसान होगा  समीक्षक  बताते हैं कि एक बार बंद में सरकार को करोड़ों रुपये का नुकसान होता है इस पर यह भी  आवश्यक नहीं है कि केंद्र उनकी बात मान ले तो इस तरह वह कहावत भी सच हो जाएगा कि कड़की में आटा गीला  यानी न तो राज्य को विशेष राज्य का दर्जा मिल कर कर कोई वित्तीय लाभ  होगा  और उल्टे राज्य का जो नुकसान होगा सो अलग  .
. बंद चाहे सरकार हो या भाजपा की ओर से . दोनों ही स्थिति में सबसे अधिक परेशानी आम आदमी को उठानी पड़ेगी . चाहे 28  फरवरी भाजपा के रेल रोको आंदोलन हो या 2  मार्च को नितीश कुमार  का बिहार बंद   बीच में कुचल जाएगा तो आम आदमी . बंद के दौरान सार्वजनिक जीवन कैसे प्रभावित होता  है इसका अंदाजा नहीं लगाया जा सकता . आज असंवेदनशीलता  जो आलम है बंद से  अपना नुकसान होने के अतरिक्त और कोई लाभ  नहीं .
कोई भी बंद आम नागरिकों के लिए बवाल जान बन  जाता है . लोग अपने घरों में कैद हो जाते हैं . सबसे परेशानी मरीजों को होती है जिनका  अस्पताल पहुंचना मुश्किल हो जाता है बंद समर्थक बिना  भेद भाव बाजारों में दुकानों के शीशे तोड़ते नजर आते हैं और हिंसा का बाजार गर्म नज़र आता है लेकिन कोई भी ठंडे दिल से यह नहीं सोचता कि इस कदम से नुकसान किसका हो रहा है क्या सरकार के कानों पर इन सबसे ज्यों  रेंगने  वाली है या उन का  जिनकी भलाई का बीड़ा उसने उठा रखा है 
मुख्यमंत्री नीतीश कुमार ने कहा है कि उन्होंने पहली मार्च को यूपीएससी की परीक्षा होने के कारण दो मार्च की तारीख रखी लेकिन नीतीश जी आम आदमी के लिए जरूरी काम सिर्फ एक दिन नहीं होता उन के लिए एक एक पल इतना ही कीमती होता है. वह दिन भर काम करता है तो अपने बच्चों को दो वक्त की रोटी खिला  पाता है
वैसे तोते को पिंजरे में लेकर दौड़ाने में कोई किसी से पीछे नहीं हाँ अभी दिल्ली में पिछले डेढ़ महीने तक कांग्रेस केजरीवाल सरकार को पिंजरे में लेकर दौड़ती ही तो रही इस दौड़  में थक कौन गया  हमें  बताने कि जरूरत नहीं
चुनाव के आगमन के साथ ही हर राजनीतिक दल के हाथ में एक पिंजरा नज़र आ रहा है  जो बंद तोते को लेकर दौड़ लगा रहे हैं भाजपा भी किसी से पीछे नहीं अब देखना है चुनाव  तक कौन कितनी दौड़ लगाता है और इससे ' तोते ' को कितना नुकसान पहुंचता है  

Friday, February 21, 2014

میں مصور ہوں ۔ اسریٰ عثمانی

آج ہم لائے ہیں ایک  خوبصورت پینٹنگ۔ پینٹنگ کے اس طرز کو ٹیکسچر پینٹنگ کہا جاتا ہے۔اس پینٹنگ کو 
اسکیچ کی مدد سے بنایا جاتا ہے۔اور اس میں پینٹنگ سے زیادہ ڈیزائننگ پر توجہ دی جاتی ہے۔


کیا هندوستانی راج مستری کسی سے کم ہیں!


 یہ ہیں سورج پور،  دیوریا کے شہری رادهے شیام یادو ، پیشے سے راج مستری ، اور یہ ماہر ہیں بلڈنگ لفٹنگ تکنیک کے.  ان کا نیا کارنامہ ہے اندر کمار جالان کے دو منزلہ مکان کو سڑک سے چار فٹ اوپر اٹھانا جسکے بعد ان کا مکان سڑک کے پانی سے محفوظ  ہو گیا. جالان  کا مکان  غلہ منڈی، رستم پور میں ہے. اس مکان کو اٹھا نے میں چار سو جیک  اور پچیس مزدور لگے ہیں.  رادهے شیام جی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ تکنیک  اپنے چچا مان چند سے سیکهی ہے، جنہوں نے سب سے پہلے یہ کام ہریانہ کے جمنا نگر میں شروع  کیا. گورکھپور سمیت پوروانچل میں اب تک اس تکنیک سے وہ سو سے زیادہ مکان اوپر اٹھا چکے ہیں. اس تکنیک میں مکان کو  تین فٹ تک اوپر اٹھانے میں 150 روپئے فی مربع فٹ خرچ آتا ہے.
 آخر وہ کرتے کیا ہیں جسے دیکھ کر بڑے بڑے قابل انجینئر بهی حیران رہجائیں . اس تکنیک میں سب سے پہلے  مکان کی بنیاد کے قریب  یہاں وہاں تین سے چار فٹ گہرا گڑھا کهودا جاتا ہے. پهر بنیاد کی دیوار کو کئی جگہوں سے کهول کر اس میں جیک لگایا جا تا ہے، چونکہ مکان کا وزن زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے گھر کے نیچے لوہے کے اینگل کا جال بچھا یا جاتا ہے جسکا وزن جیک پر ہوتا ہے . پهر مکان میں لگے سبھی جیک کو ایک ایک سنٹی میٹر کر کے برابر سے اٹھا یا جاتا ہے. ایک اونچائ تک اٹهنے کے بعد خالی جگہوں پر اینٹ کی جوڑائی کر مکان کا وزن بنیاد پر لے لیا  جاتا ہے پهر اینگل اور  جیک نکال کر باقی جگہوں کو بھی اینٹ سے بند کر دیا جاتا ہے، لیجیے مکان اونچا ہو گیا. اور حیران نہ ہوں اس تکنیک سے مکان  کو کهسکا یا بهی جا سکتا ہے۔

