آئینہ کے رکن بنیں ؞؞؞؞؞؞؞ اپنی تخلیقات ہمیں ارسال کریں ؞؞؞؞؞s؞؞s؞؞ ٓآئینہ میں اشتہارات دینے کے لئے رابطہ کریں ؞؞؞؞؞؞؞؞؞ اس بلاگ میں شامل مشمولات کے حوالہ سے شائع کی جاسکتی ہیں۔

Tuesday, 2 June 2020

Lal Batti Jal Gaya By Tasneem Usmani Simlawi

لال بتی جل گیا
تسنیم عثمانی سملوی

مضمون کی ” سرخی “  ذرا بے تکی اور بے قاعدہ معلوم ہو رہی ہوگی ، مگر اس سرخی کے پس منظر بہت ہی خوبصورت ، پیاری اور دلکش و دل نشین یادیں ہیں ، جنہیں جان کر یقیناً آپ بھی کہہ اٹھیں گے ” لال بتی جل گیا “،” لال بتی جل گیا “۔
رمضان المبارک کے ایام ہیں، عصر کے بعد کا وقت ہے۔ ” دارالشرف “ (ہمارا مسکن، اوپر کلہی جھریا ) کا صدردروازہ کھول دیا جاتا  ہے تاکہ روزہ دار مہمان تشریف لے آئیں۔افطار کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں ، امی جان مدظلہا اور چھوٹی بہن زنیرہ سلمہا کے خلوص و محبت بھرے ہاتھوں سے روزہ داروں کی ضیافت کے لیے بنائی ہوئی اشیاء جیسے پھلکیاں ، گلگلے ، گھنگھنی( تلے ہوئے چنے)، کچے چنے، بونٹ (چنا) کی میٹھی دال، نمکین دال،کچی بھی اور تلی ہوئی بھی،کچے چنے لیمون اور پیاز کے ساتھ ، کھجور اور انڈوں وغیرہ کے سموسے، بیگنیاں، کونہڑے کے پکوڑے، سنگھاڑے (تکونے)،  دہی بڑے، منگوچھیاں(رس گلوں کی طرح ہوتی ہیں اور ہمارے یہاں صرف  رمضان المبارک میں بنائی جاتی ہیں )، ان سب کے علاوہ موسم کے پھل جیسے کیلے، تربوز، خربوزے، امرود،ناشپاتی، سیب،سنترے وغیرہ، الغرض جس دن جو میسر ہوتا دسترخوان پر چنا جاتا ۔
     اب دسترخوان کے اطراف بیٹھنے کا حال سنیے۔۔۔باہر بڑے کمرے یا برآمدہ میں دسترخوان بچھایا جاتا  ۔ حضرت اباجان  رحمة الله عليه (تاج العرفان حضرت مولانا الحاج حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی سملوی، زیب سجادہ  خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ سملہ،اورنگ آباد، بہار) کی نشست مخصوص تھی، دسترخوان کے آخری سرے پر  پچھم کی جانب اس طرح تشریف فرما ہوتے کہ مسجد نظروں کے سامنے ہو، بڑے بزرگ اور سبھی مہمان اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاتے،ہم  سب بھائی اور گھر کے دوسرےبچے دسترخوان پر ایسی جگہوں پر بیٹھنا چاہتے جہاں اپنی اپنی پسند کی چیزیں ہوں، دسترخوان پر بڑی ترتیب سے ساری اشیاء رکھی جاتیں ،مہمان آتے جاتے دسترخوان لمبا ہوتا جاتا اور ہم سب سمٹتے چلے جاتے،  افطار کا وقت قریب ہوتا ، سب لوگ افطار کی دعا پڑھتے،بڑوں  کی نظریں گھڑیوں پر اور توجہ مغرب کی اذان کی طرف ، اور بچوں کی نگاہیں ”چھوٹی مسجد“........جو پتہ نہیں کس زلزلہ میں چھوٹی مسجد سے ”نوری مسجد“ ہوگئی........کے درمیانی گنبد سےبندھے بانس پر ٹک جاتیں، افطار کا وقت جیسے جیسے قریب ہوتا جاتا محلہ کے بچے گھروں  سے  باہر آکر اپنے اپنے دروازوں، برآمدوں اور ہمارے گھر کے چبوترے پر کھڑے ہو جاتے جہاں سے مسجد صاف نظر آتی ،سب کی نگاہیں مسجد کے بانس پرہوتیں ، جیسے ہی افطار کا وقت ہوتا بانس پر بندھی لال بتی جل جاتی، سارے بچے چیختے چلاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگتے ”لال بتی جل گیا“، ”لال بتی جل گیا “ .........لال بتی عام طور سے رکنے اور ٹھہر جانے کا اشارہ ہوتی
 ہے مگر یہ عجیب لال بتی ہے جو شروع ہو جانے کی علامت ہے۔
خاندانی روایت کے مطابق سب لوگ پہلے آب زم زم سے روزہ کھولتے ،پھر حصول برکت کے لئے مدینہ منورہ کی کھجوریں کھائی جاتیں، بچے اپنی اپنی پسند کے مطابق تاک لگائے افطار کرتے، ایک پھلکی منھ میں دوسری ہاتھ میں ایک نشانہ پر ، اگر کسی اور نے اسے شکار کرلیا تو فوراً کسی تیسرے پر نشانہ سادھ لیا جاتا، پسند کی چیزیں ختم اور سارے بچے یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھ دیکھ کراٹھ جاتے اور اندر جاکر زنانہ دسترخوان پر دھاوا بول دیتے، بڑے ہماری حرکتوں پر مسکراتے اور چنے چباتے رہتے، برا ماننے یا ڈانٹنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا، بلکہ مغرب کی باجماعت نماز کے بعد چائے کا دور چلتا اور ہماری حرکتوں پر تبصرے اور خوش گپیاں اور کچھ نصیحتیں ہوتیں،  پھر سب عشاء کی نماز اور تراویح کی تیاری میں لگ جاتے۔۔۔۔۔       
  ہمارے نانا ابا حضرت مولانا الحاج قاری حکیم شاہ محمد ابراہیم عثمانی فردوسی دیوروی رحمة الله عليه ( زیب سجادہ خانقاہ برہانیہ کمالیہ ، حضرت دیورہ،گیا ) کو ہمارے جھریا شہر کا رمضان اور تراویح بہت پسند تھی اور اس ماہ مبارک میں یہاں ضرور تشریف لاتے تھے، ٹھیک اسی طرح بڑے ماموں جان حضرت مولانا الحاج قاری حکیم شاہ منصور احمد عثمانی فردوسی دیوروی رحمة الله عليه (زیب سجادہ خانقاہ برہانیہ کمالیہ، حضرت دیورہ ،گیا) بھی ماہ رمضان کے مبارک ایام جھریا میں گزارنا پسند فرماتے تھے، افطار کےبعد ، مغرب کی نماز کبھی حضرت ابا جانؒ اور کبھی حضرت بڑے ماموں جانؒ کی اقتدا میں ادا کی جاتی ، جب ناچیز اس لائق ہوا تو اسے بھی یہ سعادت حاصل ہوئی۔۔تراویح اور رات کے کھانے کے بعد حضرت بڑے ماموں جان  پوری پوری رات دین کی باتیں اور بزرگوں کے واقعات سنایا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔                        
ہر سال 20 رمضان المبارک کوافطار کی ایک  دعوت کا اہتمام ہوتا جس میں کولفیلڈ یعنی شہر جھریا   اور اس کے  اطراف جیسے ہورلا ڈیہہ، بنیاہر،پھوس بنگلہ، لودنا،جاما ڈوبا، رمضان پور، پاتھر ڈیہہ،سودام ڈیہہ،  سندری ، کتراس موڑ، ائینہ کوٹھی، دھنباد،وغیرہ کے عوام و خواص،اعزا و اقربا،حضرت ابا جان کے مریدین و معتقدین اور اُن کے احباب شرکت کرتے  جن کی فہرست یہاں ممکن نہیں ہے۔ مغرب کی نماز کے بعد مولائے کائنات  سیدنا حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا سالانہ فاتحہ نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس دعوت اور فاتحہ کی سادگی اور رونق کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔جس نے شرکت کی ہے وہی جانتا ہے۔
یہی ہیں وہ یادیں اور وہ باتیں، خدا بھلا کرے اس لاک ڈاؤن کا ، جس نے سب کچھ تو ” لاک ڈاؤن ” کررکھا ہے لیکن اس نے یادوں کے جھروکوں کو پوری طرح ” ان لاک ” کردیا ہے۔۔ جی چاہتا ہے پھر وہی وقت ہوتا، ویسے ہی لوگ ہوتے ، ویسی ہی سحر ہوتی، ویسے ہی جگانے والے مخلص اور سریلے درویش اور سنجیدہ قافلے ہوتے، حلال وحرام کے بے جا فتووں سے محفوظ و مامون محبت بھری اور میٹھی میٹھی عید ہوتی اور افطار کے وقت بچوں کی ویسی ہی پیاری  پیاری چیخ و پکار ہوتی ” لال بتی جل گیا،  لال بتی جل گیا “
  

Saturday, 30 May 2020

Dil Phir Tawaaf e Koye Aqeedat Ko jaye Hai - A memory on Urs e Makhdoom jehan - Chiraghaan۔p4

دل پھر طواف کوئے ”عقیدت“ کو جائے ہے
حضرت مخدوم جہاں ؒ کے ”چراغاں“ کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے نکلی ایک تحریر
(4)

1975 سے 1995ء کا دور بہار کی تین خانقاہوں   کا زریں  دور رہا ہے۔خانقاہ معظم مخدوم جہاں بہار شریف کے جنابحضور سید شاہ محمد امجاد فردوسی ، خانقاہ برہانیہ کمالیہ،دیورہ کے سجادہ نشیں حضرت مولانا شاہ منصور احمد فردوسیؒ،اور خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ ،سملہ کے  سجادہ نشیں حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی سملوی ؒ  کی ذات گرامی نے بہار کی خانقاہوں میں چار چاند لگا دیے دنیا کی نگاہیں ان کی جانب متوجہ ہونے لگیں۔ دنیائے تصوف کے یہ تین درخشاں ستارے ایک سال رجب المرجب میں   خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ کےسالانہ  عرس کے موقع پر یکجا ہوئے تو ا ن کی تابانی دیکھنے کے قابل تھی۔ اس سال پہلی بار خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ سملہ میں جنابحضور سید شاہ محمد امجاد فردوسی   ؒ کی شرکت کا پروگرام بنا تھا۔ اباجان اور ہم سب بھائیوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ جناب حضور کو لانے کے لیے بڑے بھائی جان شاہ محمد صہیب عثمانی فردوسی ابّاجان کی  ذاتی  ایمبیسڈر کار کو خود چلاکر جنابحضور کو لانے کے لیے بہار شریف گئے تھے مقصد صرف ”سارتھی“ بننے کی سعادت حاصل کرنا تھا۔وہ بڑی محبت و عقیدت سے جنابحضور کو سملہ لے کر آئے۔ جنابحضور ؒ نے عرس کی سبھی تقریبات میں انتہائی ذوق و شوق سے حصّہ لیا۔ مریدین جب اپنے پیر کی جنابحضور سے یہ محبت و عقیدت دیکھتے تو پھر اُن کی وارفتگی کا بھی ٹھکانہ نہ رہتا۔اُس سال عرس میں مخدوم جہاں کا خاص فیضان جاری تھا۔ عرس کی مجالس میں ان تینوں بزرگوں کی نشست کا انداز یہ تھا کہ وسط میں جنابحضور سید شاہ امجاد فردوسی ؒ تشریف رکھتے تھے۔اُن کے بائیں طرف اباجان پیر و مرشد حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانیؒ اور دائیں طرف  بڑے ماموں جان حضرت  شاہ منصور احمد فردوسی ؒ بیٹھتے۔ بچّوں اور دیگر عزیزان کوحجرۂ قطب العصر کے صحن میں جگہ ملتی اور مریدین و متوسلین ایک دائرے کی شکل میں حجرہ اور مسجد سے ملحق سماع خانے میں بیٹھتے۔سامنے میدان، مسجد اور سڑک مریدین کے ہجوم سے بھری ہوئی تھی۔ ۸ رجب کو پیران سلاسل کے فاتحہ کے دوران مجھے اتفاقاً کسی کام سے اٹھ کر باہر جانا پڑا۔حجرے کی جانب واپس آتے ہوئے جب سامنے سے میری نظر ان تین بزرگوں پر پڑی تو یہ حسین اور بارعب  منظر میرے دل میں نقش ہوگیا۔ وہ منظر کتنا حسین تھا اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ فردوسی سلسلہ کے ان تین بزرگوں کے چہروں کی تابانی کا کیا عالم تھا اسے صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ہمیں ناز ہے  ان آنکھوں پر کہ جس نے  ان بزرگوں کو نہ صرف اتنے قریب سے دیکھا  بلکہ ان کی صحبت سے فیض بھی اٹھایا۔اور اُن سے خوب دعائیں بھی لیں۔
گاہے گاہے بازخواں ایں قصّہ پارینہ را۔

(جاری)

Dil Phir Tawaaf e Koye Aqeedat Ko jaye Hai - A memory on Urs e Makhdoom jehan - Chiraghaan۔p3

