آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Sunday, August 26, 2018

Hazarat Muhammad (PBUH) - NCERT Solutions Class VI Urdu


حضرت مُحمّد ﷺ


coutesyNCERT

 سوال: حضرت مُحمّد کی پیدائش کہاں ہوئی؟
جواب: حضرت مُحمّد کی پیدائش مکّہ میں ہوئی۔

 سوال: آپ کو "امین" اور "صادق" کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب: آپ اس قدر ایمان دار تھے کہ لوگ آپ کو "امین" اور "صادق"کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ نہ کبھی جھوٹ بولتے، نہ کسی کو دھوکا دیتے،نہ لین دین کے معاملے میں ٹال مٹول اور نہ  کسی بات پر جھگڑتے تھے،جو وعدہ کرلیتے اُس کو پورا کرتے۔


 سوال: حجرا سود کسے کہتے ہیں؟
جواب: حجرا سود وہ کالا پتھر جو کعبہ کی دیوار میں لگا ہوا ہے اسے حجرا سود کہتے ہیں


 سوال: حضرت مُحّمد نے مل جل کر کام کرنے کا طریقہ کس طرح سمجھایا؟
جواب: حضرت مُحّمد نے ایک بڑی اور مضبوط چادر منگوائی پھر خد آپ نے اپنے ہاتھوں سے حجرا سود کو اٹھاکر اس پر رکھا پھر فرمایا "ہر قبیلے کا سردار آگے بڑھے اور اس چادر کا ایک ایک سِرا اپنے ہاتھوں میں تھام لے"۔اس طرح وہ لوگ حجرا سود کعبے کی دیوار کے پاس لے گئے پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اسے صحیح جگہ پر رکھ دیا۔اس طرح مل جل کر کام کرنے کی برکت ہر ایک کی سمجھ میں آگئی۔


 سوال: آپ عبادت کرنے اور غورو فکر فرمانے کے لیے کہاں جاتے تھے؟
 جواب: آپ عبادت کرنے اور غورو فکر فرمانے کے لیے مکہ کے پاس پہاڑیوں میں چلے جاتے اور وہاں غار حرا میں اکیلے چپ چاپ عبادت کرتے اور غور فکر فرماتے

سوال: جس کتاب میں خدا کا مکمل پیغام ہے اس کا کیا نام ہے؟
جواب: جس کتاب میں خدا کا مکمل پیغام ہے اس کا نام قرآن ہے۔

Ek Pahaad aur gilehri - NCERT Solutions Class VI Urdu

ایک پہاڑ اور گلہری

سوچیے اور بتائیے

سوال: پہاڑ نے گلہری سے کیا کہا؟
جواب: پہاڑ نے گلہری کو ذرا سی چیز کہا اور پہاڑ نے گلہری سے کہا کے شرم ہو تو 
جاکر پانی میں ڈوب کر مرجا۔

 سوال: پہاڑ نے اپنی بڑائی کن باتوں سے ظاہر کی؟
جواب: پہاڑ نے اپتی بڑائی کرتے ہوئے گلہری کو نیچا دکھایا اور کہا کہ زمین بھی پست ہے پہاڑ کے آن بان کے آگے۔

سوال: گلہری نے پہاڑ کی باتیں سن کر کیا کہا؟
جواب: گلہری نے پہاڑ کی باتیں سن کر پہاڑ کو منھ سبھالنےکہا اور کہا کہ ان کچّی باتوں کو دل سے نکالنے کہا اور اسنے کہا کہ جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا ہوا خدا نے کوئی بڑا کوئی چھوٹا اور سب کو الگ کام کے لئے بنایا ہے۔

 سوال: گلہری میں کیا خوبی ہے جو پہاڑ میں نہیں ہے؟
 جواب: گلہری درخت پہ چڑھ سکتی ہے چھالیا توڑ سکتی ہے لیکن پہاڑ یہ سب نہیں 
کر سکتا۔

 سوال: خدا کی حکمت کن باتوں سے ظاہر ہوتی ہے؟
جواب: دنیا کی ہر چیز سے خدا کی حکمت ظاہر ہوتی ہے کوئی بھی چیز بیکار نہیں  دنیا میں خدا کی بنائی ہوئی کوئی بھی چیز بری نہیں ہے۔

Tuesday, August 21, 2018

Eid ul Azha Mubarak

قارئین آئینہ کو عید الاضحیٰ کی پرخلوص مبارک باد۔
آپ سب کی آسانی کے لیے قربانی کی دعا کا ایک کارڈ شائع کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کی قربانیوں کو قبول فرمائیں۔



Monday, August 20, 2018

(Tulip) گل لالہ یا نرگس

گل لالہ یا نرگس (Tulip)