Thursday, February 20, 2014

رانچی کے انوکھے سمندری بالک

آپ نے جل پریوں کی کہانی تو سنی ہوگی جی ہاں یہ ایک ایسی مخلوق ہے جس کا اوپری جسم انسان اور نچلا دھڑ مچھلی کا ہوتا ہے۔ لیکن اب یہ صرف قصے اور کہانی کی باتیں ہوکر رہ گئی ہے۔ حقیقی دنیا میں اس وقت رانچی کے ان دوبچوں کا ذکر زوروں پر ہو رہا جو اپنی سارا وقت پانی کے اندر گزارتے ہیں۔  جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم کے ڈوبرو باسا گاؤں میں یہ دونوں بچے چوبیس گھنٹے پانی میں ہی رہتے ہیں . وہ پانی میں ہی کھاتے پیتے ہیں اور پانی میں ہی سوتے  جاگتے ہیں . یہاں تک کہ یہ بچے اپنی ضروریات بھی پانی میں ہی  پوری کرتے ہیں . خاص بات یہ کہ پانی کے باہر نکالتے ہی یہ بچے مچھلی ۔کی طرح تڑپنے لگتے ہیں . بتایا جاتا ہے کہ رانچی کے اخبار پانی میں رہنے والے ان بچوں کی خبروں سے بھرے پڑے ہیں .

یہ دونوں بچے اسی گاؤں میں رہنے والے مادھو سوي کے بیٹے ہیں . پانچ سال کا روہت سوي اور تین سال کی منگل سوي  کا معاملہ میڈیکل سائنس کے لئے تعجب کا موضوع بنا ہوا ہے . جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی واقع راجیندر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( رمس ) کے ڈاکٹر ان بچوں پر ریسرچ کر رہے ہیں ۔

ان بچوں کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایكٹوڈرمل ڈسپلیسيا نام کی بیماری سے متاثر ہیں . ان کے جسم میں پسینے کو باہر نکالنے والی مسام نہیں ہیں ، لہذا ان کے جسم کا درجہ حرارت بہت زیادہ رہتا ہے اور وہ پانی میں رہنا پسند ۔  کرتے ہیں . یہی وجہ ہے کہ پانی سے باہر نکالتے ہی دونوں بچے بے چین ہو جاتے ہیں۔ان کا علاج رانچی میں ہی چل رہا ہے۔

وھاٹس ایپ ہوگا فیس بُک کی ملکیت

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک نے موبائل میسیجنگ کی دنیا میں تہلکہ مچانے والی سروس وھاٹس ایپ کو خریدنے کافیصلہ کیا ہے۔  مارک زكربرگ کی کمپنی فیس بک کی طرف سے یہ اب تک کا سب سے بڑا سودا ہو گا . یہ سودا19 ارب ڈالر نقداور باقی حصص کے ذریعے کیا جائے گا  ۔
اس حصول میں فیس بک 4 ارب ڈالر نقد ، تقریبا 12 ارب ڈالر کے حصص اور 3 ارب ڈالر کی محدود اسٹاک یونٹ دے گا . اس سے فیس بک کو وهاٹس ایپ کے 45 کروڑ سے زیادہ صارف مل جائیں گے جن میں سے بڑی تعداد میں نوجوان ہیں .
فیس بک نے ایک بیان میں اس سودے کو مہارت اور انٹرنیٹ خدمات کے ذریعے رابطے بڑھانے کے فیس بک اور وهاٹس ایپ کے مشترکہ مشن کے مطابق بتایا ہے .۔
فیس بک نے کہا ہے کہ یہ اس کا اب تک کا سب سے بڑا حصول ہے اور اس کا اثر وهاٹس ایپ کے معیار پر نہیں ہو گا . ۔
۔کمپنی کا ہیڈکوارٹر بھی کیلی فورنیا کے ماؤنٹین ویو میں رہے گا
وضح رہے کہ وھاٹس ایپا اس وقت نوجوانوں کے رابطے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ سروس ابھی مفت فراہم کی جاتی ہے اور کمپنی نے ایک سال مکمل ہونے پر اس سروس کے لئے ایک شرح مقرر کی تھی۔ اب دیکھنا ہے فیس بک اس سروس کو اسی طرح جاری رکھتا ہے یا اسے اپنی مالی منفعت کے لئے کمر شیلائز کرتا ہے۔۔

Wednesday, February 19, 2014

با با کے ٹھمکے

 کامیڈی اداکار سنیل گروور کا نیا شو میڈ ان انڈیا کا آغاز چٹکی کے ساتھ بابارام دیو کے ٹھمکوں سے ہوا۔ جی ہاں اس سیریل کے پہلے شو میں بابا نے چٹکی کے ساتھ خوب ٹھمکے لگائے۔ بابا کے یوگ کا یہ نیا روپ ان کے چاہنے والوں کےلئے بھی نیا تھا۔ ویسے بابا ایک بار رام لیلا میدان سے ساڑی میں ناری کا بھیس بدل کر پولس کو چکمہ بھی دے چکے ہیں۔ اب شو کو چوٹی پر لے جانے کے لئے کچھ تو کرنا ضروری تھا اس لئے اس شو کا آغاز بابا رام دیو کی رقص کے ساتھ ہوا . دراصل ،  بابا رام دیو اس شو کے پہلے مہمان بنے اور انہوں نے اس شو کا خوب لطف اٹھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ  شو کا سب سے پہلا گیسٹ ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کو بننا تھا لیکن شاید بابا کے آشیرواد کو  شو کے لئے ضروری سمجھا گیا . بابا رام دیو نے چٹکی کے شو کو نمبر ون شو ہونے کا نہ صرف آشیر واد دیا بلکہ چٹکی کے ساتھ ڈانس کا لطف بھی اٹھایا۔

پھول نہ توڑیں


Tuesday, February 18, 2014

اب گوگل گھر بیٹھے کرائے گا تاج محل کی سیر

دنیا کے ساتویں عجوبے تاج محل کو اب گوگل ہندوستانی وزارتِ ثقافت کے ساتھ مل کر آپ کی کمپیوٹراسکرین تک لانے کے منصوبے پر کام کررہا  ہے۔اب دنیا بھر کے لوگ محض ایک کلک سے ہندوستان کے مشہور سیاحتی مقامات کی سیر کرسکیں گے۔
خبر وں کے مطابق اس منصوبے کے لیے تاج محل سمیت ہندوستان کے 99 تاریخی مقامات کو گوگل اسٹریٹ ویو میں شامل کیا گیا ہےجس میں تاج محل کے علاوہ قطب مینار اور اجنتا ایلورا کی گپھائیں بھی شامل ہیں۔سترہویں صدی عیسوی میں تعمیر ہونے والا یہ مقبرہ دنیا میں مغل طرزِ تعمیر کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔چونکہ گوگل کی اسپیشل کار تاج محل میں داخل نہیں ہو سکتی اس لئے گوگل نےکمر پر لادنے والے ٹریکر کیمروں کی مدد سے اب اس کا ڈیجیٹل نقشہ بنا نے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔ اب تک ان کیمروں کی مددسے امریکہ کی گرینڈ کینیئن اور دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ کے ڈیجیٹل نقشے تیار کیے گئے ہیں۔
گوگل کا ٹریکر کیمرا مختلف زاویوں پر نصب اپنے 15 عدسوں کی مدد سے مسلسل تصویریں کھینچتا ہے اور پھر ان تصاویر کو جوڑ کر سافٹ ویئر کی مدد سے دیکھنے والوں کو 360 ڈگری کی تصویر فراہم کی جاتی ہے جس سے ناظرین کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اس مقام پر موجود ہیں۔

