آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Saturday, September 21, 2019

shagufta khatir ka aurangabad bihar mein ijra

پنڈت نے دام شیخ نے قیمت وصول کی 
کتنے میں کون کون بکا ہم سے پوچھئے

اورنگ آباد میں سید حسن عسکری طارق کے مجموعہ کلام "شگفتہ خاطر" کی رسمِ اجرا  



اورنگ آباد (نمائندہ آئینہ)اورنگ آباد کے مدرستہ الصفہ سیدنا مصعب بن عُمیر ، محلہ نواڈیہہ کے کانفرنس ہال میں جناب سید ناطق قادری کے برادرِ معظم جناب سید حسن عسکری طارق مدنی نوراللہ مرقدہ کے مجموعہ کلام "شگفتہ خاطر" کا رسمِ اجرا ہوا ۔ جس میں اورنگ آباد شہر کے شائقین ادب نے شرکت کی۔ "شگفتہ خاطر" مزاحیہ شاعری کا ایک حسین ترین مجموعہ ہے ۔


اس تقریب کی نظامت مدرستہ الصفہ کے سرپرست جناب مولانا فہیم ندوی کر رہے تھے ۔ تقریب کے آغاز میں مولانا فہیم ندوی نے ایک بیحد عمدہ نعت پاک پڑھی ۔ بعد ازاں جناب سید ناطق قادری نے کتاب اور اپنے برادر مکرم جناب حسن عسکری طارق مدنی کے حوالے سے پر مغز تقریر کی و سامعین سے خطاب کیا ۔ جناب ناطق قادری نے حسن عسکری طارق  کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ طارق صاحب اگرچہ پیشے سے انجینئر تھے مگر ان کی شاعری اور ان کا دینی مزاج ان کو دوسروں سے بیحد مختلف اور ممتاز رکھتا ہے ۔ اخیر وقت میں ان کی خواہش تھی کہ مدینے کی پاک سرزمین ہی ان کا آخری ٹھکانہ ہو اور یہی ہوا بھی ۔ ان کی اس نیک خواہش کو الله نے قبول فرمایا ۔ آپ نے مدینے میں ہی آخری سانسیں لیں اور وہیں دفن ہوئے ۔ ناطق قادری نے سید حسن عسکری طارق کے کچھ عُمدہ اشعار بھی سنائے ۔


پیش ہیں چند منتخب اشعار

گھر والوں کو غصہ میرے اس کام سے آیا 
کیوں شعر سنانے کو میں دمام سے آیا 

میں نے تمہارا نام ہی ماہِ تمام رکھ دیا 
تم نے مسل کر دل میرا صورت حرام رکھ دیا  

ٹوپی اتار اتار چپت مارتا ہے کون 
دیکھو تو ذرا پیچھے ہی میرے کھڑا ہے کون  

پنڈت نے دام شیخ نے قیمت وصول کی 
کتنے میں کون کون بکا ہم سے پوچھئے 

گرگے لیکر ووٹروں کو گاؤں دھمکانے گئے 
ہم الیکشن کی بدولت ہر طرف جانے گئے 

اس تقریب میں شرکت کرنے والوں میں جناب مسیح الزماں صاحب، پروفیسر مظفر حسین راز، مولانا قاری شاہد انور ندوی صاحب، ڈپٹی الیکشن آفیسر جناب جاوید اقبال صاحب، سید الحمداللہ صاحب، شبلی فردوسی صاحب، جناب گلفام صدیقی صاحب، نور عالم صدیقی صاحب، جناب یوسف جمیل صاحب، مولانا اختر حسن قاسمی صاحب و ڈاکٹر یوسف صاحب کے علاوہ مدرستہ الصفہ کے طلبہ و طالبات موجود تھے ۔ آخر میں جناب سید ناطق قادری صاحب نے اس تقریب میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ۔

(آئینہ جلد ہی شگفتہ خاطر پر ایک تبصراتی مضمون پیش کرنے جارہا ہے۔)

Sunday, September 1, 2019

Taleem-e-niswaan


تعلیم نسواں


اقصیٰ  عثمانی            

ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے یہی سبب ہے کے معاشرے میں  لڑکیوں کی تعلیم کو ضروری قرار دیا   گیا ہے کے اگر ایک لڑکی تعلیم یافتہ بن جاتی ہے تو اس کا گھر علم کا ۔گہوارہ بن جاتا ہے۔ اسلام نے بھی عورت کو معاشرے میں عزت  کا مقام دیتا ہے اور  وہ عورتوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیتا ہے
اس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی گئ ہے اور لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں وہ علم کے ہر میدان میں ترقی کی طرف گامزن ہیں مقابلہ جاتی امتحان میں بھی وہ لڑکوں پر بازی مار رہی ہیں  یہ سب سماج میں لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت دینے اور اس پر توجہ دینے کا نتیجہ ہے آج ہر جگہ اسکول اور مدرسے کھل رہے ہیں جس میں
 لڑکیوں کی تعلیم پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے مدرسہ البنات جہاں صرف لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی ہے اسکی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ لڑکیاں دنیاوی تعلیم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں وہ سائنس کے میدان میں بھی آگے بڑھ رہی ہیں انجینئرنگ اور ڈاکٹری کی تعلیم بھی اب انکے لیے آسان ہے گئی ہے ہماری حکومت بھی تعلیم نسواں پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور اس سلسلے میں اداروں کو بھی فراہم کرتی ہے لڑکیوں کے لئے وظیفے کا بھی خصوص انتظام ہوتا ہے آج سماج کے ہر طبقے میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا جاتا ہے اور والدین اپنی بیٹیوں کو پڑھنے میں فخرمحصوس کرتے ہیں وہ اپنے بجٹ کا بڑا حصہ اپنی بیٹیوں پر خرچ کرتے ہیں زمانے میں تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں رہ گیا ہے لیکن اس کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے اسکول اور مدرسوں میں لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے تعلیم نسواں کی اہمیت کو لوگوں نے سمجھ لیا ہےاور سبھی اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم سے بہرہوار کرنا چاہتے ہیں  تاکہ وہ اپنے خاندان اور سماج کے لیے کارآمد ثابت ہوں  آج تعلیم کے میدان میں لڑکیوں اور لڑکوں کا فرق تقریباً ختم ہو چکا ہے اور تعلیم نسواں کی ضرورت اور کامیابی کا جو خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا اسکے شرمندہ ٔ تعمیر ہونے کا وقت آگیا ہے۔