دل پھر طواف کوئے ”عقیدت“ کو جائے ہے
حضرت مخدوم جہاں ؒ کے ”چراغاں“ کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے نکلی ایک تحریر
(3)
خانقاہ معظم مخدوم جہاں ؒ کی قدیم عمارت میں چاروں جانب بڑے بڑے دروازے تھے۔جب ہم وہاں پہنچتے مجلس شروع ہوچکی ہوتی۔
ڈھولک کی تھاپ پر قوال کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتیں۔ 
میرے پیر شرف تیری نگری  سلامت
تیری نگری سلامت تیری ڈیوڑھی سلامت
حضرت مخدوم جہاں ؒ کا فیضان جاری ہوتا۔  شاہ قسیم الدین فردوسیؒ اور جناب حضورؒ  اور اُن کے بھائیوں اور خانقاہ کےدیگر عزیزوں کےحال فرمانے منظر بڑا ہی روح پرور ہوتا۔ قوالی کے دوران ہم کیا چیز ہیں، ہمارے بزرگ بھی ہاتھ باندھے نظریں نیچے کیے با ادب کنارے کھڑے ہوتے۔ بہار کی دو بڑی خانقاہوں کے سجادہ ہونے کے باوجود کبھی کسی پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش نہ ہوتی اور نہ ہی جناب حضور کے قریب یا برابر کھڑے ہونے کی ہمت۔ جنابحضور کی نظر فیض جب متوجہ ہوتی تبھی بڑے ماموں جانؒ یا ابّا جانؒ حال کرتے۔ورنہ اسی طرح خاموشی سے نظریں نیچی کیے فیضیاب ہوتے رہتے۔ہم سب دل کی نگاہوں سے اس متبرک مجلس کا لطف اٹھاتے۔وہ سبھی شخصیتیں ہماری نگاہوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
یہ مجلس فجر کی اذان اور نماز تک جاری رہتی۔ وسط مجلس میں فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد ایک بار پھر قوالی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ۔
یا شاہ شرف اک نگاہ طلبم
از بارگہِ تو زاد راہےطلبم
تو محرم راز ہائے الا ہستی
شاہا ز تو لا الٰہے طلبم
(حضرت شاہ قسیم الدین فردوسی بہاری ؒ)
یہ سلسلہ سورج نکلنے تک جاری رہتا۔
 مجلس کے فوراً بعد گاگر کی تیاری شروع ہوجاتی۔ گاگر مٹی کا ایک برتن ہوتا جس میں گھر کے عزیزان اور ہم جیسے راندۂ درگاہ گاگر لے کر حضرت مخدوم کے کنویں سے فاتحہ کے لیے پانی لے کر آتے۔ قوال گاگر گاتا ، سب پانیہریا بھر بھر گیلی اپنی اپنی......اور ہم سب اُس کے ساتھ کنویں تک جاتے۔ گاگر سے واپسی کے بعد ہم آزاد ہوتے۔گاگر، فاتحہ کی روٹی  اور حلوہ جسے لوٹنے کے لیے ہجوم ٹوٹا پڑتا تبرک کے طور پرہمیں مل جاتی اور اسے ہم سب اسے اپنے گھر والوں کے لیے توشہ سمجھ کر اپنے سامان میں رکھ لیتے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا کہ ہم اب اپنے گھر جانے کے لیے آزاد ہیں۔
یہ روحانی مناظر آج بھی نظروں کے سامنے ہیں۔ایک بار خوبی قسمت سے دوران حال بڑےجناب حضور کے بھائی کی نظر کرم اس ناچیز پر پڑی، معانقہ میں لیا پھر حال میں اُن کے ہاتھ جب اوپر آسمان کی جانب اٹھتے تو دل کی کیفیت کیا بیان کروں دل آج بھی اُس لذت کو نہیں بھولا ہے۔ بزرگوں کے فیضان کی یہ شکل لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی ایسا لگا جیسے ہوا میں پرواز کر رہا ہوں۔ 
من کہ در لنگر عشق تو تلالہ زدہ ام
سکّہ بر عین دوعالم بہ تجلیٰ زدہ ام
چوں بہ خلوت گہ صوفی بجز الا نہ بود
غم اِلا نہ خورم زانکہ ہم اعلیٰ زدہ ام
یعلم اللہ بہ طفیل شرف الحق امروز
خیمہ بر طارم گردون معلّٰی زدہ ام
(کلام حضرت مخدوم حسین نوشۂ توحید بلخی فردوسی قدس سرہ)
عشق کی ایسی لذت تھی جو بیان سے باہر ہے۔یہ باتیں صرف اس لیے بیان کر رہا ہوں کہ یہ آج کی جدید تہذیب کے دلدادہ ایک شخص کا ذاتی تجربہ ہے۔اس لیے جو لوگ صوفیوں کے حال و قال پر زیر لب مسکراتے ہیں وہ اپنی اصلاح کرلیں۔

مزار جنابحضور سید شاہ امجاد فردوسی ؒ
حوادث زمانہ نے کئی برسوں سے عرس میں شرکت کا موقع نہیں دیا ہے۔شاید یہ جسمانی دوری صرف اس لیے ہے  کہ ہمارے دلوں میں مخدوم جہاںؒ سے عشق کی یہ تڑپ اسی طرح بڑھتی رہے اور دن بہ دن اس کی تابانی میں اور اضافہ ہوتا جائے۔ پہلے تو  یہ ڈر تھا کہ شاید یہ ہماری کسی کوتاہی کی سزا ہے لیکن برسوں بعد جب اپنی بھانجی عریشہ عثمانی بنت ہمشیرہ زنیرہ و شاہ مثنیٰ عثمانی کی جناب حضور سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ العالی کے ایک عزیز عزیزی سید معراج الحق سلمہ ابن جناب سید شاہ مسعود الحق کے ساتھ شادی  کے بعد ولیمہ کی  تقریب میں بہار شریف جانا ہوا تو ایک عرصہ بعد حضرت مخدوم جہاںؒ کی بارگاہ میں جیسا والہانہ اور مشفقانہ استقبال ہوا اس سے پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔بہ ظاہر تو ہم اپنے سمدھیانے کے مہمان تھے لیکن بباطن ہم حضرت مخدوم جہاں ؒکے مہمان تھے۔ ہم شاندار ہوٹل میں ٹھہرائے گئے۔ہم سب نے دیگر تقریبات سے فارغ ہو کر آستانے پر حاضری دی ۔سلام و قدمبوسی کے بعد فاتحہ پڑھی۔ جناب حضور حضرت شاہ سجاد فردوسیؒ و حضرت شاہ امجاد فردوسی ؒ کی مزارات پر حاضری دی۔ پرانی یادیں آنسوؤں کا سیلاب لے کر آگئیں۔ جناب حضور سید شاہ امجاد فردوسی ؒ کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات ایک ایک کرکے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔بچھڑ کرملنے کا غم اس وقت مارے ڈال رہا تھا۔ایک ایک لمحہ اِس وقت بھی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ انگلیاں لیپ ٹاپ کے بٹن پر چل رہی ہیں لیکن یادیں آنکھوں سے آنسو بن کر ٹپک رہی ہیں۔ آستانہ سے کچھ دیر کے لیے خانقاہ معظم میں حاضری کے لیے گیا۔ جناب حضور سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ بہار شریف میں موجود نہیں تھے۔ چھوٹے بھائی مبشر عثمانی سلمہ نے ان سے فون پر بات کر لی تھی۔اور اپنے بزرگوں کی تواضع کی روش کے مطابق انہوں نے اپنے اہل خانہ کو ہم سب کے آمد کی اطلاع اور بھرپور خیال رکھنے کی ہدایات دے دی تھیں ۔وہاں سبھی عزیزان سے بصد احترام ملاقات ہوئی ۔ اُن سب کی آنکھوں میں بھی اپنے مشفق والد کی یادیں تازہ ہو چکی تھیں ۔ہم غلاموں کی یہ عزت و توقیر میرے بزرگوں کی حضرت مخدوم جہاںؒ سے والہانہ عشق کا انعام تھیں۔دن کے کھانے کا اصرار تھا لیکن ہمارے پاس وقت کی کمی تھی ۔واپسی کے لیے بہار شریف سے جمشید پور تک کاطویل سفر طے کرنا تھا۔برادر محترم شاہ تسنیم عثمانی فردوسی آستانہ پر ہی رُک گئے تھے۔ انہیں یہ خبر مل چکی تھی کہ جناب حضور بہار شریف میں موجود نہیں ہیں اس لیے انہوں نے کچھ اور وقت مخدوم جہاں کی بارگاہ میں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم سب واپس پہنچے۔وہ آستانہ کے باہر صدر دروازہ پر شیرینی اور پھولوں کی ایک دوکان پر پان کی گلوریوں کا لطف اٹھا رہے تھے۔ ہم سب کو دیکھتے ہی کہا دیکھو مخدوم جہاں کے دربار میں کیسا اعزاز ہو رہا ہے تم سب ادھر چلے گئے اور میں یہاں چائے اور پان سے نوازا جارہا ہوں۔ہمیں بھی رشک ہوا ۔ اتنے میں وہ دوکاندار جو ان کی خدمت پر مامور تھا ہمارے لیے بھی چائے اور پان کی گلوریاں لے کر حاضر ہوگیا۔ خوشی سے دل باغ باغ ہوگیا۔
یادوں کے جھروکے سے آنے والے باد صبا کے ان جھونکوں کی خوشبو کو قید کرتے ہوئے آج ہمیں اپنے اُن دو بھائیوں شاہ محمد صہیب عثمانی فردوسی اور شاہ محمد خبیب عثمانی فردوسی کی بے پناہ یاد آرہی ہے جنہوں نے حضرت مخدوم جہاں اور اُن کے سجادگان کے عشق و محبت میں گرفتار دل قضائے الٰہی کے آگے پیش کردیے۔ آ ج اُن کی روحیں یقیناً ا پنے بزرگوں  کے ہمراہ اُس آستانے کے گرد چکر لگاتی ہوں گی اور اُن سب کی قدم بوسی کرتی ہوں گی۔حضرت مخدو م کی دعاؤں کے صدقے ہمارے بزرگان  کو یقیناً حضرت مخدوم جہاں  کا ساتھ نصیب ہوگا۔اور سب بارگاہ ِ الٰہی میں سرخ رو ہوں گے۔
عرس کی یہ تقریبات آج بھی جناب حضور حضرت مولانا سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ العالی کی سربراہی میں اسی طرح  تزک و احتشام سے منائی جارہی ہیں اور مخدوم جہاں ؒ کا فیضان اسی طرح جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی عمر میں برکت عطا کرے۔اور حضرت مخدوم جہاںؒ کے فیضان کو جاری رکھے۔ اور مخدوم جہاںؒ اور ان کے سجادگان کی ہم فقیروں پر نظر عنایت کا سلسلہ بھی اسی طرح جاری و ساری رکھے۔

Dil Phir Tawaaf e Koye Aqeedat Ko jaye Hai - A memory on Urs e Makhdoom jehan - Chiraghaan۔p2

دل پھر طواف کوئے ”عقیدت“ کو جائے ہے
حضرت مخدوم جہاں ؒ کے ”چراغاں“ کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے نکلی ایک تحریر
(2)
ہو بہو یہی سراپا اور یہی شخصیت جنابحضور سیدشاہ محمد امجاد فردوسی ؒ کی تھی۔غالباً ملاقات کے ایک یا دو ہی سال میں بڑے جناب حضورؒ کا انتقال ہو گیا وہ ایک بڑا سانحہ تھا جو ہمارے بزرگوں پر گذرا ۔ہم چھوٹے تھے اس لیے یہ یاد ذرا دھندلی ہے اور اُس  یادکی جگہ جناب حضور سید شاہ محمد امجاد فردوسی کی باوقار شخصیت نے لے لی ہے۔جناب حضور ؒ کی خدمت میں زیادہ  حاضر ہو نے کا موقع ملا۔ دونوں بزرگوں جناب حضور سید شاہ سجاد فردوسیؒ اور سید شاہ محمد امجاد فردوسی ؒ کی شخصیت اور سراپا میں بہت زیادہ فرق نہیں تھا بلکہ اگر کوئی آپ کو نہ بتاتا کے بڑے جناب حضور ؒکا انتقال ہوگیا ہے تو لمبے عرصہ بعد ملنے والا شخص یہی سمجھتا کہ وہ بڑے جناب حضور کی خدمت میں حاضرہے۔ دونوں کی شکل و شباہت اور مزاج بالکل یکساں تھا۔دونوں ہی انتہائی کم سخن۔بس سارا کام نظروں اور دل سے۔دل اس شدت سے اُن کی جانب کھنچتا کہ جی چاہتا کہ بس قدم پکڑے بیٹھے رہیں۔