یاد رہے کہ تاج محل کے تمام حصے سیاحوں کے لئے نہیں کھولے گئے ہیں اور بادشاہ شاہ جہاں اور ممتاز محل کے مزار تک سیاحوں کی رسائی نہیں ہے لیکن گوگل کا تاج محل کا ورچوئل ٹور سیاحوں کو گھر بیٹھے اس مقبرے کے ان مقامات کی بھی سیر کروائے گا جہاں حقیقی زندگی میں عام سیاحوں کی بھی رسائی نہیں۔

Monday, February 17, 2014

बजट और जनता की उदासीनता

लेख :हसनैन  मुबश्शर उस्मानी
आज लोकसभा में अंतरिम बजट पेश कर दिया गया . जैसा कि उम्मीद थी इसमें कोई उल्लेखनीय बात नहीं थी .आईनदा चुनाव के कारण  उसे नरम रखने की पूरी कोशिश की गई थी . जाहिर है चुनाव के समय इस बजट का   जनता के हक़ में दिखना वर्तमान सरकार की मजबूरी थी .
बजट में क्या है और क्या नहीं इससे अलग हटकर आज यहां बजट के संबंध में जनता की उदासीनता का उल्लेख करना चाहूँगा . एक समय था जब बजट आने के कई सप्ताह पहले से गतिविधियां शुरू हो जाती थीं . जनता को बजट का इंतजार रहता था कि सरकार अब उनके लिए नई सोगातें लेकर आने वाली है . किन नई परियोजनाओं की घोषणा होने वाला है . जनता के कल्याण के लिए कौन सी नई योजनाएं शुरू की गई हैं . लेकिन हाल के वर्षों में जनता को जिस तरह मायूसियों का सामना करना पड़ा . इससे वह बजट से बे दिल  होते चले गए .
पहले उन्हें कीमतों के बढ़ने या कम होने का पता  बजट पेश होने के बाद होता था . आवश्यक वस्तुओं या रेल किराए आदि में वृद्धि का फैसला वार्षिक बजट में किया जाता  था . लेकिन अब कीमतें बजट की घोषणा की प्रतीक्षा नहीं करती . अब जब सरकार का दिल चाहता है कीमतें बढ़ जाती हैं . रहा कीमतों के घटने का सवाल यह शायद ही कभी देखने में आता है . अभी हाल में गैस की कीमतें कम होने की घोषणा की गई वह मालिक जो गैस की कीमतों में वृद्धि के लिए किसी अधिसूचना का इंतजार नहीं करते , यहां वृद्धि की खबर सुनी और कीमतों में  वृद्धि कर दिया कीमतें कम होने पर कई दिनों तक  अधिसूचना का इंतजार करते  दिखे . ये लोग जनता को एक अस्थायी खुशी भी  नहीं दे पाए . अस्थायी खुशी इसलिए कि  बहुत जल्द गैस की कीमतों में दोगुना वृद्धि होने वाली  है . और आम आदमी पार्टी के अलावा कोई भी राजनीतिक दल इस बारे में जुबां  खोलने के लिए तैयार नहीं .
 बहरहाल उल्लेख था बजट से जनता की उदासीनता का तो मेरी नजर में बजट से उदासीनता सरकार से  जनता की उदासीनता व्यक्त करती है . उन्हें लगता है कि वे निर्णय जो बजट में लिए जाते हैं, वे साल में किसी भी समय लिए जा सकते हैं

غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوگا سنگھ انور

آئینہ جدید آپ کے لئے لایا ہے اردو شاعری کا ایک نیا باب۔ اس کے تحت آپ ان شعرا کے کلام پڑھیں گے جنہوں نے ہند و پاک کے مشاعروں میں خوب نام کمایا اور سامعین کے دلوں میں اپنا ایک خاص مقام بنایا۔

Sunday, February 16, 2014

خبر پر نظر

راشٹریہ سہارا، ۱۶ فروری  ۲۰۱٤








میری نظر:

Saturday, February 15, 2014

آ بیل مجھے مار


حسنین مبشر عثمانی
دہلی میں سیاسی بساط پر کون جیتا اور کون ہارا اس کا تجزیہ جاری ہے۔لیکن یہ امر بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ کانگریس اور بی جے پی ایک بار پھرایسے چوراہے پر آکھڑے ہوئے ہیں جہاں سے پارلیمنٹ تک جانے کا راستہ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔دہلی میں کیجریوال حکومت کی حمایت کر کے کانگریس لو ک سبها کے لئے اپنی زمین تیار کرنے میں جٹ گئی تھی  لیکن اب بدعنوانی کے خلاف کیجریوال کے تیور اور اسمبلی میں جن لوک پال بل کی مخالفت نے اسے پھر کٹگھرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
آج سے 49 دن قبل کیجریوال نے کانگریس کی حمایت سے سرکار بنائی۔سرکار بنانے سے قبل انہوں نے اس سلسلہ میں عوام کی رائے جاننا صروری سمجھا لیکن استعفیٰ دیتے وقت انہوں نے کسی کی رائے جاننے کی ضرورت نہیں محسوس کی۔کیجریوال کا کہنا ہے کہ اس وقت ان پر یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ وہ سرکار بنانے سے ڈر رہے ہیں۔لیکن آج ان کا موقف بالکل واضح ہےان کی پارٹی نے بدعنوانی کاخاتمہ کرنے کے لئے حکومت بنائی تھی اور جب وہ اسمبلی میں جن لوک پال بل بھی نہیں پیش کر سکتے تو صرف کرسی سے چپکے رہنے کے کیا معنی ہیں۔ظاہر ہے یہ سوچ کانگریس اور بی جے پی کی سوچ سے بہت اوپر ہے۔ ان دونوں پرٹیوں کے لئے تو کرسی اور حکومت ہی سب کچھ ہے۔ان کے سامنے اصول،ملک اور ملک کے عوام کچھ معنی نہیں رکھتے۔
بہر حال اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کیجریوال حکومت نے ڈیڑھ ماہ میں اپنی صلاحیتیں ثابت کر دی ہیں۔شاید اب مخالف پارٹیاں یہ کہنے سے گریز کریں گیں کہ عام آدمی پارٹی کی حکومت سرکار نہیں چلا سکتی۔ لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر ‘آپ‘ حکومت کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے جائیں تو عوام کی فلاح و بہبود کے متعدد کام ہو سکتے ہیں۔ بدعنوانی پر لگام لگ سکتی ہے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔سیکولر ازم اور ہندوتو کی سیاست سے اوپر اٹھ کر عوام کی بھلائی کے لئے صاف ستھری حکومت چلائی جاسکتی ہے۔
’آپ‘ حکومت کو کانگریس اور بی جےپی نے روائتی سیاست میں الجھانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔کئی جذباتی موضوعات اٹھانے کی کوشش  کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ شرمناک رویہ بھی اختیار کیا گیا۔لیکن اب تک ’آپ‘ نے اس گندی سیاست سے اپنا دامن محفوظ رکھا ہے۔’آپ‘ کے اصل امتحان کی گھڑی اب آگئی ہے امید ہے وہ آئیندہ بھی اس گندی سیاست سے خود کو دور رکھے گی اور ہندو، مسلمان ،سکھ، عیسائی ،دلت اور برہمن کے لئے سیاست نہ کرکے صرف انسانوں کی بھلائی کی سیاست کرے گی۔وہ عام آدمی کی سیاست کرے گی جس میں ہندو بھی ہیں، مسلمان بھی، سکھ اور عیسائی بھی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی۔صرف انسانوں کی بھلائی کی سوچ عام آدمی پارٹی کو بہت آگے لے جائے گی اور یہی بات مخالف پارٹیوں کو  راس نہیں آرہی ہے۔

آج کا برتھ ڈے بوائے


آئینہ جدید اپنے قارئین کی خوشیوں میں برابر کا شریک ہے۔

سالگرہ مبارک

میں مصور ہوں

یمنیٰ عثمانی، ٹیگور اکیڈمی، کلاس ہفتم، جمشید پور
Yumna Usmani, Tagore Academy, Class VII, Jamshedpur

Friday, February 14, 2014

اب تیرا کیا ہوگا کالیا؟

 (حسنین مبشر کی خصوصی تحریر)
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنے عہدے سے بالآخر استعفیٰ دے دیا۔وہ اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ اگر جن لوک پال بل پاس نہیں ہوا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔
اب ان کے استعفے کو لے کر طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ہر شخص اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے لیکن شاید ہندوستان نے اپنی تاریخ میں یہ پہلا وزیر اعلیٰ دیکھا ہے جو ہر قیمت پر اپنے قول پر قائم ہے اور کسی بھی طرح کی مصالحت کرنے کو تیار نہیں۔مصلحت نام کا لفظ اس کی ڈکشنری میں نہیں۔کانگریس جو ایک موقع پرست پارٹی ہے اس نے سمجھا تھا کہ کیجریوال اس کی گیدڑ بھبکیوں میں آجائیں گے۔
جن لوک پال بل کانگریس اور بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گیا تھا۔یہ ددونوں پارٹیاں اس بل کے خلاف ووٹ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھیں اس بل کی مخالفت کرکے ان دونوں میں کوئی بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہونا اور ان کی ناراضگی مول لینانہیں چاہتا تھا  لہٰذا آئینی پیچیدگیوں کا سہارا لیا گیا اور ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ اسمبلی میں بل پیش ہی نہ ہو سکے۔
اس پورے معاملہ میں سب سے خراب رول مسلم ارکان اسمبلی کا رہا۔ان ارکان اسمبلی نے اپنی حرکتوں سے پوری مسلم قوم کو شرمسار کیا۔کیجریوال جیسے انصاف پسند لیڈر کی محالفت بی جے پی کے شانہ بہ شانہ ہوکر کی۔ انہوں نے اس بات کا بھی خیال نہیں کیا کہ اس طرح وہ کھلے عام بی جے پی کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ایسا لگا جیسے بدعنوانی کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سب سے بلند آواز انہی کی ہے اور اگر یہ بل پاس ہوگیا تو سب سے زیادہ نقصان انہیں ہی پہنچنے واالا ہے۔ اگر راجدھانی کے سب سے تعلیم یافتہ علاقہ کے ممبر اسمبلی کو کسی طرح کا خوف ستا رہا ہے تو اس میں کچھ غلط بھی نہیں۔ترقیاتی کاموں کے لئے کروڑوں روپے ملنے کے بعد بھی آج پورے جامعہ نگر علاقے کی جو حالت ہے اس سے یہاں ترقیاتی کاموں پر کتنا خرچ کیا گیا یہ صاف ظاہر ہوجاتا ہے۔ ایسے میں اگر ممبر اسمبلی اسپیکر کی میز پر رکھے کاغذات پھاڑتے ہیں اور اسمبلی کے اندر اور باہر چیخ چیخ کر کیجریوال کی مخالفت کرتے ہیں تو حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ 
لیکن شاید جن لوک پال اور کیجریوال کی مخالفت کرنے والے لوگ یہ بھول گئے کہ ان کی حرکتوں کی وجہ سے اب ایک بار پھر انہیں بہت جلد عوام کا سامنا کرنا ہوگا اور عوام ان کی کرتوتوں کا حساب لیں گے۔  

اروند کیجریوال نے استعفیٰ دے دیا

الیکٹرانک میڈیا پر PTI کے حوالے سے خبر---دلی کے وزیر اعلیٰ کیجریوال نے دے دیا استعفیٰ

کیا کیجریوال دیں گے استعفیٰ؟ ؟؟

کیجریوال AAP کے دفتر کے لیے روانہ

کیا کیجریوال دیں گے استعفیٰ؟ ؟.