Sunday, August 18, 2019

Yadgar-e-Ghalib ki roushni mein Ghalib By Tahsin Usmani

یادگار غالب" کی روشنی میں'' 
غالب کی شاعری اور شخصیت کا جائزہ

از تحسین عثمانی







(بہ شکریہ ریختہ ڈاٹ کام)

Saturday, August 17, 2019

ُFan pare

فن پارے

ڈاکٹر عبد الوحید

20-08-2019

آدابِ مجلس

انسانوں کو جب کسی جگہ مل بیٹھنے کا موقع میسر  آئے تو سب سے اہم اور ضروری چیز یہ ہے کہ ایک دوسرے کی بات کو نہایت صبر و سکوں سے سنا جائے۔

بات مدلل اور معقول طریقے پر کی جائے۔

کسی کی بات کو درمیان میں ٹوکا نہ جائے گفتگو بہت شریفانہ اور با مذاق ہو۔

ایسے مذاق سلیم کا مظاہرہ کیا جائے جو شرف انسانیت کے شایان شان ہو کسی کو شکایت پیدا ہونے کا موقع نہ دیا جائے دل آزاری کی کوئی بات نہ کی جائے نشست و برخاست میں تہذیب اخلاق اور مروت کا ثبوت دینا چاہیے۔

دو یا چار آدمی اگر آپس میں گفتگو کر رہے ہوں تو بلا اجازت اُن کی بات میں دخل دینا  نہایت معیوب بات ہے جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے کسی کو اٹھا کے اسکی جگہ بیٹھنا آدابِ مجلس کے خلاف ہے تکیہ لگاکر یا پاؤں پھیلا کر بیٹھنا بہت برا اور آدابِ مجلس کے خلاف ہے مجلس میں کسی کی غیبت کرنا اور ہنسی اڑانا بہت نا پسندیدہ فعل ہے۔ اسلام نے خاص طور پر غیبت کو سختی سے روکا ہے۔

19-08-2019

آدابِ ملاقات

ملاقات آپس میں انس و محبت  اور ہمدردی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اسے اجنبیت دور ہوتی ہے دل کو دل سے راہ ہوتی ہے بوقت ضرورت جان پہچان کا پاس کرتے ہوئے مدد کرنا لازم ہو جاتا ہے

ملاقات میں خلوص اور ہے غرضی دل میں انمٹ جگہ پیدا کر لیتی ہے

سلام میں ہمیشہ سبقت کی کوشش کرنی چاہیے

چھوٹا بڑے کو، راستہ چلنے والا بیٹھے ہوئے کو،سوار پیدل کو اور تھوڑے آدمی بہتوں کو سلام مصافحہ  معانقہ حسب روایت کیا جا نا چاہیے

ملاقات میں اعتدال کو مدنظر رکھنا چاہیے کثرت ملاقات اور طوالت بار خاطر بن جاتی ہے-

ملاقات کے وقت ایک دوسرے کا احترام ملحوظ رہے نارو اغير ضروری گفتگو سے اجتناب ہو بے تکلف دوستی میں بھی بد کلامی اور بدتمیزی کو قریب نا آنے دیا جائے-

ہمیشہ اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ دیکھنے والے بھی اچھا اثر قبول کرے۔

18-08-2019

آدابِ لباس

پوشاک انسانی تمدن کی اہم ضرورت ہے۔ ہر ملک کی آب و ہوا اور تہذیب کے مطابق اس کے استعمال میں اختلاف ناگزیر ہے۔

مردوں کو ایسا لباس زیبِ تن کرنا چاہیے جو ستر پوش ہو۔ فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بنے اور غرور اور نخوت پیدا نہ کرے۔

طبقۂ نسواں کے لیے ایسا لباس ہونا ضروری ہے جو ان کی زینت کو چھپائے۔ ان کی عزت و آبرو کا محافظ اور وقار کا حامل ہو۔

مردوں کے لیے بھڑکیلے قسم کے لباس کا استعمال ن کی مردانگی کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ لباس سلیقے سے پہنے اور موقع محل کے مطابق سلیقہ سے استعمال کرے۔ بھونڈے اور بد وضع لباس سے پرہیز لازم ہے۔

حضور سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد  عالی ہے کہ النّاس باللبّاس یعنی انسان لباس سے پہچانا جاتا ہے۔