حضرت مخدوم جہاں کا مزار مبارک
ذکر ہو رہا تھا” چراغاں“ کا تو آئیے اب ”چراغاں“ کی کچھ یادیں تازہ کریں۔ شوال کا چاند نظر آتا اور والد ماجدحضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی فردوسی ؒ  حضرت مخدوم جہاں ؒکے عرس میں حاضری کی تیاریاں شروع کردیتے۔ہم سب بھائی خوشی خوشی عرس میں شرکت کے لیے تیار ہوتے۔ عید کا کرتا پاجامہ حضرت مخدوم جہاں کے عرس کے موقع پر پہننے کےلیے استری کراکر بکس میں رکھ  دیا جاتا۔ بہار شریف میں ٹھہرنے کا پروگرام ایک ہی رات کا رہتا اس لیے کپڑے وغیرہ کا اہتمام زیادہ نہیں رہتا۔بہار شریف پہنچنے پر ہم اپنے کسی رشتہ دار کے یہاں صرف سامان رکھنے کی غرض سے جاتے اور وہاں سے ضروریات سے فراغت کے بعد تیار ہوکر خانقاہ معظم پہنچتے اور جناب حضور کے در دولت پر حاضری دیتے۔ اس وقت سے ہم خانقاہ کے باضابطہ مہمان ہوتے۔بڑے ماموں جان حضرت شاہ منصور احمد فردوسیؒ بھی عرس مخدوم جہاںؒ میں شرکت کے لیے بہار شریف تشریف لا چکے ہوتے۔ ہم جناب حضور کے حجرے کے سامنے کھڑے ہوتے،   وہیں ماموں جان سے بھی ملاقات ہو جاتی۔ اُس کے بعد وہاں  حجرے میں ایسا والہانہ استقبال ہوتا  کہ ہم غلاموں کی طبیعت خوش ہوجاتی۔ ایک تو حضرت مخدوم کے سجادہ سے بے پناہ محبت و عقیدت اور دوسری جانب اُن کی وہ والہانہ نظر و توجہ ایسا لگتا جیسے دونوں جہان کی نعمت ہاتھ آگئی ہو۔آج بھی وہ منظر جب آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو شدت جذبات سے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ والد ماجد حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانی ؒاور بڑے ماموں جان حضرت مولا نا شاہ منصور احمد فردوسیؒ کا مخدوم جہاں اور سجادۂ مخدوم جہاں سے بے پناہ عشق اور اُن کا آپس میں ملنا اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم کرنا آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو دل تیز تیز دھڑکنے لگتا  ہے۔ میرے بزرگوں نے مخدوم جہاںؒ سے اپنی عقیدت و محبت اپنے خون کے ساتھ ہی ہماری رگوں میں منتقل کردی ہیں اور ہم سب بھائی آج بھی غلامی کا یہ تاج بڑے فخر سے اپنے سروں پر سجائے پھرتے ہیں ۔مشغولیات کے سبب اب شرکت پہلے کی طرح نہیں ہو پاتی لیکن آج بھی ہمارا دل وہیں رہتا ہے۔خاص طور سےعرس کے دنوں میں ہمارا جسم وہا ں ہو نہ ہو دل وہیں رہتا ہے۔اور ہمیں یقین ہے کہ مخدوم جہاں کا فیضان آج بھی ہمارے اوپر اسی طرح جاری و ساری ہے۔بہر حال ہم سب بھائی، بڑے  ماموں جانؒ اور اباجانؒ  جناب حضور سید شاہ محمد امجاد فردوسی ؒ کی دست بوسی کے بعد اُن کے حجرے کے سامنے حضرت سید شاہ  قسیم الدین فردوسی ؒ کے کمرے میں دست بوسی کے لیے حاضر ہوجاتے۔ اُف کیا خوب شخصیت تھی۔کیسے بلند پایہ بزرگ تھے۔ علم کا سمندر لیکن خاموشی ایسی کہ سطح آب پر کوئی ہلچل نہیں۔مخدوم جہاں کے عشق کی آگ میں تپی ہوئی یہ شخصیتیں آج بھی نظروں کے سامنے پھرتی ہیں، ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ایسی شخصیات کے دیدار اور ان کی محفلوں سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا جو بارگاہ الٰہی اور بارگاہ نبویﷺ میں مقبول ہیں۔ماموں جان اور اباجان سے علمی گفتگو شروع ہوجاتی ماموں جانؒ اور اباجان ؒ زیادہ تر خاموش رہتے اور وہ مکتوبات حضرت مخدوم جہاں کی تشریح فرماتے جاتے۔  یہ باتیں ہماری سمجھ سے بالاتر ہوتیں لیکن ہم اس گفتگو کا فیض صاف محسوس کرتے۔ دل ان مجلسوں سے اٹھنا گوارہ نہ کرتا  لیکن وقت کی مجبوری ہوتی عرس کی دیگر تقریبات میں شرکت  کرنی ہوتی۔بعد مغرب ہم سب آستانہ مخدوم کی جانب روانہ ہوجاتے۔بازار میں کافی چہل پہل ہوتی لوگوں کا ایک ہجوم آستانہ کی جانب جاتا اور ادھر سے واپس آتا نظر آتا۔ شہر والوں کی جانب سے چادروں کا تانتا  لگا رہتا۔ہم درگاہ پہنچتے اُس وقت آستانے کے باہری گیٹ کی تعمیر نہیں ہوئی تھی ۔ایک عرصہ بعد اس سال مخدوم جہاںؒ کے آستانے پر حاضری کا موقع ملا اب نقشہ پہلے سے کافی بدل گیا ہے لیکن ذہن و دماغ میں وہ پرانی تصویر آج بھی اسی طرح  تازہ ہے۔درگاہ کے اندرونی حصّے میں پہنچ کر میرے بزرگوں کے دل کی عجیب کیفیت ہوتی۔  ایسالگتا جیسے ابھی جا کر حضرت مخدوم کی قبر مبارک سے لپٹ جائیں گے۔اُن کی چادر مبارک کو تھام لیں گے۔وہاں پہنچ کر وہ  سلام پیش کرکے مزار مبارک کو بوسہ دے کر ایک جانب کھڑے ہوجاتے اور فاتحہ پڑھنے میں مشغول ہوجاتے ۔وہ حضرت مخدوم جہاں کے فیضان سے فیضیاب ہونے کی دعائیں مانگتے اور ہم سب اُن کی تقلید کرتے۔ فاتحہ اور حاضری سے فارغ ہوکر مزار مبارک
حضرت مخدوم جہاں کا مصلہ
کے سامنے ہم سب اُس جگہ جمع ہوجاتے جہاں حضرت مخدوم جہاںؒ کا پتھر کا مصلّہ ہے۔ سب باری باری دو رکعت نماز نفل ادا کرتے۔ سامنے آج جہاں ایک بڑی مسجد تعمیر ہو رہی ہے وہاں ایک بڑا سائبان تھا جس میں بلخی حضرات قل فاتحہ و مجلس کرتےتھے۔ہم سب عشاء کی نماز کے بعد آستانہ کے گنبد کے سامنے اس حسین گھڑی کے انتظار میں جگہ لے کر بیٹھ جاتے جب اچانک شور اٹھتا جناب حضور کی سواری آرہی ہے۔ یہ رات کے بارہ بجے سے کچھ پہلے کا وقت ہوتا۔جناب حضور خانقاہ  معظم سے پالکی پر سوار ہوکر حضرت مخدوم کے آستانے پر تشریف لاتے ۔ پالکی کے چاروں جانب خدام کی بھیڑ ہوتی یہ پہلوان نما مریدین ہوتے جن کا کام یہ تھا کہ جناب حضور کی دست بوسی کے لیے مجمع کو بے قابو نہ ہونے دیں اور اس بھیڑ سے اُن کی حفاظت کریں۔ جناب حضور کی آمد کی خبر پر ہی ہم ہوشیار ہوجاتے۔ اس وقت خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ ،سملہ اور خانقاہ برہانیہ کمالیہ ،دیورہ کی یہ خدمت تھی کہ وہ آستانہ کے سامنے سجادۂ مخدوم کے بیٹھنے کے لیے اُس جگہ پر چادر بچھائیں جہاں پر قل و فاتحہ ہوتا ہے۔ ہم سب وہاں  بچھانے کے لیےنئی چادر لیے سجادۂ مخدوم کے انتظار میں بے تابانہ کھڑے ہوتے اور جیسے ہی آمد کی خبر ہوتی ہم چادر بچھاکر اُس جگہ کو پوری طرح گھیر لیتے۔ سجادہ مخدوم پالکی سے اتر کر اُس جگہ تشریف لاتے اور اِس چادر کو رونق بخشتے۔یہ خدمت برسوں تک  ان دونوں خانقاہوں کے ذمّے رہی۔فاتحہ شروع ہوتا۔ فاتحہ ختم ہونے پر سجادۂ مخدوم دعا کرتے۔صرف لبوں کی جنبش پرآستانہ آمین کی صداؤں سے گونجنے لگتا۔ صاف محسوس ہوتا دعائیں مقبول بارگاہ ہو رہی ہیں۔دعا ختم ہوتی اور قُل کی مٹھائی جناب حضور کی خدمت میں پیش کی جاتی  آپ اسے اپنی زبان سے لگاتے اور یہ وقت ہماری دھڑکنیں تیز کردیتا ہم سب جناب حضور کی جانب متوجہ ہوجاتے نگاہیں ان کے دست مبارک پر ہوتیں وہ بھی دل کا حال جانتے اور یہ تبرک ہم بھائیوں میں کسی ایک کے ہاتھ میں آجاتا اس دست شفقت کو ہم کبھی بھلا نہ سکیں گے۔ ہم سب بھائی اس نعمت کو آپس میں تقسیم کرلیتے۔ مٹھائی کا وہ چھوٹا سا دانہ ہم بھائیوں اور ہمارے بزرگوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ ہوتا۔ بتاتے ہیں کہ ایک بار ہمارے دادا ابّا حضرت شاہ محمد قاسم عثمانی فردوسی ؒ کو حضرت مخدوم جہاں ؒ کے عرس کے موقع پر ایک چاول گرا ہوا ملا۔آپ نے چاول کے اُس دانے کوکاغذ کے ایک ٹکڑے میں لپیٹ لیا۔گھر آنے پر اس دانے کو پانی میں دھو دھو کر خیر و برکت کی نیت سے گھر کے ہر فرد کو پلایا۔  نہ جانے ہماری ان دو خانقاہوں کی چادر بچھانے کی اس خدمت کو کس کی نظر لگ گئی ۔حاضرین محفل ہماری اس خدمت کورشک کی نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ آستانہ پر قل و فاتحہ کے بعد جناب حضور کی دست بوسی کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا کے خدام کو اُن کو محفوظ رکھنے میں پسینے  آجاتے۔کسی طرح وہ پالکی میں سوار ہوکر ہجوم سے بچنے میں کامیاب ہو پاتے۔یہ سارا منظر آج بھی دل کو گرما دیتا ہے۔اس کے بعد ہم سب خانقاہ معظم کے لیے روانہ ہوجاتے۔

Friday, 29 May 2020

Dil Phir Tawaaf e Koye Aqeedat Ko jaye Hai - A memory on Urs e Makhdoom jehan - Chiraghaan

دل پھر طواف کوئے ”عقیدت“ کو جائے ہے
حضرت مخدوم جہاں ؒ کے ”چراغاں“ کے موقع پر دل کی گہرائیوں سے نکلی ایک تحریر