8 بجے کیجریوال AAP کے دفتر پر پارٹی کارکنان کو مخاطب کریں گے

کیا اروند کیجریوال استعفیٰ دینگے ؟؟؟

AAP کے دفتر کے  باہرAAP SUPPORTERS کی بڑی تعداد جمع.

کیجریوال

میں ہندوستان کے آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان دے سکتا ہوں -کیجریوال 

زبردست مخالفت کے باوجود کیجریوال 'ودهان سبها' میں اپنی بات رکھ رہے ہیں

کانگریس اور بی جے پی کے ممبران اسمبلی،  اروند کیجریوال کو دلی ودهان سبها میں اپنی  بات نہیں رکهنے دے رہے ہیں. 

دلی میں سیاسی سرگرمی عروج پر:

کیا اروند کیجریوال استعفیٰ دینگے؟ ؟؟؟

جن لوک پال بل

آج کی اہم خبر

کانگریس اور بی جے پی نے دلی ودهان سبها میں 'جن لوک پال بل' پیش نہیں ہونے دیا. بل پیش کرنے کی حمایت میں 27 ووٹ جبکہ مخالفت میں 42 ووٹ پڑے.

سالگرہ مبارک


آئینہ جدید اپنے قارئین کی حوشیوں میں برابر کا شریک ہے۔

سالگرہ مبارک

Thursday, February 13, 2014

محبوب الٰہی کے عرس کے موقع پر خصوصی پیش کش

علامہ اقبال بہ درگاہ حضرت محبوب الہی

فرشتے پڑهتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری فیض عام ہے تیرا
ستارے عشق کےتیری کشش سے ہیں قائم
نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا
تری لحد کی زیارت ہےزندگی دل کی
مسیح وخضر سے اونچا مقام ہے تیرا

Wednesday, February 12, 2014

گیارہویں شریف

گیارہویں شریف(فاتحہ یازدہم)

 بغداد سے جیلان جاتے ہوئے اس  قافلہ کے قصہ سے شاید ہی کوئی شخص نا واقف ہو جس میں ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ ایک آٹھ سال کا بچہ بھی تها جو حصول علم  کے لئے جیلان جارہا تھا. . جسکی ماں نے چالیس دینار اس کی شیروانی کی اندرونی جیب میں سی دیئے تهے .رخصت کے وقت ماں نے کبھی  جهوٹ  نہ بولنے کی نصیحت کی تهی اور کہا تھا جهوٹ بولنے والے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے. راستہ میں ڈاکووں کے ایک گروہ نے حملہ کر دیا قافلہ والوں کا مال و اسباب لوٹا جا رہا  تھا اسی دوران ڈاکووں کے سردار کی نظر بچے پر پڑی. اس نے پوچھا "تمہارے پاس کیا ہے". بچے نے جواب دیا "چالیس دینار". مگر تلاشی میں کچھ نہ ملا، پوچهنے پر بچے نے جواب دیا، "وہ دینار میری ماں نے اندرونی  جیب میں سی دیئے ہیں. جیب پهاڑنے پر چالیس دینار برآمد ہو گئے سردار  حیران ہوگیا اور سوال کیا "جب والدہ نے اتنی حفاظت سے سی دیا تها تو تم نے کیوں بتا دیا". بچے نے جواب دیا ماں کی نصیحت تهی ،"جهوٹ کبهی نہ بولنا" سردار کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اس نے قافلے والوں کا سارا سامان واپس کر دیا اور تائب ہوگیا اور اس کا پورا گروہ بهی. جس بچے کی صداقت نے ڈاکووں کے گروہ کو اللہ والا بنا دیا وہ کوئی اور نہیں حضرت غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ تهے، جنکا نام عبدالقادر اور کنیت ابو محمد تهی. آپ کا سن ولادت 470ه  اور وہ خطہ جہاں آپ پیدا ہوئے بغداد شریف کے قریب قصبہ جیلان ہے. نور نبوت سے معمور خاندان میں پیدا ہونے والی یہ شخصیت نجیب الطرفین سید ہے، والد محترم کا نام ابو صالح تها اور آپ آل حسن میں  تهے اور والدہ محترمہ کا نام ام الخیر فاطمہ تها جو حسینی تھیں. آپ نہایت ذهین اور حافظہ کے تیز تهے. آپ کی ولایت کے جوہر بچپن سے ظاہر ہونے لگے تھے. آپ کی تاریخ وصال 11  ربیع الثانی ہے.آپ 561 ه میں 91 برس کی عمر میں بغداد شریف میں واصل بحق ہوئے. آپ کا مزار مبارک مرجع خلایق ہے. 11ربیع الثانی کو بر صغیر کے مسلمان اسی مناسبت سے گیارہویں شریف کے نام سے یاد کرتے ہیں اور چہار سو  قل و فاتحہ اور لنگر کا اہتمام کرتے ہیں.  
 بدہ دست یقین اے دل بدست شاہ جیلانی
 کہ دست او بود اندر حقیقت دست یزدانی
 سگ دربار میراں شو چوں خواہی قرب ربانی
 کہ بر شیراں شرف دارد سگ دربار جیلانی 
"امیمہ قادری

Saturday, February 8, 2014

فوٹو گیلری



آئینہ پیش کرتا ہے آپ کے لئے تصویروں کی ایک نئی گیلری

کسی بھی تصویر کو بڑی شکل میں دیکھنے لئے ماؤس کو تصویر پر لائیں

اپنی تصایر ہمیں بھیجیں اسے شائع کرنے میں ہمیں خوشی ہوگی۔

کے پتے پر ای میل کریں۔ merinazar2013@gmail.com تصاویر

  • Aaina The Mirror
    آئینہ کے مدیر حسنین مبشر عثمانی مدینہ منورہ میں روضہ پر حاضری کے بعد۔

  • Aaina The Mirror
    جھارکھنڈ کے جنگلوں کے درمیاں۔

  • Aaina The Mirror
    تاڑ کے یہ دو پیڑ کبھی ہمارے چھوٹے سے گاؤں سملہ کی شان ہوا کرتے تھے اور دور سے ہی اس گاؤں کی پہچان بنے ہوئے تھے۔لیکن آج کچھ لوگوں کی عاقبت نا اندیشی سے تاڑ کے یہ درخت کاٹ دیے گئے ہیں۔ اب یہ خوبصورت منظر صرف تصویر اور ہماری یادوں کا حصہ بن گئی ہیں۔