گل لالہ یا نرگس دنیا میں پائے جانے والے سب سے خوبصورت اور مقبول پھولوں میں سے ایک ہے۔انگریزی میں اسے Tulip کہتے ہیں۔ جنگلی ٹیولپ کی تقریباً 75 قسمیں ہیں۔ اور مختلف چنندہ اختلاط سے اس کی تقریباً تین ہزار قسمیں تیار کی جاتی ہیں۔اس پھول کا تعلق وسطی ایشیا سے ہے۔ اسے 16 ویں صدی میں یوروپ لے جایا گیا۔ یہ 16 ویں صدی کے وسط میں عثمانی سلطان سلیمان محتشم کے قسطنطنیہ کے محل سے نیدر لینڈ کے سفیر کے ذریعہ نیدر لینڈ پہنچا اورپھر اس کا ساری دنیا میں رواج ہوگیا۔  آج گل لالہ دنیا بھر میں پایا جاتا ہے۔یہ موسم بہار کے سرد حصہ میں ہوتا ہے۔یعنی یہ ٹھنڈے موسم میں پروان چڑھتا ہے۔کم درجہ حرارت میں مناسب موسم اس کے بیج کی نشو و نما کے لیے مناسب ہوتا ہے۔
گل لالہ کا رنگ اس کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔ اس کے پھول پیلے، نارنگی، گلابی، لال اور جامنی کے مختلف شیڈوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کچھ پھول مختلف رنگوں کے ملاپ سے پیدا کیے جاتے ہیں۔
لالہ کے پھول کٹورا نما ہوتے ہیں۔ اس میں تین پنکھڑیاں اور تین سیپلیں ہوتی ہیںچونکہ پنکھڑیاں اور مسند گل ایک ہی شکل کی ہوتی ہیں اس لیے اس کانام ٹیپَلس رکھا گیا۔ ٹیپل پھول کے بیرونی گھیرے کا ایک حصے کو کہتے ہیںجس میں سنبلہ ار پتیاں ایک ساتھ ہوتی ہیں۔
ٹیولپ کا نام ترکی زبان سے لیا گیا۔ ترکی میں اسے قومی پھول کا درجہ حاصل ہے۔ترکی زبان میں ٹیولپ کے معنی  مخروطی شکل کے ہیں کیونکہ دیکھنے میں یہ ترکی ٹوپی کے بالکل مشابہ لگتا ہے۔
عام طور سےگل لالہ میں دو سے چھ پتیاں ہوتی ہیں۔لیکن اس کی بعض قسموں میں 12 پتیاں تک ہوتی ہیں۔
 گل لالہ کی جڑ پیاز کی مانند ہوتی ہےاور یہ زمین میں 4 سے 6 انچ تک دھنسی ہوتی ہے۔ اس کی مٹی نم رکھی جاتی ہے۔ گل لالہ زیادہ مدت  تک باقی نہیں رہتا لیکن یہ پھول زمین سے الگ کیے جانے کے بعد بھی پیدا ہوتا رہتا ہے۔
گملے میں ایک انچ تک کی لمبائی والا ٹیولپ پیدا کیا جاسکتا ہے۔
یہ فنگل،بیکٹیریا اور وبائی بیماریں سے متاثر ہوتا ہے۔خرگوش ،چوہے اور گلہریاں  ٹیولپ کھانا پسند کرتے ہیں۔جبکہ گھوڑے، بلیوں اور کتوں کے لیے ٹیولپ کھانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس سے ایسے کیمیاوی اجزا خارج ہوتے ہیں جس سے الرجی ہوسکتی ہے۔
گل لالہ کی عمر بہت زیادہ نہیں ہوتی اور عام طور سے یہ تین سے سات دنوں تک زندہ رہتا ہے۔
کشمیر کے سری نگر میں نرگس کے پھولوں کے باغ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایشیا کا سب سے بڑا باغ ہے۔سری نگر میں نرگس کے پھولوں کے باغ موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی مختلف رنگوں میں نہا جاتے ہیں۔
کشمیر میں گل لالہ یا نرگس کے پھولوں کی کاشت تجارتی مقصد سے کی جاتی ہے اور یہ دورے ملکوں کو برآمد بھی کیا جاتا ہے۔سر نگر کے ٹیولپ گارڈن کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ یہ ایشیا میں گل لالہ کا سب سے بڑا باغ ہے۔ نرگس کے ان باغوں کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے پھولوں کی قالین بچھی ہے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ منظر اس قدر دلکش اور پرسکون ہوتا ہے کہ کوئی ذی روح اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
گل لالہ کو اردو شاعری میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اور اسے مختلف علامتوں کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔اقبال کا یہ محبوب پھول ہے۔ کہتے ہیں
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

خدیجة الکبریٰ گرلز پبلک اسکول کی طالبات کی نمایاں کارکردگی۔ صحبہ عثمانی کو اول انعام



(بہ شکریہ راشٹریہ سہارا و ہندوستان ایکسپریس)

Sunday, August 19, 2018

Ek Khat - NCERT Solutions Class VI Urdu


ایک خط

Courtesy NCERT

سوال: پنڈت جواہر لال نہرو کون تھے؟
جواب: پنڈت جواہر لال نہرو مجاہد آزادی تھے۔

سوال:پنڈت نہرو نے یہ خط کس کے نام اور کہاں سے لکھا؟
جواب:پنڈت نہرو نے یہ خط اپنی بیٹی اندرا کے نام نینی سینٹرل جیل،آلہ آباد سے لکھا۔

سوال: چینی سیّاح کا کیا نام تھا؟
جواب: چینی سیّاح کا نام ہئیون سانگ تھا۔

سوال: جواہر لال نہرو نے نصیحت کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا؟
جواب:جواہر لال نہرو کہتے ہیں کہ انھہیں نصیحت کرنے سے نفرت ہے،اور وہ اندرا سے کہتے ہیں کہ بس یے سمجھو کے میں تمہیں مشورہ دے رہا ہوں اور گویا ہم تم آمنے سامنے بیٹھے باتیں کررہے ہیں۔


سوال:چینی سیّاح ہندوستان کیوں آیا؟
جواب:چینی سیّاح، علم و دانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔

سوال: چینی سیّاح کو علم حاصل کرنے کے لیے کن حالات سے گزرنا پڑا؟
جواب: چینی سیّاح شمال کے پہاڑ اور ریگستان طے کرتا ہوا ہندوستان پہنچا اُسے علم کا اتنا شوق تھا کہ راستے میں اُس نے سیکڑوں مصیبتیں اٹھائیں اور ہزاروں خطروں کا مقابلہ کیا۔