آستانہ حضرت مخدوم جہاں مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری ؒ
بہار و بنگال وجھارکھنڈ  کے لوگوں کے لیے شوال المکرم کا چانددوہری خوشیاں لے کر آتا ہے۔ایک تو عید کی خوشی  دوسرے بہار کے مشہور بزرگ حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری ؒ کے سالانہ عرس مبارک جسے عرف عام میں ”چراغاں“ کہا جاتا ہے میں شرکت کی خوشی۔ لوگوں کو سال بھر چراغاں کی آمد کا انتظار رہتا ہے اور عرس مبارک کی تقریبات نہایت تزک و احتشام سے ادا کی جاتی ہیں۔کل جیسا کہ اندازہ تھا یہ خبر ملی کہ اس سال کورونا جیسی مہلک وبا کی وجہ سے اس سال عرس میں عوامی شرکت کو ممنوع قرا دیا گیا ہے تو دل پر ایک عجیب سی اداسی چھا گئی اور ذہن کے پردے پرحضرت مخدوم جہاںؒ  کی بارگاہ سے نسبت اور خانقاہ معظم کے سجادگان کی ہما رے بزرگوں اور ان کی اولاد   پر نگاہ شفقت و عنایت  نظروں کے سامنے گھومنے لگیں۔  کیا وقت تھا اور کیسے کیسے لوگ تھے۔وقت کی سوئی مجھے برسوں قبل لے گئی  جب میں چھوٹا تھا۔ اس زمانے کی بہت ساری باتیں اب یاد نہیں لیکن جو باتیں اتنی دلپذیر ہوں کہ آپ کے دل و دماغ پر ثبت ہوجائیں تو وہ یادیں گردش زمانہ سے آپ کی نظروں سے مدھم تو ہوجاتی ہیں لیکن ایک ہلکی سی ہوا بھی اس گرد کو صاف و شفاف کر دیتی ہے۔ بچپن کے دن تھے کہ والد ماجد جنہیں ہم بھائی بہن ابّا جان کہہ کر مخاطب کرتے سے یہ اطلاع ملی کہ سجادۂ مخدوم  جہاں  جناب حضورحضرت  سیدشاہ   سجاد فردوسی ؒ جھریا تشریف لا رہے ہیں۔میرے والد کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہ تھا۔ہم سب کو حضرت مخدوم جہاںؒ کی غلامی کا شرف حاصل تھا اور میرے والد حضرت مخدو م جہاں کے سلسہ فردوسیہ کی ایک خانقاہ کے سجادہ نشیں اور ایک بلند پایہ بزرگ تھے۔اُن کا حضرت مخدوم جہاں اور ان کے سجادہ نشیں سے عشق کا یہ عالم تھا کہ یہ خبر سن  کرمقامی لفظوں میں بولائے بولائے پھرتے تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ اپنے گھر لائیں تو ان کو کہاں اٹھائیں اور کہاں بٹھائیں۔خبر ملی تھی کہ جھریا میں سب سے پہلے ان کی آمد محلہ کے ایک ذی حیثیت شخص جناب محمود صاحب کی رہائش گاہ پر ہوگی۔غالباً عصر کے قریب اُن کے آنے کا پروگرام تھا۔ جیسے جیسے اُن کی آمد کا وقت قریب ہورہا تھا والد محترم کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔خدا خدا کرکے عصر کا وقت ہوا اور والد محترم حضرت حکیم شاہ محمد طاہر عثمانیؒ  محمود صاحب کے مکان پر جناب حضور کی دست بوسی کے لیے نکل پڑے۔ ہم سب بھائی بھی ساتھ تھے۔ دل میں ایک عجیب سی تڑپ تھی کہ جس عظیم شخصیت کی دست بوسی و قدم بوسی کے لیے جارہے ہیں وہ شخصیت دیکھنے میں کیسی ہوگی۔  دماغ میں ایک تصویر تھی کہ بہترین لباس میں کوئی شخصیت ہوگی جو جبہ و دستار سے لیس ہوگی ۔اب تک ہم نے جھریا کے جلسوں میں ایسی ہی شخصیتیں دیکھی تھیں۔جب ہم سب وہاں پہنچے تو جناب حضور (سجادۂ مخدوم کے لیے ہمارے یہاں احتراماً یہی لفظ رائج تھا  جو آج بھی اسی طرح باقی ہے۔اللہ تعالیٰ اس نسبت کو تا قیامت ایسے ہی قائم رکھے)عصر سے فارغ ہوکر مریدوں کے درمیان تشریف فرما تھے۔والد محترم اُن کی جانب بے تابانہ بڑھے اور وہ بھی گرم جوشی سے ابّا جان سے ملنے کی خاطراُن کی جانب متوجہ ہوئے دست بوسی کے بعد ہم سب نے باری باری جناب حضور کی دست  بوسی کا شرف حاصل کیا۔ اُن کا چہرہ فرط مسرت سے چمک رہا تھا۔انتہائی صاف ستھرا لباس غالباً اچکن کا انگرکھا نما کرتا تھا۔اور شانے پر ایک بڑا سفید رومال اور سر پر بہار شریف کی ایک خاص انداز کی ٹوپی جو ذرا سی کج رہتی ہے۔یہی لباس آج بھی سجادگان مخدوم کا تین پشتوں سے پسندیدہ لباس ان آنکھوں نے دیکھا ہے۔ذہن میں جو تصویر تھی وہ ایک لمحہ میں غائب ہوگئی سامنے ایک ایسی شخصیت تھی جس کے چہرے پر اپنے پن کا ایک ایسا احساس تھا کہ جیسے وہ اپنے عزیزوں سے مل رہے ہوں۔اتنی بڑی بارگاہ کے سجادہ کی ہم جیسے غلاموں پر یہ نظر عنایت یقیناً ایک بڑا کرم تھا جس کا نشہ آج بھی قائم ہے۔ایسی باوقار اور کم گو شخصیت اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ مزاج میں خاموشی ایسی تھی کہ جیسے جسم کا رواں رواں بول رہا ہو۔اور سامنے والا اپنے دل کے کانوں سے اس آواز  کو سن رہا ہو۔ ایسی روحانی مجلس میں شرکت کا یہ پہلا موقع تھا۔ ہم سب با ادب فرش پر دو زانو بیٹھے تھے اور قلب کی صفائی و ستھرائی کا کام جاری تھا ،نہ کسی وعظ کی ضرورت تھی اور نہ وظیفہ کی تلقین۔ بس خاموش فیض سے دل و دماغ سرشار ہو رہا تھا۔وہاں سے اٹھنے کا دل نہیں تھا لیکن جناب حضور کو بھی شاید کہیں اور جانا تھا۔ بہرحال والد محترم نے دوسرے دن اپنے غریب خانے”دارلشرف“ تشریف لانے کی دعوت دی جو فوراً قبول کرلی گئی۔جناب حضور حضرت سجاد فردوسی ؒ کے ساتھ اُن کے پوتے موجودہ سجادہ نشیں جنابحضور سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ جنہیں ہم سیفو بابوکہا کرتے، بھی تشریف لائے تھے جو اس وقت کافی کمسن تھے۔دوسرے دن جناب حضور ہمارے غریب خانہ پر تشریف لائے اور پھر کھانے وغیرہ  کےبعد گفتگو کا دور شروع ہوا۔ اس بات کا ذکر ہوا کہ موجودہ وقت میں لوگ خانقاہوں کے بارے میں یہ خیال رکھتے ہیں   کہ خانقاہوں میں اب عالم کم ہوتے جارہے ہیں  لہذا ظاہری طور پر زمانے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اپنے بچّوں کو بڑے دینی مدرسوں میں بھیجا جائے۔اس  زمانے میں ندوة العلما اپنے معتدل نظریے کےسبب زیادہ مقبول تھا۔اور سملہ خانقاہ سے وابستہ افراد وہاں زیر تعلیم رہ چکے تھے اور کچھ تعلیم حاصل کر رہے تھے جن میں خانقاہ مجیبیہ فردوسیہ کے موجودہ سجادہ نشیں  برادر محترم شاہ محمد تسنیم عثمانی فردوسی بھی شامل ہیں۔ تذکرہ جناب حضور سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ کی تعلیم کا تھا۔ والد ماجد نے فرمایا ”حضور سیفو بابو کو بھی ندوہ بھیج دیا جائے وہاں غلام پہلے سے موجود ہے کوئی تکلیف نہ ہوگی۔“اشارہ برادر محترم تسنیم عثمانی فردوسی کی جانب تھا۔جناب حضور فوراً والد  ماجدکی طرف متوجہ ہوئے اور کہا” غلام نہیں ، بھائی کہیے“ بہر حال مشورہ قبول کیا گیا اور والد ماجد کے کہنے پر جناب حضور سید شاہ سیف الدین فردوسی مدظلہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے ندوہ بھیجا گیا جہاں سے آپ نے سند فراغت حاصل کی۔


Wednesday, 27 May 2020

Hazrat Makhdoom Jehan Sheikh Sharafuddin Ahmad Yahya Maneri (r) Ka Urs Is saal Awam Ke liye Band

حضرت مخدوم جہاں مخدوم الملک
 شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیریؒ کا
 سالانہ 659واں ”چراغاں“ میلہ اس سال نہیں

بہار شریف۔27 مئی2020
خانقاہ معظم بہار شریف کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید شاہ سیف الدین فردوسی نے صحافیوں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کورونا جیسی سنگین مہلک بیماری کی وجہ سے اور سرکار کے ذریعہ گائیڈ لائنس کا احترام کرتے ہوئے اس سال چراغاں میں میلہ کا انعقاد نہیں کیا جائے گا۔جمعہ کے روز لوگ گھروں سے ہی مغرب کے بعد قُل و فاتحہ پڑھ کر ملک ، ریاست و ضلع کی سلامتی کے لیے دعا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکے تو مخدوم کے چاہنے والے دس ضرورت مندوں کو کھانا کھلائیں۔
Courtesy Aaina
حضرت مخدوم جہاں ؒ کا مزار مبارک۔ تصویر آئینہ
صاحبِ سجادہ مدظلہ العالی نے فرمایا کہ نگاہ کے سامنے رہنے سے کوئی مخدوم کے قریب نہیں ہوتا جو دل سے قریب ہے
وہی قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے نجات کے لیے اب دعا ہی کام آئے گی۔ دعا سے اللہ تعالیٰ ہر پریشانی کو دور کرتے ہیں اس لیے میری اپیل ہے کہ لوگ درگاہ شریف نہیں آئیں۔ بھیڑ قطعی نہ لگائیں۔ اور گھر سے ہی دعا کریں۔
اے ڈی ایم نوشاد عالم نے کہا کہ مخدوم صاحب جیسی شخصیت کے بارے میں کچھ بھی بولنے کا مطلب سورج کو روشنی دکھانے جیسا ہے۔ اس بار ”چراغاں“ میلہ تو نہیں لگے گا لیکن دعا کے لیے چند لوگوں کو آستانہ پر جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ رسم ادائیگی ہوجائے۔ حضرت مخدوم جہاں کے آستانہ پر انتظامیہ کی جانب سے پیش کی جانے والی چادر بھی دو لوگوں کے ذریعہ پیش کر دی جائے گی۔ کسی بھی قیمت پر ہمیں لاک ڈاؤن کا خیال رکھنا ہوگا۔ سماجی دوری کا خیال رکھنا ہوگا۔ دعا کہیں سے بھی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ عام لوگوں کو چادر پوشی کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس موقع پر ایس ڈی او جناردھن پرساد اگروال، ایس ڈی او عمران پرویز و ڈی پی آر او رویندر کمار اور خانقاہ کے دیگر معززین موجود تھے۔

Sunday, 24 May 2020

Eid Ki Khushi - Nazeer Akbarabadi

عید کی خوشی
نظیر اکبر آبادی

روزے کی خشکیوں سے جو ہیں زرد زرد گال
خوش !ہوگئے!وہ !دیکھتے !ہی !عید کا ہلال
پوشاکیں تن میں زرد سنہری سفید لال
دل کیا کہ ہنس رہا ہے پڑا تن کا بال بال
ایسی! نہ شب برات! نہ !بقرعید کی خوشی
جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی
پچھلے پہرسے اٹھ کے نہانے کی دھوم ہے
شیر و شکر! سویاں! پکانے! کی !دھوم ہے
پیر و جوان کو نعمتیں کھانے کی دھوم ہے
لڑکوں کو عید گاہ کے جانے کی دھوم ہے
ایسی! نہ شب برات! نہ !بقرعید کی خوشی
جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی
روزوں کی سختیوں میں نہ ہوتے اگراسیر
تو ایسی عید کی! نہ خوشی! ہوتی! دل پذير
سب! شاد! ہیں گدا!سے لگا !شاه !تا وزیر
دیکھا جو ہم نے خوب تو سچ ہے میاں نظیر
ایسی! نہ شب برات! نہ !بقرعید کی خوشی
جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی

Paigham e Eid - Dr. Shah Hasan Usmani

عید کا پیغام
پروفیسر شاہ حسن عثمانی

عید عام معنوں میں تہوار نہیں ہے۔ اس کا ایک خاص دینی پس منظر ہے۔ جس کا تعلق رمضان، روزہ اور نزول قرآن سے ہے۔ عید ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ کی تکمیل پر خدا کا انعام ہے۔ یہ یوم تشکر بھی ہے۔ یوم اجر بھی اور تقویٰ بھری زندگی گزارنے کے عہد و پیمان کا دن بھی۔ عید کے دن سے مومن کی زندگی کا سالانہ نیا باب شروع ہو جاتا ہے جس میں زہد وتقوی کی شان اور صبر ومواساة کا پیغام شامل ہوتا ہے۔ عید چند لمحوں یا ایک دن کی خوشیاں منانے کا دن نہیں بلکہ مہینہ بھر کی تربیت اور ریاضت اور خداخوفی کی پونجی سنبھال کر خرچ کرنے کی تذکیر بھی ہے۔ ایک مومن جب ایمان اور احتساب کے ساتھ ایک ماہ تک شعوری روزہ رکھتا ہے۔قیام لیل کرتا ہے۔ قرآن پڑھتا اور اس پر غور وفکر کرتا ہے اور اس کے حکم اور ہدایت کو اپنے ذہن و فکر اور عمل کے ڈھانچے میں ڈھالتا چلا جاتا ہے تو اس کے اندر تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ اس کی نظر اس کی فکر ، اس کا نفس اور اس کے خواہشات و جذبات خداترسی کی لذت سے سرشار ہو جاتے ہیں اور اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی نیکی و خداترسی ، محبت و ہمدردی اور امن و سلامتی کی ضمانت بن جاتی ہے۔
غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عید صرف عمده لباس زیب تن کرنے اور ذائقہ دار کھانوں کی لذت اٹھانے کا نام نہیں ہے ۔ اس میں غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور حاجتمندوں کے ساتھ ہمدردی ، عام انسانوں کے ساتھ شریفانہ سلوک اور صالح معاشرے اور پاکیزه سوسائٹی کی تعمیر کا پیغام مضمر ہے۔
عید کے آتے ہی رمضان کا فرض روزہ ختم ہوا۔ لیکن اس کی وہ کیفیت جو تقویٰ اور ضبط نفس کی شکل میں حاصل ہوئی وہ ختم نہیں ہونی چاہئے ۔ اس کی تربیت ہی آنے والے دنوں کے لئے ہوئی ہے وہ ختم نہیں ہونی چاہئے ۔ عبادات ، اطاعت اور خشیت الٰہی کا تسلسل جاری رکھنا ہے۔ قرآن مقدس کے حکم و ہدایت کے مطابق زندگی کی تعمیر کرنی ہے۔ خیالات، جذبات اور خواہشات پر کنٹرول رکھنا ہے۔ خدا کے کمزور بندوں کے ساتھ محبت و خیرخواہی کا سلسلہ رکھنا ہے۔ ظلم وزیادتی اور جبر وتشد د کا ارتکاب نہ کرنا ہے اور نہ کسی کو کرنے دینا ہے۔
ماہ صیام کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ یہ شہر مواخات ہے۔ یہ ماہ مبارک ہمیں اس کی تعلیم دیتا ہے کہ ہمیں اپنے دینی بھائیوں کے تئیں وہی جذبہ الفت و محبت رکھنا چاہئے ۔ جس کی ایک حدیث میں تشبیہ کے پیرایہ میں تصویر پیش کی گئی ہے۔”مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں۔اگر اس کے ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔“
اسلامی عید خدا کے فضل و کرم سے تمام عیوب سے پاک ہے۔ اور اخلاقی و روحانی عظمت اور برتری کا ایک بہترین نمونہ اور دلکش منظر ہے۔ یادر ہے مسلمانوں کی عید آتش بازی، ناچ و رنگ کا عید نہیں بلکہ مسلمانوں کی عید شکرانے کی عید ہے۔ دراصل اصلی خوشی حقیقی مسرت تو اسی کا ہے جو اس ماہ مبارک میں روزہ دار رہا اور جس نے تقویٰ اور پرہیز گاری حاصل کی۔
عيد الفطر کو بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے مسرت کا دن قرار دیا ہے اور اتنی بات بھی شریعت سے ثابت ہے کہ اس روز جو بہتر سے بہتر لباس کسی شخص کو میسر ہووہ لباس پہنے۔ آج کل اس غرض کے لئے جن فضول خرچیوں اور اسراف کے ایک سیلاب کوعیدین کے لوازم میں سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں۔
آج یہ بات فرض اور واجب سمجھ لی گئی ہے کہ کسی شخص کے پاس مالی طور پرگنجائش ہوں نہ ہولیکن وہ کسی نہ کسی طرح گھر کے ہر فرد کے لئے جوتے اور ٹوپی سے لیکر ہر چیز نئی خریدے۔
گھر کی آرائش اور زیبائش کے لئے نت نۓ سامان فراہم کرے۔ دوسرے شہروں میں رہنے والے اعزاء و اقارب کوقیمتی عید کارڈ بھیجے اور ان تمام امور کی انجام دہی میں کسی سے پیچھے نہ رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ ایک متوسط آمدنی رکھنے والے کے لئے عید کی تیاری ایک مستقل مصیبت بن چکی ہے۔ عید کی بے جا تیاری کا کم از کم یہ نقصان تو ہے ہی کہ رمضان اور خاص طور سے آخری عشرہ کی راتیں جو گوشۂ تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے عرض و مناجات اور ذکر وفکر کی راتیں ہیں وہ عموماً لوگوں کے بالخصوص خواتین کی بازاروں میں گزر جاتی ہیں۔ نیز گناہوں کے کاموں میں مسابقت اور مقابلہ اس کی سنگینی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ اس طرح بے شمار گناہوں کے ساتھ لاکھوں روپے ضائع و برباد ہو جاتے ہیں۔ اگر اتنی ہی رقم غرباء مساکین اورفقراء پر خرچ کی جائے تو کتنے تنگ دست گھرانے خوش حال ہوجائیں۔ بیمار تندرست ہوجائیں، روزی کے محتاج برسر روزگار ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام لوگوں کو دین کا یہ فہم عطا فرمائے اور اس گناہ عظیم سے بچنے کی توفیق بخشے۔ آمین
و آخرو دعونا الحمد و لله رب العالمين