 یہ ضروری نہیں ہے کہ لباس قیمتی ہو۔ البتہصاف ستھرا ہونا چاہیے۔


17-8-2019

آدابِ طعام

کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، کلی کرنا، شروع کرتے وقت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا، اپنے آگے سے کھانا، ادھر ادھر ہاتھ نا چلانا، اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو سلیقے سے طلب کرنا، کھانا اطمنان سے چبا چبا کے کھانا،  چھینک وغیرہ آئے تو منہ پیچھے کی طرف کر لینا، خلاف طبع کوئی چیز ہو تو ناک بھوں نا چڑھانا، پانی ٹھہر ٹھہر کر پینا، کھانا ختم  ہو نے پر خدا کا شکر ادا کرنا، ہاتھ دھو کر اور کلی کر کے تولیے سے ہاتھ منہ پوچھنا آداب طعام میں شامل ہے۔

کھانا کھاتے وقت غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے، ان باتوں سے اجتناب کرنا بھی آداب میں شامل ہے جو شریک طعام اصحاب کو ناگوار خاطر ہوں۔ ہر حالت میں محفل کے وقار اور شرکائے مجلس کے احترام کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

Neki aur badi - NCERT Solutions Class X Urdu

نیکی اور بدی

ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے 
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہے
 یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہے
گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
 اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا وست بدستی ہے 

جو اور کسی کا مان رکھے تو پھر اس کو بھی مان ملے
 جو پان کھلاوے پان ملے، جو روٹی دے تو نان ملے
 نقصان کرے نقصان ملے، احسان کرے احسان ملے
 جو جیسا جس کے ساتھ کرے، پھرویسا اس کو آن ملے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرتی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا وست بدلتی ہے

 جو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی ناؤ اترنی ہے 
جو غرق کرے پھر اس کو بھی یاں و بکوں وبکوں کرنی ہے
 شمشیر، تبر، بندوق، سناں اور نشتر، تیر، نہرنی ہے 
یاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر دیسی ویسی بھرنی ہے

کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا وست بدستی ہے 

جو اور کا اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہے 
اور دے پٹکے تو اس کو بھی پھر کوئی پٹکنے والا ہے
بے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہے
 اس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہے


کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بدستی ہے


نظیر اکبر آبادی
(1740-1830)

نظیر اکبر آبادی کا پورا نام ولی محمد تھا۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ اپنے خاندان کے ساتھ آگرے میں آ کر بس گئے۔ فقیر عوامی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں ہندوستانی ماحول کی عکاسی کی گئی ہے۔ انھوں نے یہاں کے موسموں میلوں تہواروں اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بہت سی نظمیں لکھی ہیں ۔ سامنے کے موضوعات کو سیدھی سادی زبان میں بیان کرتا نظیر کی بہت بڑی خوبی ہے۔ ان کے پاس الفاظ کا غیر معمولی ذخیرہ تھا۔ وہ موقعے اور موضوع کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے کلام میں تاثیر بہت ہے۔
روٹیاں، بنجارا نامہ مفلسی، ہولی، آدمی نامہ اور کرشن کتھتیا کا بال پن وغیرہ ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ اسی طرح ہندوستان کے مختلف موسموں پھلوں اور شخصیتوں پر نظیر  کی نظمیں بھی اپنی خاص پہچان رکھتی ہیں۔ وہ اردو کے معروف شاعر تھے۔

مشق

معنی یاد کیجیے: 
عدل پرستی:  انصاف پر ستی
شمشیر:تلوار
تبر:کلہاڑی جیسا بڑا ہتھیار
 سناں: بھالا
بالا: اونچا، بلند
دست بدستی: ہاتھوں ہاتھ ایک ہاتھ سے دینا، دوسرے ہاتھ سے لینا کسی چیز کا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پہنچانا
نان: روٹی
 غرق کرنا: ڈبونا
نہرنی: ناخن کاٹنے کا آلہ



غور کیجیے:
اس نظم میں ناؤں، یاں اور لوہو جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلے یہ الفاظ رائج تھے۔ آج کل ناؤں کو نام یاں کو یہاں اور لوہو کولہو کہا جاتا ہے۔ نظم میں ایک لفظ ذبح بھی آیا ہے۔ اس کا یح تلفظ ب اورح پر جزم کے ساتھ ہے۔

سوچیے اور بتائیے:
1. نظم کے پہلے بند میں دنیا کو کس طرح کی بستي بتایا گیا ہے؟
جواب: اس نظم میں دنیا کو ایک ایسی بستی بتایا گیا ہے جو امیروں کے لیے تو مہنگی ہے اور غریبوں کے لیے سستی ہے۔ دنیا میں ہر وقت جھگڑے اور عدالتیں ہیں اور جو یہاں مست ہیں وہ مستی سے رہتے ہیں اور جو سست ہیں ان کے لیے پستی ہے۔

2. کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: کچھ دیر نہیں اندھیر نہیں سے شاعر کی مراد ہے کے اگر ابھی مصیبت ہے پھر بھی کچھ وقت کے بعد اُس کا حل نکل جائے گا  اور پریشانی ختم ہو جائیگی۔ مشہور مقولہ ہے اللہ کے گھر دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔

3. کس کی ناؤ پار اترتی ہے؟
جواب: اس شعر کامطلب ہے جو دوسروں کی مدد کرتا ہے اللہ  بھی اس کی مدد کرتا ہے- یعنی جو دوسروں کی نیّا پار اتارتا ہے اس کی بھی ناؤ پار لگ جاتی ہے۔

4. ظالم کو ظلم کا کیا بدلہ ملتا ہے؟
جواب: ظالم کو اس کے ظلم کی بدترین سزا ملتی ہے۔ اگر وہ ناحق کسی کا خون بہاتا ہے تو پھر اس کا خون بھی ندی نالوں میں بہہ جاتا ہے۔ ہر ظالم کو سزا ملنی یقینی ہے۔

محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:
جیسی کرنی ویسی بھرنی  : ظالم کے انجام کو دیکھ کر  سب نے کہا  جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔
بول بالا ہونا: اس کے نام کا بول بالا پوری دنیا میں ہوگیا۔
پار اتارنا : ملاح نے اس کی نیّا پار اتار دی۔
مان رکھنا: احمد نے اس باتوں کا مان رکھا۔

خالی جگہوں میں اسم یافعل بھریے: 
1. یہ دنیا اور طرح کی .............بستی................... ہے۔
2. یہاں ہر دم جھگڑے ......اٹھتے........... رہتے ہیں ۔
3. جو اوروں کو پار اتارتا ہے اس کی ناؤ بھی پار ........اتاری.......... جاتی ہے۔ 

عملی کام :
* آپ کو جو محاورے یاد ہیں ان میں سے تین محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

Thursday, August 15, 2019

GHAZAL-MARNE KI DUAEIN KYUN MAANGU--AHSAN JAZBI

غزل

(معین اخسن جذبی)


مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا  وہ دنیا، اب خواہش دنیا کون کرے

جب کشتی ثابت و سالم تھی، ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر، ساحل کی تمنّا کون کرے 

جو آگ  لگائی تھی تم نے، اس کوتو بجھایا اشکوں نے
جو اشکوں نےبھڑکائی ہے، اس آگ کو ٹھنڈاکون کرے

دنیا نے ہمیں چھوڑا جذبی، ہم چھوڑ نہ دیں کیوں دنیا کو
دنیا کو سمجھ کر بیٹھے ہیں،  اب دنیا دنیا کون کرے

GHAZAL-CHALE BHI AAO KE GULSHAN KA KAROBAR CHALE-FAIZ AHMAD FAIZ

غزل
(فیض احمد فیض)
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کے گلشن کا کاروبار چلے 

قفس اُداس ہے یاروں صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہرِ خدا آج ذکرِ یار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی
تمہارے نام پہ آئیں گے غمگسار چلے

جو ہم پہ گزری وہ گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تیرے عاقبت سنوار چلے

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

GHAZAL-MOMIN KHAN MOMIN

غزل 

(حکیم مومن خاں مومن )

غیروں پر کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
میری طرف بھی غمزہ غمّازدیکھنا

اُڑتے ہی رنگ رخ مرا نظروں سے تھا نہاں
اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا

دشمنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا

دیکھ اپنا حال زار منجم ہوا رقیب
تھا سازگاز طالع نا ساز دیکھنا

کشتہ ہوں اس کی چشم فسوں گر کا اے مسیح
کرنا سمجھ کے دعوۓ اعجاز دیکھنا

ترک صنم بھی کم نہیں سوزِ حجیم سے
مومن غم مآل کا آغاز دیکھنا

khwaja meer dard - GHAZAL

غزل
خواجہ میر درد

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لیے آئے تھے ہم سو کر چلے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

دوستوں دیکھا تماشہ یاں کا بس
تم رہو اب ہم تو اپنے گھر چلے

شمع کے مانند ہم اس بزم میں
چشم نم آئے تھے دامن تر چلے

درد کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

Aaina Calendar-2019

آئینہ کی جانب سے سالِ نو کاایک خوبصورت تحفہ


سال ۲۰۱۹ کا اسلامی کلنڈر اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر دیکھنے کے لئے یہاں یا نیچے کلنڈر پر کلک کریں۔









Wednesday, August 14, 2019

AE SHAREEF INSANO---NCERT SOLUTION CLASS X URDU


اے شریف انسانو

Courtesy NCERT

خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسل آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
 امن عالم کا خون ہے آخر

بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روح تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ غیروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے

ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پر روتی ہے

جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی

اس لیے اسے شریف انسانو!
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

(ساحر لدھیانوی)

ساحر لدھیانوی
(1980 – 1921)


ساحر کا اصل نام عبد بھی تھا وہ ساحر لدھیانوی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ لدھیانہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے ۔ زمانہ طالب علمی ہی سے شعر کہنے لگے تھے۔ 1936 میں ترقی پسند تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک سے وابستہ ہونے والوں میں ساحر بھی شامل تھے۔ 1947 میں تقسیم ملک کے بعد دہلی چلے آئے پھر تلاش معاش میں مبین پہنچے جہاں انھوں نے فلموں کے لیے گیت لکھے۔ ساحر نے اپنی شاعری سے ہندوستانی فلموں میں گانوں کے معیار کو بہت بلند کیا ۔ اپنے زمانے کے وہ سب سے مشہور گیت کار تھے۔ ان کے فلمی گیتوں میں بھی ان کی شاعری کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ عوام کے دکھ درد کا احساس اور ماحول کی کشمکش کا اثر ان گیتوں میں نمایاں ہے۔ تمنیاں ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ہے۔ اس کے بہت سے ایڈیشن شائع ہوئے۔ ”آو کہ کوئی خواب میں بھی ان کی شاعری کا معروف مجمود ہے۔”گاتا جائے بنجارہ میں ساحر کے فلمی گیت یکجا کر دیے گئے ہیں۔ ساحر کی پرچھائیاں اردو کی طویل نظموں میں ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔

.
معنی یاد کیجیے:

 نسل:##### آدم کی نسل، تمام انسان
 مشرق:#### پورب
مغرب: #### پچھم
فتح:##### جیت
احتیاج:#### ضرورت
عالم:##### دنیا
روح تعمیر:##\تعمیر کا جذ بہ،  زندگی کو بنانے سنوارنے کی خواہش
 زیست:#### زندگی
 جشن:##### خوشی کی تقریب ، چہل پہل