سوال:ہندوستان میں چینی سیّاح کا زیادہ وقت کہاں گزرا؟
جواب: ہندوستان میں چینی سیّاح کا زیادہ وقت نالندہ ودّیا پیٹھ میں گزرا جو شہر پاٹلی پُتر کے قریب واقع تھا۔

سوال:ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک شخص کو عجیب و غریب کیوں کہا ہے؟
جواب: ہیؤن سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک شخص کو عجیب و غریب اس لیے کہا ہے کیوںکہ وہ اپنے پیٹ کے چاروں طرف تانبے کی تختیاں باندھے رہتا تھا اور سر پر ایک جلتی ہوئی مشعل رکھتا تھا۔



Aks e Dil --- عکسِ دل

متفرق اشعار


میں تو اس سادگیٔ حسن پہ صدقے اس کے
نہ  جفا   آتی   ہے  جس   کو   نہ  وفا   آتی  ہے
جگر مراد آبادی
ان کے بھولے پن کے صدقے جائیے
کہتے ہیں'مجھ سے تمہیں کیا کام ہے'
نامعلوم
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
غالب
بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو
کوئی کمبخت نا واقف اگر دیوانہ ہو جائے
حفیظ جالندھری
اُس فتنۂ شباب کا عالم نہ پوچھیے
اک حشر اٹھ رہا ہے تماشہ لئے ہوئے
حفیظ جالندھری
اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی
اُف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی
داغ
شباب میکش، خیال میکش، جمال میکش، نگاہ میکش
خبر وہ رکھیں گے کیا کسی کی انہیں خود اپنی خبر نہیں ہے
جگر مراد آبادی
یہ مے چھلک کے بھی اُس حُسن کو پہنچ نہ سکی
یہ پھول کھِل کے بھی تیرا شباب ہو نہ سکا
اختر شیرانی
لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
علامہ اقبال

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
مرزا غالب

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
مولانا محمد علی جوہر
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میرتقی میر

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ
حضرت علامہ اقبالؒ

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
کلیم عاجز

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
میاں داد خان سیاح

رندِخراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
ابراہیم ذوق

دیارِعشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
علامہ اقبالؒ

کعبے کس منہ سے جا وگے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
مرزا غالب

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
امیر مینائی

چل ساتھ کہ حسرت دلِ محروم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
فدوی عظیم آبادی

پھول کی پتیّ سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک ہ بے اثر
اقبال

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
علامہ اقبال

مداعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

فصل بہار آئ، پیو صوفیو شراب
بس ہو چکی نماز، مصلّا اٹھائیے
آتش

آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈھتا تیری محفل میں رہ گیا
آتش

مری نمازجنازہ پڑھی ہے غیروں نے
مرے تھےجن کے لئے، وہ رہے وضو کرتے
آتش

امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی ‘ہاں’ بھی اب ‘نہیں’ معلوم ہوتی ہے
چراغ حسن حسرت

داور حشر میرا نامہ ء اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
محمد دین تاثیر

اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے کتنی دور بسائ ہیں بستیاں
فراق گو رکھپوری

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئ
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئ
عزیز الحسن مجذوب

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
مہاراج بہادر برق

چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا
چال سے تو کافر پہ سادگی برستی ہے
یگانہ چنگیزی

دیکھ کر ہر درو دیوار کو حیراں ہونا
وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا
عزیز لکھنوی

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن
بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائ کا
عزیز لکھنوی

دینا وہ اُس کا ساغرِ مئے یاد ہے نظام
منہ پھیر کر اُدھر کو اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ
نظام رام پوری

یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام
یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے
اکبر الہ آبادیؒ

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اکبر الہ آبادیؒ

آ عندلیب مل کر کریں آہ وزاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاوں ہائے دل

اقبال بڑا اپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
اقبالؒ

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے، اچھا ، خفا ہو جائیے
حسرت موہانی

تمہیں چاہوں، تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں
مرا دل پھیر دو، مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا
مضطر خیر آبادی

دیکھ آءو مریض فرقت کو
رسم دنیا بھی ہے، ثواب بھی ہے
حسن بریلوی

خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں
اکبر الہ آبادی

حضرتِ ڈارون حقیقت سے نہایت دور تھے
ہم نہ مانیں گے کہ آباء آپ کے لنگور تھے
اکبر الہ آبادی

دیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار
جب تک شراب آئے کئی دور ہو گئے
شاد عظیم آبادی

ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت
حالی

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
داغ دہلوی

دی مؤ ذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
داغ دہلوی

گرہ سے کچھ نہیں جاتا، پی بھی لے زاہد
ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں
امیر مینائی

فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ
بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لئے
شیفتہ

زرا سی بات تھی اندیشہِ عجم نے جسے
بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کے لیے
علامہ اقبالؒ

ہر چند سیر کی ہے بہت تم نے شیفتہ
پر مے کدے میں بھی کبھی تشریف لائیے
شیفتہ

وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زہد کی
میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے
شیفتہ

لگا رہا ہوں مضامین نو کے انبار
خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
میر انیس

شب ہجر میں کیا ہجوم بلا ہے
زباں تھک گئ مرحبا کہتے کہتے
مومن خان مومن

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
مومن خان مومن

اذاں دی کعبے میں، ناقوس دیر میں پھونکا
کہاں کہاں ترا عاشق تجھے پکار آیا
محمد رضا برق

کوچہ ٔ عشق کی راہیں کوئی ہم سے پوچھے
خضر کیا جانیں غریب، اگلے زمانے والے
وزیر علی صبا

دام و در اپنے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
غالب

گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی
غالب

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
غالب

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
غالب

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
غالب

اسی لئے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے ہیں
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کاررواں ہو کر
خواجہ وزیر