(پروفیسر شاہ حسن عثمانی کے خطبات پر مبنی کتابچہ” استقبال ِ رمضان و عیدین“ سے ماخوذ)

Saturday, 23 May 2020

Alwida Rahat e Khasta e Jaan - Umaima Quadri

الوداع راحت خستۂ جاں
امیمہ قادری

چند دن کا جو مہماں ہوا تھا 
جس کے آنے سے جی خوش ہوا تھا 
جس نے روشن کئے تھے اندھیرے 
لذتیں بخشیں سجدوں کو جس نے 
آج رخصت وہ مہماں ہوا ہے 
پھر جدا ہم سے رمضاں ہوا ہے 
روز و شب میں ہی الجھے رہے ہم 
حق ادا کیا ترا کر سکے ہم
کر سکے ہم نہ تیری ضیافت 
در گزر کرنا اے ماہ رحمت
تیری آمد نے بہلا رکھا تھا  
زخم پر دل کے مرہم رکھا تھا 
کھل گئے ہیں وہ سب زخم دل کے  
ہم ہیں پھر خلق کی ٹھوکروں پہ
ہم ہیں اور پھر یہ شام و سحر ہیں 
تیری آمد کے پھر منتظر ہیں 
الوداع اے سکون مسلماں 
الوداع راحت خستۂ جاں 
یاد تو نے دلائی حرم كى 
رونق بزم شاه امم  كى 
كاش پھر ہو میسر وہ رمضاں 
کاش پھر ہم نبی کے ہوں مہماں
ماہ رمضان اے ماہ برکت 
پوری ہو یہ ا ؔمیمہ کی حاجت

Hai Eid Chale Aao - Mazhar Balgarami

ہے عید چلے آؤ
حکیم سید مظفر علی مظہر بلگرامی
Courtesy Isra Usmani

اس درجہ نہ تڑپاؤ
کچھ دل میں تو شرماؤ
اب رحم بھی فرماؤ
ایسے میں تو آجاؤ
ہے عید چلے آؤ
آنا ہے تو آجاؤ
شاید کے ہمیں پاؤ
یوں مان بھی اب جاؤ
تقصیر تو بتلاؤ
ہے عید چلے آؤ
پھر فصل بہاراں ہے
ویرانہ گلستاں ہے
حیوان بھی شاداں ہے
انسان تو انساں ہے
ہے عید چلے آؤ
دریا میں روانی ہے
موجوں میں دوانی ہے
بہتا ہوا پانی ہے
ہر شے میں جوانی ہے
ہے عید چلے آؤ
پر جوش بہاراں ہے
فردوس  بہ داماں ہے
گلزار بیاباں ہے
دیکھو جسے نازاں ہے
ہے عید چلے آؤ
یہ دن ہیں مسرت کے
یہ روز ہیں عشرت کے
ایام ہیں بہجت کے
موقعے نہیں حجت کے
ہے عید چلے آؤ
کیا مجھ پہ شباب آیا
گویا کے عذاب آیا
کیوں مجھ پہ عتاب آیا
اب تک نہ جواب آیا
ہے عید چلے آؤ
میں سخت پریشاں ہوں
تقدیر پہ گریاں ہوں
جینے سے میں نالاں ہوں
اک قالب بے جاں ہوں
ہے عید چلے آؤ
گر دید تمہاری ہو
پھر عید ہماری ہو
نالہ ہو نہ زاری ہو
نے لب پہ یہ جاری ہو
ہے عید چلے آؤ
کب تک یہ ستم آخر
کب تک میں رہوں مضطر
ہے تار نفس خنجر
آرام ملے کیوں کر
ہے عید چلے آؤ

(رسالہ ندیم، گیا میں 1941 کے شمارہ میں شائع ایک نظم)

Friday, 22 May 2020

Yadein Bachpan Ke Ramzan Ki

یادیں بچپن کے رمضان کی
صفاح عثمانی

رمضان اب رخصت ہونے ہونے کو ہے۔ جدائی کا وقت آپہنچا ہے۔ سعودی عربیہ اور دوسرے خلیجی ملکوں میں لوگوں کی نگاہیں عصر بعد سے ہی آسمان میں ٹِک گئی ہیں۔ گرچہ اس بار رمضان المبارک نے ہمیں اپنی آمد سے بھرپور استفادہ کرنے سے محروم رکھا۔ نہ تراویح ہوئی اور نہ مساجد میں نماز اور شب بیداری۔ایک مہلک وبا نے لوگوں کو اپنے گھروں میں بند ہوجانے کے لیے مجبور کردیا۔ ایسے میں عید کی آمد بھی بہت زیادہ رونق لے کر نہیں آرہی۔ مختلف ملکوں نے عید کی آمد سے قبل ہی مزید سختی کے اشارے دے دیے ہیں۔ ایسے میں ذہن کے پردے پروقت کی سوئی بہت تیزی سے ماضی کی طرف بھاگ رہی ہے۔ جب رمضان کا آنا لوگوں میں خوشیوں کا پیغام لے کر آتا اور اس  کی رخصت لوگوں کے دلوں کو آزردہ کردیتی۔جمعتہ الوداع کی آمد کو رمضان کے رخصت ہونے کا اعلان سمجھا جاتا۔اور دلوں میں ایک مایوسی کا احساس جاگزیں ہو جاتا۔ ہمارے شہر میں بھی ہندوستان کے دیگر شہروں کی طرح صبح سحری کے وقت جگانے کا رواج تھا لیکن یہ اس معاملہ میں انوکھا تھا کے یہاں لوگوں کو جگانے کے لیے شاعری اور موسیقی دونوں کا سہارا لیا جاتا۔ رمضان میں سحری میں جگانے والوں کے لیے مقامی شاعر اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کرتے اور گلوکار ان کی نظموں میں نئی جان ڈال دیتے۔ اگر یہ کلام محفوظ ہوں تو یہ اردو صنف شاعری میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ رمضان المبارک کی آمد کا جشن اور اس کے وداع ہونے کا منظر ان کے کلام میں اتنی شدّت سے پیش کیا جاتا کہ آپ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ 
قافلے بھی مختلف طرح کے ہوتے۔ کچھ میں صرف گانے والے ہوتے اور کچھ موسیقی کے ساتھ۔ ان قافلوں میں ایک قافلہ وہ تھا جس کے سالار ایک ماہر بینجو نواز تھے تو دوسرا قافلہ شہر کے مشہور قوال قطب تارہ قوال کا تھا۔ یہ ٹولیاں جنہیں ہم قافلہ کہا کرتے یہ دو سے سات آٹھ افراد پر مشتمل ہوتیں۔ اپنی آواز کو دور تک پہنچانے کے لیے ان سب کے پاس مائک ہوتا۔ اور لوگوں کا ایک ہجوم ان کے ساتھ چلتا۔ ایک عجیب سی رونق ہوتی۔ نماز، روزہ اور تراویح کے ساتھ یہ روپ رمضان کی رونقوں کو دوبالا کردیتا۔ اب یہ اور اس طرح کی بہت سی چیزیں رسم ممنوعہ قرار دے کر معاشرے سے چھین لی گئی ہیں۔ لوگ ان ثقافتی خوشیوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ گھروں میں موبائل اور ٹی وی پر فلمیں اور مولاناؤں کی بے جا بحثوں پر کوئی فتویٰ نہیں آتا لیکن اگر آپ نے کسی تہوار میں خوشیوں کا نیا رنگ گھولنا چاہا تو اسے بلا تاخیر بدعت قرار دے دیا جاتا ہے ۔حالانکہ یہ تقریب مذہبی فریضہ نہیں بلکہ مقامی تہذیب ثقافت کا عکس ہوتی ہیں۔ جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس اسلامی تہوار کے تئیں بھرپور عقیدت ہوتی ہے۔
 بہر حال میں ذکر کر رہا تھا اپنے شہر میں سحری کے لیے جگانے والے قافلوں کا جو میرے شہر کی ایک نمایاں خصوصیت کا درجہ رکھتے تھے۔ سحری سے ڈیڑھ گھنٹے قبل یہ قافلے اپنے اپنے علاقوں سے نکل جاتے۔ محلوں کی مختلف سڑکوں سے گھومتے ہوئے شہر کی چھوٹی مسجد کے سامنے سارے قافلے اکٹھا ہوجاتے۔ ان قافلوں کے شاعر بھی خوب سے خوب فکری جولانیاں دکھاتے۔ رمضان کے لیے ان کی محبت و عقیدت کا اظہار صاف جھلکتا۔ ہر قافلہ کا شاعر الگ ہوتا یا کبھی ایک ہی شاعر کا کلام دو تین قافلہ سالار گاتے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ سب کا کلام الگ ہوتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ دو قافلے سڑک پر آمنے سامنے آجاتے پھر دونوں میں وہ مقابلہ آرائی ہوتی کہ مزا آجاتا۔ ترنم،گلوکاری اور شعری معیار کا وہ بھرپور مظاہرہ ہوتا کہ آخر میں لوگوں کو دونوں کے درمیان برابری پر صلح کرانی پڑتی تبھی دونوں قافلے اپنی اپنی راہ لیتے۔ جمعتہ الوداع کے بعد فضا ذرا غمگین ہو جاتی۔ رمضان کے الوداعی کلام پڑھے جانے لگتے۔ زیادہ تر طرزیں فلموں کے درد بھرے نغموں پر مبنی ہوتیں۔ لوگوں کو یہ احساس ہوجاتا کہ اب ایک برکت بھرا مہینہ اُن سے رخصت ہونے والا ہے۔چاند رات میں چاند نکلتے ہی ان قافلے والوں کا رنگ ایک بار پھر تبدیل ہوجاتا۔ مغرب بعد سے ہی جشن و طرب کے نغمے گائے جانے لگتے۔ سادہ لوح ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اور ایک دوسرے کا پورا خیال رکھنے والے میرے شہر کے معصوم لوگ سر میں ٹوپی چپکائے چاند رات کی خریداری میں مصروف ہوجاتے۔ خوشی و عید کی آمد کا جوش ہر چہرے سے صاف جھلکتا۔ آخری لمحوں کی خریداری میں عطر، سرمہ، رومال، نئی ٹوپی، بنیان خریدنے والوں کی بھیڑ زیادہ ہوتی۔ قافلے میں جشن و طرب کے نغمے گانے کا یہ سلسلہ فجر کی نماز کے بعد تک چلتا۔ اور پھر لوگ عید کی نماز کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے۔محلے میں نماز کا وقت ہونے تک ایک سناٹا ہوجاتا لوگ اپنے اپنے گھروں میں عید کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے۔ نماز کا وقت قریب آتے ہی مسجدیں بھر جاتیں۔نماز ہوتی خطبہ ہوتا اور پھر لوگوں کا ایک دوسرے سے گلے ملنے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا۔ شاید مسجد میں موجود ہر شخص مسجد میں موجود ہردوسرے شخص سے گلے ضرور ملتا۔ آج جب بڑے شہروں میں لاکھوں لوگوں سے بھری مسجد میں خود سے گلے ملنے والے دو چار رشتہ داروں کے علاوہ ہم کسی کو نہیں پاتے تو ایک عجیب سی محرومی کا احساس ہوتا ہے۔بڑے اور چھوٹے شہروں کا یہ فرق آج کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔
 بات ہورہی تھی سحری کے لیے جگانے والے قافلوں کی تو یہ سلسلہ رمضان تک ہی محدود نہیں رہتا۔ عید کے تیسرے یا چوتھے دن ایک بڑے قافلہ کمپٹیشن کا اعلان ہوتا جس میں آس پاس کے کئی شہروں کے قافلے حصّہ لیتے۔ ہر ایک قافلہ سالار اپنے ترنم اور کلام کے معیار کی بنیاد پر جانچا اور پرکھا جاتا اور پھر جیتنے والوں کو بڑی بڑی شیلڈوں اور مختلف انعامات و اکرامات سے نوازا جاتا۔ یہ قافلہ سالار بڑے ہی باصلاحیت ہوتے اور اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کثر نہ چھوڑتے۔ اکثر مقابلہ بڑا دلچسپ ہوتا۔ اب یہ سب باتیں محض تذکرہ بن گئی ہیں۔ مولویوں نے ہر تہوار میں صرف تقریروں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں کو تقریروں کے بل بوتے پر کنارے لگا دیا گیا ہے اور لوگ ایک مشینی زندگی کے عادی ہوگئے ہیں جہاں وہ ان سرگرمیوں کو چھوڑ کر فلمیں دیکھنے اور فلمی نغمے سن کر اپنا دل بہلانے کے لیے مجبور ہیں۔ بڑے بڑے ”بھونپو“ لگے ہوئے ہیں اور ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی  اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے۔
الوداع! اے ماہ رمضاں الوداع!
عید کی صبح فجر کی اذان ہو چکی ہے نمازی مسجد جا رہے ہیں اور فضا میں عید کا نغمہ بکھر رہا ہے:
عید جشن وفا ہے چلے آئیے
عید جلوہ نما ہے چلے آئیے
آپ سبھوں کو عید مبارک!