غور کیجیے:

جنگ سے بربادی اور تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جنگ انسانی ترقی اور خوش حالی کی دشمن ہے۔

سوچنے اور بتایئے

1. ’’روح تعمیر“ کے زخم کھانے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب:

2۔ دھرتی کی کوکھ بانجھ ہونے سے کیا مطلب ہے؟
جواب:

3۔ شاعر نے جنگ کو امن عالم کا خون کیوں کہا ہے؟
جواب:

عملی کام:
اس نظم میں اپنا ، پایا، مشرق، مغرب وغیرہ متضاد الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایسے ہی کچھ لفظوں کی فہرست بنائیے۔
جنگ کے نقصانات پر مختصر مضمون لکھیے۔

laai hayat aai qaza le chali chale-NCERT SOLUTION CLASS X URDU



لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے


لائی حیات، آئے، قضا لے چلی،چلے 
اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے 

ہو عمر خضر بھی تو کہیں گے بہ وقت مرگ 
ہم کیا رہے یہاں، ابھی آئے، ابھی چلے 

ہم سے بھی اس بساط پر کم ہوں گے بد قمار
 جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

 بہتر تو ہےیہی کہ نہ دنیا سے دل لگے 
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

نازاں نہ ہو خرو پر، جو ہونا ہے ہو وہی
 دانش تیری، نہ کچھ مری دانش وری چلے


شیخ محمد ابراہیم ذوق
(1788 - 1854)

ذوق کا اصل نام شیخ محمد ابراہیم تھا۔ دہلی میں پیدا ہوئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک سپاہی کے بیٹے تھے۔ انھوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن اپنی ذہانت اور محنت سے علمی صلاحیت پیدا کر لی تھی ۔ وہ شاہ نصیر کے شاگرد اور بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔
بہادر شاہ ظفر نے انہیں مل الشعراء اور خاقانی ہند کے خطابات دیے۔ ذوق نے کئی اصناف میں اظہار خیال کیا ہے۔ ان کی اصل پ ین قصیدہ نگار کی ہے بالخصوص بہادر شاہ ظفر پر لکھے ہوئے قصائد کا مرتبہ بلند ہے۔ لیکن وہ غزل کے بھی ایک قابل ذکر شاعر ہیں۔
ذوق نے اپنے کلام میں نیا پن پیدا کرنے اور زبان اور محاورے کی صفائی پر خاص توجہ دی ہے۔

معنی یاد کیجیے 
حیات : زندگی 
قضا : موت
 عمر خضر : مرادلمبی عمر
مرگ : موت
بساط: وہ خانے دار کپڑا جو چوسر یا شطرنج کھیلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
 بدقمار: نا کا م جواری
 نازاں ہونا: ناز کرنا فخر کرنا
ثرد:عقل
دانش:سمجھ بوجھ
 دانش وری: ہوشیاری ، تجھ داری، زیادہ علم رکھنا

غور کیجیے:
اس غزل کے ہر شعر کے آخر میں لفظ چلے آیا ہے۔ اسے ردیف کہتے ہیں۔ 
” چل ردیف سے پہلے چلی، خوشی، ابھی، بری اور دل لگی جیسے ہم آواز الفاظ استعمال ہوئے ہیں، انہیں قافیہ کہتے ہیں۔


عملی کام:

اس غزل کو یاد کیجیے۔


سوچیے اور بتائیے:
پہلے شعر میں شاعر کیا بات کہنا چاہتا ہے
جواب شاعر کہنا چاہتا ہے کہ زندگی اسے دنیا میں لائی تو وہ آگیا موت اسے لے جا رہی ہے تو وہ جارہا ہے


ابھی آئے ابھی چلے سے شاعر کی کیا مراد ہے
جواب اس شعر سے شاعر کی مراد ہے کہ وہ ابھی تو آیا تھا اور اسے ابھی ہی جانا پڑ رہا ہے

دنیا سے دل لگانے کے کیا معنی ہے

جواب

شاعر نے عقل پر فخر کر نے سے کیوں منع کیا ہے

جواب



ان لفظوں کے متضاد لکھیے                                                                        

بریمرگبہترخوشی

حیات
اچھی زندگی بدتر غم قضا

KAATH KA GHODA--NCERT SOLUTION CLASS X URDU


کاٹھ کا گھوڑا
Courtest NCERT

اس وقت بند کا ٹھیکہ تو ٹھیلہ خود بندو ایسا ہے جان کاٹھ کا گھوڑا بن کر رہ گیا ہے جو اپنے آپ نہ مل سکتا ہے نہ ڈال سکتا ہے ، نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

اسی لیے ، بندو کی ہی وجہ سے اندھیر دیو کے نیک بازار میں راستہ قریب قریب بند ہو کر رہ گیا ہے۔ ضرورت سے زیادہ بوجھ سے لدا ہوا بندو کا ٹھیکہ سڑک پر چڑھائی ہونے کی وجہ سے ژک سا گیا ہے۔ رہ رہ کر اگر چتا بھی ہے تو جوں کی رفتار سے رینگتا ہے اور پھر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے پیچھے کار ہیں، ٹرک، بسیں ، موٹر سائیکل ، اسکوٹر غرض یہ کہ بھی تیز رفتار گاڑیوں کی لمی قطار شہر کی گئی ہے اور انہی کے میں تانگے اور رکشے بھی چھنے ہوئے ہیں۔