  • Aaina The Mirror
    جھارکھنڈ کے جنگلوں کے درمیاں سڑک سے نشیب کا ایک منظر۔

  • Aaina The Mirror
    رانچی کا برسا منڈا ہوائی اڈہ جس کے بورڈ پر حرف اے کی لائٹ خراب ہوگئی ہے لیکن انتظامیہ اس سے بے خبر ہے۔

  • Aaina The Mirror
    'وکاس' کے بورڈ تلے اپنی زندگی کے بوجھ کو ڈھوتا جھارکھنڈ کا ایک شہری۔

  • Aaina The Mirror
    دھنباد رانچی شاہراہ پر سڑک کنارے گھاٹ کا ایک خوبصورت منظر۔

ایک نئی فوٹو گیلری کے لئے یہاں کلک کریں


Thursday, February 6, 2014

بچوں کے لئے نظمیں

عادل اسیر دہلوی کی چند نظمیں

ابو نے بتلایا

ابو نے بتلایا ہے
محنت سے ہے عزت
چھوٹے بڑے کی چاہت
ماں اور باپ کی شفقت
دنیا بھر کی دولت
ابو نے بتلایا ہے

امی نے فرمایا

امی نے فرمایا ہے
صبح سویرے اٹھو
نام خدا کا پڑھ لو
ناشتہ کرکے بچو
پھر مکتب کو جاؤ
  امی نے فرمایا ہے

Wednesday, February 5, 2014

غلاظت سے بچیں

آج بہت سوچنے کے بعد بھی کسی موضوع پر لکھنے کا دل نہیں چاہ رہا۔موضوعات بہت ہیں لیکن میں نے اپنے قلم سے وعدہ کیا ہے کہ میں بعض ناموں سے اپنے نوک قلم کو گندا نہیں کروں گا۔ہندوستانی سیاست میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا بازار گرم ہے۔لیکن میں اس کی تشہیر یا اس کی تنقید کر اس گندگی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ ملک کو ایک مثبت رہنمائی کی ضرورت ہے اور ہمیں سنجیدگی سے اس بارے میں غور کرنا چاہئے کہ وہ لوگ کون ہیں جو مثبت سیاست کرنا چاہتے ہیں۔

Tuesday, February 4, 2014

ذرا مسکرائیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اقصیٰ عثمانی

ایک شخص کے پاس فون آیا۔
ہیلو مسٹر قادری ہیں۔
نہیں رانگ نمبر
رانگ نمبر ہے تو فون کاٹ دو۔
اس شخص  نے چھری اٹھائی اور فون کو درمیان سے کاٹ دیا۔

جو دھا اکبر: تاریخی سیریل یا بازاری تماشہ

ایک جانب جہاں تاریخی ناولوں کے پڑھنے کا رجحان کم ہو رہا ہے وہیں دوسری جانب مسلم حکمرانوں سے متعلق نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی  ہے۔ مسلم حکمرانوں کے وقار سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔اس سلسلہ میں سبھی ٹی وی چینلز پیش پیش ہیں۔۔
زی ٹی وی پر ان دنوں ایک سیریل جودھا اکبر دکھایا جا رہا ہے۔اس سیریل کے خلاف راجپوتوں نے زور دار احتجاج کیا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس سیریل میں شہنشاہ اکبر کو جس مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا گیا وہ تاریخ دانوں کے لئے قابل اعتراض ہونا چاہئے تھا۔ہندوستان کے تاریخی ورثہ کی حفاظت کرنے والوں کا فرض ہے کہ وہ اس ملک کے سابق حکمرانوں کی اصل تاریخ کی بھی حفاظت کریں۔ اگر اس طرح ہندوستان کے شاندار ماضی سے کھلواڑ کیا جاتا رہا تواس ملک کے تابناک ماضی کی یہ مضحکہ خیز پیش کش ہمارے لئے شرمناک ہو جائے گی۔
سیریل بنانے والوں کو چاہئے کہ وہ اگر کسی تاریخی موضوع پر کام کر رہے ہیں تو وہ اس کے وقار کو بھی باقی رکھیں۔ صرف آغاز میں اس بات کا اعتراف کرلینے سے اپنی ذمہ داریوں سے دامن نہیں جھازا جا سکتا کہ اس سیریل کا تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوال کسی طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا نہیں بلکہ تاریخی  حقائق سے متعلق حقیقت بیانی سے گریز کرنے اور ملک کے سابق حکمرانوں کے وقار سے کھلواڑ کرنے کا ہے۔
سیریل جودھا اکبر میں جہاں بہت ساری کمیاں ہیں وہیں اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے  کہ اس کی زبان انتہائی ناقص ہے۔جن لوگوں نے فلم مغل اعظم دیکھی ہے ان کے سامنے تو یہ سیریل جہالت اور کٹھ پتلی کے ایک  تماشے سے زیادہ کچھ نہیں۔  

Monday, February 3, 2014

رانگ سائیڈ

جی ہاں میں ہوں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے شہر میں۔ جھار کھنڈ کی راجدھانی رانچی۔لیکن یہاں بھی سب کچھ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی طرح الٹا ہی الٹا چل رہا ہے۔بیرون ملک ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی مسلسل شکست نے شایددھونی کے چاہنے والوں کی بھی عقل سلب کرلی ہے۔یہاں سامنے سے آتے ہوئے اس آٹو کو دیکھئے۔اس نے شاید اس دو طرفہ سڑک کو بھی کرکٹ کا پچ سمجھ لیا ہے جہاں دونوں سروں سے ایک ہی پچ پر گیندیں ڈالی جاتی ہیں ہاں مگر کم از کم ٹریفک تو ون وے ہوتا ہے۔ یک ایسا ملک جہاں حادثوں کی تعداد پچھلے سبھی ریکارڈوں کو توڑتی نظر آتی ہے وہاں اس آٹو والے کو رانگ سائیڈ چلنے میں کوئی پریشانی نہیں۔ جی ہاں یہ بہار اور جھارکنڈ کی شاہراہوں کا ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی دیگر شاہراہوں کا بھی عام نظارہ ہے۔ ا یہ آٹو والا جس نے خود کو تو خطرے میں ڈالا ہی ہے ساتھ ہی یہ کسی اور بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ملک بھر میں ٹریفک اصولوں کے تئیں بیداری پیدا کرنے کےساتھ ساتھ ایسے عناصر کی خلاف سختی کی سخت ضرورت ہے۔
(مدیر) 
  • Aaina The Mirror
    رانگ سائیڈ میں گاڑی چلاتا ایک شخص ۔ تصویر آئینہ