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
ذوق

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
اکبر الہ آبادی

فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سودا

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اقبال

تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
(علامہ اقبال)

یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں وہ جام اسی کا ہے
(شاد عظیم آبادی)

حیات لے کے چلو، کائینات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
(مخدوم محی الدین)

اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا
سر تسلیمِ خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
(میرتقی میر)

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
(اقبال)
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
(مرزاغالب)
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہونگے کوئی ہم سا ہو گا
(ناصرکاظمی)
نیرنگئ سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
( محسن بھوپالی )
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
( میر تقی میر)

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے
( میر تقی میر)
بہت کچھ ہے کرو میر بس
کہ اللہ بس اور باقی ہوس
( میر تقی میر)
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہی

راہ میں ان سے ملاقات ہوئی
جس سے ڈرتے تھے، وہی بات ہوئی
مصطفی ندیم
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو تیرے آستاں سے اٹھتا ہے
میر تقی میر

ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
میر تقی میر
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِِعشق احتیار کیا
میر تقی میر
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
اقبالؒ
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجئے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر صدیقی

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار ِیار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہو گا
اقبالؒ
فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
سودا
دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن
رات کٹتی نظر نہیں آتی
سید محمد اثر
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
میر تقی میر
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد
میر تقی میر

ٹوٹا کعبہ کون سی جائے غم ہے شیخ
کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
قائم چاند پوری
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
ساغر صدیقی
ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا
یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا
نظیر اکبر آبادی
پڑے بھنکتے ہیں لاکھوں دانا، کروڑوں پنڈت، ہزاروں سیانے
جو خوب دیکھا تو یار آخر، خدا کی باتیں خدا ہی جانے
نظیر اکبر آبادی
دنیا میں ہوں، دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں
اکبر الہ آبادی

کہوں کس سے قصۂ درد و غم، کوئی ہمنشیں ہے نہ یار ہے
جو انیس ہے تری یاد ہے، جو شفیق ہے دلِ زار ہے
مجھے رحم آتا ہے دیکھ کر ترا حال اکبرِ نوحہ گر
تجھے وہ بھی چاہے خدا کرے کہ تو جس کا عاشق زار ہے
اکبر الہ آبادی
نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی
کہ آخر مسلموں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی
اکبر الہ آبادی
مے پئیں کیا کہ کچھ فضا ہی نہیں
ساقیا باغ میں گھٹا ہی نہیں
امیر مینائی
اُن کے آتے ہی میں نے دل کا قصہ چھیڑ دیا
اُلفت کے آداب مجھے آتے آتے آئیں گے
ماہر القادری


کہہ تو دیا، اُلفت میں ہم جان کے دھوکا کھائیں گے
حضرتِ ناصح!خیر تو ہے، آپ مجھے سمجھائیں گے؟
ماہر القادری
اگرچہ ہم جا رہے ہیں محفل سے نالہ ء دل فگار بن کر
مگر یقیں ہے کہ لوٹ آئیں گے نغمہ ء نو بہار بن کر
یہ کیا قیامت ہے باغبانوں کے جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمھاری آنکھوں میں خار بن کر
ساغر صدیقی
آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغر کو خدا یاد نہیں
ساغر صدیقی
کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا
ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجئے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا!
ساغر صدیقی
محشر کا خیر کچھ بھی نتیجہ ہو اے عدم
کچھ گفتگو تو کھل کے کرینگے خدا کے ساتھ
عبدالحمید عدم
عجیب لوگ ہیں کیا خوب منصفی کی ہے
ہمارے قتل کو کہتے ہیں، خودکشی کی ہے
حفیظ میرٹھی
صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک دور
نکلے جو مے کدے سے تو دنیا بدل گئی
گستاخ رام پوری
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا مُنہ
اے شبِ ہجر تیرا کالا مُنہ
بات پوری بھی مُنہ سے نکلی نہیں
آپ نے گالیوں پہ کھولا مُنہ
مومن خان مومن
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
مرے لہو میں رواداریوں کی خوشبو ہے
میں ترک اپنی شرافت نہیں کرتا
رحمت رسول رحمتؔ لکھنؤی
فضا کیسی بھی ہو وہ رنگ اپنا گھول لیتا ہے
سلیقے سے زمانے میں جو اردو بول لیتا ہے
سلیمؔ صدیقی
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
جو اپنے غم کو ہوا میں اچھال دیتا ہے
سلیم اخترؔ
ہمارے منہ پہ وہ کہتے ہیں بے وقوف ہمیں
جنہیں شعور کی خیرات بانٹ دی ہم نے
عمرؔ فاروقی
ابھی بے تاج مت ہمکو سمجھنا
ابھی اُردو وراثت ہے ہماری
مستؔ حفیظ رحمانی

Aqalmand Kisaan - NCERT Solutions Class VI Urdu -

عقل مند کسان

Courtesy NCERT

سوچیے اور بتائیے

سوال: راجا محل سے باہر کیوں جاتا تھا؟
جواب: راجا اپنی پرجا کی حالت دیکھنے کے لیے کبھی کبھی محل سے باہر جاتا تھا۔

سوال: راجا نے کسان سے کیا سوال کیا؟
جواب: راجا نے کسان سے پوچھا کے وہ اس کھیت سے کتنا کما لیتا ہے۔اور وہ ان روپیہ کا کیا کرتا ہے۔

سوال: کسان ایک روپیہ کس طرح خرچ کرتا تھا؟
جواب: کسان ایک روپیا میں سےچار آنے روز کھا لیتا ہے،چار آنے کا قرض اتا کرتا ہے،اور چار آنے کا قرض دیتا ہے،باقی بچے چاد آنے تو انھیں کنویں میں پھینک دیتا ہے۔