ان گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں وزیر، ملک کے بڑے بڑے کارخانے دار، کاروباری سیٹھ ، دفتروں کے افسر، دوکاندار، اور دلوں والے فوجی اور پاس والے، سفید کالروں والے بابو، عام آدمی ، سودا سلف خریدنے کے لیے گھروں سے نھی عورتیں، اسکولوں اور کالجوں کے پی ، ڈاکٹر، نرس، اکلینیر بھی کے بھی کھہر گئے ہیں۔ لگتا ہے جیسے بندو کی سست رفتار کی وجہ سے سارے شهر، بلکہ ایک طرح سے کہا جائے تو سارے ملک، ساری دنیا کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔

یوں تو وزیر اپنی کار میں بیٹھا کچھ لوگوں سے گفتگو کر رہا ہے۔ لیکن بے چینی سے بار بار گھٹری دیکھ رہا ہے۔ کیوں کہ کسی غیر کی وفد سے ملنے کا وقت قریب آرہا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگے سے راستہ اس طرح بند کیوں ہو گیا ہے۔ اس کا ڈرائیور گھبرایا ہوا بار بار کار سے اترتا ہے، کچھ دور جا کر دیکھ کر آتا ہے ۔ اور پھر مایوس ہوکر گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگتا ہے ۔ وہ لوگ جو کار میں بیٹھے وزیر سے باتیں کر رہے ہیں، دل ہی دل میں خوش ہیں کہ راستہ بند ہونے کی وجہ سے کار

کھڑی ہے اور انھیں وزیر کے سامنے اپنی بات رکھنے کا پورا پورا موقع مل رہا ہے ۔ کارخانے دار اور کاروباری سیٹھ ال به کاروں کی گلیوں پر بیٹھے بے چین ہورہے ہیں ۔ ان کے لیے ہر گذرے ہوئے پی کے معنی ہیں لاکھوں کا گھاٹا۔

ریلوے کا ایک ڈرائیور بار بار اپنی سائیکل کا اگلا پہیہ اٹھا اٹھا کر پک رہا ہے۔ پریشانی کی وجہ سے اس کے ماتھے پر پسینہ آرہا ہے، کیوں کہ جس گاڑی کو لے کر اسے جانا ہے، اس کے جانے کا وقت ہو چکا ہے اور وہ یہاں راستے میں قید ہوکر رہ گیا ہے۔

اسکولوں اور کالجوں کے زیادہ تر بچے خوش ہیں ۔ جتنے پیر نہ نکل جائیں اتنا ہی اچھا ہے لیکن کچھ ایک کو افسوس بھی ہے کہ ان کی پڑھائی پیچھے رہ جائے گی۔

اسی طرح سر پر لوہے کی ٹوپی پہنے ہوئے فوجی بار بار موٹر سائیکل کا ہارن بجارہا ہے لیکن آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اگر دفتر پہنچنے میں دیر ہوئی تو اس کا کمانڈنٹ آفیسر چالیس کلو کا وزن پیٹھ پر لدوا کر دس کلو میٹر کا روڑ مارچ کروادے گا۔

لیکن بندوان سب سے بے خبر ہے۔ بے نیاز ہے۔

آج اس سے کٹیہ میچ بھی نہیں پا رہا۔ ایک تو سیٹھ کے بچے نے زیادہ بوجھ لاد دیا ہے دوسرے اس کے کھیل کا دارا جام ہورہا ہے۔ تیسرے یہ کہ چڑ ھائی کا راستہ ہے اور چوتھے یہ کہ اس کا من ہی نہیں ہورہا ہے ٹھیلہ چنے کا۔ وہی کاٹھ کے گھوڑے والی بات ہورہی ہے جواپنے آپ سرک نہیں سکتا۔ جب بھی اس کا من اداس ہوتا ہے تو اس کی کیفیت اس کا ٹھ کے گھوڑے جیسی ہو جاتی ہے جسے وہ بچپن میں ایک میلے سے خرید کر بڑادھی ہوا تھا۔

کاٹھ کا نگین گھوڑا لے کر جب وہ بڑے فخر سے گلی کے بچوں کے نیچے گیا تو اس نے دیکھا کہ کسی کے پاس جانی والی موٹر تھی جو گھوں گھوں کرتی ہوئی تیز بھاگتی تھی اور کسی کے پاس ریل گاڑی تھی ، انجمن سمیت اپنے آپ چلنے والی گاڑی ۔ جس

کے پاس ایسے دوڑنے والے کھلونے نہیں تھے، ان کے پاس رستی کے سہارے گھومنے والے نین لو تھے۔ تیزی سے گھومتے ہوئے وہ ایسے لگتے تھے جیسے وہ سارے میدان کو اپنے گھیرے میں لے رہے ہوں ۔ ان کھلونوں کے سامنے اس کا کاٹھ کا

گھوڑا سا کت بے جان تھا۔ ویسے بچوں کے سامنے کھیلتے ہوئے اس نے بھی اپنے گھوڑے کو ٹانگوں کے چپھنسا کر دوڑ نے کا سوائنگ کیا تھا لیکن دل ہی دل میں وہ جانتا تھا کہ اس کا کھلونا دوسروں کے کھلونے کے سامنے بے کار اور بے معنی ہے ۔ اسی لیے گھر آ کر اس نے کاٹھ کے گھوڑے