بھوجپوری زبان میں سحری کی ایک نظم

Tuesday, 19 May 2020

Hazrat Nuh or Noah A.S. by Allama Rashid ul Khairi

حضرت نوح علیہ السلام

حضرت نوح بن الامک حضرت ادریس کے پڑپوتے تھے اور حضرت ادریس حضرت شیث کے پوتے پڑپوتے تھے۔ اللہ کے یہ سب نیک بندے اپنی زندگی بھر لوگوں کو راہ راست پر بلاتے رہے اورخدا کی باتیں سمجھاتے رہے۔ حضرت ادریس کے انتقال ہوجانے پر تمام قوم گمراہ ہوگئی اورایسی گمراہ ہوئی کہ کبھی بھول کر بھی خدا کا نام نہ لیتی تھی۔ دن رات بت پرستی کرتے تھے۔ یوں تولاتعداد بُت ان لوگوں نے بنائے تھے۔ حضرت نوح اپنی اس قوم کو ہر وقت توحید کی طرف بلاتے اور شرک و بُت پرستی سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ۔ مگران کے دلوں پر کچھ ایسی مہر لگی ہوئی تھی کہ وہ حضرت نوح کی باتوں پر ہنستے اور مضحکہ اڑاتے۔ گنتی کے چند آدمی جوان پر ایمان لائے تھے ان کو بھی چھیڑتے اورکمینہ بےوقوف کہتے۔ حضرت نوح اپنی طرف سے ان لوگوں کو بہترا سمجھاتے مگر ان پر خاک اثر نہ ہوتا۔ آخر حضرت نوح نے ایک موقعہ پر ان سے کہا کہ ”یاد رکھو اگر تم نافرمانی کروگے تو عذاب الٰہی تم  کو تباہ کر دے گا“ یہ سن کر قوم نے قہقہہ مارا اور کہا کہ نوح وہ عذاب تم بلوادو، ہم بھی دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ یہ کہہ کر حضرت نوح کو مارنا شروع کیا اور اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہوگئے اور بدن سےخون  بہنے لگا۔ جب ہوش میں آئے تو خدا سےعرض کیا :
(ترجمہ) اے رب میں اپنی قوم کو رات دن بُلاتا رہا اور میرے بُلانے سے اور زیادہ بھاگتے رہے۔
اس دعا کے بعد حضرت نوح خاموش بیٹھے تھے کہ کچھ لوگوں نے آوازے کسنے شروع کئے اوربرا بھلا کہا۔ حضرت نوح نے ٹھنڈے دل سے ان کے مظالم برداشت کئے۔ مگرجب پورا یقین ہوگیا کہ یہ راہ راست پر نہیں آئیں گے تو خدا سے کہا ”الٰہی اب میں تھک گیا۔ یہ تو ایمان لانے والے نہیں۔ اپ تو ان کو ایسا تباہ و برباد کر کے ایک بچّہ تک باقی نہ رہے۔
یہ دعا قبول ہوئی اور حضرت نوح کو حکم ہوا کہ بس جو ایمان لے آئے وہ لے آئے اب تو خاموش ہوجا اور رنج ذہ کر اور اب ایک بہت بڑی کشتی بنا۔ مگر یہ یاد ر ہے کہ توان گنہگاروں کے متعلق ہم سے ہرگز ہرگز کچھ نہ کہیو۔ ہم اب سب کو ڈبوتے ہیں-
حضرت نوح کی یہ دعا:۔
(ترجمہ) اے رب زمین پر ایک مُنکر کو بھی زندہ نہ چھوڑ۔
خدا کے حضور میں قبول ہو چکی تھی۔ جب کشتی تیار کرنے کا حکم ہوا تو وہ حکم کی تعمیل میں مشغول ہوئے اور کشتی بنانے لگے ۔ قوم کے لوگ جب ادھر سے گذرتے اور ان کو دیکھتے ، تو کہتے ” اب اس کے دیوانے ہونے میں کیا شک ہے کہ خشکی میں کشتی بنارہا ہے؟ حضرت نوح  چپکے چپکے بیٹھے اپنا کام کرتے اور لوگوں کے کہنے سننے کی مطلق پرواہ نہ کرتے اور فرماتے۔ تمہارے ہنسنے  کا وقت ختم ہورہا ہے اور میرے ہنسنے کا وقت آ رہا ہے۔المختصر حضرت نوح کی کشتی تیار ہوئی تو پندرہ گزاونچی 25 گز چوڑی اور ڈیڑھ سو گز لمبی تھی۔
کشتی تیار ہوگئی اور خدا کے عذاب کا وقت آ پہنچا۔ بارش شروع ہوئی اور اس قدر مینہ برسا کہ الامان والحفیظ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان پر سوا پانی کے اور کوئی چیز نہیں ہے۔ اب قوم پریشان ہوئی اور جب یہ دیکھا کہ طوفان سر پر آ پہنچا اور سب ڈوب جائیں گے تو حضرت نوح کے پاس پناہ لینے کے لئے دوڑے آئے۔
حضرت نوح کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ جس روز تنور سے گرم پانی اُترے گا اسی روز خدا کا قہر شروع ہو جائے گا۔ چنانچہ جب ایک دن ان کی بیوی روٹی پکا کر اٹھیں تو تنور ابلنا شروع ہوا۔ اب ادھر توکشتی تیار ہوگئی ادھر آسمان و زمین اژدہے کی طرح ان لوگوں کو نگلنے کے لئے تیار ہوئے جو خداا کی نافرمانی کررہے تھے اور خدا کے سچے  بندے نوح کوجُھٹلا رہے تھے۔ حضرت نوح نے اپنی بیوی اور تین لڑکوں کویعنی سام،حام اور یافث کو مع ان کے اہل و عیال کے کشتی میں بٹھایا۔ پانی کا یہ حال تھاکہ کسی طرح تھمنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آسمان میں چھید ہوگئے ہیں اور اب کسی طرح پانی نہ رکے گا ۔ حضرت نوح جب کشتی میں بیٹھ گئے تو انہوں نے اپنے چھوٹے لڑکے کنعان کو ڈوبتے دیکھا۔
اس لڑکے کی بابت اک فریق کا یہ خیال ہے کہ یہ ان کا اپنا بیٹا نہ تھا۔ بلکہ ان کی بیوی کا بھتیجا یا بھائی تھا۔ اور حضرت نوح اس سے بھی بیٹوں ہی کے برابر محبت کرتے تھے اوربیٹا ہی کہتے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں بھی اس کو بیٹا ہی کہا گیا ہے۔ جس وقت بیٹا ڈوبنے لگا، تو حضرت نوح علیہ السلام نے اس سے کہا کہ میرے ساتھ کشتی میں آجا ۔ مگر وہ بدنصیب چونکہ پرلے سرے کا نافرمان اورگستاخ تھا کہنے لگا :
آپ گھبرائیے نہیں میں تیر کر نکل آؤں گا۔ اب حضرت نوح نے آسمان کی طرف دیکھا اور خدا سے عرض کیا کہ ” رب العالمین تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میرے اہل وعیال محفوظ رہیں گے ۔ تیرا وعدہ سچا ہے اور یہ لڑکا میرے اہل وعیال میں سے ہے۔ اس کو بچا۔ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔ خدا کی طرف سے  حکم ہوا کہ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا ایمان تیرے موافق نہیں اسی عرصہ میں پانی کی ایک موج آئی اور اس نے حضرت نوح کی نگاہوں سے کنعان کو اوجھل کردیا۔ حضرت نوح نے خدا کے حکم کے بموجب کشتی میں جانوروں کا ایک جوڑا ار کھانے
پکانے کا سامان رکھ لیا تھا۔ کیونکہ خدا یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ اس کشتی کے سوا آدم کی اولاد میں کوئی شخص اور کوئی جانور زندہ نہ رہے گا۔ کشتی پانی میں چلی اور قریب قریب ڈیڑھ مہینہ چلتی رہی۔ زمین سمندر بن چکی تھی مگر آسمان کا پانی کسی طرح نہ تھمتا تھا۔ جب حضرت نوح کی یہ دعا کہ الٰہی ایک کافر کو بھی زمین پرزنده نهچھوڑ قتبول ہوچکی تو پانی کا زور کم ہوا اوریہ کشتی  جودی پہاڑ کے قریب آکر ٹھہری جواب ارارلٹ کے نام سے مشہور ہے اور عراق میں موصل کے قریب ہے۔
اس وقت حضرت نوح نےایک کبوتر کو چھوڑا وہ دن بھر اُڑ اُڑا  کر شام کو کشتی میں آگیا۔ حضرت نوح کو معلوم ہوگیا کہ ابھی تک روئے زمین پر خشکی کا نام و نشان نہیں ہے۔ ایک ہفتہ راہ دیکھنے کےبعد نوح علیہ السلام نے کبوتر کو پھر چھوڑا وہ واپس آیا اور اس سے معلوم ہوگیا کہ پانی کم ہونا شروع ہوگیا اور درختوں کی پتیاں نمودار ہرہی ہیں اس کے کچھ دنوں کے بعد حضرت نوح نے پھر کبوتر چھوڑا وہ واپس نہ آیاا۔ اوراب حضرت نوح کو معلوم ہوگیا کہ زمینپر ٹھہرنے کی جگہ ہوگئی ہے۔
چنانچہ حضرت نوح زمین پراترے اور انھوں نے اپنی کشتی کو توڑا۔ اس کی لکڑیوں سے اور پہاڑ کی مٹّی  اور پتھروں سے ایک مسجد جودی پہاڑ پر بنائی اورخود بھی وہیں آباد ہوئے اس جگہ کا نام شانین ہوا۔ جس وقت یہ طوفان نازل ہوا ہے اس وقت حضرت نوح کی عمر چھ سو برس کی تھی ۔ اس کے بعد وہ ساڑھے  تین سوبرس اور زندہ رہے اور نو سو برس کی عمر میں انتقال کیا ۔
دنیا میں اس وقت جتنی آبادی ہے ۔ وہ حضرتنوح کی اولاد ہے. سام کے نام پر شام مشہور علاقہ ہے عراق وغیرہ کی طرف انھیں کی اولاد پھیلی۔ہندوستان کے لوگ اور یورپ کی قومیں یافث کی نسل سے ہیں اور مصر اور افریقہ کی قومیں حام کی اولاد ہیں۔
(علامہ راشد الخیری)

Sunday, 17 May 2020

Dastaan e Gul

آئینہ نے جب پھولوں کے بارے میں اردو میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کا ارادہ کیا تو اُس کے پاس انگریزی سے استفادہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ خواہش تھی کہ اردو کے طلبہ کو پھولوں سے متعلق وہ تمام معلومات فراہم کی جائیں جو ان کے لیے مفید بھی ہوں اور کار آمد بھی۔ اس سلسلہ میں مطالعہ کے دوران ”آرایش محفل“ مصنف حیدر بخش حیدری دہلوی کا تحریر کردہ ایک باب پھولوں سے متعلق نظر سے گزرا۔ یہ مضمون نہ صرف اپنے زبان و بیان سے انوکھا ہے بلکہ ہندوستان میں پائے جانے والے پھولوں کا مجموعی خاکہ بھی پیش کرتا ہے۔ ہندوستان صدیوں سے طرح طرح کے پھولوں کا گلدستہ رہا ہے۔  آئیے!آپ بھی اس مضمون کی خوشبو سے اپنا دل و دماغ معطر کیجیے۔