سوال: کسان نے ایک روپیے کے خرچ کا کیا مطلب بتایا؟
جواب: کسان نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ  چار آنے جو کھاتا ہوں وہ تو میرے اوپر اور میری بیوی پر خرچ ہوتے ہیں،چار آنے کا جو قرض اتا کرتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ چار آنے میں اپنے ماں اور باپ پر خرچ کرتا ہوں، چار آنے جو قرض دیتا ہوں وہ میں اپنے بچّوں پر خرچ کرتا ہوں تاکہ جب میں بوڑھا ہو جاؤں تو وہ میری خدمت کر سکیں۔چار آنے جو کنویں میں پھینکتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں اتنا خیرات کرتا ہوں۔

سوال: راجا کو کسان پر کیوں غصّہ آیا؟
جواب:راجا کو کسان پر اس لیے غصّہ آیا کیوںکہ کسان نے راجا کو دیا وعدہ توڑ دیا اور وزیر کو سب کچھ بتا دیا۔

سوال: کسان نے راجا سے کیا وعدہ کیا تھا؟
جواب: کسان نے راجا سے وعدہ کیا تھا کہ جب تک وہ راجا کا منھ سو بار نا دیکھ لے اس بات کو کسی کو نہیں بتائےگا۔

سوال: کسان نے اپنا وعدہ کس طرح نبھایا؟
جواب: کسان نے وزیر سے سو اشرفیاں لیں،جن پر راجا کی تصویر بنی تھی،کسان نے سو اشرفیوں کو دیکھ کر ہی وزیر کو یہ بات بتائی،اس طرح کسان نے اپنا وعدہ نبھایا۔

Etebaar - NCERT Solutions Class VII Urdu

اعتبار

سدرشن

Courtesy NCERT

سوال: بابا بھارتی اپنا گھوڑا دیکھ کر کیوں خوش ہوتے تھے ؟
جواب: بابا بھارتی اپنا گھوڑا دیکھ کر اس لیے خوش ہوتے تھے کیونکہ ان کا گھوڑا بہت ہی خوب صورت تھا۔ اس کے مقابلہ کا گھوڑا پورے علاقے میں نہ تھا۔

سوال: بابا بھارتی کے گھوڑے کی چال کیسی تھی؟
جواب: بابا بھارتی کے گھوڑے کی چال ایسی تھی جیسے طاؤس اودی اودی گھٹاوں میں ناچ رہا ہو۔

سوال: کلہن کون تھا؟ بابا اس سے خوفزدہ کیوں رہتے تھے؟
جواب: کلہن اس علاقہ کا مشہور ڈاکو تھا بابا اس سے خوفزدہ اس لیے تھا کیوں کہ اس کی نظر بابا بھارتی کے گھوڑے پر تھی اور وہ اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔

سوال: بابا بھارتی کا گھوڑا دیکھ کر کلہن کے سینے پر سانپ کیوں لوٹ گئے؟
جواب: چوںکہ بابا بھارتی کا گھوڑابہت ہی خوب صورت تھا اس کے مقابلہ کا گھوڑا پورے علاقے میں نہ تھا اس لیے کلہن کو اسے پانے کی چاہ ہوئی۔

سوال: اپاہج بن کر بابا بھارتی سے کس نے مدد مانگی؟
جواب: اپاہج بن کر بابا بھارتی سے کلہن نے مدد مانگی۔

سوال: بابا بھارتی نےکلہن سے کیا درخواست کی؟
جواب: بابا بھارتی نےکلہن سےدرخواست کی کہ کسی سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا ۔

سوال: بابا ںھارتی نے کلہن سے کیوں کہا کہ واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا؟
جواب: بابا نے ایسا اس لیے کہا کہ اگر لوگوں کو اس واقعے کا پتہ چلے گا تو وہ غریبوں اور معذوروں کی مدد کرنا چھوڑ دیں گے ۔

سوال: کلہن نے بابا بھارتی کہ بارے میں کیا سوچ کر گھوڑا ان کے اصطبل میں باندھ دیا؟
جواب: کلہن نے سوچا انہیں صرف یہ خیال ستا رہا ہے کہ کہیں لوگ غریبوں پر اعتبار کرنا چھوڑ نہ دیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی نقصان کو انسانیت کے نقصان پر قربان کر دیا یہ سوچ کر اس نے گھوڑا بابا بھارتی کہ اصطبل میں باندھ دیا ۔

سوال: اپنے گھوڑے کو واپس پا کر بابا بھارتی نے کیا کہا ؟
جواب گھوڑے کو واپس پا کر بابا بھارتی نے کہا اب کوئی غریبوں کی مدد کرنے سے
انکار نہیں کرے گا۔