کو چولہے کی آگ میں جھونک دیا تھا۔ لیکن جلنے کے با وجود جیسے وہ بے جان کاٹھ کا گھوڑا اس کی شخصیت کے ساتھ چپک کر رہ گیا تھا۔ کیونکہ ہوا یہ کہ گلی کے نیچے جو اس کے ساتھ کھیلا کرتے تھے ان میں سے کوئی پڑھ لکھ کر نیم بن گیا تھا تو کوئی وکیل ۔ کوئی اسکول کا ماسٹر ہوگیا تھا تو کوئی بڑا افسر ۔ اور اس کے بکس بندو وہی کاٹھ کا گھوڑا ہی رو گیا۔ باپ ٹھیلا چلاتا تھا تو وہ بھی یہ ہی جا رہا ہے۔

وہ اکثر سوچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیسے ہوا کہ ایک ہی گلی میں رہتے ہوئے باقی لوگ آگے بڑھ گئے اور وہ پیچھے رہ گیا۔ ایسا کیوں کر ہوگیا ؟ لیکن وہ سوچ بھی تو کیا؟ کاٹھ کا گھوڑا بھلا سوچ ہی کیا سکتا ہے؟

لیکن آج وہی کاٹھ کا گھوڑا ہی سوچ کر اداس ہورہا ہے کہ اس کے آٹھ نو سال کے لڑ کے چندو نے محض اس لیے اسکول جانا بند کردیا ہے کہ وہ اس کے لیے ضرورت کی چیزیں بجھا نہیں پاتا۔ جب میں اپنی زندگی کی گاڑی ٹھیک سے نہیں کی پاتا تو پھر اس مٹھیلے کے بوجھ کو کیوں کھینچوں؟‘ بند سوچ رہا ہے۔

اس کے دل نے کہا کہ ٹھیلہ جو پہلے ہی سرک نہیں پا رہا ہے اسے چھوڑ چھاڑ کر الگ کھڑا ہو جاؤں ۔ اس کی ہمت پہلے ہی جواب دے رہی ہے ۔ رہ رہ کر اس کے دل میں خیال اٹھ رہے ہیں کہ ایک دن اس کے چندو کو بھی اسی طرح ٹھیلے کے بوجھ کو سینچنا پڑے گا۔ اور اس خیال کے ساتھ اسے اپنی جان ٹوٹتی ہوئی سی محسوس ہو رہی ہے اور اس کے لیے ایک ایک قدم اٹھانا بھی دشوار ہورہا ہے۔

لیکن اس کے پیچھے جو لوگ کھڑے ہیں وہ اتاولے ہورہے ہیں۔ بار بار ہارن بجا کر اپنے غلے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اس کے پاس آیا اور بولا تھا جلدی کرو۔ تمھارے پچھے پوری دنیا کی پڑی ہے۔ آئی پڑی ہے۔ آئی ہے تو انکی رہے ۔‘‘ بندو جھنجھلا کر بولا۔” جو لوگ تیز جانا چاہتے ہیں ان سے کہو کہ میرے پیروں میں بھی پیسے گوادیں ۔‘‘

بات تو ٹھیک کہتا ہے ۔ کسی نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ اتنے تیز ہو جائیں کہ وہ ہو اسے باتیں کرنے گئیں اور کچھ کو اتنا مجبور کردیا جائے کہ ان کے لیے ایک قدم اٹھانا بھی دشوار ہو جائے ۔

کاٹھ کے گھوڑے میں قدم اٹھانے کی ہمت نہیں ۔ وہ آگے نہیں بڑھ پا رہا ۔ اور اس کے پیچھے بھیڑ میں وہ وزیر ٹکا ہوا ہے جسے کسی غیر ملکی وفد سے وقت مقررہ پر بات کرتا ہے، وہ ڈرائیور اٹکا ہوا ہے، جسے ملک کے کسی دوسرے شہر کی طرف ریلی گاڑی لے کر جانا ہے، اسکول کے وہ پے رکے ہوئے ہیں جوکل کے مالک ہوں گے ۔ ڈاکٹر، نرس، آئینیر سب کے قدم بنده کر رہ گئے ہیں۔


اور ہندو کانٹھ کا گھوڑا اندیر دیر کے بازار میں اپنے تھیلے کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے۔ اس کے پاؤں میں حرکت آئے تو زندگی آگے بڑھے۔

مشق

معنی یاد کیجے :

 کاٹھ کا گھوڑا:##ج### لکڑی کا گھوڑا
وفد : ######ب#   نمائندوں کی جماعت 
روڈ مارچ:####ہ##حکم نہ ماننے پرفوجی کی پیٹھ پر بھاری بوجھ لدوا کر سڑک پر دوڑایا جانا
بے نیاز:####ج###بے پروا
ساکت:########بے حرکت
سوانگ:########خاموش تقل
برکس:#########بر خلاف
محض: ##### ####صرف
مقررہ:###### # #طے شدہ
غور کیجیے:
ہمیں ان اسباب کی تہ تک پہنچنا چاہیے کہ زندگی کی دوڑ میں کچھ لوگ بہت آگے کیوں نکل جاتے ہیں اور کچھ لوگ کیوں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہمیں ترقی اور پچھڑجانے کے اسباب کا علم ہوجائے تو پھر ہم آسان
سے اپنی کمزوریوں پر قابو پاسکتے ہیں ۔
نیچے دیئے ہوئے لفظوں سے خالی جگہوں کو بھر یے: 

حرکت#### سوانگ#### رفتار#### ساکت #### شخصیت

1۔ ساری دنیا کی ........رفتار............. دھیمی پڑگئی۔ 
2۔ ان کھلونوں کے سامنے اس کا کاٹھ کا گھوڑا .......ساکت........ بے جان تھا۔
3. اس نے بھی اپنے گھوڑے کو ٹانگوں کے نیچے پھنسا کر دوڑنے کا...........سوانگ........... کیا تھا۔ 
4۔ وہ بے جان کاٹھ کا گھوڑا اس کی .....شخصیت.......سے چیک کر رہ گیا تھا۔ 
5۔ اس کے پاؤں میں .....حرکت....... آئے تو زندگی آگے بڑھے۔