Sunday, February 2, 2014

المجیب (اردو زبان و ادب میں خانقاہ مجیبیہ کی خدمات نمبر)



 دینی اور علمی مجلہ المجیب اپنی سہ ماہی اشاعت مکمل کرچکا ہے۔اس موقع پر ادارہ نے ایک ضخیم نمبر شائع کیا ہے جس میں رسالہ المجیب کے تابناک سفر پر روشنی ڈالی گئی ہے اور انتہائی جامع اور مفید مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔اس نمبر میں تاثرات کا ایک کالم بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ یہاں پیش ہے خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ،سملہ ضلع اورنگ آباد کے سجادہ نشیں شاہ محمد تسنیم عثمانی فردوسی سملوی کے تاثرات:(ادارہ)
 
دینی ، علمی و ادبی مجلہ ’’المجیب‘‘ اپنی سہ ماہی اشاعت کی ایک دہائی مکمل کررہا ہے ۔اردو رسائل کے لئے ایک مشکل دور میں تسلسل سے کسی ایسے مجلے کا شائع ہونا جس میں دنیا کی رنگارنگی سے درکنار اخروی نجات اور سنجیدہ علمی و دینی مضامین پر زیادہ زور ہویقیناً عزم محکم اور سعی پیہم کی زندہ مثال ہے۔ حضرت مولانا سید شاہ محمد آیت اللہ قادری مدظلہ العالی،زیب سجادہ مجیبی ،خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کی زیر نگرانی اس علمی و ادبی مجلہ کی یہ باوقار اشاعت ان کے لئے جو اس دور پر فتن میں سنجیدہ علمی ،دینی ،معلوماتی اور ادبی تحریروں کے پڑھنے کے خواہاں ہیں ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔
جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ’’المجیب ‘ ‘ کو اسی آب و تاب سے شائع ہوتا دیکھ رہا ہوں۔والد محترم حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی سملوی ؒ ،زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ، سملہ ،ضلع اورنگ آبادکو اس رسالہ سے ذہنی، قلبی و روحانی لگاؤ تھا۔ان کے ذاتی کتب خانے میں ’’المعارف ‘‘کے شمارے بھی موجود تھے۔وہ بڑی بے صبری سے’’ المجیب‘‘ کے ہر شمارے کا انتظار کرتے اور جیسے ہی یہ رسالہ ان کے ہاتھوں میں آتا ایک ہی نشست میں اس کو مکمل پڑھنے کی سعی کرتے۔خانقاہ مجیبیہ کے بزرگوں اور اہل قلم حضرات سے ان کا قلبی تعلق ’’المجیب ‘‘سے ان کے عشق کا ایک بنیادی عنصر تھا۔
۷۰ کی دہائی میں اس رسالے کا عروج قابل دید تھا۔خانقاہ مجیبیہ اور ملک کے نامور علما و مشائخ کی تحریریں اس مجلے کی زینت بن رہی تھیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب ۱۹۸۰ میں ماہنامہ’’ المجیب ‘‘کی اشاعت کو وقتی طور پر روکنا پڑا۔ظاہر ہے یہ وقفہ نہ صرف خانقاہ کے اکابرین کے لئے بلکہ ادب کہ ان تشنہ لبوں کے لئے بھی انتہائی سخت تھا جواس رسالہ سے اپنی دینی ،فکری، ادبی و ذہنی پیاس بجھاتے تھے۔ اللہ کا شکر ہے آج سے دس سال قبل اس رسالہ کا ایک بار پھر اسی شان سے اجرا ہوا اور الحمد اللہ آج ’’المجیب ‘‘ اپنی از سر نو اشاعت کے خوبصورت دس سال مکمل کررہا ہے۔اپنی اشاعت کے دوسرے زرّیں دور میں المجیب کو سہ ماہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن وقت کی رفتار اتنی تیزہے کہ اس رسالہ کے ماہانہ سے سہ ماہی ہونے کا احساس بہت زیادہ نہیں رہا۔اس مجلے میں شامل ہونے والے علمی و تحقیقی مضامین اتنے ٹھوس اور معیاری ہیں کہ دوسرے رسائل کی طرح ایک ماہ میں اس کی مشمولات کو ہضم کر پانا آسان نہیں۔انتہائی جانفشانی سے تحریر کردہ یہ مضامین دیرپا اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ظاہر ہے اتنے محدود وسائل میں اس معیار کے رسالے کی ماہانہ اشاعت ایک مشکل امر ہے خاص کر ایسی صورت میں جب سنجیدہ اور ایک مخصوص مزاج کی تحریروں کے لکھنے اور پڑھنے والے کم ہوں۔المجیب کی خوش نصیبی ہے کہ اسے مضامین و مقالات کے لئے دوسروں کا منہ تکنے کی ضرورت نہیں۔ خود اس کے خزینے میں ایسے ایسے گوہر آبدار موجود ہیں جو دنیائے علم و تحقیق کی پیاس بجھانے اور ان کی راہ نمائی و قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔المجیب کی مسلسل کامیاب اشاعت کا راز اسی میں پنہاں ہے۔مالی دشواریاں المجیب کے لئے سد راہ بنیں لیکن اس کے سرپرستوں نے اپنی مخلصانہ کاوشوں اورجہد مسلسل سے اس پر قابو پایا۔آج اردو کی خدمت کا دعویٰ کرنے والے بڑے بڑے ادارے موجود ہیں لیکن خانقاہ مجیبیہ ،پھلواری شریف نے اردو زبان کی جو خاموش خدمت کی ہے وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔دینی ،علمی و ادبی رسالوں میں المعارف سے المجیب تک کا سفر نہ صرف تشنگان علم بلکہ اردو زبان و ادب کی ایسی خاموش خدمت ہے جس کا اعتراف نہ کرنا نا انصافی اور نا شکری ہوگی۔
آج ہم صرف اس علمی و دینی مجلہ کے دس سال مکمل کرلینے کا جشن نہیں منا رہے بلکہ آج یہ امر بھی قابل تعریف ہے کہ خانقاہ مجیبیہ نے اپنے محدود وسائل کے باوجود اردو زبان وادب کی جو خدمت کی ہے وہ بے مثال ہے۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ اردو شعر و ادب کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا عظیم حصّہ رہا ہے۔ ان خانقاہوں نے اردو کو اس کی اس بنیادی تہذیبی شکل میں زندہ رکھا جو فارسی سے قریب ترتھی۔ آج بھی خانقاہ مجیبیہ میں ایسے اہل علم موجود ہیں جو نہ صرف فارسی پر بھرپور دسترس رکھتے ہیں بلکہ اس زبان میں شاعری کرنے پر بھی قادر ہیں۔زیب سجادہ حضرت مولانا سید شاہ محمدآیت اللہ قادری ،مولانا الحاج سیدشاہ ہلال احمد قادری، مولانا شاہ بدر احمد مجیبی،مدیر المجیب ڈاکٹر شاہ فتح اللہ قادری اپنے اسلاف کے نقش قدم پر تشنگان علم اور اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ خانقاہ مجیبیہ میں اردو زبان و ادب کی یہ خدمات صرف ان رسائل تک محدود نہیں بلکہ یہاں تحقیقی ، علمی، دینی و ادبی کاموں کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ فیاض المسلمین امیرالشریعۃ مولانا سید شاہ محمد بدر الدین قادری پھلواروی قدس سرہ کی تالیف مبارکہ’’ احوال مولائے کائنات‘‘مع تحشیہ و تخریج ازسید شاہ آیت اللہ قادری ،اس دور میں شائع ہونے والی ایک ایسی علمی و ادبی کتاب ہے جس میں اس موضوع پر انتہائی عرق ریزی سے کام کیا گیا ہے اور اس کا بھرپور حق ادا کیا گیا ہے۔ اردو زبان و ادب کے لحاظ سے بھی یہ ایک بلند پایہ تصنیف ہے۔زبان کی سلاست اور تحریر کی روانی قابل دید ہے۔مولانا سید شاہ ہلال احمد قادری کی تالیف ’’سیرت پیر مجیب قدس سرہ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ ، پھلواری شریف ان نادر و نایاب تحریروں کو شائع کرکے امت مسلمہ اور اردو زبان و ادب کی ایک بیش بہا خدمت انجام دے رہا ہے۔مختصر تاثرات میں ان کا احاطہ ممکن نہیں ۔ خانقاہ مجیبیہ میں اردو زبان و ادب کی خدمات کا یہ ذکر سورج کو چراغ دکھانے کہ مترادف ہے۔ خانقاہ مجیبیہ کی علمی و ادبی خدمات کو کسی سند کی ضرورت نہیں ؂ مشک آں است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔یہ ان بزرگوں کا فیض خاص ہے کہ ان کے آستانے سے آج بھی یہ خوشبو چمن میں پھیل رہی ہے اور انشاء اللہ تاقیامت پھیلتی رہے گی اور تشنگان علم دین اور شیدایان زبان و بیان اسی طرح فیضیاب ہوتے رہیں گے۔