نیچے لکھے ہوئی لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

لہلہانا: باغ میں پھول لہلہا رہے تھے۔

فریفتہ: وہ اپنے استاد پر فریفتہ تھا۔

خوف: خوف ِخدا سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔

مہربانی: ہمیں سب سے مہربانی سے پیش آنا چاہیے۔

قسمت: قسمت کے بھروسے بیٹھے رہنا ٹھیک نہیں۔

مدد: ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔

بے پروا: وہ اپنے کام سے بے پروا ہے۔

درخواست: نسیم نے احمد سے مدد کی درخواست کی۔

قوت: اس نے پوری قوت سے گھونسہ مارا۔

احتیاط: مچھلی کھانے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

ترتیب

Saturday, August 18, 2018

MariGold

گیندے کا پھول

 گل ِ صد بَرگ، دونا، گل مریم، ہزارا


گیندا ایک بہت ہی خوبصورت اور خوش رنگ پھول ہے۔ انگریزی میں اسے میری گولڈ کہتے ہیں۔
گیندے کا بیج موسم گرما کے آغاز میں اپنی پھلواری میں لگایا جاسکتا ہے۔گرمی کے موسم میں اس کا پودہ تیزی سے بڑھتا ہے اور تقریباً 8 ہفتوں میں یہ اپنے جوبن پر ہوتا ہے۔
گیندے کا شمار سورج مکھی کے خاندان میں ہوتا ہے اور اس کی نر و مادہ دونوں قسمیں ہوتی ہیں۔
گیندے کا پھول عام طور سے پیلا، زعفرانی، لال اور میرون ہوتا ہے۔
اس کی ڈالی بالکل سیدھی ہوتی ہے اور یہ اونچائی میں 8 سے 48 انچ تک ہوتی ہے۔
گیندے کی کچھ قسمیں ایسی ہیں جس کی پتیاں آرے کے دانتوں کی طرح نوکیلے کناروں والی ہوتی ہیں۔
گینے کے ہر پھول میں بہت ساری پنکھڑیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے پر چڑھی ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی پنکھڑی سب سے باہر ہوتی ہے اور یہ ایک دائرے کی شکل میں چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہے۔سب سے چھوٹی پنکھڑی پھول کے مرکز میں ہوتی ہے۔
گیندے کے پھول سازگار موسم میں سالوں بھر کھلتے ہیں۔ گیندے کی بعض قسمیں دو سال تک رہتی ہیں جبکہ عام طور سے  یہ سالانہ کھلنے والا پھول ہے۔
گیندے کے پھول کے بہت سارے طبّی فوائد بھی ہیں۔ میکسیکو کے ایک قبیلے Aztecs کا ماننا ہے کہ یہ آسمانی بجلی کی زد میں آکر جلنے والوں کے علاج کے لیےبہت مفید ہے۔
طبّی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ گیندے کا پھول اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریل، اینٹی فنگل اور مانع سوزش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔
گیندے کا پھول کھایا بھی جا سکتا ہے۔ اس کا استعمال سلاد میں بھی کیا جاتا ہے۔
گیندے کا پھول فنگل کی خرابیوں کے لیے حساس ہے۔ یہ پودے کی جڑ اور اس کی سطح پر
ظاہر ہوتا ہے۔ گیندے کو مکڑیاں اور جھینگے یا ٹڈیاں نقصان پہنچا  سکتے ہیں۔



Friday, August 17, 2018

Mera Watan - NCERT Solutions Class VII Urdu

میرا وطن
Courtesy NCERT

سوچیے اور بتائیے

سوال: شاعر نے نظم میں کن کن پرندوں کا ذکر کیا ہے؟
جواب:  شاعر نے نظم میں چڑیا طوطا مینا مور کوئل بلبل قمری چکور کا ذکر  کیا ہے۔

سوال:  دلکش چمن کس کو کہا گیا ہے؟
جواب: دلکش چمن ہمارے وطن ہندوستان کو کہا گیا ہے۔

سوال:  ہے فردوس کا اس چمن پر گماں اس مصرعے سے کیا مراد ہے؟
جواب: اس مصرعے سے مراد یہ ہے کہ شاعر کو اپنا وطن ہندوستان جنت کی طرح خوب صورت معلوم ہوتا ہے۔

سوال: اس نظم میں ہمارے وطن کی کون کون سی خوبیاں بیاں کی ہے؟
جواب:  اس نظم میں پہاڑوں کا منظر بنوں کا سماں اور پہاڑوں سے گرنے والے چشمہ اور شاعر نے اسے باغ ادم اور باغ عدن کہا ہے۔

سوال: اس نظم کے شاعر کا نام لکھیے؟
جواب:  شفیع الدین نیر۔

سوال: شاعر اس نظم میں کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟
جواب: شاعر اپنے وطن کو خوب صورتی کا پیغام دینا چاہتا ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملے میں استعمال کیجیے

دریا: دریا میں بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں۔
پہاڑ: میرے گاؤں کے پاس ایک اونچا پہاڑ ہے۔
وطن: ہندوستان میرا وطن ہے۔
منظر: اس وادی کا منظر بہت حسین ہے۔
چمن: چمن میں پھول کھلے ہیں۔
سماں: صبح کا سماں دلکش ہے۔

املا درست کیجیے۔

صرسبز   سرسبز

منضر  منظر

باگوں   باغوں

ترقاریاں   ترکاریاں

وتن   وطن

مصرعے مکمل کیجیے۔

وہ چڑیا، وہ طوطا وہ مینا، وہ مور
وہ کوئل، وہ بلبل، وہ قُمری چکور
وہ سر سبز اس کے پہاڑ اور بَن
یہ میرا وطن ہے یہ میرا وطن

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے۔

میوے پہاڑ جھرنوں دریا جھیل بلبل چڑیا
میوہ پہاڑوں جھرنا دریاؤں جھیلیں بلبلیں چڑیاں
خوبیاں چشمہ منظر کیاری پھلواری باغ ترکاریاں
خوبی چشمے مناظر کیاریاں پھلواریاں باغوں ترکاری

Wednesday, August 15, 2018

Mitti Ka Diya - NCERT Solutions Class VI Urdu

مٹّی کا دِیا

سوچیے اور بتائیے!