چند سطریں پھولوں کی تعریف میں
پھول بھی یہاں سارے دیکھنے اور سونگھنے کے اپنی اپنی بہار میں بے مثال ہوتے ہیں۔ رنگ ڈھنگ میں بھی کچھ ایران توران وغیرہ کے پھولوں سے کم نہیں چُنانچہ عَبّاسی کئی رنگ کی بہت دَھدَھی اور گُلِ مہندی بھانت بھانت کی نپٹ چہچہی۔ گلاب و یاسَمن و سَوسَن کا وفُور۔ نرگس و نسرین و نسترن سے چمن کے چمن مَعمور۔ زنبق و بنفشہ جِدھر تِدھر۔ صَد بَرگ و تاجِ خُروس چَپّے چَپّے پر۔ چَمَن کے چَمَن رَیحان و اَرغَوان کے۔ تَختے کے تَختے لالہ و نافرمان کے۔ رعنا و زیبا جہاں تہاں۔ داؤدی و صد برگ کی ہزاروں کیاریاں۔ اور وے پھول جو خُصُوصیَت اس سرزمین سے رکھتے ہیں ہزاروں میں ہیں۔ اگر اُن سب کے فقط نام لکھوں تو یہ فصل برابر گلستان کے ہوجائے۔اور تھوڑے سے فایدے کے لیے کلام میں طول بہت سا لازم آئے لیکن مشہور معروف خلق میں بیشتر اتنے ہیں۔ سیوتی- سُکھ درسن، سورج مکھی، چنپا، چنبیلی، چاندنی،جائی جُوہی، جعفری، موگرا، موتیا، مدن بان، مولسری، کرنا، کَپُور، بیل، کنوَل، کیوڑا،کیتکی، گُڑھل، ہارسنگار،نِواڑی بیلا، کٹھ بیلا،رتن منجری، رائی بیل، رتن مالا، دُپَہریا۔ابیات۔
ہے اس مملکت کی عجب گل زمیں
کہیں پھول یاں کے سے ہوتے نہیں
دل بستہ دیکھ اُن کو ہر باغ باغ ###### جو سونگھے تو بھر جائے بو سے دماغ
گُندھے بِن گُندھے گر وہ محفل میں آئیں
تو مجلِس کا عالم چَمَن کا بنائیں
جو پہنے انہیں حسن اُن کا پھلے###### کہ عاشق کا دل اُن پہ دُونا چلے
جو لکھنے کے قابل ہو مو کا قلم######  نزاکت ہو کچھ سیوتی کی رقم
سفیدہ سحر کا جو حل ہو کے آئے
صباحت ذرا اُس کی تب لکّھی جائے
کروں وصف کیا مونگرے کا بیاں######  کہ ایک ایک کلی اُس کی ہے عطر داں
مُعطر ہے شدّت سے بیلے کی باس######  یہ آتی نہیں حیف عاشق کو راس
جو سوتے میں آجائے اُس کی لَپَٹ
پھڑک جائے دل نیند جاوے اُچَٹ
ہے کرنے کی اس مرتبہ مست بو
جو سُونگھے اُسے ٹُک سیہ مست ہو
مدن بان کی ادھ کھلی ہر کلی ######  بڑھاتی ہے عشاق کی بے کلی
خوشایند ہے نگہت راے بیل######  رہے بزم میں اُس کی نت ریل پیل
چاندنی کی بو ہے نزاکت بھری######  سچَکتی ہوئی سونگھے اس کو پری
یہ ہیں خُشنُما جائی جوہی کے پھول
کہ دیکھ ان کو سَرت جاتی ہے بھول
صفائی کا عالم کہوں اُن کی کیا######  کہ پائے نظر یاں پھسل ہی پڑا
بہت موتیا کی پیاری ہے بو######  ہرایک گل سے اس کی نرالی ہے بو
انوٹھی نہو کیونکہ اُس کی کلی######  نہائیت اُس کی ہے بو میں بھری
نواری کی از بسکہ میٹھی ہے بو######  دلوں کے وہ مقبول کیونکر نہو
جدا سب سے دو پہریا کا ہے روپ
کہاں اُس کی رنگت کو لگتی ہے دھوپ
گلوں سے نرالا ہے گل چاندنی ###### چَمَن کا اجالا ہے گل چاندنی
یہ چنپا کہ پھولوں میں ہَیگی مہک
لپٹ ان کی جاتی ہے گردوں تلک
میں رنگت میں تشبیہ دوں اُسے کیا
کہ بن باس جوہر ہے پُکھراج کا
ہر ایک گل کا ہے رَنگ و عالم جُدا
نہیں لُطف سے کوئی خالی ذرا
جسے دیکھیے ہر طرح خوب ہے######  طَبیعت کا ہر ایک کی مرغوب ہے
یہ گو ہر طرف سستے بکتے پھریں
یہ خوباں جہاں دیکھیں سر پر دھریں
ہوئے سستے یوں تاکہ پہنیں منگا ######  زنِ بے نَوَا و زنِ بادشا
جو عالم دکھاتے ہیں دمڑی کے پھول
وہ ہرگز نہو موتیوں سے حصول
پہنّے کا اُن کو نہو کیونکہ چاؤ######  کہ ہوتا ہے یاں کوڑیوں میں بناؤ
کسی خوب کی دل میں کھبتی نہ آن
نہ ہوتے جہاں میں اگرپھول پان
القِصّہ کوئی پھول چمنِ دہر میں رنگ و بو سے خالی نہیں۔ مصرعہ۔
ہر گُلے را رنگ و بُوئے دیگر است
لیکن موتیا چنبیلی بعضے بعضے وَصفوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ تیل عطر انھیں کا نکلتا ہے۔اور ہر ایک صاحب طبع اُس چاہ کر مَلتا ہے۔ خصُوصاً وے عورتیں کہ جن کے مزاج میں سُتھرائی سُگھرائی بیشتر ہے۔ہمیشہ بدن کو لگائے اور بالوں کو اُس میں بسائے ہی رکھتے ہیں۔نا چاہنے والی کی خواہش زیادہ بڑھے۔ اور چاہ کی آنکھ اکثر  پڑے۔بیت
اگر تیل اور عطر ہوتے نہ یاں تو رونق پکڑتا نہ حسن ِ بتاں
بڑھائی انھوں نے ہَیں یہ اُن کی قدر
عجب چیز ہینگی غرض تیل و عطر
اور کیتکی کیوڑے کی بو باس صورت شکل کسی پھول سے نہیں ملتی۔اُن کا عالم ہی جُدا ہے۔ اگر ہزار پھول خوشبو دھرے ہوں اور کیوڑے کا ایک پھول بھی آئے۔ تو اُن کی مَہَک اُس کی لپٹ میں چھِپ جائے۔ گلاب و بید مشک اُس کے عرق سے خجالت کھینچےعطر کو اُس کے کوئی عطر لگ نہ سکے۔ بیت۔
جو ایک پھول ہو کیوڑے کا دھرا######  تو روشن نہ کیجیے کہیں لخلخا

Saturday, 16 May 2020

Aakhri Qadam - NCERT Solutions Class VI Urdu

آخری قدم
ڈاکٹر ذاکر حسین
آؤ، آج تمھیں ایک بہت اچھے آدمی کا حال سنائیں جسے اس کے جیتے جی بہتیرے لوگ برا برا کہتے تھے اور مرنے کے بعد بھی اس کی نیکی کا حال بس وہی جانتے ہیں جن کے ساتھ اس نے بھلائی کی تھی۔ اور شاید بعضے تو ان میں سے بھی بھول گئے ہوں گے۔
اس نیک آدمی کے پاس بڑی دولت تھی مگر یہ ان لوگوں میں تھا جو اپنے دھن دولت کو اپنا نہیں سمجھتے بلکہ اللہ میاں کی امانت جانتے ہیں، جو بس اس لیے ان کے سپرد کی جاتی ہے کہ اسے اس کے بندوں پر صرف کریں۔ خود ان کی اُجرت یہ ہے کہ اس میں سے بھی بس موٹا جھوٹا پہن لیں اور دال دلیا کھا کر گزرکرلیں۔
ہاں، تو یہ نیک آدمی بھی اپنی دولت سے خود بہت کم فائدہ اٹھاتا تھا۔ ایک صاف سے مگر بہت چھوٹے مکان میں رہتا تھا۔ گذی گاڑھے کے بہت معمولی کپڑے پہنتا تھا۔ اور کھانے کا کیا بتاؤں، کبھی چنے چاب لیے، کبھی مکا کی کھیلیں کھالیں ۔ ایک وقت ہنڈیا چڑھی تو تین وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا ۔ دوست احباب جنہیں اس کے حال کی خبرتھی طرح طرح سے اسے کھیل تماشوں میں ، رنگ رلیوں میں گھسیٹنا چاہتے تھے۔ مگر یہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ بہانا کر کے ٹال دیتا تھا۔ آخر کوسب سے بڑا کنجوس مشہور ہو گیا ۔ اس کے دوست اسے ”میاں مکّھی چوس“ کہا کرتے تھے ۔ بعض دوست اس کی دولت کی وجہ سے جلتے تھے۔ وہ اسے اور بھی چھیڑتے اور بدنام کرتے تھے۔ مگر یہ دھن کا پکّا تھا۔ برابرچُھپ چُھپ کر چُپ چُپاتے اپنی دولت سے کسی نہ کسی مستحق کی مدد کرتا ہی رہتا تھا، اور اس طرح کہ سیدھے ہاتھ سے دیتا تو الٹے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی اور زبان پر ذکر آنے کا تو ذکر ہی کیا۔
نہ جانے کتنی بیوائیں اس کے روپے سے پلتی تھیں ! کتنے یتیم اس کی مدد سے پڑھ پڑھ کر اچھے اچھے کاموں سے لگ گئے تھے ۔ کتنے مدرسے اس کی سخاوت سے چل رہے تھے۔ کتنے قومی کام کرنے والوں کو اس نے روٹی کپڑے سے بے فکر کر دیا تھا اور وہ یکسوئی سے اپنی اپنی دھن میں لگے ہوئے تھے ۔ کئی شفاخانوں میں دوا کا سارا خرچ اس نے اپنے سر لے لیا تھا اور ہزاروں دکھی بیماروں کو بے جانے اس کے روپے سے روز آرام پہنچتا تھا ۔ لیکن مشہور تھا وہی”کنجوس مکّھی چوس، دنیا کا کتا، نہ اپنے کام آئے نہ کسی اور کے ۔‘‘ کوئی اس پر ہنستا تھا، کوئی خفا ہوتا تھا سب اسے برا سمجھتے تھے!۔
آدی کتنا ہی نیک ہو، دوسروں کے ہردم برا کہنے سےجی دُکھتا ہی ہے۔ اس کے دل کو بھی کبھی کبھی بڑی ٹھیس لگتی تھی، جھنجھلاتا تھا، آنکھوں میں آنسو بھر بھر آ تے تھے مگر پھر صبر کر لیتا تھا۔
Courtesy NCERT

اس کے پاس ایک خوب صورت سی کتاب تھی، چکنا چکنا موٹا کاغد، نیلے کپڑے کی سبک سی جلد، پشت پرسنہرے حرفوں میں لکھا ہوا ”حسابِ امانت‘‘۔ اس کتاب میں یہ اپنا پیسے پیسے کا حساب لکھا کرتا تھا۔ جس کو بھی کچھ دیا تھاسب اس میں درج تھا۔ کہیں کہیں کیفیت کے خانے میں بڑی دلچسپ باتیں لکھی گئی تھیں ۔ کسی یتیم کو پڑھنے کے لیے وظیفہ دیا ہے۔ 15 سال بعد تاریخ دے کر کیفیت کے خانے میں درج ہے ”اب احمد آباد میں ڈاکٹر ہیں اور وہاں کے یتیم خانے کے ناظم ‘‘ کتابوں کے ایک کاروباری کوسخت پریشانی کے زمانے میں دو ہزار روپے دیے ہیں ۔ کئی سال بعد کیفیت کے خانے میں لکھا ہے۔” آج خط آیا ہے کہ انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک نہایت صاف اور سادہ زبان میں لکھوا کر ایک لاکھ نسخے طلبہ میں مفت تقسیم کیے ہیں ۔ خدا جزائے خیر دے ۔“ دلّی کے ایک مدرسے کو ایسے وقت کہ اس کا کوئی مددگار نہ تھا دس ہزار روپے دیئے تھے۔ اندراج رقم کے سامنے کیفیت میں لکھا تھا۔”سالانہ رپورٹ پڑھی۔ ہر صوبے میں اس کی ایک ایک شاخ قائم ہوگئی ہے۔ اس صوبے میں تو گاؤں میں تعلیمی مرکز قائم کر دیے ہیں ۔ یہ کام نہ ہوتا تو اس ملک میں مسلمانوں کی تمدّنی ہستی کبھی کی ختم ہو چکی تھی ۔“ اسی قسم کے بے شماراندراجات تھے۔
اس کتاب کو یہ اکثر اٹھا کر پڑھنے لگتا تھا۔ خصوصاً جب کسی نادان دوست کی زبان سے دل دکھتا تو ضرور اس کتاب کی ورق گردانی کی جاتی تھی۔ اسے دیکھ کر کبھی کبھی مسکراتا بھی تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ مرتے وقت یہ کتاب ان لوگوں کے لیے چھوڑ جاؤں گا جو عمر بھر مجھے پہچانے بغیر میرا دل دکھاتے رہے۔ اس ارادے سے اسے بڑی تسکین ہوتی تھی ۔ سو سُنار کی ایک لوہار کی ۔ انھوں نے ہزار دفعہ میرا جی خون کیا ہے۔ میں ایک دفعہ اُنھیں ایسا شرماؤں گا کہ بس سرنہ اٹھے گا۔ یہ سوچتا تھا اور خوش ہوتا تھا۔ ہوتے ہوتے بڑھاپا آن پہنچا۔ بدن جواب دینے لگا۔ روز کوئی نہ کوئی بیماری کھڑی ہے۔ ایک دفعہ دسمبر کا مہینہ تھا۔ سخت بیمار ہوا۔ بخار اور کھانسی ۔ ایک دن ، دودن ، تیسرے دن سینے میں سخت درد شروع ہوا۔ کوئی دو پہر غفلت رہی ۔ ہوش آیا تو سانس لینے میں بھی تکلیف ہوتی تھی ۔ نمونیا کا حملہ تھا اور سخت حملہ۔ شام سے حالت غیر ہونے لگی۔ بار بارغفلت ہو جاتی تھوڑی دیر کو ہوش آتا، پھرغفلت ۔ کوئی چار بجے کے قریب ہوش آیا تو اس کی سمجھ میں آ گیا کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے جو سب کے لیے آتا ہے اور جس سے کوئی بھاگ کر بچ نہیں سکتا۔
Courtesy NCERT