نیچے دیے ہوئے جملوں پر غور کیجیے: 

1. اسکولوں اور کالجوں کے زیادہ تر بچے خوش ہیں۔ 
2۔ ان کے پاس رستی کے سہارے گھومنے والے گین تو تھے۔ 
3. کچھ ایک کو افسوس بھی ہے کہ ان کی پڑھائی پیچھے رہ جائے گی۔

پہلا جملہ ہیں پر ختم ہوتا ہے، جو موجودہ زمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جہاں ایسی حالت اور کیفیت واقع ہوتی ہے اسے حال کہتے ہیں۔
 * دوسرا جملہ تھے پر ختم ہوتا ہے ، جو گزرے ہوئے زمانے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ جہاں ایسی حالت اورکیفیت واقع ہوتی ہے، اسے ماضی کہتے ہیں۔
 * تیسرا جمله گی پر ختم ہوتا ہے، جو آنے والے زمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جہاں ایسی حالت اور کیفیت واقع ہوتی ہے اسے مستقبل کہتے ہیں۔ 

نیچے دیے ہوئے جملوں میں زمانے کی نشان دہی کیے۔ 

1. احمد کل آیا تھا۔########اا اااا#ماضی
2. موہن بازار سے لوٹ آیا ہے۔ ####حال
3. سردی کا زمانہ کب آئے گا۔#####مستقبل
4. گرمی کا موسم جا رہا ہے۔ ####گگ#حال
5. ہم عید کے دن ملیں گے۔###گ#مستقبل

سوچیے اور بتائیے: 

بندو کو کاٹھ کا گھوڑا کیوں کہا گیا ہے
جواب: بندو ایک نہایت سست انسان تھا اور ہر کام بہت دھیرے کرتا تھا اس لیے اسے کاٹھ کا گھوڑا کہا گیا ہے۔ 


بندو کی سست رفتاری کا اثر کن کن لوگوں پر پڑا
جواب وزیر ملک کے بڑے بڑے کارخانے دار کاروباری سیٹھ دفتروں کے افسر دکاندار وردیوں والے فوجی پولیس والے عام آدمی سودا سلف خریدنے کے لئے گھروں سے نکلی عورتیں اسکولوں اور کالجوں کے بچے ڈاکٹر نرس انجینئر ان سب پر بندی کی سست رفتاری کا اثر پڑا


وزیر کی بے چینی کا سبب کیا تھا؟
جواب: کیونکہ غیر ملکی  وفد سے ملنے کا وقت قریب آرہا تھا۔


کاروبار کے لئے پل کے معنی لاکھوں کے گھاٹے کے کیوں ہیں
جواب: کاربار میں ایک پل میں لاکھوں کے گھاٹے ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ان کےلیے پل کے معنی لاکھوں کا گھاٹا ہوتے ہیں۔ 


چندو کے بارے میں بندو کے ذہن میں کیا خیال آیا 
جواب اُسکے ذہن میں کھیل آیا کے اُسکے بیٹا چندو اسلئے اسکول نہیں جا پایا کیونکہ وہ اُسکیلیے ضرورت کی چیزیں جوتا نہیں پایا

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے جملے بنائے


قطار:  بندو کے پیچھے گاڑیوں کی لمبی قطار ہے۔

رفتار: گاڑی کی رفتار بہت دھیمی تھی۔

کیفیت: مریض کی کیفیت اچھی نہیں تھی۔

فخر: ۔استاد کو اپنے شاگردوں پر فخر ہے۔

دشوار: لوگوں کے لیے اس مہنگائی میں جینا دشوار ہوگیا ہے۔

حرکت: سیما کی اس حرکت سے مینا بہت ناراض ہوئی۔




INTERNET--NCERT SOLUTION CLASS X URDU

اانٹرنیٹ


سوال:مواصلاتی نظام کیسے کہتے ہیں اور اسمیں کوں سے وسائل شامل ہیں
جواب مواصلاتی نظام انٹرنیٹ کوں کہتے ہیں

سوال:انٹرنیٹ کس طرح کام کرتا ہے
جواب


سوال:ای میل بھیجنے کا کیا طریقہ ہے
جواب

سوال:موڈیم کیسے کہتے ہیں 
جواب موڈیم ایک آلہ ہے جو کمپیوٹر کے اعداد و شمار اور عبارتوں کو ایک خاص قسم کے اشاروں میں تبدیل کردیتا ہے

سوال:بینک کے نظام میں انٹرنیٹ کس طرح مفید ہے
جواب ہم جو  اے ٹی ایم استعمال کرتے ہے یہ انٹرنیٹ کے ذریعے کام کرتی ہے  ہمارا بینک کھا تا دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو اسے انٹرنیٹ کے ذریعے کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

سوال:ای ٹکٹ کیسے کہتے ہیں
جواب کسی بس ریل ہوائی جہاز کی ٹکٹ ہم انٹرنیٹ کے ذریعے کرا سکتے ہیں اسے ای ٹکٹ کہتے ہے

سوال:انٹرنیٹ سے طلباء کو کیا فائدہ ہے
جواب طلب علم اس کے ذریعے اپنی تعلیم آسانی سے پورا کے سکتے ہیں

واحد اور جمع

اخبارات کتبمعلوماتماہریناطلاعاتتصاویر
اخبار کتاب معلوم ماہر اطلاع تصویر

خوش خبری