1۔بڑھیانے مٹّی کا دِیا کس وقت روشن کیا؟
جواب:سورج غروب ہونے کے وقت بڑھیانےمٹّی کا دِیا روشن کیا-

2۔راستے میں مٹّی کا دیا روشن کرنے کاکیا مقصد تھا؟
جواب: راستے میں مٹّی کا دیا روشن کرنے کا مقصد یہ تھا کہ راہ گیر  ٹھوکر کھانے سے بچ  جائیں اور اپنا راستہ آسانی سے پار کرلیں۔

3۔مٹّی کا دِیا جھاڑ اور فانوس سے بہتر کیوں ہے؟
جواب:مٹّی کا دِیا جھاڑ اور فانوس سے بہتر اس لیے ہے کیوں کہ دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لئے بہت زیادہ قیمتی چیزوں اور روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مدد کرنے کے جذبے اور دردمند دل کی ضرورت ہوتی ہے۔

4۔محلوں کے باہر اندھیرا ہونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب : شاعر کہنا چاہتا ہے کی محلوں میں رہنے والے لوگوں کو باہر کے اندھیرے کا علم نہیں ہوتا کیوں کہ ان کے پاس ہمیشہ روشنی رہتی ہے۔

5۔رات میں ملّاحوں کو راستہ دکھانے میں کون سی چیز مدد کرتی ہے؟
جواب : رات میں ملّاحوں کو راستہ دکھانے میں رہ نما مینار مدد کرتی ہے۔

6۔دوسروں کی بھلائی کے لئے ہم کیا کیا کام کر سکتے ہیں؟
جواب : دوسروں کی بھلائی کے لئے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں، دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لئے بہت زیادہ قیمتی چیزوں اور روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مدد کرنے کے جذبے اور دردمند دل کی ضرورت ہوتی ہے۔

 ان لفظوں کے متضاد  لکھیے

اندھیرا محل روشنی بہتر آسان
روشنی جھونپڑی تاریکی بدتر مشکل




مصرعے مکمل کیجیے

  جھُٹ پُٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
تاکہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں
راہ سے آساں گزر جائے ہر اک  چھوٹا بڑا
روشنی سے جن کی ملاحوں کے بیڑے پار ہیں

املا درست کیجیے

صُرخ بہطر مہلوں پردیصی فانوص آصان بُڑیا
سُرخ بہتر محلوں پردیسی فانوس آسان بڑھیا

Isra's Gallery

آئینہ دی مرر میں مصور ہوں کے عنوان سے بچوں کی بنائی ہوئی پینٹنگس شائع کرتا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں اسرا عثمانی کی بنائی ہوئی پینٹنگس کی ایک گیلری شائع کی جارہی ہے جو امید ہے آپ سب کو پسند آئے گی۔ آپ بھی اپنی بنائی ہوئی پینٹنگس ہمیں ارسال کریں ہمیں شائع کرکے خوشی ہوگی ۔

Sunday, August 12, 2018

سورج مکھی (Sunflower)


سورج مکھی ( Sunflower)
سورج مکھی پیلے رنگ کا  ایک خوش نما پھول ہے   جس کا درمیانی حصہ بھورا ہوتا ہے اورجو ایک سیدھی ڈالی میں کھلتا ہے۔ اس کا نام سورج مکھی اس لیے پڑا کہ اس کا رخ سورج  کی جانب مڑتا رہتا ہے۔ صبح اس کا    رخ مشرق کی جانب رہتا ہے تو شام میں اس کا رخ مغرب کی جانب ہو تا ہے۔ اس کی بیج سے تیل نکالا جاتا ہے جس کا استعمال کھانا بنانے میں ہوتا ہے
سورج مکھی کے پھولوں کی تقریباً 60 قسمیں ہوتی ہیں جو شمالی امریکہ اور دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔بھارت میں بھی سورج مکھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ سورج مکھی  روس اور یوکرین کا قومی پھول ہے جبکہ  کنساس میں اسے ریاستی پھول کا درجہ حاصل ہے۔بھارت میں ریاست کرناٹک سورج مکھی پیدا کرنے والوں میں سر فہرست ہے۔
سورج مکھی کے پھولوں کا استعمال کھانے ،تیل اور رنگوں میں ہوتا ہے۔
سورج مکھی کا پودا 3 سے 18 فٹ تک کی اونچائی کا ہوتا ہے۔ یہ ایک نہایت تیزی سے بڑھنے والا پھول ہے اور 6 ماہ میں یہ 8 سے 12 فٹ کا ہوجاتا ہے۔ بھارت میں اس کی اوسط اونچائی 3 سے 16 فٹ ہوتی ہے۔اب اس کی بہت ساری قسمیں آگئی ہیں اور اب اسے گملوں میں بھی اگایا جانے لگا ہے۔
سورج مکھی اگانے کے لیے وہ جگہ بہترین ہے جہاں 6 سے 8 گھنٹے تک دھوپ آتی ہے۔ سورج مکھی کو لگانا اور اس کی دیکھ بھال کرنا آسان ہے۔ اس کے بیج کو  دو سے تین فٹ کےدائرے میں دو فٹ گہرے گڈھے کے اندر بونا مناسب ہے۔
سورج مکھی کےسر یعنی درمیانی حصے میں تقریباً دو ہزار چھوٹے چھوٹے منقش پھول ہوتے ہیں جو  زیرگی  یعنی پولی نیشن  (پھول دار پودوں میں پولن کا نر تولیدی عضو سے مادہ تولیدی عضو میں منتقل ہونے کا عمل ) کے بعد بیج میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔سر کے کنارے کے حصے میں پنکھڑیاں ہوتی ہیں جو بیج میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ یہ عام طور سے  پیلی،نارنجی اور لال ہوتی ہیں۔
سورج مکھی کے پھول بوئے جانے کے 80 سے 100 دن بعد سن بلوغ کو پہنچتے ہیں۔
سورج مکھی کے بیج دو طرح کے ہوتے ہیں: سیاہ اور دھاری دار۔ یہ سائز، رنگ اورتغذیہ میں مختلف ہوتے ہیں۔
قبائلی امریکیوں کے لیے یہ غذا کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ وہ اس کا روٹی بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ وہ روحانی تقریبوں میں سورج مکھی کے پیلے رنگ سے اپنے جسموں کو پینٹ کرتے ہیں۔وہ اس کا استعمال طبّی مقاصد سے بھی کرتے ہیں۔
سورج مکھی کے بیج وٹامن بی اور وٹامن ای  اور معدنیات مثلاً تانبا، فاسفورس، سیلینیم اور میگنیشیم کے حصول کا اہم ذریعہ ہیں۔
سورج مکھی کے سیاہ بیج تیل حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں  جن کا استعال کھانابنانے میں ہوتا ہے۔
دھاری دار بیج نمکین کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا استعمال سلاد میں بھی ہوتا ہے۔ اس سے دیگر نمکین ڈشیں بھی بنائی جاتی ہیں اور اسے مہمانوں کو بطور ناشتہ پیش کیا جاتا ہے۔
تازہ ترین تحقیقات کےمطابق اس کے بیج کا استعمال بایو ڈیزل بنانے میں کیا جاتا ہے جو ماحول دوست ہوتا ہے اور فضا میں آلودگی کم کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
سورج مکھی کے بیج چڑیوں، گوریّوں اور کیڑے مکوڑوں کی پسندیدہ غذا ہے۔
سورج مکھی بھاری معدنیات اور ٹوکسنس کو زمین سے جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے آلودہ ماحول میں خاص طور سے لگایا جاتا ہے۔اس کے اندر نیوکلیائی آلودگی کو بھی کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
یہ ایک سالانہ پیدا ہونے والا پھول ہے لیکن اس کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو دو سال تک بھی رہتی ہیں۔