چارپائی کے پاس ہی میز پر وہ نیلی خوب صورت کتاب ”حسابِ امانت“ رکھی تھی جسے ابھی بیماری میں بھی دو دن پہلے اٹھا کر پڑھا تھا۔ چند لمحے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ ایسے کہ تھمتے ہی نہ تھے۔ کتاب کی طرف ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھانا چاہا کئی مرتبہ کی کوشش میں اسے مشکل سے اٹھا پایا۔ پھر کچھ سوچ میں پڑا گیا۔یہ عظیم الشان گھڑی اور یہ چھوٹا خیال.......................... ان کو شرما کر تجھے کیا ملے گا................................ تو اپنا کام کرچلا...................اپنے کام سے کام.................منزل آ پہنچی..................... آخری قدم کیوں ڈگمگائے؟ ........................ دونوں ہاتھوں میں کتاب تھامے ہاتھ تھر تھرارہے تھے جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ اٹھایا ہو ۔ بڑی مشکل سے تکیے پر سے سر بھی کچھ اٹھایا اور ناتواں جسم کی ساری آخری قوت صَرف کر کے کتاب کو اس پاس والی بڑی انگیٹھی میں پھینک دیا جس میں کوئی ڈھائی بجے نوکر نے بہت سے کو ئلے ڈالے تھے اور میاں کو سوتا جان کر دوسرے کمرے میں جا کر سو گیا تھا۔
کتاب جلنے لگی۔ اس کی نظر اس پر جمی تھی۔ جلد کے جلنے میں دیر لگی۔ پھر اندر کے کاغذوں میں آگ لگی تو ایک شعلہ اُٹھا۔ اس کی روشنی میں اس کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ دکھائی دی اور چہرے پرعجیب اطمینان ۔ ادھر موذّن نے اشہد انَّ مُحمّد الرَّسُول الله کہا۔ اور نیکیوں کے اس کا رواں سالار کی رسالت کے اعلان کے ساتھ ہی اس کی امت کے اس نیک راہ رو نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔

معنی یاد کیجیے
بُہتیرے : بہت سارے
سپرد کرنا : حوالے کرنا
اُجرت : بدلہ ، معاوضہ
موٹا جھونٹا : بہت معمولی ، جو سستا ہو
دال دلیا : معمولی کھانا
گزرکرنا : معمولی طریقے سے زندگی گذارنا
گذی گاڑھے : ایک قسم کا معمولی موٹا کپڑا 
کھیلیں :  کھیل کی جمع بھنا ہواناج جوچٹخ کرپھول گیا ہو
احباب : ساتھی ، دوست
رنگ رلیاں :عیش وعشرت
دھن کا پکا ہونا (محاورہ) : ارادے کا پکا ہونا
مکّھی چوس : بہت ہی کنجوس
چپ چپاتے : خاموشی کے ساتھ، چھپ کر کسی کو بتائے بغیر
مستحق : ضرورت مند، حقدار
سخاوت : دوسروں پر زیادہ خرچ کرنا، در یا دلی
قومی کام : قوم کی بھلائی کے کام
یک سوئی سے : بہت توجہ کے ساتھ ، اطمینان
سَر لینا : ذمّے لینا
خفا : ناراض
ٹھیس لگنا : دُکھ پہنچنا
سُبک : نازک، ہلکی
سوچیے اور بتائیے
1. نیک آدمی میں کیا خوبیاں تھیں؟
جواب: نیک آدمی اپنی دولت غریبوں اور مستحق لوگوں پر خرچ کرتا تھا۔ نہ جانے کتنی بیوائیں اس کے روپے سے گزر بسر کرتی تھیں ۔وہ کتنے ہی یتیم بچوں کی کفالت کرتا اور ان کے تعلیمی خرچ اٹھاتا تھا۔

2. لوگ اس نیک آدمی کو برا کیوں کہتے تھے؟
جواب: لوگ نیک آدمی کو اس لیے برا بھلا کہتے تھے کہ وہ اپنی سخاوت کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دیتا اور اتنی دولت ہونے کے بعد بھی بہت سادہ زندگی گزارتا،معمولی کپڑے پہنتا، معمولی کھانا کھاتا۔ یہاں تک کہ وہ بہت کنجوس مشہور ہوگیا تھا۔

3. بعض لوگ اس کی دولت سے کیوں جلتے تھے
جواب: بعض لوگ اس کی دولت سے اس لیے جلتے تھے کہ وہ اسے رنگ رلیوں اور کھیل تماشے میں گھسیٹنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنی ہی دھن میں لگا ر ہتا تھا۔

4. وہ نیک آدمی اپنی دولت کن کاموں پر خرچ کرنا چاہتا تھا؟
جواب: وہ نیک آدمی اپنی دولت بیواؤں کی مدد کرنے، یتیموں کی کفالت کرنے، مدرسے چلانے، بیماروں کے لیے شفاخانے کھلوانے اور دین کے فروغ  پر خرچ کرتا تھا۔

5. وہ سیدھے ہاتھ سے دیتا تو الٹے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی اس جملے کیا مطلب ہے؟
جواب: اس جملے کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کی انتہائی خاموشی سے دوسروں سے چھپاکر مدد کرتا تھا۔

6. نیک آدمی''حسابِ امانت" میں کیا درج تھا؟
جواب: نیک آدمی ''حسابِ امانت'' میں اپنا پیسے پیسے کا حساب لکھا کرتا۔ اس نے جس کو کبھی بھی کچھ دیا تھا وہ اس کتاب میں درج تھا۔ کہیں کہیں کیفیت کے خانے میں بڑی دلچسپ باتیں درج تھیں۔ کسی یتیم کو تعلیم کے لیے وظیفہ دیا تھا تو پندرہ سال بعد کی تاریخ میں درج تھا کہ اب وہ احمد آباد میں ڈاکٹر ہیں اور وہاں کے یتیم خانے میں ناظم ہیں۔ کتابوں کے کاروباری کو ایک بار سخت پریشانی کے عالم میں دو ہزار روپے دیے تھے تو کئی سال بعد اس کی کیفیت میں لکھا کہ آج خط آیا ہے کہ اس شخص نے سیرت پاک کے ایک لاکھ نسخے طبع کرکے طلبہ میں مفت تقسیم کیے۔ غرض اس کتاب میں اس کی نیکی اور سخاوت کے تمام واقعات درج تھے۔

7. لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر نیک آدمی کیا کرتا تھا؟
جواب: لوگوں کی باتیں سن کر اس نیک آدمی کو سخت رنج پہنچتا اور اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے۔ وہ تنہائی میں اپنی ڈائری حساب امانت کو پڑھتا جس سے اس کو قلبی سکون ملتا تھا۔

8. نیک آدمی کا ارادہ کیا تھا؟
جواب: نیک آدمی کا ارادہ تھا کا وہ اپنی کتاب حساب امانت لوگوں کہ لیے چھوڑ جائے گا تاکہ اس کے جانے کے بعد دنیا والوں کو اس کی نیکیوں کا علم ہو۔

9. نیک آدمی نے آخری وقت میں اپنے ارادے پر عمل کیوں نہیں کیا؟
جواب: آخری وقت میں اس آدی کو خیال آیا کہ کسی اور کو شرمندہ کرکے اسے کیا ملے گا۔ بلکہ اس کی زندگی بھر کی نیکی اس کے اس عمل سے ضائع ہوجائے گی۔ اس نے ارادہ کیا کہ اس کا آخری قدم کیوں ڈگمگائے۔ اس نے کتاب کو ضائع کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اپنی کتاب کو آگ کی انگیٹھی میں ڈال دیا۔

اس سبق میں لفظ امانت دار آیا ہے۔ جس کے معنی ہیں امانت رکھنے والا۔ نیچے دیے ہوئے لفظوں کے آگے دار لگاکر لفظ بنائیے
دم : دم دار
سمجھ : سمجھ دار
شان : شان دار
عزت : عزت دار
خبر : خبردار
طرح : طرح دار
وفا : وفادار
ہوا : ہوا دار
جان : جان دار
خار : خار دار

نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے
دُھن کا پکّا ہونا : وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔
ٹھیس لگنا : امتحان کا نتیجہ دیکھ  کر فرزانہ کے دل پر ٹھیس لگی۔
جی خون ہونا : اپنے گناہوں کو یاد کر  اسلم کا جی خون ہو گیا۔
سر نہ اٹھنا : شرم کے مارے اسلم کا سر نہ اٹھ سکا۔
ٰحالت غیر ہونا :  بھوک سے اس کی حالت غیر ہو گئی۔

لکھیے
نیک آدمی کی کہانی اینے لفظوں میں لکھیے
 اس کہانی کا کوئی نیا عنوان لکھیے

غور کرنے کی بات :
*  ”اس نیک آدمی کے پاس بڑی دولت تھی۔ مگر یہ ان لوگوں میں تھا جو اپنے دھن دولت کو اپنا نہیں سمجھتے بلکہ اللہ میاں کی امانت جانتے ہیں ۔ جو بس اس لیے ان کے سپرد کی جاتی ہے کہ اسے اس کے بندوں پر صَرف کریں۔ خود ان کی اجرت یہ ہے کہ اس میں یہ بھی بس موٹا جھوٹا پہن لیں اور دال دلیا کھا کر گزرکرلیں۔“
 اس عبارت میں مصنف نے نیک لوگوں کی کتنی اچھی تعریف کی ہے کہ وہ نیک لوگ جنھیں اللہ نے دولت دی ہے مغرور اور گھمنڈی نہیں ہوتے بلکہ اپنی دولت کو ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کے لیے اللہ کی امانت سمجھتے ہیں اور خود سادہ زندگی گزارتے ہیں۔
*  ’’آؤ آج تمھیں ایک بہت اچھے آدمی کا حال سنائیں جسے اس کے جیتے جی بہترے لوگ برا برا کہتے تھے ۔“
یہ آپ کے سبق کا پہلا جملہ ہے۔ اس جملے میں لفظ ”برا“ دو بار ایک ساتھ آیا ہے۔ لفظ کے دو بار ایک ساتھ آنے کو تکرار کہتے ہیں جیسے ساتھ ساتھ بیٹھنا، بار بار کہنا، مزے مزے کی با تیں وغیرہ۔

Thursday, 14 May 2020

wafat se qabl Hazrat Ali ki Wasiyat

 حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وصیت
آخر وقت میں آپ نے اپنی اولاد امجاد خصوصاً حضرات حسنین علی جدہما و علیہما الصلوة والسلام اور حضرت محمد بن حنفیہ رضی الله عنہ کو بلا کر جو وصیتیں فرمائیں ان میں سے کچھ بطور اختصار لکھی جاتی ہیں۔
خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس سے ڈرتے رہنا۔ خوشی و ناخوشی میں حق بات کو نہ جانے دینا۔ تم دنیا کی محبت میں مبتلا نہ ہو جانا۔ اگرچہ وہ تم کو مبتلا کرنا چاہے۔ دنیا کے جانے پرغمگین نہ ہونا۔ یتیم پر رحم کرنا۔ بے کس و لاچار کی مدد کرنا۔ اس کی مدد اور دستگیری کو اپنے اوپرلازم کرنا۔ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا۔ کتاب الله پر عمل کرنا۔ احکام الٰہی کے بجالانے میں کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا۔
ان تینوں بزرگوں کو آپس میں میل ملاپ محبت و الفت سے رہنے اور ایک کو دوسرے کی مدد واعانت کی بہ تاکید ہدایت فرمائی اور فرمایا :
اسلام سے بڑھ کر شرافت کسی میں نہیں۔ تقوے سے بڑھ کر کرامت، ورع سے زیادہ حفاظت کسی چیز میں نہیں۔ توبہ  سے بڑھ کرشفاعت کرنے والا اور گناہوں کو مٹانے والا دوسرا نہیں ۔ بدترین توشہ آخرت بندگانِ خدا پرظلم وتعدی روارکھناہے۔ بشارت ہے اس شخص کو جس کے اعمال خالصتاًللہ ہوں۔ اس کا علم وعمل، بغض وحسد و محبت، کسی سے ملنا، کسی کو چھوڑ نا، بولنایا چپ رہناقول وفعل سب اللہ کے واسطے ہوں۔ حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ علی جدہ وعلیہ الصلوۃ والسلام کی طرف خاص خطاب کر کے فرمایا :
اے بیٹے! تجھ کوخوفِ خدا کی وصیت کرتا ہوں ۔ نماز وقت پر ادا کرنا۔ زکوٰة اس کے موقع پر دیتے رہنا۔ وضو آداب وسنن کی رعایت کے ساتھ کرنا کیونکہ نماز بغیر طہارت کامل کے نہیں ہوتی ہے۔ لوگوں کی خطائیں معاف کرنا۔ غصہ کو ضبط کرنا قرابت مندوں کاحق ادا کرنا اور کرتے جاہل کے ساتھ حلم سے پیش آنا۔ اس کی جہالت کی پروا نہ کرنا۔ دین کے معاملات میں خوب غوروفکر کرنا ۔ اپنے ہر کام میں استقلال کا لحاظ رکھنا۔ قرآن شریف پر نظر رکھنا۔ اس کی تلاوت کرتے رہنا۔ ہمسایہ کے ساتھ نیکی کرنا اور نیک کاموں کی ترغیب دینا۔ بری باتوں سے روکتے رہنا اور خود بھی برے کاموں سے پرہیز کرنے کو اپنی عادت بنانا۔
(ماخوذ از مولائے کائنات، تالیف مبارکہ حضرت فیاض المسلمین بدر الکاملین مولانا سید شاہ محمد بدرالدین نورعالم قادری پھلواروی قدس سرہ)

خوش خبری