ذرا مسکرائیے

http://3.bp.blogspot.com/-svnUQ5Q0LQk/Uu3eqlc-6lI/AAAAAAAAANE/Le612dI0yNs/s1600/cartoon1.png مزاح ہماری زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔یہاں ہم ملک کے نامور کارٹونسٹوں کے شکریے کے ساتھ ان کے کارٹونوں کی مدد سے ایک  سلسلہ شروع کر رہے پیش ہے اس سلسلہ کی پہلی کڑی۔۔۔۔۔
بڑے سائز میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


الیکشن کاچاند نظر آگیا،بازار میں دوکانیں کھلنے لگیں



الیکشن کا چاند نظر آتے ہی ہر گوشے سے مسلمانوں کی حالت زار پر حکومتوں کی بے حسی کے خلاف آوازیں اٹھنی شروع ہوجاتی ہیں۔ان کا مقصد کیا ہے مسلمان اس سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ اب ووٹ ڈالتے وقت کسی کے جھانسے میں نہیں آتے۔اب ان ہتھکنڈوں سے مسلمان نہیں بلکہ سیاسی پارٹیاں بے وقوف بنتی ہیں ۔جمہوریت میں اب ہر انسان کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس ہے۔موسمی لیڈر شپ اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ 
مکمل خبر دیکھیں

Saturday, February 1, 2014

کہاں گئے کروڑوں روپے؟


کل ہماری گفتگو کا موضوع تھا کہ مسلم علاقوں میں گندگی کے لئے ذمہ دار کون؟ اس میں ہم نے اپنی ذمہ داریوں پر نظر ڈالی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اس سلسلہ کا دوسرا قدم ہے۔یعنی سب سے پہلے یہ ضروری یہ ہے کہ مسلم علاقوں کو کم از کم بنیادی سہولتیں فراہم ہوں۔آپ اگر اپنے اطراف میں نظر ڈالیں تو چہار جانب گندگی ہی گندگی نظر آئے گی۔جا بجا سڑکوں پر گڈھے ملیں گے۔ سیور کا ڈھکن غائب ملے گا۔جابجا سیور کا پانی جمع ہوگا۔اور آپ کے چنندہ نمائندے ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے آپ کو جذباتی مسائل میں الجھاتے نظر آئیں گے۔
زیادہ دن نہیں ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ایک ممبر اسمبلی جو راجدھانی کہ ایک بڑے مسلم علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں اور جن کے حلقۂ انتخاب کی حالت  مسلمانوں کی حالت زار سے بھی بدتر ہے ایک ایسے جذباتی مسئلہ پر وزیر اعلیٰ کی پریس کانفرنس میں ہنگامہ آرائی کرتے نظر آئے جو ان کی اس پارٹی کا ہی "کارنامہ" تھا جس کی وہ نمائندگی کرتے ہیں۔اب ہم کس کی عقل کا ماتم کریں کیوں کہ احمقوں کو اپنا نمائندہ تو ہم نے ہی بنایا ہے۔
اب صحافی اندر کی بات تلاش کر رہے ہیں۔ بھائی اندر کی بات تو یہی ہے کہ جذباتی مسائل اٹھاکر اپنی کمیوں پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔زمانہ بدل رہا ہے۔عوام کم از کم بنیادی سہولتیں چاہتے ہیں۔اپنی کھال بچانے کے لئے جذباتی کارڈ کھیلنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔جانچ تو بہت ساری باتوں کی ہونی چاہئے۔ اس کی بھی کہ علاقہ کی بنیادی سہولتوں کے لئے ملنے والے کروڑوں روپے کہاں گئے جن کا ذکر بڑے بڑے اشتہاروں میں کیا گیا۔

اب کیا کریں گے جناب عالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ 

خوش خبری