Sunday, August 5, 2018

Gulab, Rose, گلاب

دنیا بھر میں پھولوں کی  بہت ساری اقسام پائی جاتی ہیں۔ہماری نئی نسل کو اردو میں اس بابت تحریری طور پر کم مواد دستیاب ہیں۔ لہٰذا آئینہ کے قارئین کے لیےمختلف پھولوں سے مختصر تعارف کرانے کا ایک  نیا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے جو امید ہے آپ سب کو پسند آئے گا۔ اس سلسلہ کی پہلی کڑی کے طور پر پیش ہے گلاب کا تعارف۔
اسراء عثمانی
ریزیڈنٹ ایڈیٹر، آئینہ دی مرر
گلاب

گلاب دنیا بھرمیں سب سے پسندیدہ پھول ہے۔ گلاب ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو گلاب جیسی تھی۔
گلاب کی ۱۰۰ سے بھی زائد قسمیں ہیں۔ جن میں زیادہ تر قسمیں ایشیا میں پائی جاتی ہیں  جبکہ دیگر کا تعلق یوروپ شمالی امریکہ اور افریقہ سے ہے۔ گلاب مختلف موسموں میں لگایا جاسکتاہے۔ گلاب کا سائز اس کی نسل پر منحصر کرتا ہے۔گلگب کی کئی نسلیں ایسی ہیں جس میں اس کی کونپلیں ۳۲ انچ اور اس کا قد لمبائی میں ۲۳ فٹ تک ہو سکتا ہے۔گلاب کا رنگ اس کی species  پر منحصر کرتا ہے۔گلاب مختلف رنگوں کا پایا جاتا ہے جس میں سفید، پیلا، گلابی ،نارنگی اور لال شامل ہیں۔ کالا گلاب کمیاب ہے مگر کافی مشہور ہے۔ کالے گلاب کی ایک قسم جمشید پور کےجوبلی پارک میں پائی جاتی  ہے۔ اس کے مختلف رنگ اپنی الگ الگ معنویت رکھتے ہیں۔ لال گلاب محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پیلا گلاب دوستی کی نشانی ہے۔ نارنگی جوش و ولولہ کی اور سفید  پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔گلابی رنگ خوشیوں کی علامت ہے۔
جنگلی گلاب میں پانچ پنکھڑیاں اور پانچ مسند گل یعنی سنبلہ ہوتے ہیں۔
اس کے بہت سارے طبّی فوائد بھی ہیں۔گلاب کی پنکھڑیوں سے گل قند بنایا جاتا ہے  جو قلب  اور دماغ کے لیے انتہائی سکون بخش ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ پیٹ کے درد میں بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔گلاب کی پتیوں کو سکھاکر اس کی چائے بھی بنائی جاتی ہے۔ گلاب کی پتیوں کا عرق بھی نکالا جاتا ہے جو امراض چشم میں بہت مفید ہے۔ یہ آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے اور اس کی لالی کو کم کرتا ہے۔ عرق گلاب کھانوں میں خوشبو کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مذہبی تقریبات  میں اس کے پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا ہے۔
گلاب کی پنکھڑیاں ایک دوسرے پر چڑھی ہوتی ہیں۔ اس کی شاخوں میں کانٹے بھی ہوتے ہیں۔اردو شاعری میں گلاب کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور شعرا نے اس کا مختلف موقعوں پر استعمال کیا ہے اور اس کی تشبیہیں دی ہیں۔ غالب کا ایک مشہور شعر ہے جس میں اس نے اپنے محبوب کے ہونٹوں کی مثال گلاب کی پنکھڑی سے دی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
گلاب سے عطر بھی کشید کیا جاتا ہے۔یہ عطریات کی انڈسٹری کا ایک اہم جز ہے۔عطر کشید کرنے کے لیے کثیر تعداد میں گلاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک گرام تیل کے لیے تقریباً دو ہزار گلاب کے پھولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
گلاب ایک بہت ہی قدیم پودا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ کولاریڈو/امریکہ میں گلاب کی سب سے قدیم نسل دریافت ہوئی ہے جو ایک تخمینہ کے مطابق ۳۵ ملین سال پرانی ہے۔

خوش خبری